258.6K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maseer E Mamnu Episode 25 The Price of Pride

فروین اس کی باتوں کو بالکل نہیں سن رہی تھی جو وہ مسلسل کیے جا رہا تھا۔ لیکن جب اس نے آخر میں اس کی بات سنی تو حیرت سے اوپر دیکھا۔

“کیا؟”

تبریز، جو تھوڑا شرمندہ لگ رہا تھا، نے کہا،

 “جبکہ میں تمہیں معاف کر سکتا ہوں، تمہاری شہرت پہلے ہی خراب ہو چکی ہے۔ اگر میں تم سے شادی کر لوں تو یہ ہمارے خاندان کے لیے شرمندگی کا باعث بنے گا۔ لیکن میں تمہارے لیے کسی اور جگہ ایک مینر خرید سکتا ہوں اور تمہارا باقی زندگی خیال رکھ سکتا ہوں۔”

فروین کو یہ سب سن کر مزاحیہ لگا۔ اس نے سرد لہجے میں طنزیہ کہا،

 “تم چاہتے ہو کہ میں تمہاری معشوقہ بنوں؟ مجھے ڈر ہے کہ تم یہ افورڈ نہیں کر سکتے۔”

تبریز نے جلدی سے کہا،

“میں امیر ہوں! میں تمہیں ہر مہینے $15,000 خرچ کے لیے دے سکتا ہوں۔ تم اس سے جو چاہو خرید سکتی ہو۔”

$15,000 تو شمائل کے کپڑوں کے لیے بھی کافی نہیں تھے۔ فروین کو وہ بے حد پریشان کن لگا، اور اس نے بائیں طرف سے اس کے گرد گزرنے کی کوشش کی اور کہا،

“مجھے کسی کی معشوقہ بننے میں دلچسپی نہیں۔”

تبریز نے بھی بائیں جانب سے اسے روک لیا۔

“تم مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہو؟ یہ بھی ناممکن نہیں!”

اس نے دانت پیسے تھے اور آنکھیں گھما کے دوبارہ سے بات شروع کی۔

“دادا مسلسل مجھ پر زور دے رہے ہیں کہ میں تمہیں اپنی بیوی بنا لوں۔ ویسے بھی، تمہاری صرف ایک بیٹی ہے، تو ہم اسے کچھ پیسے دے کر کہیں اور شادی کر سکتے ہیں۔ بس شرط یہ ہے کہ وہ مستقبل میں اپنے چھوٹے بہن بھائیوں سے لڑائی نہ کرے اور فرمانبردار رہے تو جیلانی مینشن میں اس کے لئے جگہ بن سکتی ہے اور قبول کر لیں گے، چاہے ہمیں یہ ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔”

اسے لگا کہ اس کی شرائط کافی نرم ہیں۔ کوئی بھی عورت شاید اس کی شکر گزار ہو گی، ہے نا؟ لیکن غیر متوقع طور پر، فروین کی آنکھوں میں الاؤ سے دہکے تھے۔ اور اس کے ارد گرد ایک سرد ماحول بن گیا۔ آخر کو مقابل کھڑا شخص اس کی بیٹی کے بارے میں بات کر رہا تھا

 “میں اپنی بیٹی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہونے دوں گی۔”

تبریز نے بھنویں چڑھاتے ہوئے کہا،

“زیادہ کی چاہ مت کرو فروین! تم یہ کیسے چاہ سکتی ہو کہ ہم تمہاری بیٹی کو اپنا خاندانی نام دیں اور اپنے بچوں کے برابر حقوق دیں؟ یہ ناممکن ہے!”

اسی لمحے ایک تیز آواز اچانک ان تک پہنچی۔

” فروین! تم دوبارہ تبریز کو بہکانے کی کوشش کر رہی ہو!”

یہ سن کر، اریشہ بھی فوراً دوڑتی ہوئی آئی۔ اس کے ہاتھ ہوا میں لہراتے ہوئے فروین طرف بڑھے۔

“میں تمہیں مار ڈالوں گی!”

تبریز نے اسے روک لیا اور غصے سے چلایا،

“تم کیا کر رہی ہو؟!”

پرائیویٹ روم میں، مہر کاظم، صدف، اور تبریز کے والد نے شور سن کر باہر آ گئے۔ جب انہوں نے تینوں کو دیکھا تو مہر کاظم نے چیختے ہوئے کہا،

 ” فروین، کیا تم پھر اپنی بہن کو تنگ کر رہی ہو؟ اس سے معافی مانگو!”

