Khanpur Ki Maryam by Ayesha Zulfiqar NovelR50519 Khanpur Ki Maryam (Last Episode)
Rate this Novel
Khanpur Ki Maryam (Last Episode)
Khanpur Ki Maryam by Ayesha Zulfiqar
اس کے رحیم یار خان پہنچتے ہی جیسے پورے پولیس ڈپارٹمنٹ پی قیامت ٹوٹ پڑی, کانسٹیبلوں سے لیکر اے ایس پیز تک… کوئی بھی اس کے ڈنڈے سے نہ بچ سکا… صحیح معنوں میں اس کا کوڑا مجرموں اور پولیس والوں پر یکساں طور پر برسا
سب سے پہلے اس کے دانت کے نیچے اکرم خان آیا, وہ اسے اس کی اکلوتی ٹانگ سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے پولیس سٹیشن لیکر آیا تھا, اکرم کی ایک ٹانگ اس نے صادق آباد میں توڑ دی تھی, دوسری رحیم یار خان آ کر توڑ دی
دوسرا نمبر ایک ایس ایچ او کا لگا, اس نے سر عام اسے پورے تھانے کے سامنے رگڑ دیا
بمشکل ایک ہفتہ ہی گزرا اور اس کے خلاف ڈی آئی جی کے پاس شکایات جانا شروع ہو گئیں جنہیں وہ ذرا خاطر میں نہ لاۓ, اس وقت انہیں صرف غازی کی گرفتاری سے سروکار تھا
“کیا مجھے صرف اسے گرفتار کرنا ہے؟” اس نے آنے سے پہلے ڈی آئی جی سے پوچھا تھا
“اسے گرفتار کرنا کوئی بڑا ایشو نہیں ہے چوہان, ہو سکتا ہے جب تم رحیم یار خان پہنچو تو وہ پہلے ہی سلاخوں کے پیچھے بیٹھا ہو, اصل مسئلہ اس کی گرفتاری کی وجہ تلاش کرنا ہے, تم اس کے خلاف کوئی ایک آدھ ٹھوس ثبوت ڈھونڈ دو بس… ” ڈی آئی جی نے کہا
“وہ سر عام جرم کرتا ہے, اور جرم کر کے بھاگتا نہیں ہے, ڈرتا بھی نہیں ہے, جم کر کھڑا ہو جاتا ہے, اگر تم اس کے سر پر پستول رکھو گے تو وہ آرام سے ہاتھ کھڑے کر دے گا, چپ چاپ تمہارے ہاتھ آ جاۓ گا, جب تک چاہو گے سلاخوں کے پیچھے بیٹھا رہے گا کیونکہ اسے پتا ہوتا ہے کہ… اسے بس اپنی نیند پوری کر کے وہاں سے چلے جانا ہے” وہ کہتے چلے گئے تھے
“اسے جرم کرتے ہوئے پکڑو چوہان… جرم ہو جانے کے بعد نہیں” یہ اس کا ٹارگٹ تھا
اور واقعی وہ جس دن رحیم یار خان پہنچا, غازی سلاخوں کے پیچھے بیٹھا سو رہا تھا
“سر یہ یہاں سونے ہی آتا ہے” ایس ایچ او نے کہا
“فکر نہ کرو… اگلی بار ہمیشہ کی نیند سونے آۓ گا” اس نے غازی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا
اس کے آنے کے دو دن بعد غازی کی ضمانت ہو گئی, ہاشمی خود اسے لینے آیا تھا
“بہتر ہو گا اب اسے سمجھا دو…ورنہ تم اور تمہارا استاد تو مجھے جانتے ہی ہو” اس نے ہاشمی سے کہا تھا, وہ چپ چاپ غازی کو لیکر وہاں سے چلا گیا
چوہان نے اس کا سارا پچھلا ریکارڈ چیک کیا, اس کے واردات کے طریقوں پر غور کیا, وہ مسلسل غازی کے پیچھے لگا ہوا تھا لیکن غازی اسے کوئی موقع نہیں دے رہا تھا, پندرہ دن ہو گئے تھے اسے رحیم یار خان آۓ اور صد شکر کہ ان پندرہ دنوں میں کوئی قتل نہیں ہو تھا
…………………..
