Khanpur Ki Maryam by Ayesha Zulfiqar NovelR50519 Khanpur Ki Maryam (Episode 01)
Rate this Novel
Khanpur Ki Maryam (Episode 01)
Khanpur Ki Maryam by Ayesha Zulfiqar
وہ گرمیوں کی ایک انتہائی طوفانی رات تھی
تیز آندھیوں کے جھکڑ اور موسلا دھار بارش…
بادلوں کی دل دہلا دینے والی گھن گرج اور بجلی کی کان پھاڑ دینے والی کڑک…
خان پور کے نواحی گاؤں میں واقع وہ ایک کنال پر مشتمل اچھا خاصا بڑا سا گھر تھا, پلستر شدہ چار عدد کمرے, کمروں سے منسلک واش رومز, بڑا سا باورچی خانہ… البتہ وسیع و عریض صحن ابھی تک کچا تھا جس میں موسلا دھار بارش کا پانی بھرتا جا رہا تھا, ان دونوں میاں, بیوی کی جنگ زوروں پر تھی
“تم ابھی اسی وقت مجھے طلاق دے دو گھٹیا آدمی… میں نے پتہ نہیں تمہارے ساتھ تین سال کیسے گزار لیے ؟” سعدیہ حلق کے بل چلائی تھی
“تجھے نہیں پتہ لیکن مجھے پتہ ہے حرافہ عورت کہ وہ تین سال کیسے گزارے ہیں تو نے… کیونکہ میں نے جھیلا ہے تیرے جیسا جہنمی عذاب… ” شاہد کونسا کم تھا, وہ برآمدے کے ستون کے گرد دونوں ہاتھ باندھے اندر اور باہر دونوں طرف کی گھن گرج سن رہی تھی
“میں جہنمی ہوں تو تم کونسا سورگ واسی ہو, اس دھرتی پر شیطان کا دوسرا روپ ہو تم” سعدیہ نے اپنے کپڑے, جوتے اور دیگر ساز و سامان بیگ میں بھرنا شروع کر دیا
“آج آخری بار دیکھی ہے میں نے تیری کالی شکل… آج کے بعد میرے گھر کی طرف آئی تو ہاتھ پاؤں توڑ دوں گا تیرے… ” شاہد نے اس کا بیگ اٹھا کر باہر پانی بھرے صحن میں پھینکا تھا
“دو مجھے طلاق…” سعدیہ غراتے ہوۓ اس کے پیچھے باہر آ گئی, شاہد نے ایک لمحے میں اس پر تین حرف بھیجے تھے, وہ ستون کے ساتھ کھڑی سہمی ہوئی نظروں سے ان دونوں کی طرف دیکھ رہی تھی
“اپنی بیٹی کو بھی ساتھ لیکر جا… ” شاہد نے اسے بازو سے کھینچ کر سعدیہ کے پیچھے دھکیل دیا
“یہ تمہارا بھی خون ہے خود غرض انسان… ” سعدیہ نے اسے واپس شاہد کی طرف دھکا دے دیا
“میں تیرے باپ کا نوکر نہیں ہوں جو تیری اس پیدا کر دہ نحوست کو سنبھالتا پھروں ” شاہد نے چیخ کر کہا
“تمہارے بنا ہی پیدا نہیں کر دی میں نے یہ نحوست بیہودہ آدمی” سعدیہ نے اپنا بیگ اٹھا کر صحن میں کھڑی گاڑی کی ڈگی میں پھینکا تھا
“میں اسے نہیں رکھوں گا” شاہد نے اسے دوبارہ صحن کی طرف دھکا دیا تھا
“میری بلا سے نہ رکھو” سعدیہ نے نفرت سے کہتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کر دی, وہ بلک بلک کر روتی ہوئی اس کی گاڑی کے پیچھے باہر تک آئی تھی, شاہد نے پیچھے سے زوردار آواز سے دروازہ بند کر دیا
بادل یکدم گرجا تھا, ساتھ ہی بجلی کڑک کر پورا آسمان روشن کر گئی
“ما… ” وہ خوفزدہ ہو کر چیخیں مارتی ہوئی سعدیہ کی گاڑی کے پیچھے بھاگی لیکن وہ فرعون کی فرعونیت کو بھی مات دیتی ہوئی اپنی گاڑی بھگا لے گئی
“با….” وہ الٹے قدموں واپس گھر کی طرف بھاگی لیکن دروازہ بند… مسلسل شاہد کو آوازیں دیتے ہوئے وہ اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے دروازہ بجا رہی تھی
بادل نہ جانے اسی کے غم میں اسقدر رو رہے تھے, بجلی نہ جانے اسی کے دکھ پر اتنی قہر بار تھی, دروازہ بجاتے بجاتے وہ تھک گئی تو دیور کے ساتھ ایک کونے میں سمٹ کر بیٹھ گئی, صبح کے قریب جا کر طوفان کا زور ٹوٹ گیا
کھیتوں پر جانے کے لیے جب شاہد نے گھر کا دروازہ کھولا تو وہ دیوار کے ساتھ گری سو رہی تھی
تین سالہ مریم صدف… معذور, پاگل, ناکارہ…!
……………………………………………………………..
سعدیہ رحیم یار خان کی رہائشی تھی جبکہ شاہد خان پور کا رہنے والا تھا, سعدیہ اپنی پانچ بہنوں میں نہ صرف سب سے خوبصورت تھی بلکہ ذہین بھی تھی, بی اے کرنے کے بعد اس نے اپنے ماں باپ سے ضد کر کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ایم اے پولیٹیکل سائنس میں داخلہ لے لیا, وہاں اس کی ملاقات آصف مرتضیٰ سے ہوئی, وہ سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے بڑے اونچے خاندان سے تعلق رکھتا تھا, سعدیہ اور آصف ایک دوسرے کے قریب آ گئے لیکن… سعدیہ کے ماں باپ نے اس کا ایم اے مکمل ہوتے ہی اس کی شادی شاہد نزیر سے کر دی جو خان پور میں پانچ ایکڑ زمین کا مالک تھا, پہلے دن سے سعدیہ اور شاہد کی آپس میں نہ بنی… آۓ روز لڑائیاں, آۓ روز جھگڑے, دنگا فساد, گالم گلوچ… اور ان کی آپس کی اسی پیکار کے دوران مریم اس دنیا میں آ گئی
پہلے دن سے وہ ان دونوں کے لیے رحمت کی بجاۓ نحوست تھی, سعدیہ نے کبھی دل سے اسے اپنی اولاد تسلیم نہیں کیا, کبھی اسے پیار سے گود میں نہیں اٹھایا, کبھی محبت سے اس کا ماتھا نہیں چوما, بس ہر وقت اس سے بیزار ہوئی رہتی, یہ ہی حال شاہد کا تھا, اسے تو شائد اپنی بیٹی کا نام بھی نہیں پتہ تھا, مریم دو سال کی ہوئی تو آصف دوبارہ سعدیہ کی زندگی میں چلا آیا, اس نے اپنے باپ کی سیٹ پر ایم این اے کا الیکشن لڑا تھا اور جیت گیا تھا, اس نے شادی شدہ اور ایک بیٹے کا باپ ہونے کے باوجود سعدیہ کو پروپوز کر دیا, سعدیہ تو پہلے ہی ناک تک بھری بیٹھی تھی, اس نے مریم سمیت ہر چیز کو ٹھوکر ماری اور اس طوفانی رات میں شاہد سے طلاق لیکر آصف کے پاس چلی آئی, عدت ختم ہوتے ہی ان دونوں نے شادی کر لی
شاہد نے کچھ دن تو مریم کو جھیلا پھر اسے اس کی نانی کے پاس چھوڑ گیا, چند دن بعد نانی چل بسی اور سعدیہ کے اکلوتے بھائی نے اسے واپس خان پور بھجوا دیا, جب تک شاہد کی ماں زندہ رہی, مریم کو جیسے تیسے سنبھالتی رہی اور جب لب دم ہو گئی تو شاہد کی دوسری شادی کر کے مریم کو اس کی دوسری بیوی کی گود میں ڈال کر خود موت کی نیند سو گئی, شاہد کی دوسری بیوی کا نام صائمہ تھا اور وہ سعدیہ سے بھی چار ہاتھ آگے تھی, وہ بھلا کیوں سنبھالتی اپنی گود میں پڑا ایک معذور اور ناکارہ وجود… ؟ اس نے کبھی مریم سے گالی اور تھپڑ کے بغیر بات نہیں کی, ہفتوں تک وہ اس کے کپڑے نہیں بدلتی تھی, اوپر تلے اس کے اپنے تین بچے ہو گئے تو اس کی توجہ مریم پر سے بالکل ہی ختم ہو گئی, وہ صبح آنکھ کھلنے سے لیکر رات کی سیاہی پھیلنے تک گاؤں کی کچی, ڈھول اڑتی گلیوں میں آوارہ گردی کرتی رہتی, گاؤں کے بچے اسے تنگ کرتے, گالیاں دیتے, اس کے سر میں مٹی ڈالتے, اس کے ساتھ مار پیٹ کرتے لیکن… شاہد نے کبھی دھیان نہ دیا, وہ ذرا بڑی ہوئی تو اسے چوری کی عادت بھی پڑ گئی, شاہد کو آۓ روز اس کی شکایتیں ملتیں اور وہ اسے روئی کی طرح دھنک کر رکھ دیتا, اس کے چہرے اور جسم پر زخموں کے نشان دائمی ہوتے چلے گئے, شاہد کی ماریں کھا کھا کر وہ ڈھیٹ ہو گئی, عمر کے دسویں سال کو پہنچی تو اس نے اپنی ماں کی طرح قد بت نکالنا شروع کر دیا, حسین سے حسین تر ہوتی چلی گئی, شاہد اور صائمہ کی مصیبتوں میں اور اضافہ ہو گیا, آۓ روز وہ اسے کسی نہ کسی کے چنگل سے چھڑوا کر لاتا, آۓ روز وہ کہیں نہ کہیں سے بنا دوپٹے کے ننگے سر برآمد ہو رہی ہوتی, آۓ روز اس کی قمیضوں کے بٹن ٹوٹے ہوئے ملتے, صائمہ کبھی اس کی قمیضوں کے گلے اور گھیرے آگے سے رفو کرتی اور کبھی پیچھے سے, بہت بار شاہد نے اس کے پاؤں میں لوہے کی زنجیر ڈالی لیکن بے سود… ٹخنوں پر سے گوشت چھل جاتا اور خون رسنے لگتا… اور وہ رو رو کر پورا گھر سر پر اٹھا لیتی تھی
…………………………………………………………….
وہ گرمیوں کی ایک چلچلاتی ہوئی دوپہر تھی, گرم لو کے تھپیڑے چہروں کو جھلسا رہے تھے, آموں کا موسم اپنے عروج پر تھا اور پیلے پیلے آموں سے لدے بلند و بالا درختوں کی چھاؤں کسی جنت کی طرح تھی, بڑی مشکلوں سے اس نے پتھر اور لکڑیاں مار مار کے ایک بڑا سا پیلا آم نیچے گرایا اور اسے لیکر کھالے کی طرف آ گئی, پہلے تو اسے کھالے کے ٹھنڈے ٹھار پانی سے دھویا پھر دونوں ٹانگیں پانی میں لٹکا کر بیٹھ گئی, اس کا سکارف نہ جانے کہاں گر گیا تھا, کھالے کی ایک طرف نوں کے درختوں کی قطاریں تھیں اور دوسری جانب گندم کے وسیع و عریض کھیت تھے جہاں گندم کی کٹائی ہو رہی تھی, ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ کھیتوں سے ایک آدمی اٹھ کر اس کے پاس چلا آیا
“کیا کر رہی ہے ؟” وہ بغور اسے دیکھتے ہوئے بولا, مریم بس زور سے ہنس دی, اس آدمی نے ایک اور آم توڑا اور اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا
“اور لے گی ؟” اس نے مریم کو آم دکھا کر للچایا تھا, وہ فوراً اس کے قریب ہو گئی, وہ آدمی دھیرے دھیرے اس کی کمر پر ہاتھ پھیرنے لگا, مریم پوری طرح آم کھانے میں مگن تھی, کمر سے ہوتے ہوئے اس کے ہاتھ مریم کی گردن تک پہنچ گئے اور اس سے پہلے کہ وہ اپنے انسان ہونے کی آخری حد بھی پھلانگ جاتا, درختوں کے جھنڈ سے شاہد اپنی ریڑھی پر چارہ رکھے نمودار ہوا تھا, اس نے دور سے ہی مریم کو دیکھ لیا تھا
“اوۓ… کیا کر رہا ہے؟” وہ بھاگتا ہوا کھالے کی طرف آیا
“شاہد بھائی… میں تو… ” شاہد کے پے در پے مکوں نے اسے بوکھلا دیا
“کتے, ذلیل… ” شاہد اسے گالیاں دے رہا تھا
“شاہد بھائی اس کی کمر پر بچھو چڑھ گیا تھا, میں تو بس وہ اتار رہا تھا ” وہ آدمی بمشکل اس کے چنگل سے نکل کر کھیتوں کی طرف بھاگ گیا
“اور تو… آوارہ لڑکی” شاہد کے زور دار تھپڑ دے وہ غڑاپ سے کھالے میں گر گئی, بے دریغ اسے دھنکتے ہوۓ وہ گھر لیکر آیا تھا
“صائمہ, صائمہ…” وہ بوکھلا کر آندرے نکلی
“میرے منہ پر کالک مل دے گی یہ ایک دن… باندھ کر نہیں رکھ سکتی اسے” دو, تین صائمہ کے بھی ٹھک گئیں
“میں کیا کروں ؟ کہاں تک اس کمینی کے پیچھے بھاگوں ؟” صائمہ الٹا اس پر برس پڑی
“آئیندہ یہ مجھے باہر نظر آئی تو اس کے ساتھ تیری بھی ٹانگیں توڑ دوں گا” وہ بکتا جھکتا اندر چلا گیا
اور یہ اختتام نہیں تھا, وہ بڑی ہوتی جا رہی تھی اور خوبصورت ہوتی جا رہی تھی
……………………………………………………………..
وہ دسمبر کی ایک دھند آلود خنک سی شام تھی, آسمان پوری طرح دھند اور بادلوں سے گھرا ہوا تھا, صائمہ چولہے کے پاس بیٹھی روٹیاں پکا رہی تھی, اس کا چھوٹا بھائی علی کچھ دنوں کے لئے اس کے پاس رہنے آیا ہوا تھا, علی تین بھائیوں اور پانچ بہنوں میں سب سے چھوٹا تھا, نہ دل لگا کر پڑھائی کی اور نہ کوئی کام دھندا کیا, غلط صحبت میں پڑ کر چوری چکاریوں پر لگ گیا, اس کی وجہ سے آۓ روز پولیس ان کے گھر کے چکر کاٹتی, سو تنگ آ کر دونوں بھائیوں نے اسے نکال باہر کیا
“آپا قسم سے جانوروں جیسا سلوک کرتے ہیں دونوں بھائی میرے ساتھ, خالدہ بھابھی نے پچھلا پورا ہفتہ مجھے روٹی نہیں دی, ایک روپیہ نہیں ہے میری جیب میں ” وہ اپنے دکھڑے رو رہا تھا, صائمہ نے گرم گرم روٹی اور آلو گوشت کا شوربہ اس کے آگے رکھ دیا
“دیکھ علی.. نکھٹوؤں کو کوئی ساری عمر نہیں کھلاتا, اور تو کونسا فرشتہ ہے, اگر اماں سے وعدہ نہ کیا ہوتا تو میں تجھے کبھی یہاں نہ آنے دیتی, اب تیرے پیچھے پولیس یہاں آنا شروع ہو جاۓ گی ” صائمہ نے کہا
“تو آپا جیسے اسلم بھائی اور نواز بھائی نے مجھے گھر سے نکال دیا, ویسے ہی تو بھی نکال دے” علی کو غصہ آ گیا
“علی اس گھر میں تیرا حصہ ہے, کیس کر اور اپنا حصہ مانگ…” صائمہ نے اسے اکسایا
“کیسے کر دوں کیس ؟ شناختی کارڈ تو بنا نہیں ہے ابھی” علی تڑخ گیا
“آجکل کیا کرتا ہے تو ؟” صائمہ نے پوچھا
“لیاقت پور کے ایک چوہدری صاحب کے ہاں ان کی زمینوں کا حساب کتاب دیکھتا ہوں” اس نے فٹ سے جھوٹ بولا
“حساب کتاب ؟ پانچ جماعتیں پوری پڑھی نہیں ہیں تو نے اور تو حساب کتاب دیکھتا ہے” صائمہ کو اس پر بالکل یقین نہیں تھا, اس سے پہلے کہ علی کچھ کہتا, بیرونی دروازہ زور دار آواز کے ساتھ کھلا اور شاہد مریم کو گردن سے جکڑے اندر داخل ہوا, اس کے ہاتھ میں ایک موٹی سی چھڑی تھی جس سے وہ اسے جانوروں کی طرح مار رہا تھا, مریم کی چیخیں دل دہلا رہی تھیں, اس کی قمیض جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی تھی اور چہرے اور بازوؤں پر جا بجا نیلے اور سرخ نشان پڑے ہوئے تھے, آج پھر وہ کسی کی ہوس کا نشانہ بنتے بنتے بچ گئی تھی
“اس نحوست کو تو آج جڑ سے ہی ختم کر دوں گا میں” شاہد نے اسے صحن میں دھکا دے کر ایک طرف پڑی کلہاڑی اٹھا لی
“شاہد بھائی… چھوڑیں, چھوڑیں” علی اور صائمہ نے بمشکل اس کا ہاتھ روکا
“یا میرے مولا… کن پاپوں کی سزا ہے یہ ؟ مرتی بھی نہیں کہ جان چھوٹ جاۓ” اسے کوسنے دیتے ہوئے شاہد نے گردن سے پکڑا اور گھسیٹتا ہوا چھت پر بنے مٹی اور گارے کے ایک چھوٹے سے کمرے میں پھینک کر باہر سے کنڈی لگا دی
“اسے کوئی باہر نہیں نکالے گا, نہ اسے روٹی دینی ہے, مر جانے دے اسے” صائمہ سے کہتے ہوئے وہ اندر چلا گیا تھا
“پتہ نہیں یہ عذاب کب جان چھوڑے گا ہماری… ” صائمہ ستی پڑی تھی, علی چپ چاپ روٹی کھانے لگا
…………………………………………………………….
