Maseer-e-Mamnu – A Forbidden & Powerful Contemporary Romance Novel by Malayeka Rafi | novelR50456 Maseer e Mamnu Episode 04 The Monster Next Door
No Download Link
No categories assigned.
Rate this Novel
Maseer e Mamnu Episode 04 The Monster Next Door
شام سے دیکھ رہا تھا کہ حارث کے چہرے پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار تھا، اور وہ خاموش تھا لیکن بار بار منہ بنا رہا تھا، اسے کچھ بھی پسند نہیں آ رہا تھا جبکہ ثالث مہدی کے ماتھے پر شکن پڑی ہوئی تھی۔
اس کے بیٹے کی غیر معمولی رویے نے اسے کوریڈور کی نگرانی کی فوٹیج چیک کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ اس عورت نے اس کے بیٹے کو گلے لگا لیا تھا اور اسے چوما تھا۔
مسئلہ یہ تھا کہ پہلی بار حارث، جو دوسروں سے دور رہتا تھا اور جسمانی رابطے کو پسند نہیں کرتا تھا، اس پر کوئی اعتراض نہیں کر رہا تھا۔
کیا یہ اس لیے تھا کہ وہ عورت حد سے زیادہ حسین تھی؟
ثالث کو فروین کی وہ بے ساختہ خوبصورتی یاد آئی، جو اس کے سادہ لباس کے باوجود نمایاں تھی۔ خاص طور پر، اس کی وہ حیرت بھری آنکھیں اور بے پروائی سے جمائی لینے کی وہ حرکت۔
اور سب سے بڑھ کر، اس کی کانچ جیسی آنکھوں میں جس طرح سے بے نیازی اور انکار جھلک رہا تھا، وہ عورت واقعی کچھ الگ تھی! اس کے چہرے پہ ہلکی مسکراہٹ ابھر کے معدوم ہوئی تھی جب اس کی آنکھوں میں، فروین کا وہ حسین تصور ابھرا تھا۔ پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ کسی عورت کی آنکھیں اسے انکار کر رہی تھی اور پہلی ہی بار ہوا کہ ثالث مہدی کو اس انکار میں کشش محسوس ہوئی تھی اور بہت دیر تک، وہ اس حسین عورت کی بےپرواہ، حیران آنکھوں کو سوچے گیا۔
꧁༺♡ Maseer-E-Memnu ♡༻꧂
جب تبریز وہاں پہنچا تو سالگرہ کی تقریب ختم ہو چکی تھی۔
اریشہ کا چہرہ سوجا ہوا تھا، اور اس پر صاف دکھائی دینے والا ہاتھ کا نشان تھا۔ وہ اپنے گال پر برف سے بھری ہوئی تولیہ رکھے ہوئے تھی اور آنسو بھری آواز میں شکایت کر رہی تھی،
“اتنی دیر سے کیوں آئے، تبریز؟”
تبریز ایک لمحے کے لیے بےچین نظر آیا۔
یہاں اتے ہوئے اس نے، راستہ بدل کر ایک نجی جاسوس سے ملاقات کی تھی تاکہ اس حسین عورت کے بارے میں معلومات حاصل کرے جسے اس نے ایئرپورٹ پر دیکھا تھا۔ تبھی اسے دیر ہو گئی تھی۔
اس نے کھانستے ہوئے فکرمند اور ہمدرد لہجے میں کہا، “کیا ہوا؟ کیا اس موٹی عورت نے تمہیں مارا؟ کیا وہ منگنی ختم کرنے سے انکار کر رہی ہے؟ وہ کہاں ہے؟ میں خود اس سے بات کروں گا!”
خود بات کرنے کا مطلب تھا کہ وہ اس سے ملے گا۔
کسی وجہ سے، اریشہ کے دل میں اس خوبصورت چہرے کا خیال آتے ہی بےچینی پیدا ہوئی۔
اگر تبریز، فروین سے ملا، تو کیا وہ اسے پسند نہیں کرے گا؟
اریشہ نے ٹاول پہ اپنے ہاتھ کی گرفت مضبوط کی ور فوراً کہا،
” تبریز، تمہیں خود جانے کی ضرورت نہیں۔ وہ بس کمپنی چھوڑنے پر راضی نہیں ہو رہی۔ فکر نہ کرو، میں اسے قائل کر لوں گی۔”
تبریز نے کوئی اصرار نہیں کیا ویسے بھی اس کے دھیان کی سوئیاں کہیں اور اٹکی ہوئی تھی۔ اس نے سر اثبات میں ہلایا اور کندھے اچکائے۔
“کمپنی کے بغیر، دادا ہماری منگنی کبھی منظور نہیں کریں گے! یہ معاملہ تمہارے حوالے ہے۔ میں اس کا موٹا سا چہرہ دیکھنا بھی نہیں چاہتا۔ ویسے، کیا وہ اور زیادہ موٹی ہو گئی ہے؟”
اریشہ محتاط ہو گئی۔
، “اگر تم نہیں ملنا چاہتے تو مت ملو۔ میں شادی کے تحفے کا مسئلہ ضرور حل کر لوں گی۔”
اس نے زور دیتے ہوئے کہا تاکہ تبریز کا ذہن فروین کی طرف سے ہٹا سکے۔
“ٹھیک ہے۔”
وہاں سے نکلنے کے بعد، گاڑی چلاتے ہوئے بھی تبریز کا ذہن، ایئرپورٹ پہ ملنے والی اس حسین عورت، فروین کی طرف تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ کون تھی، یا وہ فروین تھی، لیکن اس کی خوبصورتی اور شخصیت نے اسے متاثر کیا تھا۔
“اگر میں اس سے شادی کر سکوں تو کتنا اچھا ہو گا۔”
اس سوچ کے آتے ہی، اس کے دل میں دوبارہ سے، اس حسین چہرے کو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن کیسے ؟؟ اور کہاں؟؟
اچانک، اسے نجی جاسوس کی کال موصول ہوئی:
“مسٹر تبریز، میں اس خوبصورت خاتون کی شناخت معلوم نہیں کر سکا، لیکن مجھے وہ ہوٹل معلوم ہو گیا ہے جہاں وہ ٹھہری ہوئی ہیں۔”
تبریز کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
“مجھے ایڈریس سینڈ کرو ابھی “
꧁༺♡ Maseer-E-Memnu ♡༻꧂
جب فروین لابی سے ہوتی، اوپر ہوٹل پہنچی تو شمائل پہلے ہی سو چکی تھی۔ فروین اس پہ محبت بھری نظر ڈال کے، اسٹڈی میں آئی تھی۔ صوفے پہ بیٹھ کے، اس نے موبائل اٹھایا اور کال کرنے لگی۔
” سولو، مجھے Idealayan Pharmaceuticals کے بارے میں تمام معلومات چاہئے “
دوسری طرف سے ایک زندہ دل لیکن بےبس آواز آئی،
“دیکھو، ایش، اتنی بھی زیادتی نہ کرو۔ کیا تم نے یہ سوچ لیا ہے کہ میں صرف تمہاری زندگی کا قرضدار ہوں، اس لیے تمہاری انڈر ہوں؟ دنیا کا نمبر ون ہیکر ہونے کے ناتے کیا میری کوئی عزت نہیں؟ تم ہر معمولی کام کے لیے مجھے کہتی ہو؟ چلو، اپنی قیمت بتاؤ، اور ہم یہ معاملہ ختم کرتے ہیں!”
فروین کے لبوں پر ہلکی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
“ٹھیک ہے۔ تمہاری زندگی کی کیا قیمت ہے؟”
کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد، سولو کی آواز ابھری ۔ “ٹھیک ہے، تم جیت گئیں۔ پانچ منٹ دو۔”
پانچ منٹ بعد، سولو نے اسے Idealayan Pharmaceuticals کی تمام معلومات ای میل کر دیں۔
꧁༺♡ Maseer-E-Memnu ♡༻꧂
ثالث مہدی، ہمیشہ کی طرح اپنے مغرور اور سرد انداز میں صوفے پر بیٹھا ہوا تھا۔
اس کے معاون، سجاد شاہ، احترام سے کھڑے ہوئے تھے۔ “مسٹر ثالث ، عباد نے ڈاکٹر ایش کی طرف سے ایک پیغام دیا ہے۔”
، “کیا ؟”
ثالث کا لہجہ سرد تھا۔
سجاد نے کھنکھارتے ہوئے چشمے کو ٹھیک کیا اور اعتماد سے پیغام پڑھا:
“ڈاکٹر ایش پوچھ رہی ہیں کہ ‘مسٹر ثالث مہدی، کیا آپ کو اتنی جلدی میری ضرورت اس لیے ہے کہ آپ کے اس چھوٹے سے عقل کو دماغی سرجری کی ضرورت ہے؟'”
کمرے کا درجہ حرارت ایک دم منجمد ہو گیا۔
ایک طویل خاموشی کے بعد، ثالث نے غصے کو دباتے دو الفاظ کہے:
“تصویر دکھاؤ!”
سجاد نے فوراً وہ تصویر نکالی جو انہوں نے بہت بڑی قیمت ادا کر کے، خریدی تھی اور ثالث کو دی۔
ثالث نے تصویر اٹھائی۔
دیکھتے ہیں کہ میرا مذاق اڑانے والی یہ عورت آخر کون ہے!!!!
تصویر، جو تقریباً چھ ماہ پہلے لی گئی تھی، ایش کی ایک سرجری کے دوران کھینچی گئی ایک عام سی تصویر تھی۔
تصویر میں ایش نے سرجیکل کیپ پہن رکھی تھی اور پورا جسم اچھی طرح ڈھکا ہوا تھا۔ صرف اتنا پتہ چلتا تھا کہ وہ تھوڑی سی فربہ مائل خاتون تھی۔ وہ نیچے دیکھ رہی تھیں، اس کی بلی جیسی آنکھیں نیم بند تھیں، جن میں سنجیدگی اور ارتکاز جھلک رہا تھا۔
یہ آنکھیں کچھ جانی پہچانی لگتی ہیں…
ثالث نے سوچا اور پھر فوراً اپنے خیالات جھٹک دیے۔ پاس والے کمرے میں موجود خاتون کی جسامت تصویر والی خاتون سے نہیں ملتی تھی۔ یہ وہ نہیں ہو سکتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ ساتھ والے سویٹ میں ، مس مارٹا، فروین کو سونے کے لیے کہہ رہی تھیں۔
” فروین، تمہاری صحت پہلے ہی کمزور ہے۔ تمہیں دوسروں کے مقابلے زیادہ نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب مزید جاگنے کی اجازت نہیں!”
فروین نے انگڑائی لی اور ہلکی سی بھاری آواز میں کہا، “ٹھیک ہے۔”
حالانکہ وہ صحت یاب ہو چکی تھی، لیکن اس کی طبیعت کمزور تھی، اور اس کے جسم میں زیادہ توانائی نہیں تھی۔ اسے روزانہ بارہ گھنٹے کی مکمل نیند درکار تھی۔
جب وہ بیرون ملک مقیم تھی، تو اس کی خالہ نے اسے “نیند کی ملکہ” کا لقب دیا تھا—کیونکہ اگر کوئی خاص بات نہ ہوتی، تو وہ لگاتار تین دن اور تین راتیں سو سکتی تھی…
꧁༺♡ Maseer-E-Memnu ♡༻꧂
اگلے دن، اسے فون پہ ہوتی بیل نے جگا دیا۔ اس نے آنکھیں بند کیے ہوئے ہی کال اٹھا لی۔ دوسری طرف سے اریشہ کی آواز سنائی دی،
“کیا تم نے کمپنی کے بارے میں کچھ سوچا؟”
“…نہیں، ابھی تک نہیں۔”
“چلو ایسا کرتے ہیں—ہم دونوں ایک قدم پیچھے ہٹتے ہیں۔ میں تمہیں پانچ لاکھ دیتی ہوں اور تم کمپنی میرے نام منتقل کر دو۔ اب تو تم مطمئن ہو جاؤ گی، ٹھیک ہے؟”
اریشہ نے مغرور انداز میں کہا جبکہ فروین نے کروٹ لی اور آرام دہ انداز میں نیم دراز ہو کے اسے سننے لگی، لیکن پھر بھی اپنی آنکھیں بند ہی رکھی۔
Idealayan Pharmaceuticals کی سالانہ خالص آمدنی تقریباً پچاس لاکھ ڈالر تھی۔ تمام پیسہ ان سب سالوں میں اس کے نام نہاد سرپرست، اس کے باپ، مہر کاظم، کے حوالے کر دیا گیا تھا۔
اگرچہ یہ رقم زیادہ نہیں تھی، لیکن اس کی ماں کی کمپنی کو اتنی آسانی سے دے دینا ناممکن تھا!
اریشہ نے طنزیہ انداز میں بات جاری رکھی،
“کیا تمہاری خالہ کی تمام جمع پونجی اتنی بھی نہیں ہے کہ وہ ایک لاکھ تک پہنچ جائے؟ اور یہاں پانچ لاکھ کی بات ہو رہی ہے۔ تم نے شاید زندگی میں کبھی اتنا پیسہ دیکھا ہی نہیں ہوگا، ہے ناں؟”
پریزیڈینشل سویٹ کا کرایہ ایک رات کا ایک لاکھ تھا۔ مزید یہ کہ، یہ سوچتے ہوئے کہ شمائل کو گھر ڈھونڈنے سے پہلے رہائش میں کوئی پریشانی نہ ہو، اس کی خالہ نے سیدھا ایک ماہ کا سویٹ بک کروا دیا تھا۔
واقعی، اس نے اتنی معمولی رقم کبھی نہیں دیکھی تھی۔
جب اریشہ کو محسوس ہوا کہ وہ اب بھی کچھ نہیں بول رہی، تو اس نے حکمت عملی بدل لی۔
” فروین، شاید تمہیں معلوم نہیں، لیکن وہ کمپنی بالکل بھی منافع نہیں کما رہی، اور دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔ اگر تم کمپنی میرے نام کر دو، تو شاید میں خسارے کو منافع میں بدلنے کا کوئی راستہ نکال لوں!”
فروین نے سوچا، ہا ہا ہا۔
اریشہ نے اپنی بات جاری رکھی،
“یہ ایک دواسازی کمپنی ہے۔ تم جیسے جاہل جو اسکول تک نہیں گئے، یقیناً اس کے بارے میں کچھ نہیں جان سکتے۔ میں ایک اعلیٰ کامیاب میڈیکل اسٹوڈنٹ ہوں اور ہمیشہ فرسٹ پوزیشن حاصل کی ہے۔ اور، میں پروفیسر ایش کے پوسٹ گریجویٹ پروگرام میں داخلہ لینے کا ارادہ رکھتی ہوں!
ایش دنیا کے سب سے حیرت انگیز سرجن ہیں۔ وہ سب سے مشکل آپریشنز بھی کر سکتے ہیں۔ وہ اس انڈسٹری میں ایک لیجنڈ ہیں! لیکن وہ بہت پراسرار ہیں۔ بوسٹن یونیورسٹی نے انہیں پروفیسر کے طور پر مدعو کرنے کے لیے بہت سوچ بچار کی تھی…
لیکن میں تم جیسے جاہل کو یہ سب کیوں بتا رہی ہوں؟ تمہیں تو شاید یہ سب سمجھ بھی نہ آئے! فروین، میرا مشورہ ہے کہ تم ابھی ہار مان لو۔ اپنی حیثیت سے زیادہ بڑا مت بنو! کمپنی اور جلد دیوالیہ ہو جائے گی۔”
فروین نے تھوڑی جھنجھلاہٹ کے ساتھ بھنویں سکیڑیں۔ “…بہت بولتی ہو ۔”
اریشہ غصے سے بولی،
“اس کا کیا مطلب ہے؟”
اس نے دھمکی دیتے ہوئے کہا،
“کیا تم جان بوجھ کر انجان بن رہی ہو کیونکہ تم منگنی ختم نہیں کرنا چاہتیں؟ تبریز صرف مجھ سے محبت کرتا ہے، اور اسے میری میڈیکل کی صلاحیت کی قدر ہے! اگر میں کمپنی کو شادی کے تحفے کے طور پر نہ بھی لوں، تب بھی وہ مجھ سے شادی کرے گا! لگتا ہے کہ تم مشکل راستہ اپنانا چاہتی ہو، ہے نا؟!”
فروین نے بنا کچھ کہے، فون بند کیا اور موبائل ایک طرف پھینک دیا۔ پھر، اس نے تکیے کو گلے لگایا اور دوبارہ گہری نیند میں چلی گئی۔
جہاں تک اریشہ کی دھمکیوں کا تعلق تھا… چاہے وہ کوئی بھی شیطان یا بلا ہو، سب کو آ کر اپنی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا اسے بلکل بھی پرواہ نہ تھی کہ وہ کیا سوچتی ہے اور کیا کہتی ہے۔
بارہ گھنٹے کی مکمل نیند کے بعد، فروین آخرکار ہچکچاتے ہوئے بستر سے اٹھی۔ اس نے نجی تفتیش کاروں سے اپنے بیٹے کی گمشدگی کے سراغ ڈھونڈنے کا فیصلہ کیا۔
تبھی اس نے فورا کپڑے بدلے اور باہر چلی گئی۔
دروازے پر، شمائل سے، بہت سرسری سا گلے ملتے ہوئے، اس نے آہستہ سے کہا،
“سارا دن گیمز نہ کھیلنا۔ اپنی نظر خراب مت کرنا۔”
“چار مارے گئے، اففف چار مارے گئے، اوہ، تم کتنے بے وقوف ہو!”
شمائل اپنے فون پر تیزی سے انگلیاں چلاتی رہی۔ جب اس نے اپنی ماں کی اواز سنی تو بغیر دیکھے سر ہلاتے ہوئے کہا،
“ٹھیک ہے۔ فکر نہ کریں، ممی، میں مس مارٹا کا خیال رکھوں گی۔”
صاف ظاہر تھا کہ وہ سن ہی نہیں رہی تھی۔
فروین نے تھوڑا اوپر دیکھتے ہوئے مزید کہا،
” ہمارے پڑوس کے سویٹ میں ایک بہت ڈینجرس آدمی رہ رہا ہے۔ اگر ضروری نہ ہو تو باہر مت جانا۔”
شمائل کی آنکھیں فوراً دلچسپی سے چمک اٹھیں۔
“ممی، کیا وہ کوئی مونسٹر ہے؟”
ثالث مہدی کی مغرور شکل ذہن میں لاتے ہوئے، ہمیشہ کم گو رہنے والی فروین نے آہستہ سے کہا،
“ہاں، وہ مونسٹر ویسے ہینڈسم ہے لیکن ہے تو مونسٹر ہی اور اس کی آنکھ کے کنارے پر تل ہے، لیکن لگتا ہے کہ اس کا دماغ صحیح کام نہیں کرتا۔”
“اوہ۔”
شمائل نے ہاتھ ہلایا۔
“پھر میں بالکل باہر نہیں جاؤں گی۔ میں بے وقوفوں کے ساتھ نہیں کھیلتی۔”
فروین ہنس پڑی۔ پھر، اس نے دروازہ بند کیا اور لفٹ کی طرف جانے کے لیے تیار ہو گئی۔ لیکن جب اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو فوراً ٹھٹک گئی۔ نہ جانے کب ثالث مہدی، اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا تھا۔
اس شخص کی لمبی قامت نے وسیع راہداری کو بھی تھوڑا تنگ بنا دیا تھا۔ اس کی گہری آنکھیں فروین پر جمی ہوئی تھیں، اور اس کی آنکھ کے کونے کا تل بھی جیسے، اسے سرد مہری سے گھور رہا تھا۔
وہ شاید کہیں جا رہا تھا۔ ایک اسسٹنٹ اور ایک باڈی گارڈ اس کے ساتھ تھے۔ وہ صرف تین تھے، لیکن اس کی موجودگی کل کی طرح جیسے ہر طرف چھا رہی تھی۔
فروین نے اپنے آئبرو اچکائے۔
اس کی خالہ نے پاکستان واپس آنے سے پہلے اسے ہزار بار یاد دلایا تھا۔
یہاں، وہ اسے کسی کے بھی خلاف تحفظ دے سکتی تھیں۔ لیکن صرف ایک شخص تھا جس کے ساتھ الجھنا منع تھا، اور وہ تھا ثالث مہدی!!
کل رات، ایش کے طور پر، اس نے طنزیہ جواب دیا تھا، لیکن وہ انٹرنیٹ کے ذریعے الگ بات تھی، لیکن اب…
فروین نے اپنی بلی جیسی آنکھیں تھوڑا نیچے کیں اور لاپرواہ لہجے میں کہا،
“مسٹر ثالث، میں تو صرف بچے کے ساتھ مذاق کر رہی تھی۔ میں آپ کی طرف اشارہ بالکل بھی نہیں کر رہی تھی۔”
سجاد کے ہونٹوں کے کنارے تھوڑے سے کانپے۔ کیا یہ عورت اس قدر نڈر ہو سکتی ہے ؟
ثالث مہدی کا چہرہ بےتاثر ہی رہا، جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہو گیا کہ وہ کیا سوچ رہا تھا۔ اس نے فروین پر ایک طویل اور گہری نظر ڈالی اور پھر آگے بڑھ گیا۔
فروین نے جان بوجھ کر وہاں وقت ضائع کیا اور ان کے لفٹ میں داخل ہونے کا انتظار کیا، پھر باہر نکلی اور سکون کا سانس لیا۔
اس شخص نے بس ایک گہری نظر ڈالی تھی اس پہ، لیکن اس میں شدید خطرے کا احساس تھا۔
یہ واقعی ایک بہت بڑا مسئلہ بننے والا تھا اس کے لئے۔ بہتر ہے کہ وہ اس سے دور ہی رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لفٹ میں موجود ثالث مہدی کا دھیان اب بھی فروین کی طرف ہی تھا۔ رات کا وقت ہونے کی وجہ سے، روشنی اتنی زیادہ نہیں تھی لیکن پھر بھی، بےحد قریب ہونے کی وجہ سے، وہ اعتراف کر گیا تھا خود سے، کہ وہ عورت بےانتہا حسین تھی۔ اس کا رنگ حیرت انگیز طور پہ گورا تھا جبکہ اس کی کانچ جیسی آنکھیں بےحد شفاف اور معصوم تھی، جن میں لاپروائی کا عنصر نمایاں تھا۔ اس کی مڑی ہوئی پلکیں سیاہ اور لمبی تھی، وہ بےحد معصوم نظر آتی تھی لیکن جب وہ کسی کو گالی دیے بغیر ہی، طنز کرتی تھی، تو اس کی یہ ادا، اس کے لیے تھوڑی جانی پہچانی کیوں لگ رہی تھی؟
꧁༺♡ Maseer-E-Memnu ♡༻꧂
جب حارث کو یقین ہو گیا کہ شیطان چلا گیا ہے، یعنی اس کا کھڑوس ڈیڈ، تو اس نے فوراً ساتھ والے سویٹ کا فون نمبر ڈائل کیا۔
“ہیلو؟”
شمائل کی چھوٹی سی آواز فون پہ ابھری تھی۔
حارث تھوڑی دیر رکا۔
“میں اگلے کمرے میں رہتا ہوں۔ کیا میں تم سے مل سکتا ہوں؟”
چھوٹی لڑکی حیران ہوئی۔
“تو، تم اگلے کمرے کے چھوٹے بے وقوف ہو؟”
پولیٹیکل فیملی کے سب سے کم عمر جینیئس کے لیے یہ پہلا موقع تھا کہ کسی نے اسے بے وقوف کہا۔
لیکن شمائل نے جلدی سے دوبارہ بات کی،
“کیا تم میرے ساتھ گیمز کھیل سکتے ہو؟”
حارث کی گہری آنکھوں میں روشنی کچھ لمحوں کے لیے چمکی، اور اس نے جواب دیا،
“ہاں، میں کھیل سکتا ہوں۔”
꧁༺♡ Maseer-E-Memnu ♡༻꧂
