Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khwaab Reza Reza Episode 4 (Last Episode)

Khwaab Reza Reza by Sara Arooj

“ہاشم اپنے آفس کے گلاس وال سے لیلما کے آفس کی جانب نظریں مرکوز کیے بیٹھا تھا کہ نا چاہتے ہوئے بھی اسکی آنکھوں میں غصہ جھلکنے لگا تھا”…

“جب “فرقان ” کو پھول اٹھا کر “لیلما ” کے ہاتھوں میں تھماتے دیکھے تھا”….

“وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھے وہاں کے مناظر کو بغور دیکھ رہا تھا”…

“پھر کچھ سوچ اس کے آفس کی جانب قدم بڑھائے”…..

تیرا پہلو ترے دل کی طرح آباد رہے

تجھ پر گزرے نہ قیامت شب تنہائی کی

“کیا بات ہے ، ” لوگوں سے کچھ ذیادہ تعلقات نہیں بڑھائے جا رہے”…؟؟؟؟

“فرقان کے جاتے ہی ہاشم دروازہ دھکیل اندر آیا تھا”…

“لیلما جو سکون سے چئیر کی بیک پر آنکھیں موندے بیٹھی تھی “…

“ہاشم کی آواز پر اپنی تھکن زدہ آنکھیں اٹھا کر اس کی جانب دیکھا”…

“وہ جو لڑنے کی نیت سے آیا تھا لیکن آگے اسکی حالت دیکھ ٹھنڈا پڑا تھا لیکن پھر فرقان اور لیلما کی بونڈنگ کا سوچ آنکھوں میں یکدم غصہ عود آیا تھا”….

“ہاشم پلیز “..

“جائیں یہاں سے آج میرا فضول میں بحس کرنے کا کوئی موڈ نہیں”….

“کہتے وہ دوبارا آنکھیں موند گئی تھی لیکن ہاشم کی اگلی بات نے اس کو غصے سے کھڑے ہونے پر مجبور کر دیا “…

“ہاں ” اب دوسروں سے تعلقات جو بنا لئے ہیں”…

اسلئے نظریں تو چراؤ گی”….

“کومل اور میری شادی پر اتنا اسکینڈل بنایا تھا تم خود کو نہیں دیکھا کیا کرتی پھر رہی ہوں”…؟؟؟؟؟

“ٹیبل ہاتھ پر مارے تقریباً دھاڑنے کے انداز میں بولا تھا”….

“ہاں بنائے ہیں میں نے تعلقات “…

“کیا کر لیں گے آپ “….؟؟؟

“ارے میں نے تو پھر بھی اپنے اور فرقان کے ریلیشن کو اوپن رکھا ہے”…

“آپ جیسے چوروں کی طرح چھپ چھپا کر رشتے نہیں بناتی رہی”….

“وہ بھی بھڑکیلے لہجے میں بولی تھی”…..

“تم ایک لڑکی کو لیلما”…

“نکاحِ میں ہو میرے “…

“غصے کو ضبط کیے وہ سمجھانے کے سے انداز میں بولا”…

“ہنہہ”…لڑکی ہوں “…!

“تو پھر ہوں کیا”…؟؟؟؟

“میرے اندر جذبات احساسات نہیں ہیں کیا”…؟؟؟

“استہفامیہ نظروں سے دیکھ طنزیہ مگر ٹھیک بولی تھی”…..

“ایسا کب کہا میں نے”…

“تم بیوی ہو میری ،” اور ہاشم یزدانی کی غیرت گوارا نہیں کرتی کہ اس کی بیوی غیر مردوں کے ساتھ گھومتی پھرتی پائے جائے”…..

“اب کے وہ تھوڑے غصیلے لہجے میں گویا ہوا “….

” ان شاءاللہ “… آگے نہیں رہوں گی”…

“یہ بھرم بہت جلد ٹوٹ جائے گا آپکا “…

“کہ میں بیوی ہوں آپکی”….

“کیا بکواس ہے یہ لیلما”…

“کیوں دماغ خراب کرتی ہو”….!!!

“اس کے بازو کو سخت گرفت میں دبوچے وہ دانت پیستے بولا “….

“دماغ میں نہیں ، آپ میرا خراب کر رہے ہیں پچھلے آدھے گھنٹے سے”…

“خدا کا واسطہ ہے جائیں یہاں سے چھوڑ دیں میری جان “..

“جھٹکے سے ہاتھ چھڑائے اس نے باہر کی جانب قدم بڑھائے”….

“کہاں سے ایڈپٹ کی”…؟؟؟

“باہر بڑھتے لیلما کے قدم تھمے تھے ہاشم کی بات پر “…

“اس نے مڑ کر استہفامیہ نظروں سے اسکی جانب دیکھا”…

“لیکن اس کے سوال کا جواب ہاشم کے ہاتھ میں موجود تحریم کی تصویر کو دیکھ کر مل گیا تھا جو کہ یقیناً اس نے ٹیبل سے اٹھائی تھی”…..

“خداوند کا شکر ہے میری ” لیلما کی بیٹی ہے “…..

“فخر سے کہتے اسکا سر بلند ہوا تھا”…

تم۔۔۔تم تو ماں نہیں بن سکتی تھی پھر یہ “…؟؟؟؟

“وہ حیرتوں کے سمندر میں غوطے کھاتا بولا “…

“کیونکہ اب تک اسے وہ ایڈوپٹ چائلڈ سمجھ رہا تھا”……

“مسٹر ہاشم یزدانی”…

“خدا کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں”….

“اگر آپ ان سائنس اور ڈاکٹروں کی ریپورٹ سے ہٹ کر صرف خدا پر اعتقاد رکھ لیتے تو شائد آج یہ سوال نہ کر رہے ہوتے”….

“یہ سائنس ہی سب کچھ نہیں ہوتی ہے”….

“اس سائنس کا وجود ہمارے دین و مذہب کے بعد آیا ہے”…

“ہمارا مذہب ، ” وہ خدا سب سے پہلے تھا اور رہے گا”….

“تو کیوں آپ سب مذہب سے ذیادہ اہمیت سائنس کو دینے لگتے ہیں”…

“میں یہ نہیں کہتی سائنس غلط ہے ,۔”

“مگر سب سے ذیادہ قادر اوع اہمیت کا حامل اس سائنس کو بنانے والا ہے”….

“آپ لوگ سوچتے ہیں کہ سائنس انسانوں کی بنائی گئی ہے”…

“طنز بھری مسکان لیلما کے چہرے پر نمودار ہوئی تھی”…

“مگر یہ کیوں بھول جاتے ہیں جو اس سائنس کی وجہ سے نئی اور جدید چیزیں دریافت کرتا ہے “…

“وہ بھی اس خدا کی تخلیق ہے”…

“انسانوں کے ذہن میں یہ خیال اللہ کی ہہ طرف سے آتے ہیں”…

“یہ کامیابیاں ، یہ جیت جس پر وہ خوش ہوتا ہے وہ سب اسی مالک کا عطا کردہ ہے”….

“سائنس کا کام کرنے کا اپنا طریقہ ہے اور اس کے ساتھ مذہبی عقائد کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے”…

“سائنس بالکل ٹھیک ہے کہیں غلط نہیں ہو سکتی”…

“اسلئے بہتر ہے سائنس کو مذہب سے نہ جوڑو”…

“اب مجھے شرافت سے بتاؤ کس یتیم کو ہمارا نام دے رہی ہو”….؟؟؟

“وہ آنکھوں میں الجھن لئے تھوڑے کرخت لہجے میں گویا ہوا تھا “…

“چٹاخ”…

“لیکن لیلما کے ہاتھ سے پڑنے والے تھپڑ نے کچھ کہنے کے قابل نہ چھوڑا تھا”….

“میری بچی کو یتیم کہنے کی غلطی مت کرنا ہاشم”….

“جان لے لوں گی”…

“اور غلطی سے بھی مجھے پرانی لیلما مت سمجھ لینا”…

“جو تمہاری محبت کی خاطر سب چھوڑ دیتی تھی”….

“کیونکہ نہ ہی وہ وقت ہے”…” اور نہ ہی وہ جذبات “……

“اور کیا کہہ رہے تھے کہ میں ماں نہیں بن سکتی تھی”…؟؟

“تو سنو”…

“آج سے کچھ سال پہلے جب میرے سر پر سوتن لا بیٹھائی تھی نا “…

“صرف اولاد کی خاطر “…

“اسی دن میں شدت سے تمہارا انتظار کر رہی تھی کہ کب تم آو “.؟؟

“اور کب میں اپنے ماں بننے کی خبر تم سے شئیر کروں”…!!!

“لیکن تم نے تو ” مجھے ہی سرپرائز کر دیا دوسری شادی کا تحفہ پکڑا کر”…..

“آپ سے تم تک کا سفر جس طرح طے کیا تھا وہ خود بھی نہ سمجھ پائی”…

“شائد اس کو عزت دینا اسکا دل بھی گوارا نہ کر رہا تھا”…

“یہ لیں دیکھیں یہ رپورٹس “…

“تاریخ بھی دیکھ لینا

“بیگ سے فائل نکالے “…

“اسکے ہاتھوں میں پھینکنے کے انداز میں ریپورٹس اچھالی تھیں”…

“کہ کچھ کاغذات زمین بوس ہوئے تھے”….

“جب ہاشم نے ریپورٹس کو ایک ایک کرکے دیکھا تو تکلیف سے آنکھیں بند کر گیا تھا “….

“کیونکہ وہ کچھ کہنے کے قابل ہی نہ رہا تھا کہتا بھی کیا”…

“کچھ بچا ہی نہ تھا”…

“لیلما کا ایک ایک لفظ سچ تھا”….

“دیکھانا تو بہت پہلے چاہا تھا “….

“لیکن تب قسمت نے ساتھ نہ دیا”…

اور آج جب نہیں دیکھانا تھا “…

“تب دیکھ لی آپ نے”…

واہ رے”…قسمت تو بھی کیا کھیل کھیلتی ہے”….

“تلخ ہنسی ہنستے وہ جا چکی ریپورٹس سمیٹے “…

“ہاشم یزدانی اس مغرور شخص کو شرمندگی کی اتھاگھڑی میں چھوڑے”….

©©©

“کچھ ہفتے بعد “…

“جمعے کا دن تھا”…

“پورے شہر میں گرمی چھائی ہوئی تھی سورج اپنی آگ لوگوں میں انڈیلنے کی تیاری میں تھا”…

“اس گرمی زدہ موسم میں جہاں کچھ غریب مزدور اس تپتی دھوپ میں روزی کما رہے تھے وہیں ہاشم یزدانی اپنے اے – سی لگے کمرے میں بیٹھا کسی گہری سوچ میں محو تھا”….

“کہ باہر سے آتے شور کی آواز سے حواسوں میں لوٹتا باہر کی جانب آیا تھا “…

“کیا ہوا ,”…؟؟؟؟

“یہاں پولیس کیوں لائی ہو”…؟؟؟

“سکون نہیں ہے اپنی زندگی میں”….؟؟؟؟

“پولیس فورسز کو دیکھ کومل ناگواریت سے بولی تھی”….

“فکر نہ کرو”…

“مجھے سکون آئے گا”…بہت جلد “…

“جب تمہیں بے سکون کروں گی”….

“اور یہ پولیس تمہیں، تمہارے اصل سسرال لے جانے آئی ہے”…

“کیا بکواس ہے یہ”..؟؟؟؟

“غصے سے دیکھ بولی تھی وہ”….

“او بیبی یہ بکواس نہیں ، ” حقیقت ہے”…

“بلو کلر کے گوگلز واپس آنکھوں میں لگائے تھے”….

“وہ جیسے ہی باہر ایا تھا اس کے قدم منجمد ہوئے تھے”…. باہر موجود پولیس ، وکیل اور ان کے بیچ غرور سے کھڑی لیلما کو دیکھ ،”…

“آئیے مسٹر ہاشم یزدانی”..آپ ہی کا انتظار تھا”….

“سیڑھیوں کے بیچ و بیچ ایستادہ کھڑے ہاشم کو دیکھ وہ مسکرا کر بولی”…..

“یہ سب کیا ہے لیلما”…؟؟؟؟

“وہ سست روی سے چلتا ان تک آیا تھا”….

“انجام “…

“انجام ہے ہاشم یزدانی آپ کی کہانی کا انجام”…..

“مسز کنول آپ کو نکاح پر نکاح کرنے کے جرم میں گرفتار کیا جاتا ہے”…

“انسپیکٹر کی آواز جیسے ہی ہال میں گونجی تھی وہاں کھڑے وہ دونوں نفوس ساکن ہوئے تھے”….

“چ۔۔چھوڑو مجھے”……

“لیڈی کانسٹیبل کے پکڑنے پر کنول تڑخ کر بولی تھی”…..

“یہ کون سا ڈرامہ ہے انسپیکٹر”…؟؟؟؟

“یہ پہلا نکاح ہے کومل کا میرے ساتھ”…

آپ لوگ کون سے ڈبل نکاح کی بات کر رہے ہیں”…

“اس سب سیٹویشن کی وجہ سے وہ واقعی پریشان ہو چکا تھا”….

“اگر یقین نہیں آتا تو یہ نکاح نامہ ہے آپ کی معصوم بیگم کا خود ہی دیکھ لیں”…..

“وہ نکاح نامہ جیسے ہی ہاشم نے دیکھا اس کو اپنا ضبط کھوتا محسوس ہوا تھا”….!!!!

“ہ۔۔ہاشم ۔۔ی۔۔یہ جھوٹ ہے م۔۔میں صرف آپ کے نکاح میں ہوں”….

“ہاشم کی آنکھوں میں غصہ جھلکتا دیکھ وہ اٹکتے ہوئے بولی تھی”…

“اور ایک اور دھماکہ ہے آپ کے لئے”….

“ایک مزید نیلے رنگ کی فائل تھمائی تھی اسے”…

“وہ بچی فاطمہ جسے آپ اپنی بیٹی مانتے ہیں وہ بھی آپ کی نہیں ان محترمہ کے پہلے شوہر کی اولاد ہیں”….

“لیلما کے نئے انکشاف پر اس نے حیرت سے اس کی جانب دیکھا تھا”….

“شائد آج وہ اسے بھیگو بھیگو کر مارنا چاہتی تھی”….

“اگر یقین نہیں آتا تو دیکھ لیں ان کاغذات پر “..

ڈی این ریپورٹ ہے”….

“آپ کی سائنس کے مطابق”….

“اسی کے انداذ میں کان کے پاس جھک آہستہ سے کہا تھا”…..

“ی۔۔یہ سب جھوٹ”…..

“کانسٹیبل کی گرفت میں مچلتے ہوئے کہا تھا کومل نے”….

“سر زرا ان مہمان کو تو لائیے گا”….

“پولیس آفیسر کو دیکھتے کہا تھا اس نے”….

” سب کی نظریں دروازے کی جانب مرکوز تھیں وہ دیکھنا چاہتے اس مہمانِ خصوصی کو “…

“سب کے ذہنوں میں الگ الگ طرح کے خیالات تھے”…

“کوئی کچھ سوچ رہا تھا تو کوئی کچھ “..

“لیکن سب کے خیالات ہی منفی ثابت ہوئے تھے جب انسپکٹر “کوٹ سوٹ میں ملبوس “سلطان ” کو ہتھکڑی لگائے داخل ہوا تھا”….

“کومل کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں”..

“بولو اب بھی تم انکار کرتی ہو”….؟؟؟

“لیلما نے اسکی آنکھوں میں دیکھ طنزیہ کہا تھا”….

” مسٹر سلطان راؤ بتائیں یہ صاحب زادی کیا لگتی ہیں آپ کی”..؟؟؟

“انسپیکٹر نے سلطان سے سوال کیا تھا”…

“بی۔۔بیوی ہے میری”….

“وہاں موجود لوگوں سے نظریں چرائی تھی اس نے”….