صدف نے بھی بات کی۔

 ” فروین، تمہاری بہن اور تبریز آج اپنی منگنی کی بات کر رہے ہیں۔ مجھے پتہ ہے تمہیں یہ بات اچھی نہیں لگ رہی، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم آ کر مسئلہ کھڑا کرو… شادی سے پہلے پریگننٹ ہو کر تم نے جیلانی خاندان کے ساتھ ساتھ اپنے خاندان کی عزت کو نقصان پہنچایا!”

تبریز آگے بڑھا۔

“انکل کاظم، آنٹی صدف، فروین کا اس میں کوئی قصور نہیں۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے سچا پیار کرتے ہیں۔ میں اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہوں۔”

اریشہ کی آنکھیں حیرت اور صدمے سے پھیل گئیں۔ وہ ایک قدم پیچھے ہٹ گئی۔ مہر کاظم حیران ہو گیا۔

 ” تبریز، میری بیٹی بچپن سے ضدی اور ضد پرستی کی عادی ہے۔ اس کے بہکاوے میں نہ آنا! وہ شادی سے پہلے پریگننٹ ہو گئی تھی،  اگر تم نے اس سے شادی کی تو یہ تمہارا نام خراب کرے گا!”

صدف نے بھی سر ہلایا اور کہا،

 “اور ویسے بھی، اس کے ننھیالی خاندان والے بہت غریب ہیں۔ وہ پہاڑوں میں رہتے ہیں اور آج ہی ہم سے پیسوں کی بھیک مانگ رہے تھے۔ یہ رشتہ دار تو ایک مسئلہ بن گئے ہیں!”

یہ سن کر جب صدف نے دیکھا کہ تبریز اب بھی فروین کی طرف محبت بھرے انداز میں دیکھ رہا ہے، تو وہ تبریز کے والد کی طرف مڑی اور کہا،

“مسٹر جیلانی، آپ کو اس بارے میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا! ہم نہیں چاہتے کہ آپ کا خاندان اس جھمیلے میں پڑے۔”

تبریز کے والد کی نظریں فروین پر جم گئیں۔ وہ دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑی تھی، اس کا انداز سپاٹ اور لاپروا تھا۔ اس کی بلی جیسی کانچ آنکھیں نیم بند تھیں، اور اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی، گویا یہ سب کچھ اسے لطف دے رہا ہو۔ اس کا رویہ ایسا تھا جیسے یہاں ہونے والی بحث کا اس سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔

تبریز کے والد، جو کئی سالوں سے کاروباری دنیا کے ماہر تھے، کی آنکھیں گہری اور پراسرار ہو گئیں۔ اچانک انہوں نے کہا،

“شادی زندگی بھر کا بندھن ہے۔ بہتر ہوگا کہ بچے خود فیصلہ کریں۔ مس فروین، کیا آپ واقعی تبریز کی بیوی بننا چاہتی ہیں؟”

ان کے الفاظ نے سب کی نظریں فروین کی طرف موڑ دیں۔ آہ،  آخر کار وہ اس کی بات سننے کو تیار ہوئے۔

فروین نے اپنی بھنویں اٹھائیں، اور اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی جیسے وہ اسی لمحے اور اسی سوال کی منتظر رہی ہو۔ اس نے جواب دیا،

“نہیں، میں نہیں چاہتی۔”

سب حیرت زدہ رہ گئے۔ تبریز سب سے پہلے ہوش میں آیا۔ غصے میں وہ چلایا،

 ” فروین، اس کا کیا مطلب ہے؟”

فروین نے اپنی کمر سیدھی کی اور صاف لفظوں میں کہا،

 “اس کا مطلب ہے کہ مجھے تم میں کوئی دلچسپی نہیں۔”

تبریز حیرت سے اسے دیکھتا رہا، جیسے وہ اب بھی اس کے الفاظ کو سمجھ نہیں پایا ہو۔

اریشہ، تاہم، چلائی،

 “تمہیں کیا لگتا ہے، فروین؟ تم تبریز کو پسند نہ کرنے کا دعویٰ کیسے کر سکتی ہو؟ تمہاری باتوں سے ایسا لگتا ہے جیسے وہ تمہارے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ نہ صرف تم ایک بچی کے ساتھ آئی ہو، بلکہ تمہاری بیٹی بھی ایک ناجائز بچی ہے۔ کیا تم جیسی عورت کو کسی قسم کا انتخاب کرنے کا حق ہے؟!”

تبریز آخرکار سنبھل گیا۔ غصے میں اس کے الفاظ بھی تلخ ہو گئے۔

 ” فروین، اگر تمہیں مجھ میں دلچسپی نہیں تو پھر کس میں ہے؟ پورے شہر کو پتہ ہے کہ تم شادی سے پہلے پریگننٹ ہو گئی تھیں۔ میرے علاوہ اور کون تم سے شادی کرے گا؟ تم جیسی بدنام عورت کو کوئی بھی عزت دینے کے لیے تیار نہیں ہوگا!”

صدف نے افسوس کرتے ہوئے کہا،

 ” فروین، تم ایسا کیسے کہہ سکتی ہو؟ تمہیں اپنی حد میں رہنا چاہیے۔ کیا تم واقعی اپنی ماں کی طرح کرنا چاہتی ہو؟ یہ محض قسمت تھی کہ تمہاری ماں، جو پہاڑوں سے آئی تھی، تمہارے والد سے شادی کر سکی۔ چاہے تم تھوڑی خوبصورت ہی کیوں نہ ہو، کوئی بھی اچھے خاندان والا تمہیں اپنی بیوی بنانے کو تیار نہیں ہوگا۔”

صدف نے بات کا رخ دوبارہ بدلتے ہوئے پوچھا،

“ویسے، کیا تم اپنی خالہ کے ساتھ کھانے پر آئی ہو؟ وہ کہاں ہیں؟ کیا تمہارے ماموں کو ہاسپٹل کے اخراجات کے لیے پیسے چاہییں؟ کیا تمہیں پیسوں کی کمی ہے؟”

 یہ سن کر تبریز کے والد نے ماتھے پر بل ڈال لیے۔

اسی لمحے ایک نرم آواز سنائی دی:

 “کس نے کہا کہ ہمارے پاس اسپتال کے اخراجات کے لیے پیسے نہیں ہیں؟”

ان سب نے مڑ کے دیکھا تو قریب آتی ہوئی ملیسا نظر آئیں۔ ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، لیکن آنکھوں میں سرد مہری تھی۔ وہ بولیں،

“مسٹر اینڈ مسز مہر کاظم ۔ آپ کو ہاسپٹل کے اخراجات کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور نہ ہی فروین کی شادی کے معاملات میں آپ کو دخل دینے کی ضرورت ہے۔ پاشا فیملی ان سب معاملات کو سنبھال لے گا!”

حیرت زدہ ہو کر تبریز کے والد نے پوچھا،

” پاشا؟ کون سے پاشا؟”

ملیسا کے ہونٹوں پر مسکراہٹ گہری ہو گئی۔ ان کی آواز نرم تھی، لیکن ان کے الفاظ گرج کی طرح تھے:

“نیو یارک بزنس سے تعلق رکھنے والے پاشا۔”

تبریز کے والد کی آنکھیں فوراً حیرت سے پھیل گئیں!

یہاں تک کہ مہر کاظم اور صدف بھی اتنے حیران ہو گئے کہ کچھ بول نہ سکے!

نیو یارک سے تعلق رکھنے والے پاشا فیملی … کیا واقعی وہی تھے جن کے بارے میں وہ سوچ رہے تھے؟ جنہوں نے کئی سال پہلے امریکا اور نیویارک میں، اپنے بزنس اور اثر و رسوخ کی دھاک بٹھائی تھی۔

جب وہ سب تذبذب کا شکار تھے، ملیسا نے دوبارہ تبریز کی طرف دیکھا۔ اسے سر سے پاؤں تک دیکھنے کے بعد، انہوں نے سر جھٹکا اور کہا،

 “چلو فروین، واپس پرائیویٹ روم میں چلتے ہیں۔ تمہارے بلائنڈ ڈیٹ کو انتظار مت کراؤ۔”

انہوں نے جان بوجھ کر “بلائنڈ ڈیٹ” پر زور دیا۔

فروین جانتی تھی کہ اس کی خالہ اس کی حمایت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، اس لیے اس نے ان کے ارادے کو سمجھتے ہوئے سر ہلایا۔

“ٹھیک ہے۔”

دونوں آخرکار مڑ گئیں، لیکن فوراً ہی انہوں نے ثالث کو اپنے پیچھے کھڑے دیکھا۔ اس کی گہری آنکھیں اٹھیں اور یہاں تک کہ اس کی آنکھ کے کنارے پر موجود تل بھی جیسے مسکرا رہا ہو۔ اس نے ہر لفظ پر زور دیتے ہوئے دہرایا،

“بلائنڈ ڈیٹ؟”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب یہ سب لوگ بحث کر رہے تھے، شمائل نے حارث کو اپنے ساتھ کھینچا اور دونوں چپکے سے سیڑھیوں کی طرف بھاگ گئے۔ اس نے اپنا اسکارف اتارا، جس سے اس کا کیوٹ سا چہرہ ظاہر ہوا۔ بھاری سانس لیتے ہوئے وہ بولی،

“یہ تو بہت ہیوی تھا! اچھا ہوا کہ ہمیں پکڑے نہیں گئے، حارث”

پھر اس نے دیکھا کہ اس کا بھائی رک گیا ہے اور آہستہ آہستہ اپنا سر اوپر اٹھا رہا ہے۔ شمائل نے بھی مڑ کر دیکھا اور آہستہ آہستہ سر اٹھایا۔ انکھوں نے پاؤں سے سر تک کا سفر کیا، اپنے بھائی کی طرح اس کی آنکھوں میں بھی حیرت ابھری اور فوراً ہی اس نے طلال کو دیکھا، جو حیرت اور بے یقینی کے ساتھ وہاں کھڑا تھا، اس کی آنکھیں حیرت سے کھلی ہوئی تھیں۔

ہال وے کے باہر مختلف قسم کے شور سے بھرا ہوا تھا۔

تاہم، سیڑھیوں میں موجود تینوں بالکل خاموش تھے۔

  آخرکار، آدھے منٹ کی مکمل خاموشی کے بعد، طلال نے شمائل کی طرف ایسے اشارہ کیا جیسے اس نے کوئی بھوت دیکھا ہو اور ہکلاتے ہوئے کہا،

“ت-تم… تم…”

حارث نے اپنے ہونٹ بھینچ لیے اور گہری سانس لی۔ “اب جب کہ آپ نے ہمیں دیکھ لیا ہے، تو میں راز چھپانے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔”

اس نے سنجیدگی سے کہا،

 “حقیقت میں، میرے پاس ایک سپر پاور ہے—میں کلونز بنا سکتا ہوں۔ اگر یقین نہیں آتا، تو آنکھیں بند کر لو۔ میں اپنے کلون کو واپس لے لیتا ہوں۔”

طلال حیران رہ گیا۔

اس کے لب کبھی نیم وا ہوتے تو کبھی بند ہوتے۔

 “کیا تم واقعی یہ سمجھتے ہو کہ میں اتنا بے وقوف ہوں، حارث؟ میں اس پر یقین کرنے والا نہیں ہوں!”

شمائل نے اپنے ہاتھوں کو منہ کے گرد گھیرا بنا کر اپنے بھائی کی طرف جھکی۔ اس کے انداز سے لگتا تھا جیسے وہ سرگوشی کرنے والی ہے، لیکن اس کی آواز بالکل بھی نرم نہ تھی جب اس نے کہا،

 “تو طلال چاچو کے پاس دماغ بھی ہے؟”

حارث بھی حیران تھا۔

 “میں گھر جا کر دیکھوں گا۔ کیا one cell human اتنا  کیسے سوچ سکتے ہیں؟”

طلال دنگ رہ گیا۔ وہ بے عزتی محسوس کر رہا تھا!

لیکن فوراً، وہ فاتحانہ انداز میں بولا،

“تمہاری سپر پاور میں بہت خامیاں ہیں۔ کیا تم واقعی اپنے کلون سے ایک چھوٹی بچی کا ورژن بنا سکتے ہو؟ کیا تم ہیمافرڈائٹ ہو؟”

وہ بچہ جو اسپائیڈر مین کا لباس پہنے ہوئے تھا، بظاہر ایک چھوٹا لڑکا لگ رہا تھا، لیکن وہ فروین کی بیٹی تھی! شمائل الجھن میں پڑ گئی۔ حارث پریشان ہو گیا۔

جیسا کہ متوقع تھا، one cell human واقعی مختلف انداز میں سوچتے ہیں!