وہ بوتل ہاتھ میں لئے اوپر چھت پر آیا تو غازی اس سے پہلے وہاں موجود تھا
“پیو گے ؟” اس نے گلاس بھرتے ہوئے اس سے پوچھا
“نہیں… ” غازی نے نفی میں سر ہلا دیا, ہاشمی نے بوتل نیچے رکھتے ہوئے اپنا گلاس اٹھا لیا
“تم کبھی کسی کی یادوں میں گم ہوۓ ہو ؟” ہاشمی نے گھونٹ بھرتے ہوئے پوچھا
“ہاں… اپنے ماضی کی انتہائی خوفناک یادوں میں” غازی نے کہا
“میں بھی… ” ہاشمی نے کرسی کی پشت سے سر ہلاتے ہوئے کہا
“تمہارا ماضی بھی خوفناک تھا ؟” غازی حیران ہو گیا
“نہیں…میرا ماضی بہت سیاہ تھا, بہت برا… میرے ماضی میں کچھ اچھا نہائیت سواۓ اس کے… ” ہاشمی نے آنکھیں بند کر لیں
“کس کے ؟” غازی نے پوچھا
“شربتوں جیسی اس میٹھی سی لڑکی کے…” غازی چونک گیا
“تم نے اس سے محبت کی تھی ؟” غازی دھیرے سے مسکرایا تھا, ہاشمی اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور چلتا ہوا چھت کی چار دیواری کی طرف آ گیا, پورا رحیم یار خان اس کے سامنے تھا
“نہیں… میں نے اس سے کبھی محبت نہیں کی, صرف اس کا استعمال کیا, صرف اس سے اپنے نفس کی تسکین کی, وہ تو اس قابل تھی کہ میں اسے ہمیشہ اپنی آنکھوں پر بٹھاتا, اپنے دل میں رکھتا, اپنی پلکوں پر سجاتا…
سردیوں کی برفباری جیسی ٹھنڈی, شہد کی دھاروں جیسی شیریں…اس سے زیادہ خوبصورت لڑکی میں نے آج تک نہیں دیکھی, میں نے اس کے ساتھ سب کچھ کیا, اسے گلے سے لگایا, اس کے ہونٹ چومے, اس کے پہلو میں راتیں گزاریں, اس سے ہر ہر لمحہ سکون حاصل کیا لیکن… اس سے محبت کبھی نہیں کی” ہاشمی کہتا چلا گیا
“وہ خان پور کی رہنے والی تھی, خان پور کی مریم… جب میں اس سے ملا وہ صرف بارہ سال کی تھی, نہ اس کے باپ کو اس کی ضرورت تھی اور نہ اس کی ماں کو…میں نے اس کے ساتھ کیا کیا نہیں کیا, اسے اپنا حق سمجھ کر استعمال کیا…” علی ہاشمی چھت کی چاردیواری کے پاس کھڑا کہتا جا رہا تھا اور غازی… وہ دم بخود اس کے پیچھے کھڑا تھا
“بس ایک لمحہ… بس اس ایک لمحے کے لیے مجھے لگا کہ مجھے اس سے محبت ہے جب اس دن شاہ بھائی اس کی طرف بڑھے, جب انہوں نے اسے ہاتھ لگایا, بس وہ ایک لمحہ مجھے باغی کر گیا, بس اس ایک لمحے میں میں نے سب کچھ ٹھکرا کر مریم کو چن لیا… لیکن بس ایک لمحہ… پولیس کے آتے ہی میں اسے وہیں چھوڑ کر بھاگ گیا, وہ کہتا جا رہا تھا
“کچھ دنوں بعد میں نے شاہ بھائی سے معافی مانگ لی , انہوں نے دوبارہ مجھے اپنے ساتھ رکھ لیا, میں اس سے ملنے واپس خان پور گیا لیکن… وہ وہاں سے جا چکی تھی…تن تنہا… خالی ہاتھ… میں نے اسے کافی ڈھونڈا پر وہ نہ جانے کہاں تھی, وہ آج بھی نہ جانے کہاں ہے ؟” ہاشمی کہتے ہوئے مڑا اور ٹھٹھک گیا, غازی اپنا پستول اس پر تان کر کھڑا تھا
تو یہ تھا وہ شخص… اس کی ماں کا “عالی”
یہ تھا وہ شخص جس کی وجہ سے اس کی ماں ایک پتھر کی طرح شہر شہر کی ٹھوکریں کھاتی پھرتی رہی
یہ تھا وہ شخص جو اس کی ماں کی بربادی کا ذمہ دار تھا
یہ تھا وہ شخص جس کا خون اس کی رگوں میں بہہ رہا تھا
یہ تھا وہ شخص جو اس کے انتقام کا ” دی اینڈ ” تھا
“میں تمہیں بتا سکتا ہوں کہ وہ کہاں ہے ؟” غازی نے انتہائی سرد لحجے میں کہا تھا, ہاشمی سن رہ گیا
“تمہیں کس نے کہہ دیا علی ہاشمی کہ وہ خان پور سے اکیلی کہیں بھیج دی گئی… نہیں… وہ اکیلی نہیں تھی, میں اس کے ساتھ تھا ” غازی رو رہا تھا
“میں ہر ہر لمحہ اس کے ساتھ تھا… تب بھی جب وہ صادق آباد کے اڈے پر رل رہی تھی, ٹکے ٹکے کے لوگوں کے ہاتھوں ذلیل ہو رہی تھی, اپنا آپ لٹوا لٹوا کر مجھے پال رہی تھی, تب بھی جب وہ جاوید کاردار کے ہاتھوں میں کھلونا بنی ہوئی تھی, تب بھی جب وہ منظر عباس کے ہاتھوں پامال ہو رہی تھی, تب بھی جب وہ اس شیڈ میں چار چار لڑکوں سے بے حرمت ہو رہی تھی… صرف تمہاری وجہ سے” وہ کہتا جا رہا تھا اور ہاشمی چپ چاپ اس کی طرف دیکھ رہا تھا
“تم نے پوچھا تھا نا کہ آخری کون ہو گا… ؟ ” غازی نے کہا اور ساتھ ہی پستول کا ٹرگر دبایا
“تم ہو آخری… ” اس سے پہلے کہ وہ گولی چلاتا, چوہان نے اپنا پستول اس کی کنپٹی سے لگا دیا
“شاباش… تو تم نے اپنا آخری شکار ڈھونڈ ہی لیا, چلو… چلاؤ گولی” اس نے کہا, غازی نے ایک نظر ہاشمی کی طرف دیکھا تھا
“سوچ کیا رہے ہو ؟ مار دو اسے” چوہان کہے جا رہا تھا, آخر کار اس نے غازی کو جرم کرتے ہوئے پکڑ ہی لیا تھا
“ٹھیک ہے, اگر تم اسے گولی نہیں مارو گے تو میں اسے مار دوں گا اور تمہیں اس کے قتل کے جرم میں جیل لے جاؤں گا… اور میں ایسا بڑی آسانی سے کر سکتا ہوں” چوہان نے کہا
“گولی چلاؤ غازی… آج کھیل ختم کرتے ہیں” چوہان نے اپنے پستول کا رخ ہاشمی کی طرف کرتے ہوئے کہا
“آج نہیں… ابھی نہیں” چوہان کی طرف دیکھتے ہوئے غازی نے جست لگائی اور اس تین منزلہ عمارت کی چھت سے نیچے کود گیا
چوہان حیران رہ گیا, وہ تو کبھی نہیں بھاگتا تھا…اس کے سر پر پستول رکھو تو چپ چاپ ہاتھ کھڑے کر دیتا تھا… پھر وہ آج کیوں بھاگا ؟
“اسے تھانے لیکر جاؤ” ایک کانسٹیبل سے کہتے ہوئے وہ غازی کے پیچھے ہی کود گیا تھا اور پورا ایک گھنٹہ مسلسل اس کا پیچھا کرنے کے بعد اس نے غازی کی ٹانگ میں گولی مارتے ہوئے اسے زندہ پکڑ لیا تھا, اس کے دونوں ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگاتے ہوئے اسے تھانے لیکر آیا اور سلاخوں کے پیچھے بند کر دیا
“اپنی باقی کی ساری نیندیں اب یہیں سو کر گزارو گے تم… ” اس نے کوٹھری کو تالا لگاتے ہوئے کہا تھا
غازی کی آنکھوں میں کوئی ڈر نہیں تھا, کوئی خوف نہیں تھا, بس انگارے تھے… دہکتے ہوئے گہرے سرخ انگارے… !
…………………………
اس نے غازی کی گرفتاری انتہائی خفیہ رکھی تھی, نادر شاہ ہر ممکن کوشش کے باوجود غازی اور ہاشمی میں سے کسی ایک کو بھی بازیاب نہ کروا سکا, چوہان نے کئی بار غازی کے ہاتھ میں پستول دے کر ہاشمی کو گولی مارنے کے لیے کہا لیکن… بے سود, چوہان کے لئے اسے پھانسی کے پھندے تک پہنچانا مشکل نہیں تھا, وہ چاہتا تو بڑی آسانی سے ہاشمی کو گولی مار کر غازی کو پھانسی دلوا دیتا لیکن… کچھ تھا جو اسے کھٹک رہا تھا, وہ جانتا تھا کہ غازی نے اب تک جو کیا بدلے کے لئے کیا… وہ یہ بھی جانتا تھا کہ وہ ہاشمی کو گولی مارنا چاہتا ہے لیکن… مار نہیں رہا
کیوں ؟ یہ سوال اس کے دماغ میں کلبلاۓ جا رہا تھا
“کیا وجہ ہے… ؟” اور جو وجہ تھی وہ ایک ہفتے بعد خود اس کے آفس تک چلی آئی
“سر غازی کی ماں آئی ہے ؟” کانسٹیبل نے آ کر بتایا تھا
“کس کے ساتھ آئی ہے ؟” اس نے پوچھا
“ولی کے ساتھ… ” اس نے کہا
“بھیجو اندر… ” وہ پوری طرح اپنی فائلوں میں غرق تھا جب مریم اندر داخل ہوئی
“بیٹھو بی بی… ” چوہان نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا تھا, وہ یونہی کھڑی رہی
“میں نے کہا بیٹھ… ” ذرا غصے سے کہتے ہوئے چوہان نے اس کی طرف دیکھا اور… پلکیں جھپکنا بھول گیا
اپنی سولہ سال پرانی پہلی محبت اب تک زبانی یاد تھی اسے… اس رات صرف وہی نہیں نکلی تھی رحیم یار خان سے… وہ خود بھی ہمیشہ کے لئے گھر چھوڑ آیا تھا, میر آصف مرتضیٰ کے دئے سارے عیش و آرام کو ٹھوکر مار آیا تھا, قسم کھا آیا تھا کہ زندگی میں کبھی رحیم یار خان واپس نہیں جاۓ گا
کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا تھا اس نے اسے… پر وہ کہیں نہیں ملی تھی, وہ دھیرے سے اپنی نشست سے کھڑا ہوا اور اس کے قریب آ گیا, کرسی کھینچی اور اس کا بازو پکڑ کر کرسی پر بٹھا دیا
سیاہ پڑتی رنگت, لرزتے ہوۓ ہونٹ, اندر کو دھنسی ہوئی آنکھیں اور کانپتا ہوا وجود… وہ بس اسے دیکھتا رہ گیا, کچھ لمحوں بعد اس نے اپنی میز پر پڑی سینڈوچ کی پلیٹ میں سے ایک ٹکرا توڑا اور اس کی طرف بڑھا دیا
” عالی… ” اس کے لب ہلے تھے اور ایس پی ماحن مرتضیٰ چوہان وہ ٹکرا ہاتھ میں لئے پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا
اسے آج بھی صرف “عالی” ہی یاد تھا
…………………………….
وہ اس رات پولیس سٹیشن ہی رک گیا, اس کے ساتھ صرف ایک ایس ایچ او اور دو کانسٹیبل آن ڈیوٹی تھے, رات کے گیارہ بج رہے تھے جب اس نے غازی کو اپنے آفس میں بلوایا, وہ ہتھکڑیوں سمیت اس کے سامنے آ کھڑا ہوا
بالکل خاموش… بالکل چپ
دسمبر کے آخری دن تھے, باہر گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش ہو رہی تھی
“مجھے آج پتہ چلا کہ تم نے ہاشمی کو میرے کہنے پر گولی کیوں نہیں ماری ؟” اس نے غازی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“کیونکہ تم اسے اپنی ماں کے سامنے گولی مارنا چاہتے تھے, ہے نا… ؟” اس نے کہا, غازی اب بھی کچھ نہ بولا, وہ اپنی کرسی سے اٹھا اور دھیرے دھیرے چلتا آہو اپنے آفس کی کھڑکی کے پاس جا کھڑا ہوا, بارش کے قطرے زور و شور سے کھڑکی کے شیشے سے ٹکرا رہے تھے
“تم کہتے ہو نا کہ ہاشمی تمہاری لسٹ کا آخری بندہ ہے…” وہ بولنا شروع ہوا تھا
“تم ایسا اسلئے کہتے ہو کیونکہ تمہیں صرف وہ سب یاد ہے جو تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا, تمہیں صرف جاوید کاردار یاد تھا, منظر عباس یاد تھا, وہ چاروں لڑکے یاد تھے, صادق آباد بس اڈے کے وہ سب چہرے یاد تھے جنہوں نے تمہاری ماں کو رول کر رکھ دیا لیکن… اس سے پہلے جو ہو چکا وہ تو تمہیں پتہ ہی نہیں ” وہ کہتا جا رہا تھا
“تمہاری لسٹ میں پہلے نمبر پر وہ شخص ہونا چاہیے تھا جس نے پیدا کرنے کی بعد اپنی انتہائی معصوم اور خاص بیٹی کو گاؤں کی کچی گلیوں میں آوارہ پھرنے کے لئے چھوڑ دیا, جس نے کبھی اسے حجال بچھا کر بیٹھے ہوۓ ہوس کے شکاریوں سے بچانے کی کوشش نہیں کی, جو کبھی اس کا سائبان نہ بنا, جو اسے بیٹی ماننے سے ہی مکر گیا, جس نے اسے تن تنہا, خالی ہاتھ ایک انجان شہر میں یہ سوچے بغیر بھجوا دیا کہ…وہ آخر کیسے اپنی حفاظت کرے گی؟” غازی چپ چاپ اس کی بات سن رہا تھا
“اور تمہاری لسٹ میں دوسرے نمبر پر وہ عورت ہونی چاہیے تھی جسے دنیا اس کی ماں کہتی ہے, جس نے اپنی زندگی سنوارنے کے لئے اپنی بچی کی زندگی داؤ پر لگا دی, جس نے کبھی پیار سے اس کا ماتھا نہیں چوما, کبھی اسے گود میں نہیں اٹھایا, جو صرف اپنے عیش و آرام کی خاطر اسے قتل تک کروانے پر راضی ہو گئی” وہ کہتا جا رہا تھا
“اور تمہاری لسٹ کا آخری بندہ ہاشمی نہیں ہونا چاہئے بچے… تمہاری لسٹ کا آخری بندہ اس شخص کو ہونا چاہیے جس نے تمہاری ماں سے محبت کرنے کا دعویٰ تو کیا لیکن…اسے ثابت نہ کر سکا, دنیا کے ڈرانے سے ڈر گیا, جس نے تن کر دنیا کا مقابلہ کرنے کی بجاۓ ڈر کر تمہاری ماں کو آگ میں جھونک دیا” اب کے غازی کی آنکھیں پھیلیں تھیں
“تمہاری لسٹ کا آخری شخص مجھے ہونا چاہیے غازی… ” ماحن کے آنسو گر رہے تھے
“میں نے آج سولہ سال بعد دیکھا ہے اسے, آج مجھے پتہ چلا ہے کہ جب میں اے سی کی خنک ٹھنڈک میں سو رہا ہوتا تھا تو میری محبت تپتی سڑکوں پر دھکے کھا رہی ہوتی تھی, آج اسے دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ کاش جو گھر میں نے اس کے جانے کے بعد چھوڑا… وہ پہلے چھوڑ دیا ہوتا, کاش میں اسے حویلی لیکر ہی نہ جاتا, کاش میں اس سے محبت ہی نہ کرتا” وہ مسلسل رو رہا تھا
“کاش مجھے پتہ ہوتا کہ وہ صادق آباد میں تھی… کاش” غازی دم بخود اسے دیکھ رہا تھا, کچھ دیر بعد اس نے اپنے آنسو صاف کیے اور غازی کی طرف مڑا
“تم اسے اپنی ماں کے سامنے گولی مار سکتے ہو… ” اس نے کہا
“میں اسے بس ایسے ہی نہیں مار دینا چاہتا تھا ایس پی… میں پہلے اسے سب کچھ بتانا چاہتا تھا, وہ سب کچھ جو پچھلے سولہ سالوں میں میری ماں کے ساتھ ہوا, وہ سب کچھ جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا, میں اسے ہر اس رات کی کہانی سنانا چاہتا تھا جب میری ماں کسی بند دروازے کے اندر چیخ رہی ہوتی تھی اور میں اس دروازے کے باہر پڑا اس کی چیخیں سن رہا ہوتا تھا, میں اسے ان تمام چیزوں کے نام بتانا چاہتا تھا جنہیں کھا کھا کر اس نے سولہ سال گزارے… گلے سڑے پھل, روٹیوں کے سوکھے ٹکرے, خیراتی کھانا, ٹونٹیوں اور نلکوں کا گرم پانی…میں اسے بتانا چاہتا تھا کہ میری پاگل اور ابنارمل ماں نے کس طرح ہر روز مٹی ہو ہو کر مجھے پالا, اور آخر میں میں بس اس سے ایک ہی سوال پوچھنا چاہتا تھا کہ اسے کس نے حق دیا تھا ایک معصوم لڑکی کو یوں تہس نہس کر دینے کا… کس نے ؟” غازی کہتا چلا گیا
“اس نے پچھلے نو سالوں میں مجھے بہت کچھ سکھایا ہے, چاقو بازی, گاڑی دوڑانا, لڑنا, گولی چلانا… میں بس وہی گولی اس کے سی ے میں اتار دینا چاہتا ہوں, آنکھیں بند کر کہ اپنا پورا میگزین اس پر خالی کر دینا چاہتا ہوں اور پھر آنکھیں کھول کر اس کی خون میں لت پت لاش دیکھنا بھی نہیں چاہتا” وہ نم آنکھوں کے ساتھ کہتا جا رہا تھا
…………………………………..
وہ جنوری کا ایک یخ بستہ دن تھا جب وہ خان پور پولیس سٹیشن چلا آیا اور اس نے شاہد نذیر اور اس کی بیوی صائمہ شاہد دونوں کو اپنے سامنے طلب کر لیا
“کتنے بچے ہیں تمہارے ؟” اس نے پوچھا
“تین… دو بیٹیاں اور ایک بیٹا” شاہد نے کہا
“کتنے ایکڑ زمین ہے تمہارے پاس ؟” اس نے پھر پوچھا
“سات ایکڑ… ” اس نے کہا
“اب سے تقریباً سولہ سال پہلے تم نے ایک پاگل اور معذور لڑکی کو صادق آباد جانے والی بس پر بٹھایا تھا, یاد ہے ؟” اس کے کہتے ہی شاہد اور صائمہ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا
“وہ کون تھی ؟” اس نے پوچھا, شاہد بول نہ سکا
“تم دونوں میاں بیوی میری بات کان کھول کر سنو, ویسے تو تم دونوں اس قابل ہو کہ تمہیں سر عام گولی مار دی جاۓ, اس معصوم لڑکی کے ساتھ تم دونوں نے جو سلوک کیا میں سب جانتا ہوں اور میں چاہوں تو آج تم دونوں کو میڈیا اور ہیومن رائٹس والوں کے سامنے ننگا کر دوں لیکن کوئی فائدہ نہیں… اس کے ساتھ جو ہو چکا وہ بدلا نہیں جا سکتا, میں تمہارے سامنے ایک نسبتاً آسان راستہ رکھ رہا ہوں, اپنی جائیداد میں سے اپنی بڑی بیٹی کا حصہ دو…اس کے حصے کی زمین اس کے نام کرو اور جلد از جلد کاغذات لا کر میرے حوالے کرو… ورنہ تمہارے تینوں بچے تم دونوں کی خاطر جیل کے چکر لگاتے رہ جائیں گے” وہ کہتا چلا گیا تھا
“وہ کہاں ہے ؟” شاہد نے کچھ دیر بعد پوچھا
“تم جیسے باپ کو یہ تک پوچھنے کا کوئی حق نہیں… وہ جہاں بھی ہے ابھی تک زندہ ہے” ماحن نے کہا تھا
اور چودہ دن بعد شاہد نذیر نے مریم کے حصے کی زمین اس کے نام کر کہ کاغذات اس کے حوالے کر دئے تھے
اسے اب بھی مریم سے کوئی سروکار نہیں تھا, اگر چند ایکڑ زمین کے بدلے وہ اس کی زندگی سے دور رہتی ہے تو اسے اور کیا چاہیے تھا, ایک بیٹا اور دو بیٹیاں… اس کا گھرانہ تو مکل تھا, اس کے ایک کنال کے گھر میں مریم کی جگہ نہ پہلے تھی… نہ آج تھی
…………………..
