223.8K
9

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Laylpur Ki Laila) Last Episode 9

لیلیٰ نے بوڑھے کو دیکھا تو دروازے سے ہی واپس پلٹ گئی اور مانگنے والا سمجھ کے آٹا لے آئی اسے دینے کیلیۓ۔یہ لو بابا گھور کیا رہے ہو آٹا لو اور چلتے بنو۔میں تمہیں مانگنے والا لگ رہا ہوں؟ بوڑھے نے برا سا منہ بنایا۔نہیں جی تم تو ٹام کروز لگ رہے ہو اور اپنے بیٹے کا رشتہ لے کے آۓ ہو نہ۔ آؤ اندر آؤ تمہیں چاۓ پلاؤں۔ بوڑھا فٹافٹ گھر کے اندر آنے لگا۔اے بڈھے کدھر؟ لیلیٰ نے اسے دھکا دیا اور وہ باہر نالی میں جاگرا۔منحوس بڈھے سچ میں گھستا چلا آرہا ہے تیرے ابا کا ہوٹل کھلا ہوا ہے یہاں پہ؟ بڈھا جو نالی کے گندے پانی سے لتھڑ گیا تھا اٹھ کر دانت پیستے ہوۓ ایک طرف کو چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد پھر سے واپس آیا اور دروازہ بجانے لگا۔اس بار کسی اور شکل میں آیا تھا۔جی ہاں ٹھیک سمجھے وہ ساڈے جن پاجی تھے جسم پہ ویکس کے زخم اور سر پہ بھینسے والی چوٹ پہ پٹی کی ہوئی تھی۔ ایک بار پھر سے دروازہ بجایا اور اس بار لیلیٰ کے ہاتھوں کی پہنچ سے دور کھڑا ہوا تھا۔ہاں جی فرماؤ لیلیٰ خطرناک تیوروں سے سامنے کھڑے بندے کو گھورتے ہوۓبولی۔ کیا چاہیۓ؟ میں تمہیں کچھ دینے آیا ہوں لیلیٰ ۔کیا دینے آۓ ہو شکل سے تو بھوکے ننگے لگ رہے ہو مجھے کیا دو گے؟ اور میرا نام کیسے پتا تمہیں؟ تم چھوڑو اس بات کو یہ لو یہ پاؤڈر لگانا اپنے بالوں پہ اس سے بال ٹھیک ہو جائیں گے۔کیا مطلب اور تم ہو کون میرے بالوں کے بارے میں جاننے والے اب تو یہ جاننا ہی پڑے گا لیلیٰ نے اچانک آگے بڑھ کے اسکو بالوں سے پکڑ کے اندرکھینچ لیا باہر محلےکے بچے کھیل رہے تھے وہ بھی یہ سین دیکھ کر بھاگ کے لیلیٰ کے پاس آۓ ۔
اب جن تو دونوں ہاتھوں سےبال چھڑوانے کی کوشش کر رہا تھا جنہیں لیلیٰ نے مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔پاؤڈر وہاں ہی گر گیا تھا جسے بچوں نےلیلیٰ کے اشارے پہ اٹھا کے جن بابے کہ سر اور جسم پہ پھینک دیا۔اوئی ماں… نی لیلیٰ تیرا ستیاناس کمینی تیرا ککھ نہ رہوے مرجانی چھوڑ مجھے۔جن کبھی دونوں ہاتھوں سے سر اور جسم پہ خارش کررہا تھا اور کبھی اپنے بال چھڑوا رہا تھا۔تیز ترین کھجلی پاؤڈر جو وہ لیلیٰ کے لیۓ لے کر آیا تھا اس نے اس کے زخموں پہ مرچیں لگا دی تھیں جب اس نے دیکھا کہ لیلیٰ کسی بھی طرح اس کے بال نہیں چھوڑ رہی تو وہ وہاں سے غائب ہوگیا اور جا کے ٹیوب ویل میں چھلانگ لگا دی ۔
بچوں نے جب بوڑھے کو غائب ہوتے ہوۓ دیکھا تو جن جن چلاتے ہوۓ بھاگ نکلے۔لیلیٰ بھی حیرت سے اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگی جہاں سے جن بال چھڑا کر بھاگا تھا۔تھوڑی دیر تو سوچتی رہی پھر اسے اس دن والا سین یاد آیا جو اس نے بلے کو ٹیوب ویل میں پھینکا تھا۔اچھا تو اسکا بدلہ لینے آیا تھا کمبخت کھجلی پاؤڈر لے کے۔بیچ والے واقعات کا اسے خیال میں بھی نہیں آیا کہ وہ جن تھا جسکی کتوں والی ہوتی رہی بار بار۔اب وہ یہ سوچ رہی تھی کہ ہو سکتا ہے وہ منحوس جن دوبارہ آۓ تو اسے بھی اپنی تیاری رکھنی چاہئے۔اور بیٹھ کر سوچتی رہی۔مگر جن تو اس کھجلی پاؤڈر سے اس بری طرح چھل گیا تھا کہ بہت سارے دن تو بیچارے میں ہمت ہی نہیں رہی تھی کچھ کرنے کی اسی دوران اسے اسکے باپ کوہ قاف کے بادشاہ کے بھیجے ہوۓ جاسوس جنوں نے اسکا سراغ لگا لیا تھا اور اسے اٹھا کر لے گئے۔وہاں اسکا علاج ہوا اور پھر سب نے اسکی لو سٹوری سُنی اور اسکی بار بار کی درگت بننے پر ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوگۓ۔اس نے اپنی والدہ سے اجازت لی کہ وہ ایک بار اور انسانوں کی دنیا میں جاۓ گا مگر اس بار وہ لیلیٰ سے معافی مانگے گا کیوں کہ لیلیٰ نے تو اسے براہِ راست کچھ نہیں کہا تھا بلکہ اسکی خود کی چال اس پہ الٹ جاتی تھی ۔پہلے تو اس کو اجازت نہیں ملی مگر پھر سب لوگ لائل پور کی بہادر لیلیٰ کو دیکھنے کو تیار ہو گئے۔ مگے طے یہ ہوا کہ وہ غائب رہیں گے اور بس وہ ہی جن سامنے جاۓ گا۔مگر اس کے ایک کزن کو مستی سوجھی وہ بولا میں پہلے جاؤں گا اس کے سامنے۔دیکھوں گا کیا کرتی ہے۔تو ٹھیک ہے ۔اگلے دن سب لوگ لیلیٰ کے گھر گئے۔وہ اس ٹائم صحن میں بیٹھی تھی جب وہ شرارتی جن اس کے سامنے آیا ۔یہ لمبے لمبے بال سرخ آنکھیں بڑی بڑی مونچھیں ۔لیلیٰ نے باہر کے دروازے کی طرف دیکھا جو کھلا ہوا تھا ۔اوۓ تم کون ہو اور کس سے پوچھ کے اندر آۓ ہو؟ میں جن ہوں اس نے لیلیٰ کو ڈرانے کی ناکام کوشش کی ۔اچھاااا میں کیسے مان لوں؟ لیلیٰ کو شرارت سوجھی۔تم جو چاہو ثبوت مانگ لو۔تو ٹھیک ہے میں چیک کروں گی کہ تم سچ مچ جن ہو یا کاسٹیوم پہن کے آۓ ہو۔ آؤ کر لو چیک جن سینا پھلا کر کھڑا ہو گیا۔لیلیٰ آگے بڑھی اور اسکی دونوں مونچھیں پکڑ کے اتنی زور سے جھٹکا لگایا کہ جن بلبلا اٹھا۔اور تکلیف سے چیختے ہوۓ بولا اے چھوڑ اکھاڑ دے گی کیا۔تو لیلیٰ نے مونچھیں چھوڑ دی اور بولی یہ تو اصلی ہیں مگر سر پہ وگ لگائی لگتی۔کہتے ساتھ ہی بالوں سے پکڑ کہ اس کو گھما کے رکھ دیا۔اؤئی ماں بچاؤ اس افلاطون کی بچی سے جن دہائی دینے لگا اتنے میں سب جن لوگ ظاہر ہوگۓ جو پیٹ پکڑے ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔جن بیچارہ کھسیانہ ہو کے سائڈ پہ ہو گیا۔اتنے میں پہلے والے جن کی والدہ یعنی ملکہ لیلیٰ کے پاس آئی اور سب کا تعارف کروایا اور اپنے بیٹے سے معافی بھی منگوائی۔لیلیٰ اس نے تمہیں بہت تنگ کیا اسکی سزا بھی اسکو مل گئی اب اسکو معاف کردو تم بہت بہادر ہو جو ڈری نہیں۔اتنے میں وہی جن اس کے پاس آیا اور بولا لیلیٰ یہ انگوٹھی رکھ لو اگر کبھی میری ضرورت پڑے تو رگڑ کے بلا لینا۔واہ جن پاجی تسی گریٹ ہو اس انگوٹھی کی مجھے نہیں تمہیں ضرورت ہے ۔کوئی تمہیں پیٹے تو مجھے بلا لینا۔جن شرمندا ہو گیا اور سب لوگ ہنستے ہوۓ اوپر پرواز کر گئے۔لیلیٰ بھی نیم کے درخت کے نیچے آنکھیں بند کر کے کچھ سو چنے لگی ابھی اسے پارلر والی کی ٹنڈ بھی تو پوری کرنی تھی تو تصور میں اسکے سر میں استرا چلانے لگی۔
ختم شد