Khanpur Ki Maryam by Ayesha Zulfiqar NovelR50519 Khanpur Ki Maryam (Episode 05)
Rate this Novel
Khanpur Ki Maryam (Episode 05)
Khanpur Ki Maryam by Ayesha Zulfiqar
دھیرے دھیرے اس نے مریم کو سمجھا دیا کہ وہ ان کا گھر تھا, اسے وہیں رہنا تھا, صبح اس کے ساتھ ناشتہ کر کے وہ باہر سے دروازہ بند کر کے اڈے پر چلا جاتا, مریم سارا دن چھوٹے موٹے کام کرتی رہتی, دوپہر کو وہ کھانا لیکر واپس آتا اور اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتا, پھر شام تک اس کے ساتھ رہتا, اس کا ہاتھ منہ دھلواتا, کپڑے بدلواتا, اس کے بالوں کو کنگھی کرتا, اس کے ساتھ باتیں کرتا
وہ جواباً صرف ایک لفظ کہتی “عالی”
اور رات کو اس کے سونے کے بعد دوبارہ اڈے پر چلا جاتا, پوری رات وہاں گزار کر صبح اس کے اٹھنے سے پہلے واپس آ جاتا تھا
اسے ہاشمی نام کے ایک انتہائی بہادر اور پرسنیلٹڈ بندے کی سرپرستی میں دے دیا گیا تھا, ہاشمی نے اسے سب کچھ سکھایا
نو سال کی عمر میں وہ چاقو چلانے میں مشاق ہو چکا تھا
بارہ سال کی عمر میں اس نے لڑائی کا ہر داؤ پیچ سیکھ لیا, جوڈ و کراٹے, مارشل آرٹ, باکسنگ… سب کچھ
چودہ سال کی عمر میں وہ ہر قسم کی گاڑی چلانے میں ماہر ہو چکا تھا اور پستول چلانا بھی سیکھ چکا تھا
پندرہ سال کی عمر سے اس نے ولی اور ہاشمی کے ساتھ مل کر دھندہ کرنا شروع کر دیا, اس کی بے خوفی کی کوئی انتہا نہیں تھی, چوری چکاری, لوٹ مار, قتل و غارتگری, سمگلنگ, ایکسٹارشن, بلیک منی…وہ آنکھیں بند کر کے برائی کے اس سمندر میں ڈوبتا چلا گیا, شاہ اسے اپنا بیٹا کہتا تھا لیکن وہ اپنے باپ کی نسبت ہاشمی کے زیادہ قریب تھا
ہاشمی اس کے لئے ایک استاد بھی تھا, دوست بھی اور رازداں بھی… وہ اسے ہر بات بتاتا تھا
“یہ سب سیکھ کر کیا کرو گے ؟” ایک بار ہاشمی نے اس سے پوچھا تھا
“تم نے یہ سب سیکھ کر کیا کیا ؟” اس نے جواباً پوچھ لیا
“میں نے پیسہ کمایا… بہت سارا پیسہ, کبھی ختم نہ ہونے والا, اپنی ہر خواہش کو پورا کیا, جو دل چاہا حاصل کیا” ہاشمی نے کہا
“مجھے بدلہ لینا ہے” اس نے کہا
“کس کا ؟” ہاشمی حیران ہو گیا
“اپنی ماں کا… ” اس نے کہا
“کس سے ؟” ہاشمی نے پھر پوچھا تھا
“سب سے” یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں بلا کا قہر تھا
اور سولہ سال کی عمر سے اس نے اپنی ماں کا بدلہ لینا شروع کر دیا
………………………………..
“میر آصف مرتضیٰ کے بہت پرانے اور انتہائی سرگرم سیاسی کارکن جاوید کاردار کی عبرت ناک موت”
وہ جون کا ایک گرم ترین دن تھا, اس گرم دن کی شروعات بھی ایک انتہائی گرم خبر سے ہوئی, صبح کے ہر اخبار کی شہ سرخیوں میں جاوید کاردار کی موت کا ذکر تھا, ہر ٹی وی چینل پر یہ ہی خبر گردش کر رہی تھی
“جاوید کاردار اپنے آفس میں مردہ پاۓ گئے, قاتل نے ان کے جسم کے دو سو ٹکرے کر دیئے تھے ” صحافیوں اور رپورٹروں میں کھلبلی مچی پڑی تھی, میر آصف مرتضیٰ نے جاوید کاردار کے قتل کی تفتیش کے لئے اوپر تک ہاتھ ڈالا لیکن… قاتل کا کوئی سراغ نہ ملا
یہ وہی جاوید کاردار تھا جس نے اس کی ماں کے بدلے دو سو ووٹ خریدے تھے
بہت شور ہوا, اوپر تک رسائی ہوئی, کئی دن تک اخباروں اور میڈیا نے جاوید کاردار کے قتل کو اچھالے رکھا لیکن…بے سود
قاتل کا نام و نشان بھی نہ ملا
اور اس قتل کے اگلے دو ہفتوں تک صادق آباد شہر میں بیس سے زائد افراد کے نامعلوم قتل کے کیس رجسٹرڈ ہو گئے, وہ سب کسی نہ کسی طرح صادق آباد بس سٹاپ سے منسلک تھے
………………………….
جاوید کاردار کے قتل کے دو ماہ بعد ایک اور خبر منظر عام پر آ گئی
“رحیم یار خان پولیس اسٹیشن کے اے ایس پی منظر عباس کا قتل… انہیں ان کی گاڑی میں زندہ جلا دیا گیا” اخباروں کی فرنٹ لائن خبر
“اے ایس پی منظر عباس دو سال پہلے ہی ایس ایچ او سے پروموٹ ہو کر اے ایس پی کے عہدے پر فائز ہوۓ تھے ” نیوز چینلز کی بریکنگ نیوز
“اے ایس پی منظر عباس حال ہی میں صادق آباد سے ٹرانسفر ہو کر رحیم یار خان آۓ تھے ” صحافیوں اور رپورٹروں کی تازہ خبر
ایک اے ایس پی کی اسقدر عبرت ناک موت پر پورا پولیس ڈیپارٹمنٹ ہل کر رہ گیا, منظر عباس کو پولیس اسٹیشن سے واپس گھر جاتے ہوئے اسی کی گاڑی میں زندہ جلا دیا گیا تھا, رحیم یار خان پولیس ڈیپارٹمنٹ اپنی انگلیوں پر کھڑا ہو گیا لیکن اس بار بھی قاتل کا سراغ نہ لگ سکا
منظر عباس کے قتل کے ایک ماہ کے اندر اندر سمگلنگ اور ایکسٹارشن کے دس کیس رجسٹرڈ ہو گئے, پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پوری طرح الرٹ ہو گیا تھا, آۓ روز کوئی نہ کوئی نیا کیس رجسٹرڈ ہو جاتا لیکن پولیس کے پاس قاتل کا کوئی سراغ نہیں تھا
“کون ہے یہ پر اسرار قاتل ؟” ہر اخبار, ہر نیوز چینل, ہر صحافی, ہر رپورٹر اور پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ہر شخص کا یہ ہی ایک سوال تھا, اور قاتل جو کوئی بھی تھا, انتہائی ماہر تھا, وہ اپنا کوئی نشان نہیں چھوڑتا تھا, وہ رحیم یار خان کی سڑکوں پر کھلے عام پھرتا تھا
پھر آہستہ آہستہ ایک نام ابھرنے لگا, دھیرے دھیرے لوگوں میں لیا جانے لگا, پولیس ڈیپارٹمنٹ کی ہر فائل اور ایف آئی آر میں آنے لگا, اخباروں میں سر عام چھپنے لگا, نیوز چینلز پر ببانگ دہل بولا جانے لگا
“غازی… “
ایک سال کے اندر اندر پولیس کو یقین ہو گیا کہ وہ قاتل تھا… لیکن اس کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا, پولیس کسی بھی طرح اسے گرفتار کرنے کی مجاز نہیں تھی, سیاسی لوگوں کی جانب سے زیادہ دباؤ پڑنے پر اگر وہ گرفتار ہو بھی جاتا تو چند ہی گھنٹوں میں ثبوت نہ ہونے کے باعث چھوٹ جاتا تھا
وہ دسمبر کا ایک دھند آلود دن تھا, پولیس کو رحیم یار خان سے صادق آباد جانے والی روڈ پر بنے ایک پرانے شیڈ سے چار نوجوان لڑکوں کی لاشیں ملیں, انہیں انتہائی تشدد کے بعد قتل کر دیا گیا تھا
سانول ملک… رحیم یار خان کے ایک بزنس مین کا بیٹا
سمیر طاہر اور ضمیر طاہر… اسسٹنٹ کمشنر رحیم یار خان کے جڑواں بیٹے
اور
میر ثمران مرتضیٰ… ایم این اے میر آصف مرتضیٰ اور ایم پی اے سعدیہ مرتضیٰ کا بیٹا
آصف مرتضیٰ نے پورا شہر اتھل پتھل کر دیا, ہر طرف کھلبلی مچ گئی, ڈی آئی جی خود رحیم یار خان آ گئے, وہ پرسنلی ثمران کے کیس کو دیکھ رہے تھے
…………………………..
اس کے قتل کے کیس کے سلسلے میں ڈی آئی جی نے ایک ارجنٹ میٹنگ بلوائی, رحیم یار خان پولیس ڈیپارٹمنٹ کے تمام آفیشیلز اس میٹنگ میں موجود تھے
“جنٹل مین ہم سب جانتے ہیں کہ قاتل کون ہے ؟ لیکن میں آپ لوگوں سے اسے پکڑنے, تشدد کرنے یا زبردستی جرم قبول کروانے کو نہیں کہوں گا کیونکہ اس سب کا کوئی فائدہ نہیں, ہمارے پاس اس کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے, سوال یہ ہے کہ وہ یہ سب کیوں کر رہا ہے ؟” ڈی آئی جی نے کہا
“مزہ لینے کے لئے… ” ایک اے ایس پی نے کہا
“نہیں… وہ یہ سب صرف مزہ لینے کے لئے نہیں کر رہا, نہ امیر ہونے کے لئے, نہ مشہور ہونے کے لئے… وہ یہ سب بدلہ لینے کے لئے کر رہا ہے” ڈی آئی جی نے کہا
“لیکن وہ کس سے بدلہ لے رہا ہے سر ؟ پولیس سے, سیاسی لوگوں سے یا عام عوام سے…؟” ایک سوال اٹھا
“سر ہم اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے, وہ اندرون شہر میں اپنی بیمار ماں کے ساتھ رہتا ہے, اس کا کوئی پچھلا کریمنل ریکارڈ نہیں ہے, اس کا شناختی کارڈ بنا ہوا ہے, اس کا باپ اس دنیا میں نہیں ہے, وہ ایک ہوٹل پر کام کرتا ہے اور ان پیسوں سے اپنی بیمار ماں کا علاج کرواتا ہے بس… اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں جانتے” ایک اے ایس پی کہتا چلا گیا
“کیا ماضی میں اس کے ساتھ کچھ ہوا ہے ؟” انہوں نے پوچھا
“پتہ نہیں سر” اے ایس پی نے کہا
“لیکن سر اہم بات یہ ہے کہ وہ ابھی صرف سولہ سال کا ہے اور انتہائی ماہر ہے, وہ جس بے خوفی سے قتل کرتا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس نے یہ سب کسی سے سیکھا ہے” اے ایس پی نے کہا
“کس سے ؟” انہوں نے پوچھا
“بہت سارے نام ہیں سر… رشید گجر, اکرم خان, نادر شاہ… ” اے ایس پی کہتا چلا گیا
“تمہیں کس پر شک ہے؟” انہوں نے پھر پوچھا
“نادر شاہ پر…” اس نے فوراً کہا
“کیوں ؟” وہ حیران ہو گئے
“کیونکہ غازی کو اکثر ہاشمی کے ساتھ دیکھا گیا ہے” اس نے کہا
“اور نادر شاہ کے دو ہی بازو ہیں… ولی اور ہاشمی” اس نے کندھے اچکا کر کہا
“ٹھیک ہے, ہاشمی کو بلاؤ, میں خود اس سے بات کروں گا” انہوں نے کہا تھا
………………………
دو دن بعد ہاشمی ان کے سامنے تھا
“ہمیں غازی چاہیے ؟” وہ سیدھی بات کی طرف آۓ
“اگر میں تم سے تمہارا بیٹا مانگوں تو ؟” ہاشمی نے کہا
“سو تم قبول کرتے ہو کہ وہ تمہارا بیٹا ہے” انہوں نے کہا
“وہ نادر شاہ کا بیٹا ہے” ہاشمی نے کہا
“تو نادر شاہ سے کہو کے اپنے دوسرے بیٹے کے لئے بھی قبر کھدوا لے” انہیں غصہ آ گیا
“تم لوگ اسے چھو بھی نہیں سکتے ڈی آئی جی… ” ہاشمی ہنستا چلا گیا
انہوں نے نادر شاہ کو بلوا لیا
“مجھے غازی دے دو” انہوں نے وہی بات کی
“میرے پاس سو سے زیادہ بندے ہیں ڈی آئی جی, ایک سے بڑھ کر ایک… تیرے لئے وہ سب حاضر ہیں, تو ولی مانگ لے, میں دے دوں گا, ہاشمی مانگ لے, میں وہ بھی دے دوں گا لیکن غازی نہیں… وہ میرا بندہ نہیں ہے, وہ میرا بیٹا ہے” نادر شاہ انہیں صاف انکار کر آیا, پولیس نے غازی کو حراست میں لے رکھا تھا, پندرہ دن گزر گئے لیکن اس کے خلاف کوئی ثبوت نہ ملا اور نادر شاہ نے اسے بازیاب کروا لیا, ہاشمی اسے خود آ کر لے گیا تھا, اور اس دن جب وہ گھر واپس لوٹا تو اندر آتے ہی ٹھٹھک گیا, مریم صحن کے بیچوں بیچ خون میں لت پت پڑی تھی, وہ اسے اپنے بازوؤں میں اٹھا کر ہسپتال کی جانب دوڑ پڑا
اسے ایڈز ہو گیا تھا
…………………..
وہ سگریٹ سلگاتے ہوئے اوپر چھت پر چلا آیا تھا, نادر شاہ کا یہ جرم کا اڈہ دو, تین منزلوں پر محیط تھا, چھت پر کھڑے ہو کر پورا رحیم یار خان نظر آتا تھا, وہ سگریٹ کے دھوئیں اڑاتے ہوئے مسلسل مریم کے بارے میں سوچ رہا تھا, اس کی طبیعت دن بدن بگڑتی جا رہی تھی, ہر گزرتے دن وہ موت کے قریب ہوتی جا رہی تھی
وہ ہر صبح اس خدشے کے ساتھ گھر سے نکلتا تھا کہ شائد جب وہ دوپہر کو واپس لوٹے گا تو اس کی ماں اس کے لئے دروازہ نہیں کھولے گی, وہ دیوار پھلانگ کر اندر جاۓ گا تو وہ کسی کمرے میں پڑی دائمی نیند سو رہی ہو گی
اور ہر رات وہ اس ڈر کے ساتھ سونے کے لیے لیٹتا کہ شائد وہ جب صبح اٹھے گا تو مریم… ہمیشہ کے لئے سو چکی ہو گی, وہ اس کی دن بدن سیاہ ہوتی رنگت, دن بدن اندر کو اترتی آنکھیں, اور دن بدن کمزور ہوتا وجود دیکھ کر دکھ اور نفرت سے بھر جاتا
مریم کو آج بھی ایک ہی لفظ یاد تھا
“عالی”
خون کی الٹیاں کرتے ہوئے بھی اس کے لبوں سے یہ ہی لفظ نکلتا تھا
اور بس یہ ہی ایک شخص تھا جسے وہ اب تک نہیں ڈھونڈ سکا تھا, شائد یہ وہ شخص تھا جس کی وجہ سے وہ اس دنیا میں آگیا تھا
“اگلا نمبر کس کا ہے ؟” ہاشمی نہ جانے کب اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا
“پتہ نہیں ” اس نے کہا
“کیا مطلب ؟” ہاشمی حیران ہو گیا
“میں اسے نہیں جانتا, میں نے اسے کبھی دیکھا ہی نہیں… چہرہ تک یاد نہیں ہے اس کا” غازی نے کہا
“میں بس ایک بات جانتا ہوں کہ… وہ میرے انتقام کا اینڈ ہو گا” وہ کہتا چلا گیا
“اور اس کے بعد کیا کرو گے؟” ہاشمی نے پوچھا تھا
“اس کے بعد میں اپنے دن, رات اپنی ماں کے ساتھ گزاروں گا, ہر پل اس کے پاس رہوں گا, میں چاہتا ہوں جب وہ اپنی آنکھیں ہمیشہ کے لئے بند کرے تو میں اس کے پاس ہوں, اس کا سر میری گود میں ہو, اس کا ہاتھ میرے ہاتھ میں ہو اور… وہ مسکرا رہی ہو” غازی کی آنکھوں میں پانی بھر آیا
” وہ کون ہے؟” ہاشمی نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے پوچھا تھا
“جس کا خون میری رگوں میں بہہ رہا ہے, جس نے ایک بار بھی پلٹ کر میری ماں کی طرف نہیں دیکھا, وہ مجھے جب بھی ملا…میں اسے اپنی ماں کے سامنے ماروں گا” غازی کی آنکھوں میں صرف نفرت تھی
……………………
میر آصف مرتضیٰ نے ایک اے ایس پی اور دو ایس ایچ او سسپینڈ کروا دئیے تھے, پولیس ڈپارٹمنٹ اس کے بیٹے کے قاتل کا سراغ لگانے میں بری طرح ناکام ہو گیا تھا, ایک بار پھر الیکشنز نزدیک تھے, عوام کی ساری ہمدردیاں میر آصف مرتضیٰ اور سعدیہ مرتضیٰ کے ساتھ تھیں, اس بار بھی ان دونوں کی جیت یقینی تھی, ڈی آئی جی نے ایک بار پھر میٹنگ بلوا لی, میٹنگ کا ایجنڈا ایک بار پھر سے ” غازی ” تھا
“آپ میں سے کوئی ایسا ہے جو مجھے ایک بہترین مشورہ دے سکے” انہوں نے کہا
“میرے پاس ایک مشورہ ہے لیکن..نتائج کے ذمہ دار ہم سب ہوں گے” ایک اے ایس پی نے کہا
“بولو… ” انہوں نے کہا
“ایس پی چوہان کو بلوا لیں” اس کے کہتے ہی سب نے اس کی طرف یوں دیکھا جیسے وہ پاگل ہو
“ایس پی چوہان ؟” ڈی آئی جی خود بھی مطمئن نہیں تھے
“جی… وہ غازی کو پھنسا سکتا ہے ” اے ایس پی نے دوبارہ کہا
“سر ایس پی چوہان کو یہاں بلانے سے پہلے ایک بار اس کے پاسٹ ریکارڈ پر ضرور نظر ڈالیں, سات سال کی سروس میں سینتیس ٹرانسفرز… وہ ایک پولیس آفیسر نہیں ہے, جہنم کا کوئی داروغہ ہے جو اس دنیا میں آگیا ہے, اس کا کوڑا صرف قاتلوں اور مجرموں پر نہیں برسے گا بلکہ رحیم یار خان پولیس کے ہر سپاہی, سب انسپکٹر, ایس ایچ او اور اے ایس پی پر بھی برسے گا, اس نے لیاقت پور میں اپنے آن ڈیوٹی دو کانسٹیبلوں کے دونوں بازو صرف اسلئے توڑ دئیے کہ انہوں نے دو سو روپے رشوت لی تھی, وہ نہ خود چین سے بیٹھتا ہے نہ بیٹھنے دیتا ہے, پورے رحیم یار خان پولیس ڈپارٹمنٹ کو وہ مار مار کر معذور کر دے گا, غازی کی باری تو بہت بعد میں آۓ گی, پہلے تو اپنے لوگوں کی ہی شامت آ جاۓ گی, نادر شاہ لیاقت پور سے کیوں بھاگا ؟ صرف ایس پی چوہان کی وجہ سے, اکرم خان صادق آباد سے کیوں بھاگا ؟ صرف ایس پی چوہان کی وجہ سے… اور یہ سب غنڈے بھاگ بھاگ کر رحیم یار آ گئے کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ چوہان کبھی رحیم یار خان نہیں آۓ گا, وہ پنجاب میں ہر جگہ ٹرانسفر کروا لیتا ہے سواۓ رحیم یار خان کے… وہ یہاں نہیں آۓ گا” ایک اور اے ایس پی کہتا چلا گیا
“لیکن اسے یہاں لانا پڑے گا نہیں تو میر آصف مرتضیٰ ایک ایک کر کے رحیم یار خاں کے ہر پولیس آفیسر کو سسپینڈ کروا دے گا” ڈی آئی جی نے کہا تھا اور ایک ہفتے بعد وہ خود اس سے ملنے چلے گئے, وہ اس وقت بہاولپور میں آن ڈیوٹی تھا, ان کے آنے کی خبر ملتے ہی پولیس سٹیشن چلا آیا
“خیریت تو ہے سر ؟ آپ یہاں ” اس کی شخصیت کے کیا ہی کہنے تھے
“تمہارا ٹرانسفر کر دوں ؟” انہوں نے پوچھا
“کہاں ؟” کوئی اور ہوتا تو پوچھتا کہ کیوں
“رحیم یار خان ” انہوں نے کہا
“نہیں” وہ صاف انکار کر گیا
“کیوں ؟” انہوں نے پوچھا
“کیونکہ مجھے اس بات میں ذرا سی بھی دلچسپی نہیں ہے کہ میر آصف مرتضیٰ کے بیٹے کو کس نے قتل کیا ؟ اے سی کریم جیلانی کے جڑواں بیٹوں کو کس نے مارا ؟ منظر عباس کو کس نے زندہ جلایا ؟ جاوید کاردار کے کس نے دو سو ٹکرے کئے ؟ ” وہ کہتا چلا گیا, ڈی آئی جی نے ایک لمبی سانس بھری تھی
“پورے پنجاب کے شہروں کو مجرموں سے صاف کرتے پھرتے ہو, رحیم یار خان بھی تو اسی پنجاب کا حصہ ہے, پھر اس کے لوگوں پر رحم کیوں نہیں کرتے ہو ؟ ” انہوں نے کہا, وہ چپ رہ گیا
“میں تم سے ریکوئسٹ کر رہا ہوں, بس ایک بار میری بات مان کر رحیم یار خان ٹرانسفر کروا لو, بس ایک بار ثمران مرتضیٰ کے قاتل کو گرفتار کر لو… پھر پورے پنجاب میں جہاں دل کرے چلے جانا, میں نہیں روکوں گا” وہ کہتے چلے گئے تھے, وہ ان کہ طرف دیکھ کر رہ گیا
تین دن بعد اس کا رحیم یار خان ٹرانسفر ہو گیا تھا
جاری ہے