دونوں ننھے بچے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ شمائل نے سر کو جھکایا اور پوچھا،

“ہم کیا کریں، حارث؟ کیا اسے چپ کروا دیں؟”

حارث نے ہچکچاتے ہوئے کہا،

 “وہ میرے چچا ہے۔ ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔”

“اوہ۔”

شمائل مایوس ہو گئی۔ طلال ان دونوں کو لب بھینچے دیکھ رہا تھا۔ 

“میں جا کر ثالث کو بتا دوں گا کہ اس کے بیٹے کے علاوہ ایک بیٹی بھی ہے!”

یہ کہہ کر وہ وہاں سے بھاگ نکلا۔ حارث نے جلدی سے پکارا،

” طلال چاچو!”

لیکن طلال نے رکنے کی زحمت نہ کی۔ شمائل گھبرا گئی۔ اس نے ہاتھ کمر پر رکھے اور غصے سے کہا،

” ڈونٹ موو، طلال!”

طلال، جسے گیم کھیلتے وقت حکم ماننے کی عادت تھی، فوراً جم گیا، اور وہ دوڑنے کے انداز میں ہی منجمد ہو گیا۔

“یہاں واپس آؤ!”

طلال فرمانبرداری سے واپس سیڑھیوں میں آ گیا اور  بے وقوفوں کی طرح وہیں  بیٹھ گیا اور بولا،

“تو تم میری لیڈر ہو!”

شمائل نے اپنے گالوں پر ہاتھ رکھے اور سر کو جھکایا۔

 “ہاں، بالکل! میں سویٹ شمائل ہوں!”

… پتہ چلا کہ نہ صرف اس کی لیڈر پانچ سال کی بچی تھی، بلکہ وہ ایک چھوٹی لڑکی بھی تھی! طلال کو دھوکہ سا محسوس ہوا۔

حارث نے کہا،

“آپ یہ بات آج کے واقعے کو ڈیڈی کو نہیں بتائیں گے، طلال چاچو”

طلال حیران ہوا۔

 “کیوں نہیں؟”

حارث چند لمحے خاموش رہا۔ پھر اس نے کہا،

“سوچیں، اگر ڈیڈی کو معلوم ہو گیا کہ شمائل کی مام وہی ہے جس نے مجھے جنم دیا، تو وہ کیا کریں گے؟”

طلال کو ایسا لگا کہ اس کے دماغ کے خلیے کام نہیں کر رہے۔ اس نے کہا،

“اس کی مام؟ جس نے تمہیں جنم دیا… اوہ شٹ! تمہارا مطلب ہے فروین تمہاری بایولیوجیکل مام ہے؟”

طلال کو آخر کار سمجھ آ گئی کہ یہ دونوں بچے سچ کیوں چھپانا چاہتے تھے۔

پانچ سال پہلے، ثالث اچانک ایک بچہ لے آیا اور کہا کہ یہ اس کا بیٹا ہے۔ جب سب نے پوچھا کہ بچے کی ماں کون ہے، تو وہ غصے میں آ گیا اور سختی سے منع کر دیا کہ گھر میں کوئی بھی بچے کی ماں کا ذکر نہ کرے۔

اس وقت، ان سب نے یہ سوچنا شروع کیا کہ آخر وہ عورت، جس نے حارث کو جنم دیا تھا، نے کیا کیا ہوگا۔ ثالث ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اس عورت کو چیر پھاڑ دے گا…

شمائل نے پیار بھری آواز میں کہا،

” طلال ایکس، میں ایک ڈیڈ اور ایک بھائی چاہتی ہوں، لیکن میں ممی کو بھی چاہتی ہوں۔ تو، میں چاہتی ہوں کہ وہ پہلے ایک دوسرے سے محبت کریں، پھر ہم ایک دوسرے کو قبول کریں۔ اس طرح، ہمارا خاندان ایک ساتھ ہو جائے گا۔ کیا آپ یہ بات راز رکھ سکتے ہیں؟”

طلال نے نفی میں سر ہلا دیا۔

 “نہیں، میں یہ بات ثالث سے چھپا نہیں سکتا۔”

شمائل فوراً ایک غصیلی چھوٹی عفریت بن گئی۔

 “اگر آپ نے ڈیڈی کو بتایا، تو میں آپ کو اپنے رینجرز کے ساتھ نہیں لے کے جاؤں گی!” طلال بے زبان ہو گیا۔ یہ تو واقعی ایک سنگین دھمکی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *