258.6K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maseer e Mamnu Episode 03 The Price of Betrayal

وہ گیٹ کے سامنے کھڑی، آج پانچ سال بعد اس گھر کو دیکھ رہی تھی جہاں اس کا بچپن گزرا تھا۔ باہر سے ہی، اس گھر کی رونق کا نظارہ دیکھا جا سکتا تھا۔ ماضی کی تلخیوں کو سوچتے ہی، اس کے وجود میں سردپن سا اترا تھا لیکن فورا سر جھٹک کے،  گہرا سانس لیتی، وہ گیٹ کے قریب آئی تھی تاکہ ڈیجیٹل لاک پہ پاس ورڈ انٹر کر سکے لیکن اس کے لبوں پہ طنزیہ مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی جب ڈیجیٹل لاک پہ ” پاسورڈ ایرر ” کی آواز سنائی دی۔

پاس ورڈ تبدیل کر دیا گیا تھا، اور وہ، جو اس فیملی کی بیٹی تھی، اس بات سے بے خبر تھی۔ اس کی آنکھیں سپاٹ تھی اس لمحے، کہ اس گھر کے سربراہ مہر کاظم نے کب اسے اپنی بیٹی سمجھا تھا جو وہ ان سے امیدیں وابستہ رکھتی۔ بیگ سے اپنا موبائل فون نکالا اور بے نیازی سے چند بار اسکرین پر ٹیپ کیا۔ پھر موبائل کو ڈیجیٹل لاک پر رکھ دیا۔ چند سیکنڈز بعد، “کلک” کی آواز کے ساتھ دروازہ کھل گیا۔

ڈرائنگ روم سے آنے والی چہل پہل اور شور کی طرف اس کی توجہ مبذول ہوئی تھی اور اسے یاد آیا کہ آج اس کی چھوٹی بہن، اریشہ مہر کاظم کی سالگرہ تھی اور تبھی شاندار پارٹی کا اہتمام کیا گیا تھا، سب پہ ایک نظر ڈال کے وہ آگے بڑھی تھی چونکہ کسی نے اس کی آمد پر دھیان نہیں دیا، فروین ایک کونے میں موجود صوفے پر جا بیٹھی اور سپاٹ نظروں سے وہاں موجود مہمانوں کو دیکھنے لگی۔

اچانک ایک کونے سے دھیمی سی کراہنے کی آواز آئی جہاں کسی کی نظر نہیں جا رہی تھی۔ نیلے لباس میں ملبوس اریشہ، جس کے ہاتھ میں سرخ شراب کا گلاس تھا، مسکرا رہی تھی اور اپنے دوستوں کے ساتھ زمین پر گری ہوئی لڑکی کو دیکھ رہی تھی۔ فروین نے مزید دیکھنے کی کوشش کی۔ وہ سومیا تھی،  فروین کی بہن کی دوست۔

چٹاخ!

ابھی وہ معاملے کو سمجھ بھی نہیں پائی تھی جب تھپڑ کی آواز نے اسے چونکا دیا۔ کسی نے اریشہ کو زور دار تھپڑ مارا۔

“کیا ؟؟ کیا کہا تم نے کہ اس موٹی کی شکل کے نقوش اچھے ہیں؟ یقیناً تمہاری آنکھوں میں کوئی مسئلہ ہے۔ چلو، میں تمہاری آنکھیں ٹھیک کر دیتی ہوں…”

“آہ!”

کسی نے گرم مرچوں سے بھرا ہوا پانی گلاس میں لیا اور لیزا کی آنکھوں پر پھینک دیا۔

“وہ بدصورت عورت، بھینس سے بھی زیادہ بدتر لگتی ہے۔ وہ اریشہ کے پیر کے ناخن کے بھی برابر نہیں! تم نے کیسے یہ کہنے کی ہمت کی کہ وہ خوبصورت لگتی ہے؟”

سومیا جلن کے درد سے چیخنا چاہتی تھی، لیکن کسی نے اس کا منہ بند کر دیا، اور وہ صرف تکلیف میں گھٹی ہوئی آوازیں نکال سکی۔

اچانک، اریشہ نیچے جھکی۔ اس نے فروین کی وہ تصویر، سومیا کی آنکھوں کے سامنے لہرائی،  جس میں فروین بےانتہا حد تک موٹی لگ رہی تھی۔

” تم سب کچھ زیادہ سختی سے پیش آ رہے ہو بیچاری سومیا کے ساتھ “

باقی سب نے یہ سن کر ہنسنا شروع کر دیا اور سومیا کو چھوڑ دیا۔ سومیا نے اپنی سرخ اور سوجھی ہوئی آنکھوں کو ہاتھ سے ڈھانپ لیا اور کمزور آواز میں کہا،

” پلیز،  مجھے چھوڑ دو…”

اریشہ نے مسکراتے ہوئے کہا،

“چلو، تھوڑا نرمی برتتے ہیں اور ایک شرط لگاتے ہیں۔”

سومیا نے کمزور سی آواز میں پوچھا،

“کیسی شرط؟”

اریشہ نے تصویر کی طرف اشارہ کیا۔

“اگر تم یہ ثابت کر دو کہ وہ واقعی وزن کم کرنے کے بعد خوبصورت لگتی ہے، تو میں یہ تصویر کھا لوں گی۔ لیکن اگر تم ایسا نہیں کر سکی، تو تمہیں اسے کھانا ہوگا۔ کیسا لگا؟ کیا یہ شرط بہت منصفانہ نہیں ہے؟”

باقی سب نے فوراً قہقہہ لگایا۔

“لیکن اگر وہ موٹی وزن کم ہی نہ کر سکی تو کیا ہوگا؟”

کسی نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔

“کیا شرط کے لیے وہ واقعی لائپوسیکشن کروائے گی تاکہ یہ ثابت کرے کہ اس کی بدصورتی موٹاپے کی وجہ سے نہیں؟ ہاہاہا…”

“لیزا، تمہارے پاس کوئی طریقہ نہیں ہے یہ ثابت کرنے کا کہ وہ وزن کم کرنے کے بعد خوبصورت لگے گی، تو…”

“تصویر کھاؤ! تصویر کھاؤ!”

سب کچھ نہ کچھ کہہ رہے تھے اور پھر سب  نے تالیاں بجانی شروع کر دی اور شور مچانے لگے۔

اریشہ نے تصویر اس کے چہرے کے قریب کی اور کہا،

“کیا تم خود کھاؤ گی، یا ہمیں تمہاری مدد کرنی پڑے گی؟”

سومیا خاموش ہی رہی، وہ سب کو اپنی سرخ ہوتی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی جبکہ اریشہ مسکرانے لگی، اس کی آنکھوں میں جیت کا عجب نشہ سا تھا۔

سب اسے مبارکباد دے رہا تھا اور اس موٹی لڑکی کو سوچ کے ہنس رہے تھے۔ اریشہ ادا سے اپنے بال جھٹکتی،  سومیا کی طرف جھکی تھی تا کہ اسے فروین کی وہ تصویر دے جب بلکل اچانک سرد، نازک ہاتھ اس کی طرف بڑھا اور تصویر اس کے ہاتھ سے چھین گیا۔

فروین آبرو اچکائے، تصویر کو بے دھیانی سے گولہ بناتی، ہاتھ بڑھا کے، اریشہ کے بال پکڑ کے کھینچے، درد سے چیختی اریشہ کا منہ کھلا اور فروین نے تصویر اس کے منہ میں ٹھونس دی!

اریشہ کے منہ میں تصویر ٹھونس کے،  وہ اب دونوں ہاتھ آپس میں رگڑ کے جھٹک گئی تھی۔ اریشہ نے غصے سے وہ تصویر منہ سے نکالنی چاہی جب جانی پہچانی آواز نے اسے حیران کر دیا۔

 “شرط شرط ہوتی ہے، اریشہ۔”

سرد لیکن جانی پہچانی اواز، اریشہ حیرانی سے اپنے سامنے کھڑی فروین کو دیکھنے لگی جیسے وہ کوئی بھوت دیکھ رہی ہو۔

فروین، ایک سادہ سفید شرٹ اور جینز پہنے ہوئی تھی، جس سے اس کی ٹانگیں لمبی اور کمر پتلی لگ رہی تھی۔

اس کے بال سادہ انداز میں بندھے ہوئے تھے، اور چند بکھری ہوئی لٹیں اس کی گردن پر پڑی تھیں۔ اس کی جلد ریشم کی طرح نرم اور صاف شفاف تھی۔ وہ سادہ سے حلیے میں بھی، بے حد خوبصورت نظر آ رہی تھی!

لیکن وہ آواز… وہ تو جانی پہچانی لگ رہی تھی۔ باقی سب بھی قریب آ کے تماشا دیکھنے لگے۔

” تم کون ہو ؟؟ ویسے ہو تو بہت خوبصورت لیکن کیا تمہیں نہیں لگتا کہ تبریز جیلانی کی فیانسی کے ساتھ، یہ بدتمیزی کرنا تمہارا، گھاٹے کا سودا ہے “

اریشہ کا کوئی دوست تھا شاید وہ، جو فروین کو دلچسپی سے دیکھتا پوچھ رہا تھا۔ فروین اسے نظرانداز انداز کرتی سومیا کو دیکھنے لگی، ہاتھ بڑھا کے اسے اٹھنے میں مدد دی۔

” سومیا، جا کے واش کر لو اپنی آنکھیں “

سومیا لب کاٹتی اسے دیکھ رہی تھی ۔

” کیا تم… فروین ہو؟”

“ہاں۔”

اس نے جواب دیا جبکہ وہاں موجود سب لوگ حیران رہ گئے۔ وہ بے یقینی سے اسے دیکھنے لگے۔

” اوہ مائی گاڈ فروین ویٹ لاس کے بعد اتنی خوبصورت بھی ہو سکتی ہے”

کسی کی آواز سنائی دی تھی۔ اریشہ بھی بےحد خوبصورت تھی اور اسے اپنی خوبصورتی پہ ناز بھی بہت تھا لیکن اس وقت ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے فروین کی خوبصورتی کے سامنے،  اس کی خوبصورتی ماند پڑ گئی تھی۔ ان سب کی نظروں نے اریشہ کو یہی باور کرایا تھا اور یہی بات اسے مزید غصہ دلا گئی تھی۔

اس نے جان بوجھ کر فروین کو اپنی سالگرہ کی تقریب میں بلا کر منگنی ختم کرنے کا کہا تھا تاکہ سب کو دکھا سکے کہ وہ، فروین سے کہیں زیادہ خوبصورت ہے۔

لیکن اب، وہ خود مذاق بن گئی تھی!

“یہ کیا ہو رہا ہے؟”

مہر کاظم، صدف کے ساتھ وہاں آئے تھے اور فروین کو دیکھ کے وہ ٹھٹھک گئے تھے۔

” فروین ۔۔۔۔ “

ان کی اواز، اور آنکھوں میں حیرانی تھی۔

فروین کس قدر بدل گئی تھی۔ کس قدر خوشگوار بدلاؤ آیا تھا ان کی بیٹی میں،  وزن کم کر لینے کے بعد۔ یہ دیکھ کے، اریشہ کو اپنا آپ اس منظر سے الگ محسوس ہونے لگا اور تبھی وہ منہ بنا کے رونے لگی۔

” فروین میں مانتی ہوں کہ تبریز تم سے منگنی توڑ کے، مجھے اپنا رہا ہے اور تمہیں یہ بات بہت بری لگ رہی ہے لیکن واقع میں،  ان سب میں میرا کوئی قصور نہیں ہے،  تم نے ناحق مجھے تھپڑ مار دیا اتنے مہمانوں کے بیچ “

فروین نے اس کی غلط بیانی آنکھیں گھمائی۔ مہر کاظم،  اریشہ کا رونا دیکھ کے، جیسے ہوش میں آئے تھے اور طیش کے عالم میں فروین کو دیکھنے لگے۔

” فروین، تبریز تم سے منگنی تمہاری بدکرداری کی وجہ سے توڑ چکا ہے۔ تم بدچلن تھی، تبھی تبریز نے یہ فیصلہ لیا ہے، اس میں اریشہ کا کیا قصور “

فروین انہیں دیکھتے ہوئے لب بھینچ گئی۔ اس کی آنکھوں میں سرد تاثر کے ساتھ ساتھ، نفرت کا عنصر بھی نمایاں ہونے لگا۔ پانچ سال پہلے وہ جو ظلم فروین کے حق میں کر چکے تھے ابھی اس کا ازالہ باقی تھا کہ آج فروین کے دل میں مزید نفرت بھر دی تھی انہوں نے۔

” کاظم کیا کر رہے ہیں آپ؟؟ اتنے مہمان ہیں یہاں، اب اتنے مہمانوں کے بیچ یہ باتیں کریں گے آپ “

صدف مسکرا کے سب کو دیکھتی، اب مہر کاظم کو دیکھ رہی تھی۔

” اہم معاملات بھول گئے کیا ؟؟”

آہستگی سے بڑبڑاتی وہ اب مہر کاظم کو دیکھنے لگی۔

” ہمممم، اوپر ہی بات ہوتی یے “

مہر کاظم سرد انداز میں کہتے مڑے تھے۔

کچھ ہی دیر میں،  وہ تینوں اسٹڈی میں موجود تھے۔

مہر کاظم، صدف اور اریشہ ایک طرف بیٹھے تھے۔

فروین ان کے سامنے صوفے سے ٹیک لگائے ہوئے تھی،

سرد تاثرات کے ساتھ، اس وقت وہ سامنے دیوار پہ لگی تصویر کو دیکھ رہی تھی۔ وہ لب بھینچے ہوئی تھی جبکہ آنکھیں حد درجہ سپاٹ تھی۔ وہ ایسی مغرور عورت دکھائی دے رہی تھی جو بغاوت کرنے نکل پڑی ہو لیکن اگر کوئی اسے جانتا تھا تو وہ فروین کو دیکھ کے ہی سمجھ جاتا کہ اس وقت اسے نیند کی حد درجہ ضرورت تھی۔

 مہر کاظم نے سیدھے مدعے پر بات شروع کی،

” فروین، تبریز جیلانی نے منگنی ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، اور تمہاری بہن اس خاندان میں شادی کرنے والی ہے۔ آج تمہاری بہن کی سالگرہ ہے۔ کیوں نہ تم اپنی ماں کی وہ کمپنی، جو تمہارے نام ہے،  اسے شادی اور سالگرہ کے تحفے کے طور پر دے دو؟”

“تمہاری شادی سے پہلے کی پریگننسی کی وجہ سے ہماری فیملی کو کس قدر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے، تبریز جیلانی کی فیملی بھی طنز کا نشانہ بن رہی ہے تو ان سب کا ازالہ کرنے کے لئے، تم یہ کمپنی میرے نام کر دو “

یہ اریشہ تھی، فروین پہلے مہر کاظم اور پھر اریشہ کو دیکھنے لگی۔ جب بلکل اچانک مہر کاظم نے پیپرز اس کی طرف پھینک دیے۔

“یہ ملکیت کی منتقلی کا معاہدہ ہے۔ اس پر دستخط کرو۔”

فروین نے بےحد سرد نظروں سے ان پیپرز پہ نظر ڈالی۔   مہر کاظم اس لئے منگنی توڑنے کے خلاف تھے کیونکہ وہ بزنس کی دنیا میں اپنے قدم جمانا چاہتے تھے اور اب خود جیلانی صاحب یہ منگنی توڑنے کے در پہ تھے تو ضرور کوئی بات ہوئی ہوگی لیکن اس سب کی ذمہ دار اسے ہی کیوں ٹھہرایا جا رہا ہے۔؟ اور جو مہر کاظم اس جائیداد اور گھر پہ قابض تھے، یہ سب فروین کی ماں کا تھا تو یہ گھر کافی نہیں تھا جو اب کمپنی بھی چھیننا چاہ رہے تھے یہ لوگ۔ انتہائی لالچی انسان تھے اس کے مقابل بیٹھے یہ تین افراد۔ وہ نفرت سے سوچ کے رہ گئی۔

“نہیں۔”

بلکل اچانک فروین نے کہا تھا

 “فروین، تمہارا مطلب کیا ہے؟”

اریشہ ایسے چلائی تھی جیسے بلی کی دم پہ پاؤں رکھ دیا گیا ہو۔ ان سب کو نظر انداز کرتی فروین کی نظر گلاس وال پہ گئی،  جہاں رات کا سماں تھا ۔ وہ جلدی سے اپنی بیٹی کے پاس پہنچنا چاہتی تھی۔ تبھی وہ سیدھی ہوئی تھی۔

“منگنی ختم کرنا منظور ہے، لیکن شادی کا تحفہ دینا نہیں۔”

یہ کہہ کر وہ باہر نکل گئی۔

” فروین، رک جاؤ!”

مہر کاظم غصے سے چلایا، لیکن فروین نے اسے یکسر نظرانداز کر دیا۔

جب وہ داخلی دروازے تک پہنچی تو اریشہ اس کے پیچھے دوڑتی ہوئی آئی اور اس کا راستہ روک لیا۔

 “بتاؤ، فروین، کیا تمہارا منگنی ختم نہ کرنے کا ارادہ اس لیے ہے کیونکہ تم تبریز کو چھوڑ نہیں سکتی؟”

فروین کو اس کا انداز برا لگا۔

 “راستہ چھوڑو۔”

“تو یہ تمہارے دل کی بات ہے! تم کتنی بے شرم ہو!”

اریشہ نے غصے میں، مغرور انداز اس کے چہرے پر ہاتھ اٹھایا لیکن اگلے ہی لمحے، فروین نے اس کی کلائی پکڑ کے، اس کی کوشش ناکام بنائی۔

اپنا ہاتھ چھڑانے کی ناکام کوشش کرتی وہ پھر سے چلائی تھی ۔

“یہ نہ سوچنا کہ تمہارے یوں خوبصورت ہو جانے سے تبریز کا دل بدل جائے گا اور وہ تمہارے پاس واپس آئے گا! وہ کبھی بھی ایسی عورت سے شادی نہیں کرے گا جس کی اولاد ناجائز ہو۔ ویسے، تم اس ناجائز بچے کو ساتھ کیوں نہیں لائہ جس کے باپ کا پتا تک نہیں؟”

“چٹاخ!”

فروین نے پوری طاقت سے اریشہ کو زوردار تھپڑ مارا۔ اس کی آنکھیں طیش سے سرخ ہو رہی تھی جیسے الاؤ دہک رہے ہو۔

 ” شمائل ناجائز نہیں ہے۔ اگر میں نے تمہیں دوبارہ یہ بکواس کرتے سنا تو تمہارا منہ توڑ دوں گی”

اسے وارننگ دے کر، فروین لب بھینچے مڑی اور وہاں سے جانے لگی جبکہ اریشہ اپنے جلتے گال پہ ہاتھ رکھے، حیرت سے اس بند دروازے کو دیکھ رہی تھی جہاں سے فروین ابھی کچھ دیر پہلے گئی تھی۔ وہ اس قدر ڈر گئی تھی فروین کے ردعمل سے،  کہ اس میں مزید ہمت نہ تھی کہ ایک قدم بھی اٹھا سکے۔

꧁༺♡ Maseer-E-Memnu ♡༻꧂

اسلام آباد کی راتیں،  نیون لائٹس کی روشنیوں میں ڈوبی ہوئی تھی۔

فروین، ٹیکسی میں بیٹھی آنکھیں بند کیے آرام کر رہی تھی۔ روشنی اس کے چہرے پر چمک اور مدھم ہو رہی تھی، جس سے تنہائی کا احساس بڑھتا جا رہا تھا۔

“نامعلوم باپ… ناجائز بچہ…”

یہ الفاظ اسے اداسی میں مبتلا کر گئے تھے۔

پانچ سال پہلے وہ کیسے حاملہ ہوئی، یہ ابھی تک ایک معمہ تھا۔ اسے شمائل کے باپ کی خبر نہیں تھی ۔

“ہم پہنچ گئے۔”

ڈرائیور کی آواز نے فروین کی سوچوں کو توڑ دیا۔

وہ ٹیکسی سے اتر کر ہوٹل کے اندر داخل ہوئی تو اچانک محافظوں کی ایک قطار اس کے سامنے آ گئی اور اسے وہیں روک دیا۔

 ” پلیز میم، ایک طرف ہٹ جائیں!”

روکے گئے لوگ دھیمی آواز میں قیاس آرائیاں کرنے لگے:

“مسٹر مہدی رات گئے کہاں جا رہے ہیں؟”

“سنا ہے کہ مہدی صاحب کا اکلوتا پوتا موس کیک چاہتا تھا…”

فروین نے نیند سے بھرپور جمائی تو اچانک اس کی نظر ایک بلند قامت اور باوقار شخصیت پر پڑی، جو لفٹ سے ایک پانچ یا چھ سالہ بچے کو اپنی گود میں اٹھائے نکل رہا تھا۔

وہ شخص سیدھا آگے دیکھتے ہوئے چل رہا تھا، لیکن فروین کے پاس سے گزرتے ہوئے رک گیا۔ اس نے گہری نظر سے اسے دیکھا اور دھیمی آواز میں کہا،

 “مس فروین…”

فروین رک کے، اپنے ادھ منہ کے ساتھ ثالث مہدی کو حیرانی سے دیکھ رہی تھی۔

وہ شخص بہت لمبا تھا، تقریباً چھ فٹ دو انچ کا۔ ایک سیاہ بیسپوک سوٹ پہنے ہوئے، اس کی ٹانگیں لمبی اور سیدھی تھیں۔

ہوٹل کی شاندار روشنیوں نے اس کے بےتاثر چہرے پر پڑ کر، اس کے شاندار نقوش کو نمایاں سا کر دیا تھا ، اور اس کے مضبوط خد و خال ایک بلند اور شاندار شخصیت کا تاثر دے رہے تھے۔

 اس کی آنکھ کے گوشے پر موجود تل نے اس کی وجاہت میں ایک غیر معمولی کشش اور سردمہری کا امتزاج پیدا کر دیا تھا، جس سے ایک اجتناب کا تاثر ابھرتا تھا۔

اس کی بانہوں میں موجود چھوٹا لڑکا بھی سوٹ پہنے ہوئے تھا۔ وہ ثالث مہدی کے کندھے سے لگا ہوا تھا اور اپنا چہرہ اس میں چھپا رہا تھا، تاکہ میڈیا خفیہ طور پر اس کی تصویر لے کر اس کی شناخت ظاہر نہ کر سکے۔

بدقسمتی سے، فروین اس وقت اس کی خوبصورتی کی تعریف کے موڈ میں نہیں تھی، وہ تو یہ سوچ رہا تھی کہ کیا ثالث مہدی،  اس کی ایش کے طور پر پہچان کے بارے میں کچھ جان چکا تھا؟

اس سوچ کے آتے ہی، فروین نے محسوس کیا کہ ثالث مہدی کے ماتھے کی شکنوں میں اضافہ ہو چکا ہے۔ “میرے بیٹے سے دور رہو۔ اور ویسے بھی، تم میرے ٹائپ کی نہیں ہو۔”

سرد رعب دار آواز میں وہ سرگوشی کر گیا تھا ۔ اس کی آواز گہری اور مبہم تھی جسے سننے میں بےحد دلکش محسوس ہوتا لیکن اس کی سرد لہجے میں کی گئی اس بات نے، بھی سے فروین کی نیند اڑا دی تھی وہ حیران اور کھلی آنکھوں سے، اس شخص کو دیکھنے لگی۔

اس کے ذہن میں ایک بڑا سوالیہ نشان ابھرا: ؟

جب تک فروین اپنی جگہ سنبھل پاتی، وہ شخص مڑ کر تیز قدموں سے وہاں سے چلا گیا۔

اطراف میں کھڑے لوگ فروین کو یوں گھورنے لگے جیسے وہ کوئی خطرناک وائرس ہو، اور آہستہ آوازوں میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں:

“پچھلے کچھ سالوں میں، کئی لوگ مہدی فیملی کے اکلوتے پوتے کو خوش کرکے ثالث مہدی تک پہنچنے کی کوشش کر چکے ہیں، لیکن وہ ایسی حرکتوں سے نفرت کرتا ہے!”

“سنا ہے کہ جس عورت نے آخری بار ایسا کرنے کی کوشش کی تھی، وہ ایک ساٹھ سالہ آدمی سے شادی کرنے پر مجبور ہو گئی تھی۔ یہ عورت کتنی عجیب ہے!”

اور فروین کو بلکل اچانک  احساس ہوا کہ اس سب باتوں کا مطلب کیا ہے۔

…کیا یہ آدمی پاگل ہے؟

اس نے آبرو اچکا کے سوچا۔ اس کی نظریں ثالث مہدی پہ تھی جو اب لابی سے نکل گیا تھا۔  گارڈز بھی پیچھے ہٹ گئے، اور ہوٹل کی لابی دوبارہ معمول پر آ گئی۔

꧁༺♡ Maseer-E-Memnu ♡༻꧂