پوری رات گزر گئی تھی, اگلا پورا دن بھی گزر گیا, وہ بھوک کی شدت سے مرنے والی ہو گئی, دروازہ بجا بجا کر اس نے پورا گھر سر پر اٹھایا ہوا تھا, اس کی دلدوز چیخیں پورے صحن میں گونج رہی تھیں
“آپا اسے روٹی تو دے دے, بھوک سے مر جاۓ گی وہ” علی سے اس کا رونا برداشت نہیں ہو رہا تھا
“مر جانے دے… جان چھوٹے” صائمہ پتھر ہو گئی
“آپا کچھ تو خد اکا خوف کر… تیرے اپنے بچے بھی ہیں” علی کو اس پر ترس آ رہا تھا, صائمہ چپ چاپ اپنا کام کرتی رہی, آخر علی کی بس ہو گئ, وہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آیا اور دروازے کی کنڈی کھول دی, وہ اسے دیکھ کر ایک دم چپ ہوئی تھی, جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے کپڑے اور ان پر جا بجا لگا ہوا خون, وہ شائد سردی کی شدت سے ساری رات الٹیاں بھی کرتی رہی تھی, علی کو اس پر بے پناہ ترس آیا, وہ اسے لیکر نیچے آ گیا اور واش بیسن کے سامنے کھڑا کر کے اس کا ہاتھ منہ دھلوایا
“آپا… اس کے کپڑے بدلوا دے” اس نے صائمہ سے کہا تھا
“تجھے اس کی فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے, اس کا باپ ابھی زندہ ہے” صائمہ نے کہا
“ہاں دیکھا ہے میں نے اس کا باپ… جس نے مار مار کر اس کا یہ حال کر دیا, جسے احساس تک نہیں ہے کہ اس کی بیٹی دو دن سے بھوکی ہے” علی اس پر چڑھ دوڑا, صائمہ نے اسے گھورتے ہوۓ مریم کو کپڑے بدلوا دئیے, علی نے پہلے تو نیچے سے ایک چارپائی لے جا کر اوپر کمرے میں بچھائی, پھر اس پر گدا ڈالا اور پھر مریم کو کمبل میں لپیٹ کر دوبارہ اوپر لے گیا, وہ تھر تھر کانپ رہی تھی, اسے بستر میں لٹا کر وہ دوبارہ نیچے آیا, کٹوری میں سالن نکالا, چھابی میں روٹی رکھی اور ساتھ پانی کا گلاس لیکر اوپر آ گیا
“لے کھا… ” اس نے کھانا مریم کے سامنے رکھتے ہوئے کہا, وہ پوری روٹی اٹھا کر دانتوں سے کترنا شروع ہو گئی, علی کو ایک بار پھر اس پر ترس آیا, اسے روٹی تک کھانی نہیں آتی تھی
“رک… ایسے نہیں کھاتے” علی نے اس کے لئے لقمہ بنایا اور شوربے میں بھگو کر اس کی طرف بڑھا دیا جسے اس نے منہ کھول کر اندر کر لیا, علی دھیرے دھیرے اس کے لئے لقمے بناتا چلا گیا تھا
…………………………………………………………….
علی اس کا بے حد خیال رکھنے لگا, اس نے مریم کو ہاتھ منہ دھونا سکھایا, روٹی کھانا سکھایا, سکارف لینا سکھایا, اسے اپنے چھوٹے چھوٹے کام خود کرنے سکھاۓ, مریم کو صرف توجہ اور محبت کی کمی تھی اور علی نے وہ کمی پوری کر دی, دھیرے دھیرے مریم اس کی طرف مائل ہوتی چلی گئی
وہ جو کہتا… فوراً ماں لیتی
وہ جیسے کہتا… چپ چاپ سر جھکا دیتی
وہ جس کام سے روکتا… اسی وقت رک جاتی
صرف علی کے سمجھانے پر اس نے گھر سے باہر نکلنا بھی بہت کم کر دیا, شاہد نے سکھ کا لمبا سانس بھرا تھا لیکن صائمہ… وہ ٹٹھک رہی تھی, اسے معلوم تھا کہ اس کا بھائی کوئی فرشتہ نہیں تھا
اور وہ واقعی کوئی فرشتہ نہیں تھا
وہ مارچ کا ایک روشن دن تھا جب وہ مریم کو بڑی نہر کی سیر کروانے لے آیا, ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نہر کے کنارے اگے سفیدے کے درختوں سے چھیڑ چھاڑ کر رہے تھے, سورج کی تمازت بہت دلفریب تھی, مریم خوشی سے جھومتے ہوۓ نہر کے کنارے اگی گھاس پر بھاگ دوڑ کر کھیلنے لگی, علی کو ایک کال کرنی تھی, وہ اپنا موبائل کان سے لگاۓ نہر کے پل پر چلا آیا
“ہیلو… ” اس نے کہا
“کیسا ہے شہزادے ؟” دوسری طرف سے آواز آئی تھی
“فٹ فاٹ… مجھے اور کتنی دیر چھپنا ہے؟” اس نے پوچھا
“جب تک شاہ بھائی کہیں گے” دوسری طرف والے نے کہا
“دو مہینے تو ہو گئے ہیں” اس نے بیزاریت سے کہا
“سمگلنگ کا کیس ہے کاکے… تھوڑا دھیرج رکھ” دوسری طرف والے نے قہقہہ لگایا تھا, علی نے کچھ دیر اس سے بات کر کے کال کاٹ دی اور مریم کی تلاش میں ادھر ادھر نظریں گھمائیں
وہ اس سے ذرا دور سبز گھاس پر ایک درخت کے تنے سے ٹیک لگاۓ بیٹھی تھی, اس کی گود سفید رنگ کے چھوٹے چھوٹے پھولوں سے بھری ہوئی تھی, سکارف نہ جانے کہاں تھا, کندھوں تک آتے سیاہ بال ہوا کے جھونکوں سے ادھر ادھر اڑ رہے تھے, سورج کی سنہری کرنوں نے اس کے حسین چہرے کو حسین تر بنا دیا تھا, وہ خود میں مگن مسلسل مسکرا رہی تھی
علی پلکیں نہ جھپک سکا, بس اسے دیکھتا رہ گیا, پھر دھیرے سے چلتا ہوا اس کے قریب آیا اور اس کے عین سامنے بیٹھ کر اپنی ہتھیلی اس کے آگے کر دی
“ایک مجھے دے… ” اس نے کہا, مریم نے مسکراتے ہوئے ایک پھول اس کی ہتھیلی پر رکھ دیا جسے اس نے مریم کے ایک کان پر سجا دیا
“ایک اور دے… ” اس نے پھر کہا اور مریم کا دیا دوسرا پھول اس کے دوسرے کان پر سجا دیا
“اور دے…” وہ اس کے اتنا قریب ہو گیا کہ مریم کی سانسیں اسے اپنے چہرے پر محسوس ہونے لگیں, مریم نے ایک دم اپنی جھولی اس کی طرف اچھال دی تھی, اس نے دھیرے سے اپنے لبوں سے اس کی آنکھوں کو چھوا, پھر اس کے گالوں کو, پھر اس کے ہونٹوں کو… اور پھر بے خود ہو کر اس کی گردن چومتا چلا گیا
“میری رانی… ” اس نے مریم کو گلے سے لگایا تھا
اور یہ تو بس شروعات تھی
اس دن کے بعد علی نے اپنی خواہشات کی تسکین کے لئے ایک چور دروازہ کھول لیا, وہ مریم کے لئے انتہائی رحم دل اور مہربان ہوتا چلا گیا
بس ایک سرخ گلاب
بس چند چمکیلی چوڑیاں
بس ایک سستا سا ہار
بس روٹی کا ایک لقمہ
بس ایک بڑا سا کنو
بس ایک رنگ برنگی آئس کریم کون
بس تھوڑی سی مونگ پھلیاں
بس بڑی نہر کی سیر
بس چند سرگوشیاں جو اسے سمجھ بھی نہیں آتی تھیں
اور دو خوبصورت لفظ… میری رانی
وہ اتنے میں ہی اپنا آپ اس کے حوالے کر دیتی, علی اسے گلے سے لگاتا, اس کے گال چومتا, اسے پیار کرتا, اس کے لئے مریم ایک “جاگیر ” کی طرح ہو گئی تھی
……………………………………………………………….
وہ مئی کی ایک حبس زدہ رات تھی, پیاس کی شدت سے صائمہ کی آنکھ کھل گئی, اس کا گلا خشک ہو رہا تھا, پورے صحن میں ائیر کولر کے چلنے کی آواز آ رہی تھی, کچھ فاصلے پر رکھے کولر سے پانی پی کر جب وہ اپنی چارپائی کی طرف واپس آئی تو یکدم ٹھٹھک گئی, مریم کا بستر خالی تھا, اس کے ہوش اڑ گئے, علی چھت پر پنکھا لگا کر سوتا تھا, وہ اپنا دوپٹہ اٹھاتے ہوئے اوپر آ گئی, علی کا خالی بستر اس کے رہے سہے اوسان بھی خطا کر گیا, وہ دھیرے سے چھت پر بنے اکلوتے کمرے کی طرف آئی اور بند دروازے کی درز میں سے اندر جھانکا… اندر کا منظر اس کی روح کھینچنے کے لئے کافی تھا
مریم زمین پر دیوار سے ٹیک لگاۓ بیٹھی تھی, اس کا سکارف دروازے میں پڑا ہوا تھا, علی نے شرٹ اتاری ہوئی تھی اور اس کی دونوں کلائیاں اپنے ہاتھوں میں جکڑے دیوانہ وار اس کی گردن کو چوم رہا تھا, مریم کی آنکھیں بند تھیں اور دھڑکنیں اتھل پتھل ہو رہی تھیں
صائمہ کی چھٹی حس کافی دنوں سے اسے خبردار کر رہی تھی, وہ زور سے دروازہ بجا کر نیچے آ گئی لیکن پوری رات سو نہ سکی, صبح ہوتے ہی وہ مریم کو گاؤں کی ایک بوڑھی دائی کے پاس لے گئی اور اسے من گھڑت کہانی سنا کر مریم کو اس کے ساتھ اندر بھیج دیا, کچھ دیر بعد دائی نے باہر آکر بتایا کہ ابھی تک سب ٹھیک ہے, صائمہ کی جان میں جان آئی, وہ راستے میں مریم کے کپڑے پھاڑتے ہوۓ اسے گھر لیکر آئی اور شاہد کے سامنے خوب واویلا کیا… بچوں کی دھنائی کی, برتن اٹھا اٹھا کر توڑے, اور آخر میں رو رو کر اپنا سر پیٹنے لگی, علی دو دن کے لئے لیاقت پور گیا ہوا تھا
“ہوا کیا ہے ؟” شاہد ایک دم بوکھلا گیا
“تجھے رب کا واسطہ شاہد… اسے کچھ دنوں کے لئے اس کی ماں کے پاس بھیج دے, میں تنگ آ گئی ہوں اس سے, میری اپنی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی, یہ دیکھ میرے جڑے ہاتھ…اسے کچھ دن کے لئے یہاں سے دفع کر دے” وہ خوب چیخ و پکار کر رہی تھی, شاہد نے مجبور ہو کر اسے کچھ دنوں کے لئے رحیم یار خان بھیج دیا
دو دن بعد علی واپس آ گیا, پورا گھر چھان مارنے پر بھی اسے مریم نہ ملی تو صائمہ کے پاس چلا آیا
“مریم کہاں ہے آپا… ؟” اس نے پوچھا
“اسے اس کی ماں لے گئی ” صائمہ نے سپاٹ لحجے میں کہا تھا
وہ خالی خالی نظروں سے اوپر چھت پر بنے مٹی اور گارے کے چھوٹے سے کمرے کو دیکھتا رہ گیا
جاری ہے
