Laylpur Ki Laila By Sonya Hussain Readelle50323 (Laylpur Ki Laila) Episode 5
Rate this Novel
(Laylpur Ki Laila) Episode 5
اگلا دن پرسکون تھا کیوں کہ جن چھٹی پہ تھا۔
لیلیٰ کی وہی چھوٹی موٹی نوک جھونک جاری رہی۔
عادل بیچارہ چمٹے کھا کھا کے سوجا ہوا تھا وہ بھی بستر پہ الٹا لیٹا ہاۓ واۓ کر رہا تھا اور ماں سے گرم پانی اور گالیوں کی ٹکور کروا کے وقفے وقفے سے چیخیں مار رہا تھا۔
آج لیلیٰ کی کسی سہیلی کی مہندی تھی وہ وہاں جانے کیلیۓ تیار ہو رہی تھی
مگر دوسری طرف اسکی سہیلی نے اسے بلا تو لیا تھا اب دعائیں کر رہی تھی کہ اللّہ کرے لیلیٰ کو بخار ہو جاۓ یا کوئ ٹانگ وانگ ٹوٹ جاۓ اور وہ نہ آۓ کیونکہ اسے ڈر تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اسکا سہاگ بسنے سے پہلے اجاڑ دے۔
لیلیٰ کی حرکتوں سے گاؤں والے تو واقف تھے مگر یہ رشتہ دوسرے گاؤں سے آیا تھا اور لڑکا بہت نخرے والا تھا
اسکی ماں بہنوں کی مانگیں ہی ختم نہیں ہو رہی تھی کبھی ان کو جہیز میں بھینس چا ہیۓ تھی تو کبھی ساس نندوں کیلیۓ سونے کا زیور۔
اور اب وہ لوگ مہندی پہ لڑکے کیلیۓ تھے موٹر سائیکل مانگ رہے تھے اور لڑکی کے بھائ پریشان تھے کہ کیا کریں
پہلے ہی بہت مشکل سے رشتہ ملا تھا ان کی تیس سالہ بہن کو اب اگر یہ بھی ٹوٹ جاتا تو کیا کرتے
اسی بات کا فائدہ اٹھا کر وہ لوگ زیادہ پھیل رہے تھے۔
ساری جمع پونجی یہ لوگ لگا چکے تھے۔
ادھر اُدھر سے پکڑ کے بھی اتنے پیسے جمع نہیں ہو پارہے تھے کہ موٹرسائیکل خریدی جا سکتی اور ان لوگوں کی ڈیمانڈ تھی کہ موٹرسائیکل ملے گی تو ہی مہندی لگے گی ورنہ نہیں۔
اتنی دیر میں لیلیٰ بھی پہنچ گئ تھی ۔
سہیلیوں سے مل کر ابھی دلہن کے گھر والوں سے مل کے واپس ہوئی تھی کہ اسے کچھ عجیب سا لگا کہ سب اتنے چپ کیوں ہیں پہلے اگنور کیا پھر اسکے اندر کا شرلاک ہومز اچھل کے باہر آگیا ۔
اسکے ذہن میں اچانک سے کچھ کلک ہوا۔
سارا گھر مہمانوں سے بھرا ہوا ہے اور گھر والے ایک کمرے میں جمع ہو کہ کچھ بات کر رہے اور لیلیٰ کے آتے ہی سب چپ ہو گئے۔
یہ بات لیلیٰ بیبی کیسے ہضم کر سکتی تھی۔
واپس آکے دھم سے بیٹھی اور سوالیہ نظروں سے سب کو دیکھنے لگی۔
کیا ہوا آپ لوگ ایسے کیوں بیٹھے ہیں؟
کچھ نہیں لیلیٰ تم جاؤ بچے نائلہ انتظار کر رہی ہو گی بھائی نے نرمی سے کہا۔
نہیں بھائی آپ لوگوں کو بتانا پڑے گا کہ کیا مسئلہ ہے۔بھابھی آپ بتائیں۔
بھابھی لیلیٰ کےکارناموں سے واقف تھی سو اسے سارا کچھ بتا دیا۔
نائلہ کی امی بیچاری روۓ جارہی تھی۔
لیلیٰ نے کچھ دیر سوچا اور اٹھتے ہوۓ بولی بھائی مولوی کو بلائیں آج نکاح ہوگا اور کل رخصتی۔
کیاااا…تم پاگل ہو؟
بھائی غصے سے اٹھ کھڑے ہوۓ۔
پلیز خالہ میرا یقین کریں میں کچھ غلط نہیں ہونے دوں گی اس نے نائلہ کی امی کے گھٹنوں پہ ہاتھ رکھ کے یقین دلایا۔
انہوں نے اثبات میں سر ہلایا اور اپنے بڑے بیٹے کو اشارہ کیا وہ بڑبڑاتا ہوا مولوی کو لینے چلا گیا۔
آپ سب بھی باہر آئیں اور سب کو نکاح کا بتائیں لڑکے والوں سے کہیں کہ موٹر سائیکل کا انتظام ہو گیا ہے مگر آج ہی نکاح کریں تو دیں گے۔
لیکن بیٹی!…..
خالہ مجھ پہ بھروسہ رکھیں سب ٹھیک کر دوں گی۔
اب اسے لڑکے والوں کے دماغ سیٹ کرنے تھے سو چٹخارہ لے کہ باہر نکل گئی اور نائلہ کے پاس پہنچ گئی۔
اسی دم نکاح کا شور اٹھا ساری لڑکیاں حیران ہو گئ لیلیٰ کے چہرے کی پراسرار مسکراہٹ پر کسی نے غور نہیں کیا تھا۔
مولوی آگیا تھا لیلیٰ دولھے کی ماں اور بہنوں کے پاس جا کے بیٹھ گئی۔
آنٹی آپ لوگ بھی آئیں نہ پاس۔
ارے نہیں بیٹی ہم جا کے کیا کریں گے مرد ہیں نہ وہاں لڑکے کی ماں جس نے پانچ کلو میک اپ تھوپ کے گہرے سبز رنگ کے تنگ کپڑے پہن کر جوان نظر آنے کی کوشش کی تھی نزاکت سے بولی۔
ارے تیری ایسی تیسی بڈھی گھوڑی فساد ڈال کے سائڈ پہ ہو رہی ہے تجھے تو میں بتاتی ہوں
بظاہر دانت پیس کر مسکراتے ہوۓ دل میں ان لوگوں کو گالیاں دیتی ذبردستی اٹھا کے لے گئی تھی ان سب کو۔
جیسے ہی مولوی صاحب نے نکاح شروع کروایا لیلیٰ آگے آگئی ۔
ایک منٹ مولوی صاحب حق مہر تو لکھ لیں۔
ارے حق مہر تو شریعت کے مطابق ہی ہوگا دولہے کی بڑی بہن جلدی سے بولی۔
اچھاااا….مجھے تو پتا ہی نہیں تھا بتانے کا شکریہ لیلیٰ مڑ کے گھوری
اب زرا یہ بھی بتا دو بھینس,سونا اور موٹر سائیکل کس شریعت میں لکھے ہیں ؟
اور وہ کونسی شریعت ہے جو حق مہر تو بتاتی ہے مگر جہیز کے نام پر لوٹ مار کی کوئی تفصیل نہیں تمہاری اس شریعت میں۔
یہ کیا ہو رہا ہے ؟
کون ہے یہ لڑکی؟
ہم یہاں بے عزتی کروانے نہیں آۓ چلو اٹھو منے واپس چلیں لڑکے کی ماں بول کر اٹھنے لگی۔
ارے گینڈی ذیادہ پھدکی نہ تو مینڈکی بنا کے چھپڑ میں چھوڑ آؤں گی تیری اور تیرے اس چنے کاکے کی تو….
لیلیٰ میڈم فل ایکشن موڈ میں آگئی تھی۔
اگر تم لوگوں میں سے کوئی بھی اپنی جگہ سے اٹھا تو مار مار کے چِچڑ بنا دوں گی کیونکہ دنبے تو تم لوگ پہلے سے ہی ہو لیلیٰ ان سب کو گھورتے ہوۓ غرائی تھی
جاری ہے
