Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khwaab Reza Reza Episode 2

Khwaab Reza Reza by Sara Arooj

میٹنگ روم۔۔۔

روم کے وسط میں رکھی میز ۔۔۔

ان میزوں کے گرد بیٹھے وہ لوگ۔۔

سامنے دیوار پر لگا پروجیکٹر اور اس پروجیکٹر کے سائڈ پر کھڑی لیلما جو اپنے مخصوص انداذ میں پریزینٹیشن دے رہی تھی بلیک جینس ، بیبی پینک کرتہ ، ڈوپٹہ نفاست سے گلے میں لپیٹے ہوئے ، بالوں کو ڈھیلے جوڑے میں قید کیے جس میں لگا پین وہ نکال کر اپنے ہاتھ میں لے چکی تھی۔

میٹنگ روم میں بیٹھے فرقان ملک کی نظریں بہت باریکی سے اس کا معائنہ کر رہی تھیں اور فرقان کی ہر حرکت کا معائینہ ہاشم یزدانی کی خون جھلکتی آنکھیں سے کر رہی تھیں۔۔۔

میٹنگ ختم ہوتے ہی سب باہر جا چکے تھے لیکن لیلما ، فرقان اور ہاشم موجود تھے اب بھی اس روم میں۔۔۔

مس لیلما پہلے سے ذیادہ کافی اسٹرانگ اور پرکشش ہو گئی ہیں آپ؟

میٹینگ روم میں لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے فرقان نے کہا تھا۔

شکریہ مسٹر فرقان ویسے کم آپ بھی نہیں۔

ایک نظر ساتھ والی کرسی پہ بیٹھے ہاشم کو دیکھ انہوں نے سامنے کھڑے فرقان سے کہا ۔۔

ہاشم غصے اور ضبط سے بیٹھا اپنی لبوں کو بھینچے موبائل میں جھکا ہوا تھا چہرا لال سرخ ہو رہا تھا تیش کے باعث رگیں تن سی گئی تھیں۔

لیلما سیریسلی! آپ بہت ٹیلنٹڈ ہیں۔۔

آپ کی بات کرنے میں ایک کشش ہے ،جو سننے والے کو جکڑ لیتا ہے وہ مجبور ہو جاتا ہے آپ کی جانب متوجہ ہونے پر اور۔۔۔۔۔

فرقان آگے کی بات مکمل نہ کر سکا تھا جیسے کی کچھ گرنے کی آواز آئی تھی ان دونوں کی نظریں وہاں گئی تھیں جہاں ہاشم اپنی نشست سے کھڑا ہو چکا تھا اور کانچ کا گلاس نیچے چکنا چور ہوا پڑا تھا ان کے رشتے کی مانند۔۔۔۔

فرقان ملک ! میٹنگ ختم ہو چکی ہے اسلئے بہتر ہو گا آپ گھر بجائے کسی کی بیوی پر کمنٹری کرنے کے۔۔۔

مسٹر ہاشم !

Have you gone your insenses???

آپ میرے بزنس پاٹنر سے اس طرح سے بات نہیں کر سکتے۔۔

لیلما ہاشم کی بدتمیزی پر چیخ کر بولی تھی۔

فرقان ہاشم کی اس عزت افزائی پر خون کے گھونٹ پیتے لیلما کو الوداع کہتا جا چکا تھا۔۔۔

کرنے کو تو میں بہت کچھ کر سکتا ہوں وائفی آپ مجھے بہت اچھے سے جانتی ہیں۔۔

باہر جاتے فرقان پر ایک نظر ڈالے سامنے کھڑی لیلما سے کہا :

مگر کیا ہے نا؛ میں یہاں کوئی تماشا نہیں چاہتا جس سے میرے آفس کی ریپوٹیشن خراب ہو۔۔

دائیں ہاتھ کا مکا بنا کر انہوں نے کانفرنس ٹیبل پر مارا تھا۔

یہ میرا آفس ہے، یہاں پر ہر کام میری مرضی سے ہو گا سنا آپ نے۔۔۔

ان کو انہیں کے انداز میں جواب دیا۔۔

او۔۔مسسز یہ مت بھولیں کہ یہاں کی اونر آپ کو میں نے ہی بنایا ہے چاہوں تو یہ اتھورٹی واپس بھی لے سکتا ہوں۔۔

