223.8K
9

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Laylpur Ki Laila) Episode 8

لیلیٰ تو بکتی جھکتی چلی گئی پارلر والی بیچاری وہاں ہی بیٹھ کے اپنی گجنی والی ٹنڈ کو دیکھ کے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اس بیچاری کا تو کوئی قصور بھی نہیں تھا اور لیلیٰ نے اسے کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔جن زور لگا لگا کے تھک گیا مگر ویکس سے جان نہیں چھوٹ رہی تھی تو اس نے پارلر والی سے مدد لینے کا فیصلہ کیا۔باجی میری مدد کردو میں چپک گیا ہوں یہ شیرہ اتر نہیں رہا۔پارلر والی نے سہم کر ادھر اُدھر دیکھا۔کوئی نظر نہیں آرہا تھا مگر آواز آرہی تھی ۔وہ پہلے ہی کسی کے اسکا ہاتھ پکڑ کے قینچی چلانے پہ ڈری ہوئی تھی آواز سن کے تو اسکو ہچکی لگ گئی۔ایسے سر پہ پاؤں رکھ کے بھاگی کہ اپنی گجنی ٹنڈ کو بھی بھول گئی اور اپنے گھر جاکے سانس لی ۔اسکے چھوٹے بہن بھائیوں نے اسے دیکھا تو چیخنا شروع کر دیا وہ سمجھی شاید پارلر والا جن اسکے پیچھے آگیا۔وہ بھی ان کے ساتھ مل کے چیخیں مارنے لگی۔اسکے گھر والے سب اکٹھے ہو گئے اور ان سب سے چیخنے کی وجہ پو چھنے لگے بچوں نے جب اسکی ٹنڈ کی طرف اشارہ کیا تو سب کا دھیان اسکی طرف ہوا تو اسے یاد آیا اور وہ فرش پہ بیٹھ کے پھر سے رونے لگی اور ساری بات بتائی۔سب لوگ اس جن اور لیلیٰ کو غائبانہ گالیاں دینے لگے۔
جن بمشکل اٹھا مگر نہ چل پایا اور نہ اُڑ پایا تھوڑا سا ہل جل کر پھر سے وہاں ہی چپکا رہا اسے ویکس پیبر نظر آیا تو اٹھا کے رگڑنے کی کوشش کی تو وہ بھی ساتھ چپک گیا۔اب تو جن بہت پریشان ہوا۔ابھی تو اس نےجا کے لیلیٰ کی حالت دیکھنی تھی مگر اسکی خود کی حالت پتلی ہوئی پڑی تھی۔
ادھر اُدھر ہاتھ مارتے ہوۓ اچانک تیل کی بوتل اسکے پاؤں پہ أگری۔غصے سے اٹھاکے دور پھینکنے لگا تو اسے پاؤں پہ جہاں تیل گرا تھا وہاں سے چپچپاہٹ کم لگی۔لو جی جن کی تو خوشی کاکوئی حال نہیں رہا۔تیل کی بوتلیں اٹھا اٹھا کے سر پہ الٹانے لگا۔
لیلیٰ خراب موڈ کے ساتھ سر پہ دوپٹا لے کر شادی سے ہو کے أگئی تھی اسے پارلر والی پہ بہت غصہ تھا اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ دوبارہ پارلر جاکے اسکی ساری ٹنڈ کرکے آتی جس نے اسکے اتنے پیارے بال چھوٹے بڑے کر دیئے تھے۔اس سے بعد میں نمٹنے کا سوچ کر سر پہ تیل کا پورا کنواں الٹ کے سو گئی تھی۔
اگلا دن معمول کے مطابق تھا۔جن نے آج لیلیٰ پہ براہ راست حملہ کرنے کا سوچا تھا۔جیسے ہی لیلیٰ پانی بھرنے گئی جن بھی پیچھے پیچھے گیا اور حملے کیلیۓ مناسب سی جگہ دیکھ کے بھینسا بن کے وہاں پہ چھپ کے بیٹھ گیا تاکہ جیسے ہی وہ لوگ سامنے آئیں اچانک اٹھ کے لیلیٰ کو ٹکر مار کے اتنی دور پھینک دے جہاں سے وہ واپس نہ آسکے۔
اتنی دیر میں وہ لوگ واپس نظر آنا شروع ہو گئی تھیں۔جن تیار ہو گیا اور ان سب کے نزدیک آتے ہی اٹھ کر ان کی طرف بھاگا۔ساری لڑکیاں چیختے ہوۓ ادھر اُدھر بھاگ گئی مگر لیلیٰ اپنی جگہ پہ کھڑی ہوکے اس موٹے تازے بھینسے کو دیکھنے لگی۔بھینسا جو اسکی طرف بھاگا آرہا تھا گڑبڑا کے رک گیا۔اس نے تو سوچا تھا کے لیلیٰ اسے دیکھ کے بھاگے گی اور وہ اسکے پیچھے لگ کے اسے دوڑا دوڑا کے مارے گا مگر یہ تو الٹا ہو گیا تھا وہ رکی تو یہ بھی رک گیا۔تھوڑی دیر تو دونوں ایک دوسرے کو گھورتے رہے لیکن پھر اچانک لیلیٰ گھڑا نیچے رکھ کے بھاگی۔بھینسا بھی انّےوا اپنی شامت کے پیچھے بھاگا جیسے ہی گلی کا موڑ آیا لیلیٰ اچانک رک کے سائیڈ پہ ہو گئی اور جن پا جی کی اک واری فیر قسمت ماڑی۔… گلی بند تھی اور بھینسا شوخا سپیڈ میں دھم سے جا کے سامنے کی دیوار سے ٹکرایا اور تکلیف سے وہاں ہی گر کے ڈکرانے لگا۔لیلیٰ آرام سے ہاتھ جھاڑ کے واپس گھڑا لینے کیلیۓ چل دی
اب تو جن کی حالت ہی خراب ہو گئی پہلے ویکس کی وجہ سے اسکا بالوں سے بھرا جسم جگہ جگہ سے چھل گیا تھا اور اب سر کی زور دار ٹکر نے اسے تارے دکھا دئیے تھے ۔چپ کرکے اٹھا اور باغ میں جا کے کچھ اور سوچنے لگا۔
لیلیٰ کو تو اپنے بالوں کا صدمہ لگا ہوا تھا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیسے ان کو ٹھیک کرے۔کسی کو بتایا بھی نہیں تھا کہ سب مذاق اڑائیں گے۔ بیٹھی کچھ سوچ رہی تھی کہ دروازہ بجا۔پہلے تو ڈھیٹ بن کے بیٹھی رہی لیکن بجانے والا اس سے بھی ذیادہ ڈھیٹ تھا۔آرہی ہوں دروازہ توڑو گے کیا؟ لیلیٰ جلتی بھنتی اٹھ کے دروازے پہ آئی دیکھا تو ایک زخمی بوڑھا کھڑا تھا
جاری ہے