Laylpur Ki Laila By Sonya Hussain Readelle50323 (Laylpur Ki Laila) Episode 2
Rate this Novel
(Laylpur Ki Laila) Episode 2
ساری دوپہر مزے سےخراٹے لے لے کر اپنی نیند پوری کر کے لیلیٰ میڈم جیسے ہی اٹھ کے صحن میں آئ تو اسے دیکھ کے جن بیچارے کا ہی تراہ نکل گیا۔
وہ جو کب سے اس کے اٹھ کر باہر آنے کا انتظار کر رہا تھا استغفار پڑھ کر اسکا حلیہ ملاحظہ کرنے لگا۔
بکھرے ہوۓ بال سانولے منہ پہ بالوں سے ٹپکا ہوا کلو کلو تیل اور فرش پہ رلتا ہوا دوپٹہ اف یہ تو بالکل میری بہن لگ رہی ہے۔ توبہ توبہ یہ میں کیا سوچ رہا ہوں۔
جن نے اپنامنہ پیٹ لیا اور خود کو حوصلہ دیتے ہوۓ عشق لڑانے کو تیار ہو گیا۔
اور لیلیٰ کے منہ دھونے پہ خدا کا شکر ادا کیا۔
اتنی دیر میں لیلیٰ کا دوسرا عاشق نامراد باہر سے آگیا۔(جی ہاں صحیح سمجھے عادل،لیلیٰ کے چچا کا بیٹا)آئیے مہاراج آپکا ہی انتظار تھا۔
لیلیٰ بظاہر مسکراتے ہوۓ دانت پیس کر بولی۔ارے ڈرو نہیں پاس آؤ۔
نہیں آپ مارو گی عادل سہم کر آہستہ سے آگے بڑھتا ہوا بولا۔ارے ادھر آؤ شیر بنو۔لیلیٰ کو مسکراتے دیکھ کر عادل کو حوصلہ ہوا اور لیلیٰ کے پاس آگیا ۔
ارےیہ کیا ممی بچاؤ!!!عادل کی سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ کب رسی اسکے پاؤں کے ساتھ لپٹی اور کب اسکے پاؤں کے نیچے سے زمین نکلی۔
جب تک ہوش آیا تب تک وہ نیم کے درخت کے ساتھ الٹا لٹک چکا تھا۔اسکی ہاۓ واۓ سن کر چاچی بھی باہر آگئ تھی
۔آۓ ہاۓ کمبخت ماری کیوں میرے معصوم بچوں کے پیچھے ہاتھ دھو کے پڑی ہے کیا بگاڑا ہے انہوں نے تیرا
؟چاچی جلدی جلدی چلنے کے چکر میں اپنے ہی دوپٹے میں الجھ کر دھڑام سے گر پڑی۔
لیلیٰ نے بے ساختہ قہقہہ لگایا اور چاچی کو اٹھانے کیلیۓ آگے بڑھی۔
اتنی دیر میں ہمسائ بھی دیوار پہ چڑھ گئ لائیو شو دیکھنے کو
۔نا تو کس خوشی میں دیوار پہ چڑھ کے دانت نکال رہی ہے
چاچی نے لیلیٰ کو دوہتڑ مارتے ہوۓ ہمسائ کی بھی کلاس لی جو بے شرموں کی طرح ہنس رہی تھی
۔ارے خالہ میں تو لیلیٰ سے بات کرنے آئ ہوں بس یہ ذرا فارغ ہو جاۓ وہ لیلیٰ کی طرف دیکھ کے آنکھ دبا کر بولی
۔سب سمجھتی ہوں میں تم لوگوں کی چالاکیاں چاچی کا پارہ ہائ ہوا۔
ارے اماں مجھے تو نیچے اتار لے مر جاؤں گا تب تم لوگوں کے مذاکرات ختم ہوں گے؟
عادل نے دہائ دی۔
جن خاموشی سے ڈرامہ انجواۓ کر رہا تھا۔
آۓ ہاۓ میرا بچہ میرا عادی۔
کیوں ری کمبخت کیوں لٹکایا ہے میرے بچے کو؟
چاچی آپ کا بچہ جوان ہو گیا ہے اسکے سر پہ عاشقی کا بھوت چڑھ گیا ہے وہ اتار رہی ہوں۔
کیا مطلب؟
چاچی نے بھنویں تانی۔
مطلب یہ پیاری چاچی کہ آپکا یہ چُوچا بچہ عاشقی کرنے چلا ہے۔
میرے پیچھے لڑکے کو لگا دیا کہ نظر رکھے میرا کسی سے چکر تو نہیں چل رہا؟
کیوں کہ محترم عادل کو لیلیٰ سے پیار ہو گیا ہے اور یہ مجھ سے شادی کے خواب دیکھ رہا ہے۔
ہاۓ میں مر گئ وے کنجرا یہ میں کیا سن رہی ہوں؟
تجھے پتا بھی ھے یہ آفت تجھ سے دس سال بڑی ہے۔
اور اگر چھوٹی بھی ہوتی تو میں اسکو کبھی نہ بہو بناتی۔نی چاچی تیرا ککھ نہ رہوے۔
پانچ سال بڑی ہوں میں اس سے۔
لیلیٰ جل کر بولی
۔اگر دوبارہ تونے مجھے دس سال بڑی بولا تو قسم کھاتی ہوں تیرے اس چوچے سے ہی شادی کر کے ساری عمر تیرے سینے پہ مونگ دلوں گی
۔نہیں نہیں مجھے معاف کر دے میری ماں دوبارہ نہیں بولوں گی چاچی دہل کر بولی۔
ہمم اب آئ نہ لائن پہ ۔
چل اب خود ہی بتادو اپنے اس چوچے کی سزا۔
ارے میں کہتی ہوں گرم چمٹے سے اسکا پچھواڑہ لال کر میری بلا سے۔
میں چلی تو اتار اسکی عاشقی۔
چاچی ہاتھ جھاڑ کے اندر گئ اور چادر لے کے گھر سے نکل گئ محلہ پھرنے۔
ہمم ہاں جی رانجھا صاحب اب آپکی باری ہے۔لیلیٰ سچ مچ چمٹا لے کے آگئ۔
لیلیٰ تجھے اللّه کا واسطہ ہے ایسا نہ کرنا مجھے معاف کردے تو تو میری باجی ہے۔
عادل چمٹہ دیکھ کہ منتوں پہ آگیا۔ نہ میرا ویر تجھے ایسے چھوڑ دیا تو دوسرے لوگ عبرت کیسے پکڑیں گے اور یہ کہ کے دےدھنا دن عادل صاحب کی تشریف پہ چمٹے لگنے لگے۔
جن تو یہ دیکھ کہ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گیا اور پیٹ پکڑ کے ہنستہ ہوا دھڑام سے درخت سے نیچے آگرا…..
جاری ہے