آج سولہ سال بعد وہ اس گھر کی دہلیز پر واپس آیا تھا, سعدیہ اسے نیچے لاؤنج میں ہی مل گئی
“تو تمہیں سولہ سال بعد گھر کی یاد آ ہی گئی ؟” وہ اسے دیکھ کر بڑے طنز سے مسکرائی تھی
“نہیں… مجھے اس گھر کی یاد آج بھی نہیں آئی” اس نے کہا
“تو پھر کیا زبردستی بھیج دئیے گئے ہو ؟” اس نے پوچھا
“ہاں شائد… جیسے سولہ سال پہلے تمہاری بیٹی یہاں سے زبردستی بھیج دی گئی تھی ” اس کے کہتے ہی سعدیہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا
“کہاں ہے وہ ؟” اس نے پوچھا
“میرے پاس… ” ماحن دھیرے سے مسکرایا
“اور میں تمہیں وہی بات کہنے آیا ہوں جو سولہ سال پہلے کہی تھی, میں اس سے شادی کرنے لگا ہوں, اس کے بعد اسے میڈیا کے سامنے لیکر آؤں گا, تمہاری سنگدلی اور سفاکی کی داستان پورے شہر کو سناؤں گا, پھر دیکھوں گا تم اس بار ایم پی اے کیسے بنو گی ؟” وہ کہتا چلا گیا
“تم ایسا نہیں کر سکتے… ” سعدیہ کا رنگ فق ہو گیا تھا
“کیوں… آج میں ایس پی ماحن مرتضیٰ چوہان ہوں, آج میں جو چاہوں کر سکتا ہوں ” اس نے کہا, سعدیہ بول نہ سکی
“سولہ سال پہلے تم نے میرے سامنے دو آپشنز رکھے تھے, آج میں تمہارے آگے دو آپشنز رکھ رہا ہوں, پچاس کروڑ روپے مریم کے اکاؤنٹ میں اور بہاولپور میں ایک گھر… بالکل اس گھر جیسا… یا پھر تمہاری بربادی” ماحن نے کہا
“اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ اس کے بعد تم کبھی مجھے اس کے نام سے بلیک میل نہیں کرو گے؟” سعدیہ نے کہا
“یاد کرو تم نے مجھے مریم کی کیا گارنٹی دی تھی جب اسے زبردستی خان پور واپس بھیج دیا تھا ” ماحن نے کہا, سعدیہ چپ رہ گئی
“تمہارے پاس دو دن ہیں ” وہ کہتے ہوئے کھڑا ہو گیا
“سنو… میرے بیٹے کو کس نے قتل کیا؟” اس نے پوچھا تھا
“ایک قاتل کو یہ پوچھنے کا کوئی حق نہیں ہے” وہ کہتا ہوا واپس مڑ گیا
اور شاہد کی طرح سعدیہ کو بھی مریم سے کوئی سروکار نہیں تھا, اسے آج بھی اپنی عزت, اپنا مرتبہ اور اپنی ساکھ پیاری تھی, مریم کے اس کی زندگی سے دور رہنے کے لئے پچاس کروڑ کوئی زیادہ رقم نہیں تھی, اس نے دو دن کے اندر اس کی دونوں ڈیمانڈز پوری کر دیں تھیں
………………………
گہرا نیلا آسمان شفق کی قطاروں سے سرخ ہو رہا تھا جب وہ غازی اور ہاشمی کو پولیس کسٹڈی میں لئے اس کے گھر پہنچا, نادر شاہ نے مریم کی دیکھ بھال کے لئے ایک عورت اس کے پاس بھیج دی تھی, اس نے اشارے سے اسے وہاں سے جانے کے لئے کہا, وہ سر جھکا کر باہر نکل گئی, مریم شائد اندر تھی
“دونوں کو اندر لے آؤ” اس نے ایس ایچ او سے کہا, وہ سر ہلا کر دونوں کو اندر لے آیا
“دو کانسٹیبل گھر کے دروازے پر چھوڑ دو اور باقی فورس لیکر تھانے واپس چلے جاؤ” اس نے ایس ایچ او کو حکم دیا, وہ دو سپاہی وہاں تعینات کر کے واپس چلا گیا
“جاؤ اپنی ماں کو لے آؤ… ” چوہان نے اس کی ہتھکڑیاں کھولتے ہوئے کہا تھا, وہ ایک نظر ہاشمی کی طرف دیکھتا ہوا اندر چلا گیا, علی ہاشمی سر جھکاۓ صحن کے وسط میں کھڑا تھا, کچھ دیر بعد غازی مریم کو لے آیا, وہ غازی کا سہارا لیکر چل رہی تھی, ہاشمی بس پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھتا رہ گیا
وہ کیا سے کیا بن گئی تھی
“لو… اپنی ماں کا بدلہ لے لو” چوہان نے اپنا ریوالور غازی کی طرف اچھال دیا
“کاش میں اسے بتا سکتا کہ تم اس کے مجرم ہو” غازی نے وہ ریوالور ہاشمی پہ تان لیا تھا
“میں نے اپنی ماں کو کئی سال لوگوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنتے دیکھا ہے, قانون کے رکھوالوں کے قدموں میں رلتے دیکھا ہے, سیاسی لوگوں کے ہاتھوں استعمال ہوتے دیکھا ہے لیکن… میں نے اسے کبھی اپنی اس حالت پہ روتے نہیں دیکھا, کبھی خدا سے شکوہ کرتے نہیں دیکھا کیونکہ… اسے آتا ہی نہیں ہے, اسے اپنے نصیب پر رونا آتا ہی نہیں ہے, اسے اپنے اللہ سے شکوہ کرنا آتا ہی نہیں ہے, اسے پتہ ہی نہیں کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ؟ اسے پتہ ہی نہیں کہ وہ کس سے اپنا قصور پوچھے ؟ ” غازی کی آنکھیں بھیگ رہی تھیں
“اور مجھے پورا یقین ہے کہ اسے تو ٹھیک سے یہ بھی نہیں پتہ کہ میں کون ہوں ؟” وہ رو رہا تھا
“تمہیں کوئی حق نہیں تھا ایک ایسی لڑکی کو اپنی نفسانی خواہشات کے لئے استعمال کرنے کا جسے ٹھیک سے اپنا نام لینا بھی نہیں آتا ” اس نے نفرت سے کہتے ہوئے ٹرگر دبایا تھا لیکن…
اس کے پہلو میں کھڑی اس کی ماں نے زور سے اس کا بازو کھینچا, وہ نفی میں گردن ہلا کر اسے گولی چلانے سے منع کر رہی تھی, اپنی انگلیوں کے اشارے سے نہ جانے اسے کیا سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی, وہ حیرانی سے اسے دیکھتا رہ گیا
“عالی… ” وہ اسے پہچان گئی تھی, لڑکھڑا کر چلتے ہوئے وہ ہاشمی کے قریب آئی تھی, پھر اسے دیکھ کر زور سے مسکرائی, اپنے دونوں ہاتھ اس کے چہرے پر پھیرتے ہوئے اس کے گال چومے اور اس کے سینے پی اپنا سر رکھ کر کھڑی ہو گئی
“عالی… ” یہ اس کی محبت تھی, وہ محبت جو علی ہاشمی نے اسے سکھائی تھی اور وہ آج تک نہیں بھولی تھی
اسے کچھ یاد نہیں تھا, نہ اپنی ماں, نہ اپنا باپ, نہ اپنا بیٹا, نہ ماحن… کچھ نہیں
اگر کچھ یاد تھا تو وہ “عالی” تھا, جو اس سے پیار کرتا تھا, اسے نوالے بنا کر کھلاتا تھا, اس کاہاتھ منہ دھلواتا تھا, اسے تحفے دیتا تھا, اس کے بال بناتا تھا, اسے اپنی رانی کہتا تھا
ہاشمی کے لئے چاہے وہ ایک کھلونا ہی سہی, چاہے ایک ٹائم پاس ہی سہی, چائے فارغ وقت کا ایک شغل ہی سہی… لیکن مریم کے لئے وہ اس کی کل کائنات تھا, وہ اس کا عالی تھا… ہمیشہ کے لئے
غازی روتے ہوئے اپنے گھٹنوں پر گر گیا, ریوالور کب کا اس کے ہاتھ سے چھوٹ چکا تھا
“کون کہتا ہے میری ماں پاگل ہے ؟ ” وہ روتا چلا گیا
“اسے کیا نہیں آتا… اسے تو سب آتا ہے, اسے تو محبت کرنا بھی آتا ہے, اس محبت کو ہمیشہ یاد رکھنا بھی آتا ہے اور اس محبت کو معاف کرنا بھی آتا ہے” چوہان چپ چاپ نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا, ہاشمی بول بھی نہ سکا… بس اس نے دھیرے سے اپنا سر مریم کے سر پر رکھ دیا تھا
“یہ تو اس قابل تھی کہ تم اسے ہمیشہ اپنے دل میں رکھتے کمینے انسان… ہمیشہ اس کے آگے ڈھال بن کر کھڑے ہوتے لیکن تم نے… تم نے اسے رول کر رکھ دیا” اسے روتا دیکھ کر مریم اس کے پاس آئی, اور اپنے دوپٹے سے اس کے آنسو صاف کرنے لگی, وہ نفی میں سر ہلا کر اسے رونے سے منع کر رہی تھی
“اپنی ماں کو لیکر یہاں سے چلے جاؤ, باہر گاڑی میں دو ایکڑ زمین کے کاغذات پڑے ہیں جو تمہاری ماں کے نام ہے, اس کے اکاؤنٹ میں پچا کروڑ ٹرانسفر ہو چکا ہے, بہاولپور چلے جانا, وہاں تمہارے لئے ایک گھر کا بندوبست بھی ہو چکا ہے” چوہان اپنی گاڑی کی چابی اس کی طرف اچھالتے ہوۓ بولا تھا
“جاؤ اور جا کر اپنی ماں کے ساتھ ایک عزت بھری زندگی گزارو” وہ اپنا ریوالور اٹھاتے ہوئے بولا
غازی ایک نظر ہاشمی کو دیکھتے ہوئے مریم کو لیکر وہاں سے چلا گیا تھا
………………………
“ایس پی ماحن مرتضیٰ چوہان کی ایک اور جیت… میر ثمران مرتضیٰ کا قاتل پکڑا گیا” اگلی صبح تمام اخباروں کی فرنٹ لائن خبر یہ تھی
“مجرم علی ہاشمی نے اپنے تمام سابقہ جرائم قبول کر لئے… اس پر قتل کا مقدمہ عائد” تمام نیوز چینلز پر یہ ہی چرچا تھی
علی ہاشمی کو جوڈیشل کسٹڈی میں دینے کے بعد ایس پی ماحن مرتضیٰ چوہان نے ایک بہت بڑی پریس کانفرنس کی, ہر نیوز چینل پر اس کی کانفرنس لائیو دکھائی گئی, ہر اخباری رپورٹر اور صحافی وہاں موجود تھا
“میں نے یہ پریس کانفرنس اسلئے نہیں بلوائی کہ میں آپ کو علی ہاشمی کے تمام سابقہ جرائم کا قصہ سنا سکوں, وہ ایک قاتل ہے اور اپنے تمام جرائم قبول کر چکا ہے, بہت جلد وہ پھانسی کے پھندے پر ہو گا, میرا مقصد صرف آپ کو اصل حقائق سے آگاہ کرنا ہے, بعض اوقات بظاہر بے قصور نظر آتے لوگ ہی سب سے بڑے مجرم ہوتے ہیں, میں سر عام کہتا ہوں کہ ہاشمی نے جن لوگوں کو قتل کیا وہ خود کوئی دودھ کے دھلے نہیں تھے, جاوید کاردار, منظر عباس, ثمران مرتضیٰ… یہ سب مجرم تھے…” وہ ایک ایک کر کہ سب کچھ کہتا چلا گیا, مریم کی پوری زندگی اس نے میڈیا کے سامنے رکھ دی, کیا شاہد اور کیا صائمہ… کیا میر آصف اور کیا سعدیہ… کسی کو بھی نہ بخشا
“ہم اپنے ووٹ سے ایک ایسے شخص کو چنتے ہیں جس کے دل میں رتی برابر عوام کی خیر خواہی کا جذبہ موجود ہو, جو لوگوں کی بیٹیوں کو چاہے اپنی بیٹیاں نہ سمجھے… لیکن کم از کم بیٹیاں ضرور سمجھے, جو کسی کی روتی ہوئی بیٹی کے دکھ کا مداوا چاہے نہ بھی کرے… لیکن اس کے دکھ پر دل سے شریک ضرور ہو, جو کم از کم اپنے بیٹے کو عورت کی عزت کرنا ضرور سکھا سکے… کیا فائدہ ایک ایسے شخص کو ووٹ دینے کا جو اپنی اولاد کو سڑک کنارے بیٹھی لڑکی کو مفت کا مال سمجھنے سے نہ روک سکے ؟ کیا فائدہ ایک ایسی عورت کو ووٹ دینے کا جو جس کے دل میں اپنی بیٹی کے لئے بھی رحم کی رمک نہ ہو ؟ وہ عورت آپ کی بہو بیٹیوں کی کیا حفاظت کرے گی جس کی اپنی بیٹی پورے سولہ سال سڑکوں پر تماشہ بنتی رہی… ” وہ کہتا چلا گیا, سارا اگلا پچھلا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا
ہیومن رائٹس والے تمام ادارے اور این جی اوز شاہد اور سعدیہ کے پیچھے پڑ گئے, پارٹی نے سعدیہ مرتضی ک لائسینس بھی کینسل کر دیا اور میر آصف مرتضیٰ پورے پندرہ سال بعد اپنی آبائی سیٹ پر الیکشن ہار گیا, ان دونوں میاں بیوی کی ساری عزت اور شہرت خاک میں مل گئی
“تم نے گارنٹی دی تھی گھٹیا انسان… ” سعدیہ اس پر چڑھ دوڑی تھی
“میں نے نہیں دی تھی ” وہ بس مسکرا دیا تھا
…………………………
“بہت خوب چوہان… کم از کم باپ کو تو بخش دیتے” وہ ایکٹر پھر ڈی آئی جی کے سامنے تھا
“باپ نے کونسا عمر بھر کسی کو بخشا تھا…” اس نے کہا
“آب کہاں جانا ہے ؟” انہوں نے پوچھا
“”بہاولپور… ” وہ بولا
“وہاں کون ہے ؟ ” انہوں نے مسکرا کر پوچھا تھا, اب وہ انہیں کیا بتاتا… ؟
وہاں تو اس کی پوری زندگی موجود تھی
ختم شد
