223.8K
9

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Laylpur Ki Laila) Episode 4

لیلیٰ جن کو پانی میں پھینک کے ساتھ والے کھیت سے گنا توڑ کے تسلی سے بیٹھ کے چھیلنے لگی ۔
اتنی دیر میں ساری لڑکیاں کیچڑ میں لت پت لیلیٰ کے پاس آکے ایک ساتھ دھڑام سے گری۔
ارے کیا آفت آگئ ہے کیوں دیسی میک اپ کر کے آگئ ہو سب کی سب؟
لیلیٰ میڈم گنے کی طرف دھیان رکھتے ہوۓ ان کے حلیے کو دیکھ کر بے نیازی سے بولی۔
ارے صدقے جائیں تیرے اطمینان کے ناس ماری پانی میں کیا پھینک کے آئ ہو؟
لیلیٰ کی قریبی دوست فاطمہ جس کے حواس زرا بحال ہوچکے تھے جل کر پوچھنے لگی۔
کیوں تم لوگوں نے کیا دیکھا ؟
لیلیٰ کے اطمینان میں زرا فرق نہ آیا مزے سے گنا چوس کر سائڈ پہ پھینکتے ہوۓ پوچھا۔
وہ وہاں بہت ڈراؤنی شکل والا جن تھا
لیلیٰ قسمے ہم مذاق نہیں کر رہے۔
دوسری لڑکی جھرجھری لے کر بولی۔
تو میں نے کب کہا کہ تم لوگ مذاق کر رہی ہو۔
ارے بھئ جن کو پانی میں پھینکیں گے تو جن ہی نظر آۓ گا نہ انجلینا جولی نظر آنے سے تو رہی۔
کیا مطلب؟؟؟
ساری یک زبان ہو کے بولی۔
مطلب یہ میری معصوم بیبیوں کہ وہ سچ مچ والا جن تھا۔
یہ کہ کے لیلیٰ نے ساری کہانی ان سب کو سنائ ساری لڑکیاں ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوگئ۔
ان لوگوں کا ڈر اب ختم ہو گیا تھا اور اسکی جگہ تجسس نے لے لی تھی۔
اب کیا ہوگا لیلیٰ کہیں وہ جن بدلہ لینے آگیا تو؟
ارے کچھ نہیں ہوتا وہ اتنا بہادر ہوتا تو اب تک لے نہ چکا ہوتا بدلہ بار بار پٹنے کے بعد ۔۔
لیکن یار ہو سکتا ہے وہ کوئ پلاننگ کر رہاہو بدلہ لینے کی ایک اور لڑکی بولی
چل دیکھ لیں گے اسکی پلاننگ بھی ابھی تم لوگ تو انسانی شکل میں آؤ۔
لیلیٰ ان سب کو لے کے ٹیوب ویل کی طرف چل پڑی۔
دوسری طرف جن کا غصے سے برا حال تھا مگر وہ فوں فوں کر کے ناک سے دھواں نہیں نکال پا رہا تھا ٹیوب ویل کے ٹھنڈےپانی نے اسکی آتش عشق ٹھنڈی کرنے کےساتھ ساتھ اسکی سچ مچ والی آگ بھی ٹھنڈی کر دی تھی
اب بیچارہ منہ سے آگ تو کیا نکالتا خالی دھواں بھی نہیں نکل رہاتھا
جیسے ہی وہ منہ یا ناک سے فو فو کرتا زرا سی بھاپ نکل کےختم ہو جاتی اور ایسی آواز آتی جیسے کوئ کسی تھکڑ گاڑی کو سٹارٹ کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔
اب تو جن نے سوچ لیا تھا کہ وہ اس لائل پوری چڑیل کو مزہ چکھا کے ہی یہاں سے جاۓ گا۔
اب یہ تو وقت بتاۓ گا کون کس کو مزہ چکھاتا ابھی تک تو جن کی مٹی پلید ہو رہی تھی۔
اگلے دن جن نے اپنے انتقام کا آغاز کرنا تھا اسلیۓ صبح صبح آکے لیلیٰ کے گھر کے نیم کے درخت پہ ڈیرے ڈال دیے اور لیلیٰ کے اٹھ کر باہر آنے کا انتظار کرنے لگا۔
چاچی نے رات والے برتن دھو کے چارپائ پہ الٹے کر کے سوکھنے کیلیۓ رکھے تھے
جن کو شیطانی سوجھی کوا بن کر نیچے اترا اور برتنوں کو پنجے مار کے نیچے گراتا ہوا ایک چمچ منہ میں ڈال کے درخت پہ جا بیٹھا۔
لیلیٰ جو ابھی اٹھ کے باہر آرہی تھی اسنے جب کوے کو برتن گرا کے درخت پہ بیٹھتے دیکھا تو وہاں سے ہی چپل اتار کے کھینچ ماری اور کوا بیچارہ ایک بار پھر شاخوں اور پتوں میں لوٹنیاں کھاتا ہوا درخت سے نیچے گرا اور ادھر اُدھر دیکھے بغیر پٌھر سے اڑ گیا
اس سے پہلے کہ لیلیٰ اس تک پہنچتی اور اسے کل کی طرح چمٹے کھانے پڑتے وہ فرار ہو چکا تھا۔
اب تو جن کا غصے کےمارے برا حال تھا اس نے بھی سوچ لیا تھا بدلہ لیۓ بنا نہیں جاۓ گا بھلے لیلیٰ اسے مار مار کے چھچھوندر بنا دے وہ بھی لیلیٰ کو باندری بنا کے جاۓ گا
لیکن بدلہ پورا کرنے کے بعد…
اب وہ نۓ سرے سے پلاننگ کر رہا تھا کہ کونسا طریقہ ٹھیک رہے گا جس سے وہ لیلیٰ کے حملوں سے بھی بچ جاۓ اور اسے مزہ بھی چکھا سکے۔
اس کیلیۓ اس نے ایک دن آرام کرنے کا سوچا تا کہ چوٹوں کی ٹکور کر سکے اور اگلے دن تازہ دم ہو کے اٹیک کر سکے۔
جاری ہے