“چٹاخ”……

“چٹاخ”……

“چٹاخ…”

“ایک دو تین ۔۔۔”کئی تھپڑ ہاشم یزدانی ہے ہاتھوں سے کومل کے گالوں کی زینت بنا تھا”….

“ماحول میں یکدم سکوت چھا گیا تھا”…..

“لالچی ” بے غیرت عورت “….

“بلکہ میری نظر میں تم عورت ہی نہیں ہو”…

“انسپکٹر صاحب لے جائیں اسے یہاں سے ورنہ یہ میرے ہاتھوں قتل ہو جائے گی”…..

“مسٹر ہاشم خوش قسمت ہیں جو بڑے نقصان سے بچ گئے “…

“ورنہ یہ عورت آپ کا گھر سب کچھ ہڑپ کرنا چاہتی تھی اور آپ کو غائب کرنے کی پلیئنگ کر رہی تھی”….

“جیسے دودھ میں سے مکھی کو الگ کرتے ہیں”…

“انسپیکٹر نے جاتے ہوئے کہا تھا”….

“ہہمم “..

“تو مسٹر ہاشم اب وقت آ گیا ہے آخری فیصلے کا”۔۔۔

“کی۔۔کیسا فیصلہ”..؟؟؟

“گھوما پھرا کر نہیں کہوں گی”…

“سیدھی بات ہے”….

“میں آپ سے طلاق چاہتی ہوں”…

“لیلما کی بات سن ہاشم کا سانس اٹکا تھا”…

ی۔۔یہ کیا کہہ رہی ہو”…؟؟؟؟

“ل۔۔لیلما! مجھے معاف کر دو”۔۔

“مگر ی۔۔یہ ہجر نہ دو”…

“لیلما کی ڈکشنری میں لفظ معافی تو موجود ہے”…

“لیکن اس کی کچھ حدود ہیں”…

“نادانی میں کی گئی غلطی کی معافی ہوتی ہے”…

“دھوکہ ، فریب اور بے وفائی کی صورت میں کی گئی غلطی کی کوئی معافی میری لغت میں نہیں”…..

“ویسے کتنی عجیب بات ہے”…

“آپ نے جس اولاد کے لئے میرے سر سوتن لا بیٹھائی تھی ،”…

“وہ تو آپ کو دوسری بیوی سے بھی نصیب نہ ہو سکی “…

“مجھے چیٹ کیا تھا نا”…

“دھوکہ دیا تھا نا آپ نے میری محبت میری وفا کو”…

“اتنے سالوں سے اسی کا کفارا کاٹ کر رہے تھے آپ “…

“کسی اور کی اولاد کو پال کر”…..

“میری زات کو کمتر ظاہر کیا تھا “…

“کیا کہا تھا آپ نے”…؟؟

“کہ تم اولاد کی خوشی نہیں دے سکتی “…

“دیکھیں ہاشم “….

“وقت نے کیسا پلٹا کھایا ہے “…

“آج میرے پاس میری سگی اولاد ہے “..

“لیکن آپ کے پاس کیا ہے”….؟؟؟؟؟؟

“لیلما کے لہجے اسکی باتوں نے بہت کچھ واضع کر دیا تھا ہاشم یزدانی پر “..

“کہ کیا کچھ کھو چکا تھا وہ”….

“کندن حاصل کرنے کے چکر میں پاس موجود ہیرا بھی گنوا چکا تھا”….

“لیلما بس آ۔ آخری موقع دے دو”….

“دونوں ہاتھ اسکے سامنے جوڑے وہ معافی کی اپیل کر رہا تھا”….

“جب کوئی بچہ یا شخص بیمار ہو جائے تو اسکا خیال رکھا جاتا ہے اسے ٹھیک ہونے کی امید دی جاتی ہے”…

” ناکہ اسکو ردی کی مانند سائڈ پر کیا جاتا ہے”…

“میرا حال بھی کچھ ایسا تھا”…

“میں ماں نہیں بن سکتی تھی اس خبر نے سب سے ذیادہ تکلیف مجھے دی تھی ہاشم “…

“میں تڑپی تھی روز دعاؤں تہجّد کی نمازوں میں اولادّ نرینہ مانگتی تھی “…

“رحم مانگتی تھی اس رب سے”….