نرمی سے انہیں اپنے قریب کرتے ، چہرے پر رقص کرتی اس آوارہ زلف کو نرمی سے پیچھے کیا تھا۔،جو ان کے چاند سے چہرے بوسہ لے رہی تھی۔۔

مسٹر ہسبنڈ اگر آپ بھول رہے ہوں تو میں یاد کروادوں۔۔

کہ یہاں کی پاور اوف اٹارنی میرے پاس ہے۔۔

دوسری چیز یہ شیئرز آپ نے حق مہر میں دیے تھے مجھے اور حق مہر میں دی گئی چیز واپس نہیں لی جاتی۔۔

ہاہاہا! مسسز تمہاری لائف ، تمہاری روح اور دھڑکنوں کی پاور اوف اٹارنی اب بھی میرے پاس ہے۔۔

اپنی بات کے ساتھ ہی وہ ان کی دھڑکنوں ان کے جذبات کو خود میں اس طرح سے قید کر گئے تھے کہ وہ ان کی گرفت میں بن پانی کے مچھلی کی طرح تڑپی تھیں۔۔

آئندہ مجھے یہ چیز مت جتائیے گا۔۔۔

کیونکہ آپ ، آپ کی سانسیں آپ کی روح سب میرے اختیار میں آج بھی ہے۔۔

م۔۔میں ی۔۔یہ اختیار آ۔۔آپ سے بہت جلد ہی چھین لوں گی آپ صرف دیکھتے رہ جائیں گے اور کچھ کر بھی نہ۔۔نہیں سکیں گے۔۔

اپنی سانسوں کو ہموار کرتے وہ اٹک اٹک کر بولی تھی۔۔

وائفی۔۔آپ ایسا چاہ کر بھی نہیں کر سکتی ہیں۔۔

کیونکہ آپ کی آنکھیں کہتی ہیں آپ آج بھی مجھ سے محبت کرتی ہیں۔۔

ان نیلی سحر زرہ آنکھوں میں دیکھتے انہوں نے غرور سے کہا تھا۔

یہ آپ کی آنکھوں کا دھوکہ ہاشم ، مجھے آپ سے محبت نہیں ہے۔۔

ڈئیر ضدی وائفی۔۔آپ کا یہ غرور میں بہت جلدی توڑوں گا اور آپ کو یہ یقین کروانے پر مجبور مر دوں گا کہ آپ آج بھی ہاشم یزدانی کی ہیں۔۔

پیچھے رکھی کرسی پر دھکا دیا تھا انہیں اور وہاں سے جا چکے تھے۔۔

لیلما اپنا سر ٹیبل سے ٹکائے رونے لگی تھی۔۔

یہ شخص جب بھی اس سے ملتا تھا ہمیشہ کوئی نہ کوئی تکلیف دے جاتا تھا۔۔

کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی

اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی

°°°°

خدا نے تجھے ملا دیا مجھ سے

نصیبوں نے کیوں جدا کیا مجھ سے

یوں تیرے بنا جینا پڑا مجھ کو

یوں تیرے بنا جینا پڑا مجھ کو

ہاشم آپ مجھے بلو رنگ میں بہت پیارے لگتے ہیں۔

ان کے گلے میں لال رنگ کی ٹائی پہناتے ہوئے کہا جو کہ اسکائے بلو رنگ کی شرٹ پر بہت جچ رہی تھی۔۔

سچی مسسز queen ؟

لیلما کے گرد حصار بنایا تھا ان نے۔۔۔

مچی !!!! مائے کنگ۔۔۔

ماتھے پر پھیلے ان کے بالوں کو پیچھے کیا تھا۔

ساتھ ہی رکھا کوٹ اٹھا کر پہنایا تھا انہیں جبکہ ہاشم محبت بھری نظروں سے اپنی جان کو دیکھ رہے تھے۔۔

ساتھ بھی رہتے اگر رہتے بھلا ہم ایسے کس طرح

خواب میں ملنا تیرا پھر خواب میں ہی کھو جانا تیرا۔۔۔

ہاشم یہ کیا آپ نے اتنا عجیب رنگ پہن لیا ہے؟

کومل نے اس کو بلو رنگ کے سوٹ میں دیکھ کر کہا تھا جو کہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑا نجانے کن سوچوں میں تھا۔۔

کومل کی آواز سے سوچوں کے محور سے باہر نکلتے ان کی جانب دیکھا جہاں لیلما نہیں بلکہ ان کی دوسری بیوی کھڑی تھی۔

ٹھیک تو ہے۔

ہاتھوں میں کھڑی پہنتے انہوں نے والٹ اٹھا کر پوکٹ میں رکھا تھا۔۔

اچھا نہیں لگ رہا۔۔

الماری سے گرے کوٹ لا کر ان کے ہاتھوں میں تھمایا تھا جسے سرد آ خارج کیے انہوں نے تاسف میں سر ہلاتے پہن لیا تھا اس نیلے کوٹ کو اتارے۔۔

آج پھر پہلی بیوی کی خواہش اس کی پسند کو دھوکہ دیا تھا صرف دوسری بیوی کے لئے۔۔

^°°°°

ہاشم کسی کام کے تحت ریسٹورنٹ آیا تھا۔۔”کام مکمل ہونے پر وہ جا ہی رہا تھا کہ اس کی نظر ایک ٹیبل پر بیٹھے فرقان اور لیلما پر گئی تھیں۔۔”آنکھوں کی پتلیوں میں یکدم ہی جلن و غصہ نمایاں ہوا تھا۔۔

آج بھی وہی کلفٹن کی سائڈ کا وہی ہوٹل تھا۔۔

جہاں کچھ سال پہلے ہاشم خود بھی آیا تھا اپنی دوسری بیوی کے ساتھ۔۔

آج بھی فرد وہی تھے۔

بس فرق اتنا تھا کہ جگہ بدل چکی تھیں۔۔

کچھ عرصہ پہلے جس جگہ پر وہ بیٹھا ہوا تھا آج اس مقام پر اس کی پہلی بیوی موجود تھی کسی غیر کے ساتھ۔۔

اور اپنی بیوی کی جگہ آج وہ خود موجود تھا۔۔

آج اسے اندازا ہو رہا تھا اس چیز کا، کہ جب اپنی عزت کو یوں کسی اور کے ساتھ ہنستے ، مسکراتے ہوٹلنگ کرتے دیکھا جائے تو دل پر کیا بیتتی ہے۔

وہ بنا کچھ سوچے ماتھوں پر بلوں کے جال سجائے لمحوں کے ہزارویں حصے میں ان تک پہنچا تھا۔۔

تمہیں منع کیا تھا نا ؟ ،”دور رہنا میری بیوی سے ۔۔۔سمجھ نہیں آتی تمہیں۔۔؟

بنا لحاظ کیے اس نے فرقان کے گریبان سے تھام کر اسے اپنے روبرو کیا تھا جبکہ وہ دونوں ہی اس آفت پر دنگ رہ گئے تھے۔۔

یہ کیا بدتمیزی ہے؟ ہاشم !!

چھوڑیں ان کے کالر۔۔۔

ہوش سنبھالتے ہی لیلما تڑخ کر بولی تھیں۔۔

خاموش لیلما!

بالکل خاموش۔۔۔

آپ کو کچھ کہہ نہیں رہا , ہر بات خاموشی سے برداشت کر رہا ہوں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اب غیروں کے ساتھ جن کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے،ان کے ساتھ باہر ہوٹلنگ کریں گی۔۔۔

جھٹکے سے فرقان کے کالر کو چھوڑا تھا جبکہ وہ حیرانی سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔۔

ہاشم تم غ۔۔غلط۔۔۔

شٹ اپ۔۔۔۔!!! فرقان کی بات کو بیچ میں ہی کاٹ گیا تھا وہ۔۔۔

وہ کچھ کہنے والا تھا لیکن لیلما کی نظروں کی تنقید سمجھتا ” جن میں خاموش رہنے کی تاکید تھی” ۔۔۔

وہ خاموشی سے وہاں سے واک آوٹ کر گیا تھا باہر۔۔۔

ہاشم یزدانی ! مجھ سے میری لائف سے دور رہیں۔۔

میں جو کر رہی جیسا کر رہی ہوں ، اس سے آپ کو کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے۔۔۔

بہتر ہو گا اپنی لائف پر غور کریں۔۔

چٹخ کر کہتی وہ اپنا پرس اور فون ٹیبل سے اٹھائے باہر جا چکی تھیں۔۔۔

چاہتوں کے دھوکے میں زندگی گزاری

دھوپ چھاؤں جیسی ہے ہر گھڑی ہماری

ہاشم بھی پیچھے ایک نظر ہوٹل کے ہجوم پر ڈالے وہاں سے نکل چکا تھا۔۔۔۔

رش ڈرائیونگ کرتے وہ سیدھا گھر آئے تھے جہاں کومل ہمیشہ کی طرح تیار انہیں کے لئے کھڑی تھی لیکن انہیں بھی اگنور کر دیا تھا آج ہاشم نے۔۔

ہاشم کیا ہوا آپ کو؟

اس کے چہرے پر چھائے سرد تاثرات کو دیکھتے کہا تھا کومل نے۔۔۔

کومل آج مجھے اکیلا چھوڑ دو پلیز۔۔۔

گیسٹ روم کی جانب قدم بڑھاتے کہا تھا اس نے۔۔۔

پر آپ وہاں کیوں جا رہے ہیں؟

کچھ غلطی ہوئی ہے مجھ سے؟

یا ناراض ہیں آپ؟

ان کے ہاتھوں کو تھاما تھا اپنے ہاتھوں میں۔۔۔

کومل۔۔۔فور گوڈ سیک۔۔۔

جسٹ لیو می آلون۔۔!!!

بندے سکون سے دو پل بھی اکیلے نہیں گزار سکتا۔۔۔

محمول سے ہٹ کر آج پہلی بار چیخے تھے کومل پر ۔۔۔

ان کے منہ پر دروازا بند کر دیا تھا ہاشم نے جبکہ اپنے آنسوں کو روکتی وہ کمرے میں چلی گئی تھی۔۔

°°°°°

مما ہم کہاں جا رہے ہیں؟

گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تحریم نے کار ڈرائیو کرتی اپنی ماں سے پوچھا تھا۔۔۔

ہم شاپنگ کرنے جا رہے ہیں ، پھر اسکے بعد ہم واٹر پارک جائیں گے۔۔۔

واؤ!! واٹر پارک۔۔”ایم سو ایکسائٹڈ”..

وہ خوشی سے چہکتے ہوئے بولی تھی کہ لیلما بھی ہنس پڑی تھی اس کی ہنسی کے ساتھ۔۔

۔۔۔۔۔

ڈھیر ساری شاپنگ کرنے کے بعد اب وہ واٹر پارک پہنچے تھے ۔۔

تحریم ایکسائمنڈ کی وجہ بھاگتے ہوئے کار سے نکلی تھی۔۔۔۔

ماما واو اٹس سو امیزنگ!!!

وہ حیران کیسس کوئی واٹر پارک کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

وہ دونوں ماں بیٹی سامان تھامیں اندر کی جانب بڑھیں۔۔۔۔۔

تحریم خوش تھی پہلی بار اپنی ماں کے ساتھ باہر گھومنے آنے پر جب کہ لیلما خوش تھی اپنی بیٹی کے چہرے پر چھائے خوشی کے رنگوں کو دیکھ ۔۔۔۔

بے شک اپنی مشکل زدہ زندگی میں وہ مکمل طور پر اپنی بچی کو وقت دے نہ پائی تھی ، مگر اب وہ تمام لمحات اپنی بیٹی کے ساتھ گزارنا چاہتی تھی۔۔۔

تحریم گڑیا آپ یہاں بیٹھو میں ابھی آتی ہوں

اوکے ماما

تحریم آس پاس کھیلتے بچوں کو دیکھ رہی تھی جو کہ اپنے پیرنٹس کے ساتھ انجوائے کر رہے تھے۔۔۔۔

اگر ڈیڈ بھی یہاں ہوتے تو کتنا مزہ آتا ۔۔

سامنے موجود ایک لڑکی کو اس کے باپ کے ساتھ کھیلتے دیکھا اس کے دل میں ایک خواہش سی جاگی تھی۔۔۔

فاطمہ آپ کھیلو میں ایک کال سن کر آتا ہوں۔۔

ہاشم فون سننے کے لیے سائیڈ پر گیا تھا جب کہ فاطمہ بال سے کھیلنے لگی تھی کہ اس کی نظر خود کو حسرت سے تکتی تحریم پر ہے ایک شرارت سے اس کے دل میں جاگی تھی تبھی زور سے بولتے حریم کی تھینک یو تھی جو کسی تحریم کو لگی تھی جس کے باعث اس کے ہاتھ میں موجود ڈال سیدھا پول میں جا گری۔۔۔۔۔

