223.8K
9

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Laylpur Ki Laila) Episode 3

لیلیٰ جو اپنے دھیان میں عادل کو چمٹے سے کوٹ رہی تھی دھپ کی آواز سن کر پیچھے مڑی
اور درخت کے نیچے موٹے تازے بلے کو دیکھ کہ پہلے تو حیران ہوئ اور پھر وہی چمٹا گھما کے بلے کی طرف پھینکا۔
جن جو اس بلےکی شکل میں تھا جلدی سے چمٹے سے بچنے کیلیۓ بھاگا ۔
مگر وہ لیلیٰ تھی جو بچپن سے غلیل کے ساتھ پرندوں کی بجاۓ کتے بلیوں اور انسانوں کا شکار کرتی تھی۔
اسکا نشانہ بہت اچھا تھا تو یہ کیسے ممکن تھا کہ بلّا بچ جاتا۔
چمٹا سیدھا بلے کی کمر پہ لگا اور وہ لوٹنیاں کھاتا ہوا غسل خانے کے کھلے دروازے سے جا کے فلش میں گرا اور اٹھ کر ٹیاؤں ٹیاؤں کرتا باہر بھاگ گیا کہ کہیں پھر سے عادل کی جگہ اسکی دھلائ نہ ہو جاۓ۔
باہر جا کر درختوں کے جھنڈ میں چھپ کر اپنی اصلی حالت میں آیا اور اپنی کمر دباتے ہوۓ انسانوں کی طرح لیلیٰ کو کوسنے لگا۔
نی لیلیٰ تیرا ککھ نہ رہوے تیرا بیڑا غرق…
میں باز آیا تیری عاشقی سے اب تو تجھے مزہ چکھاؤں گا کوہ قاف کے شہزادے کو چمٹا مار کے غسل خانے میں پھینک دیا یخخ ۔
اوئ ماں کاش میں کوہ قاف سے بھاگ کر نہ اس گاؤں میں آتا اور نہ یہ چڑیل مجھے نظر آتی۔
اووف کیسا بھاری ہاتھ ہے سانڈنی کا۔جن بیچارہ وہاں ہی لیٹ کر کراہنے لگا۔
دوسری طرف لیلیٰ عادل کی طبیعت صاف کرکے اسے وہاں ہی لٹکا چھوڑ کے ہاتھ جھاڑتی ہوئ باہرجانے لگی تو عادل نے دہائ دی لیلیٰ مجھے تو کھول جا۔
لیلیٰ نےجیسے ہی مڑ کر خونخوار نظروں سے دیکھا تو گڑبڑا کر بولا میرا مطلب ہے لیلیٰ باجی مجھے کھول دو پلیز میں مرجاؤں گا ایسے تو۔
لیلیٰ بے نیازی سے مڑی اور رسی کے بل کھول دیۓ۔
عادل دھڑام سے پشت کے بل گر کر ہاۓ واۓ کرنے لگا
۔لیلیٰ اسکے چھوٹے بہن بھائیوں کو اسے اٹھانےکا اشارہ کرکے گھر سے نکل گئ۔
چلتے چلتے گاؤں کی چوپال کی طرف جا نکلی جہاں سارے گاؤں کے بابے پیپل کے پیڑ کے نیچے شغل میلہ لگا کے بیٹھے ہوۓ تھے۔
لیلیٰ کو شرارت سوجھی اور بابوں کے ٹولے کے پاس سے گزرتے ہوۓ بولی۔
چاچا تمہاری دھوتی پھٹی ہوئ ہے۔
کیاااااا
سارے بوڑھے ایکدم اٹھ کے کھڑے ہوگۓ
اور اپنی اپنی دھوتیاں چیک کرنے لگے
اور لیلیٰ میڈم شیطانی ہنسی ہنستے ہوۓ آگے نکل گئ جہاں ہر روز ساری لڑکیاں اکٹھی ہو کے ہنسی مذاق کرتی اور جھولے جھولتی تھیں ۔
اور وہ جگہ تھی گاؤں کے چوہدری کا باغ اب یہ جن کی بدقسمتی کہہ لیں کہ وہ ابھی ابھی اس ہرے بھرے باغ میں آکے انسانی شکل میں آم کے درخت پہ ٹانگیں لٹکا کے بیٹھا تھا۔
کمر پہ جہاں چمٹا لگا تھا وہاں سے ابھی بھی درد کر رہی تھی۔
لیلیٰ جو اپنی سہیلیوں کو ڈھونڈتی ہوئ ادھر سے گزر رہی تھی اس نے جب کسی کو آم کے درخت پہ بیٹھے دیکھا تو ٹانگ سے پکڑ کے نیچے کھینچ لیا۔
لو جی جن پا جی دھڑام سے گرے اور مزید زخمی ہوگۓ۔
نی لالی تیرا ستیاناس آج ہی مار ڈالے گی کیا؟
جن اٹھتے ہوۓ کراہا اور لیلیٰ کو گھورنے لگا۔
ارے کالے جن تو یہاں کیا کر رہا ہے؟
اور تونے مجھے پھر سے لالی بولا رک جا کمینے کالے کلوٹے جن کے بچے تجھے تو آج نہیں چھوڑوں گی۔
ارے تو پہلے کونسا معاف کیا ہے۔
جن جل کر بولا۔
پہلے تو کچھ نہیں کہا اب دیکھ تو میں کیا کرتی۔
ارے رک کسی افلاطون کی اولاد وہ جو میری کمر پہ چمٹا مار کے غسل خانے میں پھینکا وہ کیا تیرے باپ کی روح تھی رستم پہلوان کی اولاد؟.
ہیں کب کی بات ہے؟
جب تم اپنے اس چُوچے عاشق کو چمٹے مار رہی تھی تو جس معصوم بلے پہ ظلم ڈھایا وہ میں تھا اور یہ میری شرافت ہے کہ ابھی تک تمہیں کچھ کہا نہیں
۔اور اسکا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ تجھے معاف کردوں گا۔ ہاں ایک شرط ہےاگر تو میری گرل فرینڈ بن جاۓ تو میں تجھے معاف کردوں گا
۔اوۓ رک رک اپنی رام لیلا بند کر اور سچی بتا وہ بلّا تو تھا؟
تو اب کیا اسٹام پیپر پہ لکھ دوں؟
بلے کا پارہ پھر سے ہائ ہوا چمٹے کو یاد کر کے۔اچھا چھوڑ ساری باتیں اگر تو سچ میں وہی ہے تو دوبارہ بن کے دکھا تب مانوں گی۔لیلیٰ کو شیطانی سوجھی۔جن بیچارہ پھر سے اسکی باتوں میں آگیا اور درخت کے پیچھے جاکے بلّا بن کے آگیا۔لیلیٰ نے ایک بار درخت کے پیچھے جا کے دیکھ کر اپنی تسلی کی اور بلےکو پیچھے آنے کا اشارہ کرتی ٹیوب ویل کی طرف چل پڑی اور جیسے ہی ٹیوب ویل کے پاس پہنچے لیلیٰ نے جھک کے اس موٹے تازے بھاری بلے کو اٹھایا اور چھپاک سے پانی میں پھینک دیا اور دانت پیس کے بولی لیلیٰ کا بواۓ فرینڈ بنے گا واہ بھئ اب لگا ڈبکیاں تیری عقل ٹھکانے آۓ۔اتنی دیر میں لیلیٰ کی دوستیں بھی آگئ اور بلے کو دیکھنے کیلیۓ آگے ہوئ اور جیسے ہی سب لوگ آگے بڑھی بلّا اپنی اصل شکل میں آگیا اور ساری کی ساری ایک دوسری کے اوپر گرتی پڑتی بھاگی اور کیچڑ میں گر کر چیخنے لگی۔
جاری ہے