223.8K
9

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Laylpur Ki Laila) Episode 1

یہ منظر ہے لائل پور(موجودہ فیصل آباد)کے ایک دوردراز کے گاؤں کا جہاں زندگی مسکراتی ہے جب نٹ کھٹ لیلیٰ شرارتیں کر کے سب کو ہنساتی ہے۔
جی ہاں لیلیٰ ہماری ہیروئن زرا وکھرے ٹائپ کی ہے۔
ماں باپ اسکے بچپن میں ہی فوت ہو گۓ تھے۔چچا نے پالا جن کی اپنی بھی بچوں کی فوج ہے۔
چچا اپنے بھائ کی نشانی یعنی لیلیٰ سے بہت پیار کرتے ہیں جو کہ لیلیٰ کی چچی کو ایک آنکھ نہیں بھاتا مگر وہ شوہر کے سامنے کچھ نہیں کہتی۔
مگر چچا کے کھیتوں میں جانے کے بعد لیلیٰ کو خوب کوسنے دیتی کیوں کہ مار نہیں سکتی چالاکو لیلیٰ ایک کی چار لگا کہ چچا کو بتاتی تھی۔
مگر اب تو وہ بڑی ہو گئ ہے اب چچی اسکی آفتوں سے کسی حد تک محفوظ ہو گئ ہے کیونکہ اب چچی کے بچے جو اسکے تختۂ مشق بن جاتے ہیں۔
اب آتے ہیں حال کی طرف۔ گرمیوں کی تپتی ہوئ دوپہر ہے کوہ قاف کا شہزادہ جن گھومتے ہوۓ لیلیٰ کے گاؤں میں کنویں کے ساتھ والے برگد کے درخت پہ آکے بیٹھا ہے۔
اسی ٹائم لیلیٰ بھی اپنی سہیلیوں کے ساتھ کنویں پہ پانی بھرنے آئ۔جن جو ابھی ابھی سویا تھا ہنسی کی آواز سن کر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔پھر نظر پانی بھرتی لڑکیوں پر پڑی اور لو جی جن صاحب کا دل لیلیٰ پہ آگیا۔
جیسے کہتے ہیں کہ دل گدھی پہ آۓ تو وہ بھی حور لگتی ہے تو ایسے ہی عام سے نقوش کی سانولی سلونی لیلیٰ بھی جن بھائ کو ہیروئن ہی لگی جو کسی لڑکے کو گردن سے پکڑ کےکنویں کی منڈیر پہ اسکے منہ کوبغیر سرف کے رگڑا لگا رہی تھی۔
ہاں بھئ کسے مجنوں دی گندی اولاد کیا مسئلہ ہے؟
باپ تیرا چوپال پہ بیٹھا اس عمر میں بھی کڑیاں تاڑتا ہے اور تو کڑیوں کا پیچھا کرتا ہے…
بتا کس ماں کے پیچھے آتا ہے ۔
پچھلے تین دن سے دیکھ رہی ہو ں تجھے۔
باجی اللّہ کا واسطہ مجھے چھوڑ دو میری فیس بیوٹی خراب ہو گئ تو انسان تو کیا کوئ کھوتے کی بچی بھی بھی نہیں ملنی مجھے۔
اچھااااا…شاوا بھئ تیری عاشقی دے۔چل بتا پھر کس کے پیچھے آیا تھا؟
وہ باجی میں آپ کے پیچھے آیا تھا۔کیا میرے پیچھے؟لیلیٰ غرائ…
باجی اللّہ کی قسم میں آپ کو بہن سمجھتا ہوں ۔
تو پھر اپنے مامے کے منڈے کیلیۓ میرے پیچھے آیا تھا؟
نہیں وہ عادل نے بھیجا تھا۔کون عادل میرے چاچے کا پتر؟
جی باجی اس نے آپ پہ نظر رکھنے کو بولا کہ کہیں آپ کسی کے سا تھ پھنسی تو نہیں۔کیوں کہ وہ آپ کو پسند کرتا ہے۔
اچھااااا ٹھیک ہے پتر اپنے اس عاشق نامراد کو بولنا جلدی گھر آۓ اسکی معشوق انتظار کرے گی۔چل اب بھاگ ادھر سے۔
اور وہ لڑکا بیچارہ اتنی تیزی سے بھاگا کے چھپاک سے گندے پانی کی نالی میں جا گرا اور اٹھ کے پھر سے دوڑ لگادی۔
ساری لڑکیاں کھی کھی کرنے لگی۔
ہنسی تو جن پاجی کو بھی بہت آئ تھی اسے یہ لڑکی کافی دلچسپ لگی تھی اب وہ پھر سے ان کی باتیں سننے لگا۔لڑکیاں لیلیٰ سے پوچھ رہی تھی کہ وہ اب کیا کرے گی۔
کرنا کیا ہے دیسی گھی کی چوری کوٹ کے عاشق کو کھلاؤں گی ساتھ پنکھا جھلتے ہوۓ آدھا دوپٹہ منہ میں ڈال کے چبا جاؤں گی۔لیلیٰ خیالوں میں چٹخارہ لیتے ہو ۓ بولی۔
اوہووووو یعنی کہ آج لائیو شو دیکھنے کو ملے گا۔اسکی ہمسائ بولی اور ساری لڑکیاں کھی کھی کرتی واپس چلدی۔
جن بھی ان کے پیچھے پیچھے لیلیٰ کے گھر پہنچ کے نیم کے درخت پہ بیٹھ گیا۔اور لیلیٰ کو کام کرتے ہوۓ دیکھنے لگا۔
وہ ساتھ ساتھ اپنے کسی نہ کسی چھوٹے کزن کو دھموکا بھی جڑ دیتی جس سے وہ گلا پھاڑنے لگتا اور چاچی لیلیٰ کو صلواتیں سنانے لگتی۔
لیلیٰ کام ختم کر کے کمرے میں جا کے آنکھیں بند کرکے لیٹی تو اسے کوئ آواز آئ۔
شش شش ادھر…
جن اسکے سرہانے کھڑا تھا لیلیٰ پہلے تو اسکی خوفناک شکل دیکھ کے گھبرائ پھر اچانک اس کے اندر کی مولا جٹی جاگ گئ۔
اوۓ کون ہو تم منحوس شکل والے آدمی؟؟؟لیلیٰ نے اسے گھورتے ہوۓ پوچھا…
کون میں؟تم نے مجھ سے کچھ کہا؟
کوہ قاف کے جن نے حیران پریشان ہو کہ ادھر اُدھر دیکھ کر پوچھا۔
نہیں تمہارے پیچھے جو کھڑا ہے اس سے پوچھا ہے منحوس مارے۔لیلیٰ نے جل کر دانت پیس کے جواب دیا
تم نے مجھے دو بار منحوس کہا کوہ قاف کے سب سے ہینڈسم جن کو؟
جن بیچارے کا صدمے سے بُرا حال ہو گیا۔
دیکھو لالی میرا دل تم پہ آگیا ہے اسلیۓ میں نے تمہاری بدتمیزی برداشت کی ہے۔ورنہ اسطرح میرے سامنے زبان چلانے پہ تمہاری گِچی مروڑ دیتا۔
جن نے بھی بدلے میں دانت پیس کر جواب دیا۔
تم…باندر کی شکل والے بھوت تمہاری ہمت کیسے ہوئ لیلیٰ پہ عاشق ہونے کی۔
کپڑے دھونے والی تھاپی سے کوٹ کوٹ کے تمہاری عاشقی نکال دوں گی۔
اور میرا نام لالی نہیں لیلیٰ ہے لائل پور کی لیلیٰ سمجھا جن کے بچے۔
چل اب نکل ادھر سے نِیوا نِیوا ہو کے چل شاباش میرے سو نے کا ٹائم ہو گیا ہے۔
سالا بھوت کا بچہ اتنا ٹائم ضائع کر دیا اب تک میں نے پچیس چھبیس خراٹے لے چکی ہونا تھا۔۔۔
بھوت کے تو کاٹو تو بدن میں لہو نہیں والا حال ہو گیا تھا منہ کھول کے اس لائل پور کی لیلیٰ کو دیکھ رہا تھا جس نے بجاۓ ڈرنے کے اسکی کتے والی کر دی تھی۔۔۔۔🤧🤧🤧
جاری ہے