Laylpur Ki Laila By Sonya Hussain Readelle50323 (Laylpur Ki Laila) Episode 6
Rate this Novel
(Laylpur Ki Laila) Episode 6
لڑکے کی موٹی تازی ماں جو تن فن کرتی کھڑی ہو گئی تھی لیلیٰ نے اسے کندھوں سے پکڑ کے پاس رکھی کرسی پہ ٹھونسا اور آہستہ سے کان میں بولی اب اگر اٹھنے کی کوشش کی تو برف توڑنے والا سُوآ مار کے تیری ہوا نکال دوں گی موٹی بھینس۔
اتنے میں لڑکے کی دونوں بہنیں بھی آگے آگئی تھیں۔
یہ کیا غنڈہ گردی ہے ہو کون تم ہمارے معاملے میں ٹانگ اڑانے والی؟
چپ کر کے ادھر بیٹھ جاؤ میک اپ کی دکانوں اب اگر آواز نکالی تو منہ دھلوا دوں گی دونوں کے اور پھر سونے کے زیور پہناؤں گی جو تم لوگوں نے مانگے ہیں۔
دونوں لڑکیاں ساتھ ہی چپ کر کے بیٹھ گئی۔
سب لوگ چپ کر کے شو انجواۓ کر رہے تھے کسی نے بیچ میں بولنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
ہاں جی مولوی صاحب لکھیں حق مہر بیس لاکھ اور ماہانہ دس ہزار جیب خرچ۔
ارے یہ کیا کہ رہی ہو لڑکی تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے؟
لڑکے کا باپ تڑپ کر آگے آیا ۔
کیوں میرے دماغ کو کیا ہوا ہے؟
ٹرک بھر کے جہیز کا دیا تمہارے سارے خاندان کو سونا پہنایا دودھ کیلیۓ بھینس دی اس پہ بھی دل نہیں بھرا تو موٹرسائیکل مانگ لی کیوں بھئ تم لوگ بھوکے ننگے ہو؟
پہلے بتا دینا تھا تمہارے غسل خانے کیلیۓ پاٹ بھی ادھر سے دے دیتے۔
چلیں مولوی صاحب آپ کیا دیکھ رہے لکھیں شاباش اور ہاں شرائط میں یہ بھی لکھنا کہ اگر لڑکی کو سسرال میں تنگ کیا گیا تو ان سب گھر والوں کو چوک میں ننگے کرکے لِتر مارے جائیں گے۔
وہ خونی نظروں سے ان سب کو اور خاص طور پر دولہے کو گھورتی ہوئی بولی اور وہ نازک مزاج دولہا سہم کر پہلو بدلنے لگا۔
ارے بیٹی سنو میری بات سنو لڑکے کی ماں دہل کر جلدی سے اٹھ کے آئی۔
ہمیں کچھ نہیں چاہئے ہم سارا کچھ واپس کرنے کو تیار ہیں اور نکاح بھی ابھی ہوگا اگر کہو تو رخصتی بھی ابھی کروا کے لے جاتے ہیں مگر اللّه کا واسطہ تم اپنی شرطیں واپس لے لو۔
اتنا کہہ کر وہ لڑکی کی ماں کے پاؤں میں جا کے بیٹھ گئی ہمیں معاف کردو بہن ہم رشتے داروں کے بہکاوے میں آکر لالچ میں اندھے ہو گئے تھے مگر اس بچی نے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں۔
ہماری بھی دو بیٹیاں ہیں۔
ہو سکتا ہے کل کو ان کے ساتھ بھی کوئی ایسا کرے۔
بس ہمیں کچھ نہیں چاہئیے آپ لوگ جتنا چاہیں مہر کی رقم لکھوا لیں موٹی آنٹی روتے ہوۓ معافی مانگنے لگی۔
نہیں آنٹی ہمیں کچھ نہیں لکھوانا مولوی صاحب نکاح شروع کریں۔
نائلہ کے بھائی نے اتنا کہہ کر لیلیٰ کی طرف تائیدی نظروں سے دیکھا۔
لیلیٰ نے بھی مسکرا کے ہاں میں سر ہلایا اور اندر دلہن کے پاس چلی گئی۔
وہاں پر بھی ایموشنل سین چل رہا تھا دونوں ماں بیٹیاں ایک دوسری کے گلے لگ کے رو رہی تھیں۔
نائلہ کو سارا ماجرا پتا چل گیا تھا اس نے بھاگ کے لیلیٰ کو گلے لگایا اور بولی لیلیٰ تم تو میرے لیۓ رحمت کی فرشتی ثابت ہوئی ہو مجھے معاف کردو میں تمہارے لیۓ بُرا بُرا سوچ رہی تھی۔
کیا مطلب؟….
لیلیٰ نے جھٹکے سے اُسے خود سے الگ کیا۔
وہ میں تمہارے آنے سے پہلے دعا کر رہی تھی کے تیری ٹانگیں ٹوٹ جائیں تاکہ تو میرے دولہے کی بینڈ بجانے نا آسکے۔
کیااااااااا….. لیلیٰ چیخی
کمینی نامراد وہاں میں تیرے لیۓ لڑ کے آئی ہوں اور تو مجھے بددعائیں دے رہی تھی کمبخت ماری جا مر کہیں جا کے۔
لیلیٰ نے اسے دوہتڑ مار کے پرے پھینکا۔
وہ اٹھ کے پھر سے روتے ہوۓ لیلیٰ کے گلے لگ گئی اور معافی مانگنے لگی۔
اتنی دیر میں مولوی کے اندر آنے کی اطلاع ملی تو لیلیٰ نے اسے الگ کر کے بٹھایا اور بولی چل بس کر دے ساری ناک میرے کندھے کے ساتھ ہی صاف کرے گی؟
ساری لڑکیاں ہنسنے لگ گئیں اور پھر نکاح شروع ہوگیا۔
رسم کے بعد لیلیٰ اپنی چھوٹی کزن جس کو وہ ساتھ لے کے گئی تھی کے ساتھ سیٹی بجاتی ہوئی گھر میں داخل ہوئی۔
چاچی جو ان دونوں کے انتظار میں ہی بیٹھی تھی تڑپ کے کمرے سے باہر آئی اور بولی۔
کمبخت مردمار اب کس کی چمڑی اتار کے آئی ہے جو سیٹیاں مار رہی ہے؟
ارے نہیں امی آج تو لیلیٰ باجی نے ایسا کارنامہ کیا ہے کہ سب ہی لیلیٰ باجی کے فین ہوگئے
اسکی کزن تعریف کرتے ہوئے بولی۔
تو چپ کر لیلیٰ باجی کی چمچی میں جانتی ہوں یہ مُوئی جب بھی سیٹی مارتے ہوۓ گھر آتی ہے تھوڑی دیر بعد کوئی نہ کوئی اسکی شکایت لے کے آجاتا ہے۔
اتنی دیر میں دروازے سے کوئی تیز تیز گھر میں داخل ہوا
۔چاچی نے دہل کے سینے پہ ہاتھ رکھا ۔
دیکھا تو لیلیٰ کے چچا تھے انہوں نے آگے بڑھ کے لیلیٰ کا ماتھا چوما۔
جیتی رہ میری دھی تونے آج میرا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔
ارے کوئی مجھے بھی کچھ بتائے چاچی جل کر بولی۔
میں بتا تو رہی تھی آپ نے جھڑک دیا
ہنہ… منہ ٹیڑھا کر کے چھوٹی اندر بھاگ گئی۔
چل نیک بخت اندر چل کے بتاتا ہوں تجھے اپنی دھی کا کارنا مہ۔
چاچی نے حیران ہو کے لیلیٰ کو دیکھا اور وہ چاچی کو آنکھ مار کے کمرے میں سونے چلی گئی ۔
جاری ہے
