Laylpur Ki Laila By Sonya Hussain Readelle50323 (Laylpur Ki Laila) Episode 7
Rate this Novel
(Laylpur Ki Laila) Episode 7
آج جن صبح صبح ہی لیلیٰ کے گھر پہ نازل ہو گیا تھا اور بہت خوش تھا کیونکہ وہ بدلہ لینے کے نئے طریقے سوچ کے آیا تھا۔مگر آج تو ٹائم ہی نہیں گزر رہا تھا۔ایسا نہیں تھا کہ وہ لیلیٰ کے کمرے میں نہیں جا سکتا تھا بلکہ وہ جانا نہیں چاہتا تھا کیونکہ لیلیٰ میڈم اتنے خوفناک خراٹے لیتی تھی کہ جن کا بھی تراہ نکل جاۓ اوپر سے تیل سے چپڑے ہوۓ بال اور تیل سے ہی بھرا ہوا بھاڑ جیسا منہ جسے خراٹے لیتے ہوۓ کبھی کھولتی اور کبھی بند کرتی تھی ۔ مچھر بھی اس سے دو فٹ دور ہو کے گزرتا تھا کہ کہیں سانس اندر کھینچ کے اسے بھی نہ پی جاۓ۔تو محترم جن جو کہ کبھی کوہ قاف کا شہزادہ ہوا کرتا تھا جسے لیلیٰ نے دھو دھو کے دھوبی کا کتا بنا دیا تھا۔اسکی نازک طبیعت اسے درخت پہ بیٹھ کے انتظار کرنے پہ مجبور کر رہی تھی ۔آخر خدا خدا کر کے چاچی کی ایک سو پچیس آوازوں کے بعد اٹھ کے باہر آئی تھی۔اسکی تیل والی بکھری زلفوں کو دیکھ کے جن کو انتقام کا پہلا لیول سوجھ گیا۔واہ واہ اس کی زلفوں کو آگ لگاؤں گا اور یہ چیختی پھرے گی تو میرے دل کو سکون آۓ گا۔جن نے خیالوں میں لیلیٰ کو چیخیں مارتے پورے صحن میں چکر کاٹتے دیکھ کر چٹخارہ لیا۔لیلیٰ میڈم بھی منہ دھو کے چولھے کے آگے آکے بیٹھ گئ تھی۔چاچی آگ کیوں نہیں جلائی ؟ ارے آگ تیرے باوا کے دانت رگڑ کے لگاؤں؟ماچس نہیں مل رہی چاچی نے جل کے جواب دیا۔اوہو چاچی ادھر ہی ہوگی۔ جیسے ہی لیلیٰ چولہے کے پیچھے دیکھنے کو جھکی جن پھونک مارنے کو تیار ہوگیا۔ادھر لیلیٰ ماچس اٹھا کے تیلی جلانے لگی ادھر جن نے منہ میں سے آگ نکالی سیدھی لیلیٰ کے سر کی طرف ۔ارے یہ کیا۔تیلی نیچے گری لیلیٰ اٹھانے کو جھکی اور آگ چولھے میں پڑی لکڑیوں کو جا لگی۔ہییییں ؟…… لیلیٰ آگ جلنے پہ حیران تھی اور جن آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے چولہے کو دیکھ رہا تھا جو بیچ میں آگیا تھا۔جن نےغصے میں تنے پہ ہاتھ مارا وہاں سے پچھلے دن بچوں نے جھولا باندھنے کی کوشش میں ٹہنہ توڑ دیا تھا اسکی نوکیں نکلی ہوئی تھیں جن صاحب نے جوش میں دیکھا ہی نہیں اور ہاتھ لکڑی کے آرپار۔جن کی تو صدمے سے سٹی گم ہو گئی۔ہاتھ لکڑی میں سے نکالا اور بھاگا باغ کی طرف اور ٹیوب ویل کی منڈیر پہ بیٹھ کے بچوں کی طرح امی امی کر کے رونے لگا ۔لیلیٰ میں تجھے چھوڑوں گا نہیں جب سے تجھے دیکھا ہے بس چوٹیں ہی مل رہی ہیں منحوس کہیں کی۔اب تو میری بھی ضد ہے خود بھلے لِیرولِیر ہو جاؤں تیرا جینا حرام کردوں گا۔دوسری طرف لیلیٰ نے ناشتہ کر کے گھڑا اٹھایا اور کنویں کی طرف چل دی۔راستے سے سہیلیوں کو ساتھ لیتے ہوۓ سب کنویں پہ پہنچی اور چھاؤں میں بیٹھ کے لیلیٰ کے رات والے کارنامے پہ تبصرہ کرنے لگیں۔جن بھی ہاتھ پہ کوئی جڑی بوٹی لگا کے لیلیٰ کو ڈھونڈتا ہوا کنویں کے پاس آگیا۔منحوس ماری تو مجھے یہاں ہی ملی تھی نہ تو آج تیرا ادھر ہی کام تمام کروں گا تجھے کنویں میں پھینک کے۔پھر نہ رہے گی لیلیٰ اور پِٹے گا جن۔ساری لڑکیاں اٹھ کے پانی بھرنے لگی جب لیلیٰ کی باری آئی تو جن کنویں کی منڈیر پہ آکے بیٹھ گیا نظر تو کسی کو آ نہیں رہا تھا اسلیۓ آرام سے بیٹھ کے لیلیٰ کے پاس آنے کا انتظار کرنے لگا۔لیکن اسے اپنا پلان فیل ہوتا نظر آیا کیونکہ لیلیٰ تو تھوڑی پیچھے کھڑی ہوکے ڈول کھینچ رہی تھی۔جن کے دماغ میں ایک ترکیب آئی اس نے اکثر انسانوں کو دیکھا تھا کہ کسی کو دھکا دینا ہو تو پیچھے سے دوڑ کے آتے اور ایکدم سے دھکا دیتے تاکہ زور کا دھکا لگے۔اس نے بھی ایسا ہی کیا جوش میں کافی پیچھے نکل گیا یہ دیکھے بغیر کہ لیلیٰ نے پانی بھر لیا ہے اور وہ ادھر سے ہٹنے والی ہے۔ادھر جن نے دوڑ لگائی ادھر لیلیٰ پیچھے ہٹ گئی اور جن اتنی تیزی میں تھا کہ جب تک اسے لیلیٰ کے سائڈ پہ ہٹنے کا پتہ چلا تب تک وہ کنویں کے بالکل پاس پہنچ چکا تھا ۔رکنے کی کوشش میں کنویں کی منڈیر سے ٹکرایا اور توازن بگڑ کے اپنے ہی زور میں کنویں کے اندر جاگِرا۔چھپاک کی آواز سن کے ساری لڑکیاں کنویں کے پاس آکے یکھنے لگیں مگر کچھ نظر نہ آنے پہ سب کی سب پلٹ کے واپس چل دیں۔اور جن جو زور سے گرنے پہ پانی کی گہرائی میں چلا گیا تھا واپس اوپر آیا اور کوشش کر کے باہر نکلا۔ نکلتے ساتھ کنویں کے پاس ہی زمین پہ لیٹ کر لمبی لمبی سانسیں لینے لگا زرا سانس ٹھیک ہوئی تو پھر سے کوسنے لگا… نی لیلیٰ تیراستیاناس ہو جاۓ تیری قسمت کیوں اتنی اچھی ہے۔ میری ہر چال مجھ پہ ہی الٹ جاتی ہے اور یہ کھسماں نوں کھانی صاف بچ جاتی ہے۔جن غصے میں بھی لائل پور کی بولی بول رہا تھا۔آج لیلیٰ نےشادی پہ جانا تھا تو جلدی جلدی کام ختم کرکے پارلر جانے کا سوچا۔چاچی میں زرا پارلر جا رہی ہوں بتا کے باہر نکل گئی کہ کہیں چاچی کچھ سنانے نہ بیٹھ جاۓ۔وہاں جاکے پہلے فیشل کروا کے آئی برو بنواۓ پھر اسے بال کاٹنے کا بول کے آنکھیں بندکر کے ٹیک لگا کے بیٹھ گئی۔اتنی دیر میں جن بھی لیلیٰ کے گھر واپس پہنچ گیا تھا۔اس نےجب چاچی کے منہ سے لیلیٰ کا ذکر سنا تو کوا بن کر چارپائی کے پاس پہنچ گیا ۔چاچی اپنی ہمسائی کو لیلیٰ کے پارلر جانے کا بتا رہی تھی جیسے ہی کوے پہ نظر پڑی جوتا کھینچ مارا۔ارے کمبخت تو ادھر کیا ڈھونڈھ رہا ہے چل دفع ہو۔جوتا کھا کے لیلیٰ کا پتہ مل گیا تھا اسلیۓ اس نے چاچی کو معاف کر کے لیلیٰ کے پیچھے جانے کا سوچا اور اس کے پسینے کی بو کا پیچھا کرتا ہوا پارلر جا پہنچا جہاں پارلر والی قینچی پکڑ کے لیلیٰ کے خوبصورت سلکی بالوں کو کاٹنے لگی تھی۔جی ہاں لیلیٰ کے بال بہت پیارے تھے سلکی سوفٹ اور گھنے۔اسی لیۓ وہ ہر ٹائم تیل میں ڈباۓ رکھتی تھی بالوں کو مگر آج تو دوست کی شادی تھی تو سوچا کہ تھوڑی سی کٹنگ کرواکے کھلے چھوڑے گی مگر اتنی دیر میں جن پاجی بھی پہنچ گیا۔پہلے تو اسکے بالوں کو دیکھ کے مدہوش ہی ہوگیا مگر جب انتقام یاد آیا تو سر جھٹک کر آگے بڑھا اور پارلر والی کا ہاتھ پکڑ کے بالوں پہ الٹی سیدھی قینچی چلانے لگا۔لیلیٰ ایکدم کرسی سے اٹھی اور لڑکی کو دھکا دیا یہ کیا کر رہی ہو؟ لڑکی چیخی لیلیٰ یہ میں نہیں کر رہی کسی نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔لیلیٰ نے غصے سے ٹرمنگ مشین اٹھائی اور اسکے سر کے درمیان میں پھیر کے گجنی سٹائل بنا دیا اور غصے سے باہر نکل گئی جاتے جاتے پھر آنے کی دھمکی دے گئی۔ادھر جن جو لڑکی کے پیچھے کھڑا تھا دھکا لگنے سے ویکس مشین سے ٹکرایا اور گر گیا۔ویکس فرش پہ گر گئی تھی اور جن اس کے اوپر گر کے تڑپنے لگا اور اٹھنےکو زور لگانے لگا مگر ویکس ٹھنڈی ہو گئی تھی اسلیۓ جن کو جپھی لگالی۔
جاری ہے