“آپ کو چاہیے تھا اس حالت میں میرا ساتھ دیتے ، مجھے دلاسہ دیتے “…

“خدا پر یقین رکھتے”…

“لیکن نہیں “آپ نے میری محبت، چاہت ، وفاؤں سب کو در گزر کیے

دوسری شادی کو اہمیت دی”…

“مجھے کسی بے جان چیز کی مانند سائڈ پر کر دیا “…

“اسی دن میں نے فیصلہ کیا تھا کبھی آپ جیسے بے وفا شخص کے پاس نہیں آؤں گی”..

“جس نے میرے تمام خوابوں کو ریزہ ریزہ کیا ہے”….

“اولاد کی وہ خوشی ، وہ محبت بھرے پل جو آپ کے ساتھ گزرانا چاہتی تھی وہ سب خواب ادھورے رہ گئے”….

“میری بچی ہمیشہ اپنے باپ کے بارے میں پوچھتی تھی کہ مما ڈیڈ “…

“ملنے کیوں نہیں آتے”..؟؟؟

“جانتے ہو اس سے جھوٹ بولتی رہی”…

“کہ بیٹا تمہارے ڈیڈ باہر ملک میں ہیں”…

“جانتے ہو کیوں”..؟؟؟؟

“کیونکہ تم جیسے بے وفا شخص کا سایہ تک میں اپنی بیٹی پر پڑنے نہیں دینا چاہتی “…..

“اپنی بات مکمل کیے وہ خاموش ہوئی تھی”…

“آج وہ بھڑک اٹھی تھی اتنے سالوں کا لاوہ جو وہ خود میں بھرے ہوئے تھی انڈیل ڈالا تھا اسکے اصل حقدار پر”….

“یہ وہ شئیرز کے پیپرز ہیں جو آپ نے میرے نام کیے تھے”…

“چونکہ اب میں اپنی نئی زندگی شروع کرنے جا رہی ہوں “..

“اسلئے پرانی یادوں کی ضرورت نہیں”…

“آپ کی جائیداد آپ کو مبارک ہو”…..

“وکیل صاحب کاغذاتِ سائین کروا لیجئے گا”…

“اگر سائن نہ کریں تو نوٹس تھما دینا”….

“آنکھوں میں گلاسز لگائے وہ مغرور بھری چال چلتے وہاں سے جا چکی تھی “…

“جبکہ ہاشم ان کاغذات کو دیکھتا رہ گیا”….

©©©

“چلیں”….؟؟؟

“لیلما کے گاڑی میں بیٹھتے ہی فرقان نے کہا تھا”…

” جو کہ پچھلے آدھے گھنٹے سے اسکا گاڑی میں بیٹھا انتظار کر رہا تھا”….

“اس نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا تھا”…..

“گاڑی یزدانی مینشن سے نکلتی اپنی منزل کی جانب گامزان ہوئی تھی”…

©©©

“کچھ مہینوں بعد”……

“پارک “….

“پارک کے بیچ میں لگایا وہ ٹیبل اور ، ٹیبل رکھا مزے دار کافی کیک “…

“اس بیچ میں کرون پہن کر کھڑی تھی تحریم ، اور تحریم کی دائیں جانب لیلما اور بائیں جانب فرقان”…..

“ہیپی برتھڈے ٹو یو”….

“ہیپی برتھڈے ٹو یو”….

“لیلما اور فرقان نے ساتھ برتھڈے سونگ گایا تھا اور تحریم نے ہنستے ہوئے کینڈلز بجھاتے کیک کاٹا تھا”…..

“کیک کے کٹتے ہی فرقان اور لیلما نے تحریم کے گالوں پر بوسہ دیا تھا”…

“جس پر وہ کھلکھلائی تھی٫…”

تھینک یو سو مچ مما اینڈ ڈیڈ”….

“وہ ان دونوں کے گلے لگتے ہوئے بولی تھی”…

“ڈیڈ میں بہت خوش ہوں آج میری پہلی سالگرہ ایسی ہے جس میں آپ بھی موجود ہیں”….

“ورنہ ہر برتھڈے میں اور مما اکیلے مناتے تھے اور آپ مس کرتے ہوئے”….

“کہتے اس نے کیک اٹھا کر ان دونوں کو باری باری کھلایا تھا “….

“تھینک یو سو مچ فرقان “…

“میری زندگی کو خوشیوں سے بھرنے کے لئے”….

“بینچ پر بیٹھتے اس نے اپنا سر فرقان کے کندھے پر ٹکایا تھا اور اس کا ہاتھ تھام اپنے ہاتھوں میں لیا”….

“لیلما”…!!

“شکریہ کہہ کر شرمندہ نہ کریں”…

“میں وہی سب کر رہا ہوں”..

“جو ایک شوہر اور باپ کی ذمہ داری ہے”..

“ان شاءاللہ آپ ائندہ بھی مجھے ایک اچھا شوہر اور باپ پائیں گی”…

“اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا”…

“فرقان “…شوہر سے ذیادہ دوست اور وفا کرنے والے ساتھی کی ضرورت ہے مجھے “….

“کیونکہ شوہر تو کوئی بھی بن جاتا ہے لیکن وفا ، محبت ،عزت , اعتماد بہت کم لوگ دے پاتے ہیں”….

“ہوا کے باعث اڑتے بالوں کو کان کے پیچھے اڑسا تھا”…

“لیلما”…

“میری وفائیں، محبت ، عزت سب آپ کے لئے اور ہماری بیٹی کے لئے ہیں”…

“ان کی آنکھوں میں دیکھ جذبات کی لہر میں بولے تھے اور ساتھ ہی کھڑے ہوتے اپنی بیٹی اور بیوی کا ہاتھ تھامے پارک سے چل دیے”….

“جبکہ لیلما اور فرقان کی بات نے اندر تک سرشار کر دیا تھا”….

“دور کہیں کوئی وجود گاڑی میں بیٹھا کب سے ان تینوں پر نظریں جمائے بیٹھا تھا”….

“کتنے مکمل لگ رہے تھے وہ “…

“لیلما اور تحریم کے چہرے پر کتنی خوشیاں نمایاں تھیں”….

“شائد “…اس سب کا کریڈٹ فرقان کو جاتا ہے جس کی توجہ اور احساس نے انہیں مکمل کیے ہوا تھا”….

©©©

“مسٹر ہاشم خوش قسمت ہیں جو بڑے نقصان سے بچ گئے “…

“ورنہ یہ عورت آپ کا گھر سب کچھ ہڑپ کرنا چاہتی تھی”…

“اس انسپکٹر کی آواز آج جب اس کے کانوں میں گونجی “…

“تو اس نے یہ بات سوچنے ہر مجبور کر دیا “…

“کہ کہاں کا خوش قسمت تھا وہ “…؟؟؟

“زندگی کی سب سے انمول تحفہ تو گنواہ چکا تھا”…

“اپنی محبت کو”….

“جس کے لئے وہ سب سے لڑا تھا لیکن افسوس اپنی قسمت اور بربادی سے نہ لڑ سکا “…

“وقت نے بھی ٹھیک انصاف کیا تھا”…

“کومل اور سلطان تو جیل میں سزا کاٹ رہے تھے اپنے گناہوں کی”…

“لیکن وہ تن تنہاہ رہ گیا تھا”…

“یہ تنہائی ہی شائد اس کا مقدر تھی”….

“آج ان تینوں کو خوش دیکھ اسے احساس ہو رہا تھا کہ وہ کیا کر گزرا ہے”….

“اگر وہ جذبات میں آکر کوئی غلط فیصلہ نہ کرتا بلکہ اپنی بیوی کا ساتھ دیتا تو وہ بھی آج اس طرح خوش ہوتے”….

” آج جس جگہ فرقان کھڑا تھا ، ” اس جگہ وہ موجود ہوتا”……

” سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے

ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے

شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا

اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں

پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے

جشن مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی

پا بجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے

اس کی وہ جانے اسے پاس وفا تھا کہ نہ تھا

تم فرازؔ اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے “