Khwaab Reza Reza by Sara Arooj NovelR50481 Khwaab Reza Reza Episode 3 (Last Episode Part 1)
No Download Link
Rate this Novel
Khwaab Reza Reza Episode 3 (Last Episode Part 1)
Khwaab Reza Reza by Sara Arooj
“پھولوں اور لائٹوں سے سجا وہ خوبصورت ہال”…
“ہال کے کارنر پر رکھے گئے ٹیبلز اور چئیر جن پر لوگوں کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا”…
“ہال کے بائیں جانب لگایا گیا بڑا سا ٹیبل جس میں لوگوں کی ریفریشمنٹ کا سامان موجود تھا”…
“وہاں چلتا ہلکا ہلکا میوزک ،” بہت خوبصورتی بخش رہا تھا ماحول کو”…
“کچھ لوگ ہاتھوں میں جوس تھامے ایک دوسرے سے باتوں میں مصروف تھے”…”تو کوئی اس ماحول کو انجوائے کرنے میں”….
“جب کہ ہاشم یزدانی اپنی بیوی کومل کے ساتھ ڈانس کرتے ہوئے طائرانہ نظریں پورے ہال کی ڈیکوریشن پر دوڑا رہا تھا کہ اپنے ساتھ ڈانس کرتے کپل پر نظریں جم سی گئی تھیں”….
“جہاں فرقان و لیلما بھی بہت ہی خوبصورت انداز میں ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ڈانس کر رہے تھے”…..
تیرہ سامنے آ جانے سے
یہ دل میرا دھڑکا ہیں
یہ غلطی نہیں ہیں تیری
قصور نظر کا ہیں
“ہاشم”…!!
“اسکی نظروں کا زوایہ کہیں اور محسوس کیے ، “کومل نے پکارا تھا ہاشم کو”..
جس بات کا تجھکو در ہیں
وہ کرکے دکھا دونگا…
“لیکن وہ اسے سن ہی کہاں رہا تھا”…
“اسکی نظروں کا زاویہ صرف ان دونوں کی جانب اٹکا ہوا تھا جہاں اب فرقان لیلما کو گول گھوماتے اپنے قریب کر چکا تھا”…
ایسے نا مجھے تم دیکھو
سینے سے لگا لونگا
تمکو میں چرا لونگا تمسے
دل میں چھپا لونگا
“لیلما نے ایک جیتاتی نظر ہاشم کے وجود پر ڈالی تھی”….
“جبکہ اب ہاشم نے بھی کومل کو گھوماتے اپنے قریب کیے لیلما کو تپانا
چاہا تھا لیکن وہاں پر سکون تھا شائد وہ اس کی جانب زیادہ توجہ ہی نہیں دے رہی تھی”…
تمسے پہلے، تمسا کوئی
ہمنے نہیں دیکھا
تمسے پہلے، تمسا کوئی
ہمنے نہیں دیکھا
“فرقان نے لیلما کے دونوں ہاتھوں کو اپنے کاندھے کے گرد لپیٹا تھا اور اس کے چہرے پر اڑتی زلفوں کو کان کے پیچھے اڑستے مسکراتے ہوئے اس کی جانب دیکھا تھا”….
تمہے دیکھتے ہی
مر جائینگے
یہ نہیں تھا سوچا
باہوں میں تیری، میری
یہ رات ٹھہر جائے
تجھمیں ہی کہیں پے میری
صبح بھی گزر جائے
“ڈانس فلور پر کپل پاٹنر گھوما کر چینج کرنے پر فرقان کے پاس کومل اور ہاشم کے پاس لیلما آئی تھی”…
“لیلما نے اپنی آنکھیں مخمور اٹھائے دیکھا تو اس کے ہاتھ ہاشم کے سینے پر ٹکے ہوئے تھے”…
“وہ آنکھوں میں ناگواریت ظاہر کیے جانے لگی تھی کہ ہاشم نے اس کو واپس اپنی جانب کھینچا تھا”….
باہوں میں تیری، میری
یہ رات ٹھہر جائے
تجھمیں ہی کہیں پے میری
صبح بھی گزر جائے
“کیا ہوا وائفی”…
“کسی غیر کی بانہوں میں تو بہت خوشی خوشی ڈانس کیا جا رہا تھا”..!
“میرے پاس آنا اچھا نہیں لگا”…
“اس کی کمر پر گرفت سخت بنائے بظاہر وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا لیکن دل اندر سے اسکا کسی راکھ کی مانند جل کر انگارا ہو رہا تھا”…
“وہ کوئی غیر نہیں ان شاءاللہ میرا ہونے والا شوہر ہے”….
“اس نے بھی مسکرا کر ٹھنڈے ٹھار لہجے میں جتایا تھا”…
“لیکن اس کا یہی لہجہ ہاشم یزدانی کی آنکھوں میں غصہ بھڑکا گیا تھا”….
“ام پوسیبل”…( ناممکن)..
“تم صرف ہاشم یزدانی کی ہو”…اور رہو گی”…
“اس بات کی گواہ اس کائنات کی ہر شئے ہے”…
“اور کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ تمہیں مجھ سے دور کر سکیں “…
“تم خود بھی نہیں”….
جس بات کا تجھکو در ہیں
وہ کر کے دکھا دونگا…
“اتنا عرصہ بہت ریلیف دے دیا اب شرافت سے واپس آ نے کی تیاری کرو “…
“ورنہ جو میں کروں گا”.
“وہ تمہیں پسند نہیں آئے اور تم جانتی ہو”…
“ہاشم یزدانی اپنی بات کا پکا ہے”…..
“اس کے کان کے قریب جھکے وہ تقریباً غرانے کے انداز میں بولا تھا”….
ایسے نا مجھے تم دیکھو
سینے سے لگا لونگا
تمکو میں چرا لونگا تمسے
دل میں چھپا لونگا
“اگر آپ اپنی بات کے پکے میں تو میں بھی پکی ہوں اپنی زبان کی”…
“کر لیں جو کرنا ہے”….
“لا کر دیکھا دیں مجھے واپس اپنی زندگی میں “….
“اس کی آنکھوں میں دیکھ وہ چیلنج سے بولی تھی”…
“اور ڈانس فلور چھوڑے باہر کی جانب بڑھ گئی تھی “…..
©©©
“مما “…
“آپ مجھے ڈیڈ سے کب ملائیں گی”…؟؟؟
“اب تو ہم گھر بھی آ گئے ہیں”….
“مگر ڈیڈ ابھی تک نہیں آئے”….
“بستر پر لیٹی لیلما سے سوال کیا تھا اس کی بیٹی تحریم نے”….
“بیٹا “…ان شاءاللہ بہت جلد “آپ کے ڈیڈ آپ سے ملیں گے”…
“جہاں اتنا ویٹ کیا وہاں تھوڑا سا اور کر لیں”….
“پیار سے اسکے گالوں کو سہلاتے بولی تھیں”…
“یہ لیں مما”….
“تحریم نے لیلما کا فون سائڈ ٹیبل سے اٹھائے اسکی جانب کیا تھا “…
“جسے سوالیہ نظروں سے دیکھ اسے تھاما تھا”….
“ہم ڈیڈ کو فون کر لیتے ہیں”….
“وہ خوشی سے بولی تھی لیکن اس کی اِس بات پر لیلما کی مسکان غائب ہوئی تھی”…
“بیٹا مگ۔۔مگر”…جہاں آپ کے ڈیڈ کام کرتے ہیں وہاں فون آلاو نہیں”…
“اپنے بدلتے تاثرات پر قابو پائے کہا تھا”..
“اٹس ناٹ فئیر”…
“وہ منہ پھلائے بیٹھ گئی تھی”….
“آپ نے آج تک ڈیڈ کی فوٹو بھی نہیں دیکھائی”….
“فوٹو کا کیا کریں گی آپ دیکھ کر جب ڈیڈ ہی آپ سے ملنے آئیں گے”..
“بہت ہی پیار سے تحریم کو اپنی گود میں لیٹایا تھا “…
“چلیں اب سو جائیں آپ”…
“شاباش”…
“لائٹ اوف کیے اس کے سر کو تھپکنے لگی تھیں”…کچھ ہی دیر میں وہ نیند کی وادیوں میں کھو گئی تھی لیکن اپنی ماں کی نیند اڑھا گئی تھی”…
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
“ہاشم “… آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی”….!
“میرا اور میری بیٹی کا حق ان کو دے رہے ہیں”….
“جو آپ کے اپنے بھی نہیں”…..
“آج اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ اپنی ہی بیٹی سے جھوٹ بولنا پڑ رہا ہے”…
“اذیت سے سوچتی وہ سر کو پیچھے بیڈ سے ٹکائے وہ آنکھیں موند چکی تھی”…
©©©
وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی میرے ہر جائی کی
“مس لیلما “…
دس از فار یو”…..
“اس کی تازہ تازہ خوشبو کو سونگھیں اور طبعیت تر و تازہ کریں”…
“خوبصورت گلاب کے پھولوں کا بوکے اس کی جانب بڑھاتے فرقان نے کہا تھا”…..
“”””””””” “”””””””””””
“ہاشم “….؟؟؟
“لیلما گھبرا کر پلٹی تھی جب اپنے بالوں میں کسی کے ہاتھوں کا لمس محسوس ہوا تھا”…
“آپ نے تو ڈرا ہی دیا”…
“دل پر ہاتھ رکھتی وہ گہرا سانس لیے بولی تھی”…
“اس میں ڈرنے والی کیا بات ہے،” وائفی”….؟؟؟
“بالوں میں پھول ہی تو لگا رہا ہوں”…
“ہاہاہاہا”…ہاشم ڈونٹ مائنڈ “…
“مجھے ایسا فیل ہوا جیسے میرے بالوں میں چھپکلی چڑ گئی ہو”….
“او “…اٹا ناٹ فئیر جانِ من”….
“لیلما کو محبت سے اپنے بازوں کے حصار میں لیا تھا”….
“میرے محبت سے لائے گئے پھولوں کو آپ چھپکلی سے تشبیہ دے رہی ہیں”….؟؟؟؟؟
“نہیں مائے ڈئیر ہسبینڈ”…
“میں ان محبت سے لائے پھولوں کو نہیں”…
“بلکہ ان ہاتھوں کو چھپکلی بول رہی ہوں”…
“جن نے مجھے ڈرا دیا”….
“چہرے پر مسکان جبکہ آنکھوں میں مصنوعی سنجیدگی لئے کہا تھا”…
“اور کہتے ساتھ اس کا حصار توڑ بھاگی تھی”…..
“رکو زرا ابھی بتاتا ہوں”…
“مصنوعی غصہ ظاہر لیلما کے ہی پیچھے بھاگا تھا”…
“وہ آگے آگے جبکہ ہاشم پیچھے پیچھے پورا گھر ہی ان دونوں کے قہقہوں اور محبتوں سے گونج رہا تھا”…
“جہاں صرف سکون , محبت ، اطمینان ، پیار اور ڈھیروں خوشیاں تھیں”…..
“آخر ہاتھ بڑھائے پھرتی سے ہاشم نے واپس سے لیلما کو اپنی گرفت میں لیا تھا اب کے گرفت تھوڑی مضبوط تھی”…
“اب بتاو کہاں جاو گی بھاگ کر “…؟؟؟
“ہاہاہاہا”…ویٹ “… سانس لینے دیں”…
“بھاگتے ہوئے تقریباً دونوں کے ہی سانس پھول چکے تھے”….
“اچھا ہاشم “..یہ بتائیں روزانہ یہ پھول کیوں لے آتے ہیں”…؟؟؟
“مطلب نکاح نامے پر کوئی ایسا قانون تو نہیں درج تھا”…؟؟؟
“یہ پھول محبتوں کی نشانی ہوتے ہیں”…
“اور تم تو میری ملکہ ہو ، ” اس گھر کی پری”…
“اور میں اپنی پری ، ملکہ کے سر پر پھولوں کا تاج چاہتا ہوں”…
“یہ ہر وقت تمہارے سر پر سجے رہیں اس سے مجھے خوشی ہوتی ہے”…
“لیلما”………..
“فرقان کی پکار پر ہوش میں آئی تھی”…
“کیا ہوا رو کیوں رہی ہیں”…؟؟؟؟
“و۔۔وہ کچھ نہیں”…سائڈ پر چہرا کیے آنسوؤں کو صاف کیا تھا”….
“ماضی کی یادوں میں کھوئے کب اس کی آنکھوں سے آنسوں بہہ نکلے اس کو معلوم ہی نہ ہوا”….
“کیا آپ کو میرا یہ پھول دینا پسند نہیں آیا “….؟؟؟؟
“نہیں”..ایسا نہیں ہے”….
“وہ چئیر پر واپس بیٹھتے ہوئے بولی تھی”….
اچھا”….
” یہاں آتے ہوئے راستے میں یہ پھول دیکھائی دیے،”…
“انہیں دیکھتے پہلا خیال آپ ہی کا آیا اسلئے آپ کے لئے لایا ہوں”….
“اگر کسی اور کا خیال آتا تو اس کے لئے لیتے”..؟؟
“فائل ایک جانب رکھے ہنستے ہوئے بولی”…
“نہیں اب ایسا بھی نہیں”…
“وہ خجل سا ہوا تھا”….
“آپ صرف پھول دینے آئے تھے یا کوئی اور کام بھی تھا”…؟؟؟؟
“اس کی آنکھوں میں دیکھ وہ تھوڑا بے زاریت سے بولی تھی”….
ٔ”دراصل میں پروجیکٹ پر کچھ ڈسکس کرنے آیا تھا”
“مگر آپ کی طبعیت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی اسلئے وہ ڈسکشن ہم کل کر لیں”…
“تھوڑی سنجیدگی سے کہتے وہ روم سے چلا گیا تھا لیلما کو کچھ کہنے کا موقع دیے”….
“جبکہ وہ صرف سرد آہ خارج کرتی رہ گئی “…
“اس کا سر کل سے ہی بہت درد کر رہا تھا”…
“اپنی زندگی کا وہ ایک بہت اہم فیصلہ کرنے جا رہی تھی”…
“وہ فیصلہ جو بہت سمجھ کر کرنا پڑتا ہے لڑکی کو”…..