میری ڈول۔۔۔۔۔۔

گڑیا کو پول میں گرتے دیکھو تحریم چیخی تھی اور شرارتی ہنسی ہستی فاطمہ کو دیکھ پاس پڑی اس کی بال اٹھا کر غصے پول میں ہی پھینک دی ۔۔۔۔

تم نے میری بال کیوں پھینکی ہیں؟؟

فاطمہ اب غصے میں آئی تھی۔۔۔۔

کیونکہ تم نے میری ڈول کو اٹھا کر پول میں پھینک دیا۔۔۔

میں نے تمہاری ڈول نہیں پھینکی بلکہ وہ خود تم سے گری تھی۔۔۔

تم نے مجھے بال ہٹ کی جس کی وجہ سے ڈول گر گئی ۔۔۔

م۔۔میری بال نکال کر دو۔۔۔

تحریم اور فاطمہ کی لڑائی ہو گئی تھی صرف اس بے جان ڈال پر۔۔۔ فاطمہ نے لڑائی میں دھکا لگا تھا اسلئے وہ دونوں سیدھا پول میں جا گری تھیں۔۔۔

لیلما۔۔۔کسی سے بات کرتی لیلما…..

فون میں مصروفِ ہاشم دونوں یکدم پلٹے تھے ان دونوں کی چیخ پر۔۔۔

بنا ایک دوسرے کی جانب دیکھے دونوں نے ہی چھلانگ لگائی تھی پل میں۔۔۔

اپنی اپنی بیٹیوں کی جان بچانے کو۔۔۔۔

میری بچی۔۔۔

اس کو ہاتھوں میں لئے باہر آئی تھی وہ۔۔۔

تحریم خوف کے باعث ہولے ہولے کانپ رہی تھی۔۔

یہ سب اچانک جو ہوا تھا اس کا ذہن قبول کرنے سے قاصر تھا۔۔۔

جبکہ اطراف کے لوگ شاک تھے اس الجھن پر۔

آپ نے اپنی بچی کو تمیز نہیں سیکھائی؟

جب سلیقہ نہیں تو لے کر کیوں آتے ہیں ۔۔۔۔

عقب سے آتی غصے بھری آواز پر پلٹی تھی ۔۔۔۔

اپنی حد میں رہیے آپ !!!

ہمت کیسے ہوئی میری بیٹی کے لئے ایسے لفظ استعمال کرنے کی؟اس کو پوائنٹ آوٹ کرنے کی، جبکہ غلطی خود آپ کی بیٹی کی ہے۔۔۔

ہاشم تو لیلما کو یہاں دیکھ کر حیران تھا اور دوسرا اس کا لفظ بیٹی کہنا اس کو مزید حیران کر گیا تھا۔۔۔

ب۔۔بیٹی؟؟

جی الحمدللہ !!!!

لیلما ! غرور و غصے میں کہتی تحریم کا ہاتھ تھامے کورنر میں لے جا چکی تھیں جبکہ ہاشم کا دماغ ابھی تک لفظ بیٹی پر اٹکا تھا۔۔۔

ی۔۔۔یہ پہنو۔۔۔

لیلما کی پناہوں میں چھپی اس بچی پر ایک نظر ڈالے جیکٹ تھمایا تھا اس کو۔۔۔

بہت شکریہ۔۔۔مگر اس کھوکھلی پرواہ اور چیز کی ضرورت نہیں۔۔۔

نخوت سے کہتی وہ کوٹ واپس تھما گئی تھی اسے۔۔۔۔

ڈ۔۔۔ڈیڈ۔۔۔۔۔۔

فاطمہ کی روہانسی آواز سن ہوش میں آیا تھا ہاشم۔۔۔

جس نے روتے ہوئے اب گھر جانے کا کہا تھا۔۔۔

وہ بھی غائب دماغی سے اس کا ہاتھ تھامے گھر کی جانب ہو لیا تھا۔۔۔۔

قسمت ہر موڑ پر لیلما کو اس سے ملا کر اس کی ، کی گئی خطاؤں کا احساس دلاتی تھی۔۔۔۔