Khanpur Ki Maryam by Ayesha Zulfiqar NovelR50519

Khanpur Ki Maryam by Ayesha Zulfiqar NovelR50519 Last updated: 9 February 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khanpur Ki Maryam by Ayesha Zulfiqar

وہ دسمبر کا ایک دھند آلود دن تھا جب وہ مریم کے لئے خان پور شہر سے انتہائی خوبصورت اور ہوش ربا سوٹ لیکر آیا, ان دنوں اس نے خان پور کی حدود پر ایک خالی مکان کو اپنا اڈہ بنایا ہوا تھا, وہ مریم کو لیکر وہاں آ گیا, اسے نہلایا, خوشبو لگائی, نئے کپڑے پہناۓ, بالوں میں پھول لگایا, ہونٹوں پر سرخی لگائی... اور وقفے وقفے سے تھوڑی سی شراب بھی پلا دی, مریم دھیرے دھیرے اپنے حواسوں سے باہر ہوتی چلی گئی, ابھی وہ شاہ کو کال کرنے ہی والا تھا کہ اس کی کال آ گئی
"کدھر ہے شہزادے ؟" اس نے پوچھا
"میں بس آنے لگا ہوں شاہ بھائی " اس نے کہا
"تو نہ آ... میں خان پور آیا ہو ہوں, مجھے اپنا پتہ بتا, میں آ جاتا ہوں" شاہ نے کہا, علی نے اسے اپنا ایڈرس بتا دیا
"دس منٹ میں آتا ہوں " شاہ نے کال کاٹ دی, وہ موبائل کان سے ہٹاتا ہوا اندر آ گیا
"عالی... " مریم نے اندرونی کمرے کے دروازے میں کھڑے ہو کر اسے آواز دی تھی, وہ ایک دم ٹھٹھک گیا
اس نے گہرے سے گلے کی سلیو لیس شرٹ پہنی ہوئی تھی
اس کے کندھے... دودھ ملائی جیسے سفید کندھے برہنہ ہو کر باہر جھانک رہے تھے
اس کے بازو... سنگ مرمر جیسے تراشے ہوئے بازو اس کی جانب پھیلے ہوئے تھے
اس کی آنکھیں... نشیلی رتوں سی مخمور آنکھیں سر عام اسے دعوت دے رہی تھیں
اس کے ہونٹ... گلابوں کی سرخیوں سے زیادہ سرخ اس کے ہونٹ
اس کے گال... شفق کی لالیوں سے زیادہ لال اس کے گال
وہ مبہوت رہ گیا
وہ اس کی جنت تھی... اور وہ اپنی جنت کسی اور کے حوالے کرنے جا رہا تھا
وہ اس کی رانی تھی... اور وہ اپنی رانی کسی اور کو دینے جا رہا تھا
وہ اس کا سکون تھی... اور وہ اپنا سکون کسی اور کو سونپنے جا رہا تھا
"عالی... " مریم نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا, وہ اسے بلا رہی تھی, علی کیسے منع کر دیتا... کیسے اسے نظر انداز کر دیتا, کیسے اس اس کا بڑھا ہوا ہاتھ جھٹک دیتا... ؟
"میری رانی... " وہ سرگوشی کرتے ہوئے اس کی طرف بڑھا لیکن عین اسی لمحے شاہ اندر داخل ہو گیا, سب سے پہلے اس کی نظر دروازے سے ٹیک لگاۓ کھڑی مریم پر پڑی
"واہ... کمال ہے" شاہ اس کی طرف بڑھا تھا
"شاہ بھائی یہ وہ نہیں ہے" علی اس کے راستے میں آ گیا
"یہ تیری ہے ؟" شاہ نے پوچھا
"ہاں... " اس نے فوراً کہا تھا
"بس اب یہ میری ہے" شاہ آگے بڑھا تھا
"میں نے کہا یہ میری ہے" علی اس پر جھپٹ پڑا تھا
"یہ تو ٹھیک نہیں کر رہا..." شاہ نے غصے سے کہا
"نکل یہاں سے... " علی نے اس کے دو, تین مکے رسید کئے تھے, شاہ عمر رسیدہ تھا, علی اس پر حاوی آ گیا, "دیکھ لوں گا تجھے ؟" شاہ اسے وارننگ دیتا ہوا باہر نکل گیا, علی دروازہ بند کرتے ہوئے مریم کی طرف آیا
اس ایک لمحے اسے لگا کہ اسے مریم سے محبت ہے
والہانہ محبت...!
اس ایک لمحے اس نے خود سے عہد کیا کہ وہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہے گا
اس ایک لمحے اس نے دل سے کہا تھا " میری رانی"
بس پھر وہ تھا اور مریم... وہ خود کو روک نہیں پا رہا تھا, اس کے سحر سے نکل نہیں پا رہا تھا, اسے اپنی بانہوں سے آزاد نہیں کر پا رہا تھا
مریم کی حالت اس سوکھے پتے کی طرح ہو گئی جس پر سے کوئی پاؤں رکھ کر گزر گیا ہو
اچانک باہر پولیس کی گاڑی کا سائرن بجنے لگا, شاہ نے پولیس کو کال کر دی تھی, علی نے ایک دم مریم کو خود سے دور کرتے ہوئے اپنی شرٹ اٹھائی تھی, اچانک اسے بیرونی دروازہ کھلنے کی آواز آئی, پولیس اندر آ گئی تھی
اس نے ایک نظر فرش پر پڑی مریم کو دیکھا...اپنی اس ایک لمحے کی محبت کو وہیں بے یار و مددگار چھوڑ کر وہ کھڑکی کے راستے فرار ہو گیا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *