Rate this Novel
Episode 4
فیصل آباد سے صادق آباد آنے والی بس اپنے سٹاپ پر آ کر کھڑی ہو گئی تھی, وہ آخری سیٹ کے ایک کونے میں دبکی, سیٹ کی پشت سے ٹیک لگاۓ دنیا و مافیہا سے بیگانہ ہو کر سو رہی تھی
“او بی بی… سٹاپ آ گیا” کنڈکٹر نے زور سے اس کا بازو جھنجھوڑا تھا, وہ ہڑبڑا کر اٹھ کھڑی ہوئی, پوری بس خالی ہو گئ تھی
“نکل باہر… ” صفائی کرنے والا ہاتھ میں جھاڑو لیے آ گیا, وہ خوفزدہ نظروں سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے نیچے اتر گئی
ہر طرف انجان لوگ, ہر طرف بسوں اور گاڑیوں کے انجنوں کی آوازیں, ہر طرف شور, ہر طرف دھواں…!
“ماااااا….! ” وہ بری طرح ڈر گئی اور ایک طرف کو دوڑ پڑی
“باااااا….! ” ماں نے نہیں سنا تو باپ کو پکارنے لگی
“عالی… ” ماں اور باپ کے بعد یہ واحد لفظ تھا جو اسے آتا تھا
وہ مسلسل ادھر ادھر بھاگ رہی تھی, رو رہی تھی, چیخ رہی تھی
لیکن کسی کو کیا فکر…؟
کون اس کی بات سنتا ؟ کون اس کا دکھ سمجھتا ؟
جیسے جیسے دن آگے کو بڑھا, اسے بھوک لگنے لگی,
صادق آباد کا بس سٹاپ کافی بڑا تھا, بسوں کے سٹاپس کے بالکل سامنے پھل فروشوں, سموسے, پکوڑوں, بوتلوں, اور کھانے پینے کی دیگر اشیاء کی ریڑھیاں لگی ہوئی تھیں, ان کے پیچھے اڈے کی عمارت تھی جس کے آگے بنے وسیع و عریض برآمدے نما انتظار گاہ میں نہ صرف بینچ رکھے تھے بلکہ دو, تین پنکھے بھی چل رہے تھے, پانی پینے کے لئے دو عدد واٹر کولر بھی موجود تھے, عمارت کے پچھلی طرف ایک گھاس لگا میدان تھا جہاں بے گھر اور لاوارث لوگوں نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے
اچانک اس کی نظر ریڑھیوں کےساتھ لگے گلے سڑے پھلوں کے ایک ڈھیر پر پڑی, وہ ان پر ٹوٹ پڑی… جو ہاتھ لگا کھاتی چلی گئی, پیٹ بھر گیا تو گلاس بھر کر پانی پیا اور ایک بینچ پر جا بیٹھی, بہت دیر وہ وہاں بیٹھی بس سٹاپ کی ہلچل دیکھتی رہی, شام کو پھر وہی گلے سڑے پھل اور ایک گلاس پانی… رات ہوئی تو گھاس پر جا کر لیٹ گئی
ہم کہہ دیتے ہیں نا کہ ماں, باپ معاشی طور پر “سوکھے” ہوں تو اولاد عیش کرتی ہے…نہیں, یہ غلط ہے
یہ صحیح ہوتا تو پانچ ایکڑ زمین اور ایک کنال کے گھر کے مالک شاہد نذیر کی چودہ سالہ بیٹی یوں بے یارو مددگار کھلے آسمان کے نیچے تاروں کی چھاؤں میں نہ سو رہی ہوتی
یہ صحیح ہوتا تو رحیم یار خان کی ایم پی اے اور کئی ایکڑ پراپرٹی اور کئی کروڑ بیک بیلنس کی مالک سعدیہ مرتضیٰ کی چودہ سالہ بیٹی یوں لاوارثوں کی طرح ایک انجان شہر میں خوار نہ ہو رہی ہوتی
وہ چودہ سالہ معصوم لڑکی تو اس قابل تھی کہ اسے پھولوں کی طرح رکھا جاتا, ماں کی پر محبت گود ہوتی, باپ کی پر شفقت چھت ہوتی, ان دونوں کی بے پناہ توجہ ہوتی
لیکن وہ رل رہی تھی… پتھروں کی طرح ٹھوکریں کھا رہی تھی
صبح آنکھ کھلتی تو گلے سڑے پھلوں کے ڈھیر کے پاس جا کر بیٹھ جاتی, چن چن کر اپنی پیٹ پوجا کرتی اور پھر پانی پی کر ڈکار مار لیتی, سورج سر پر آنے تک پورے بس سٹاپ کے کوئی آٹھ, دس چکر لگاتی اور کھیل کود میں لگی رہتی, دوپہر ہوتے ہی بھوک پھر سے جاگ پڑتی, بس سٹاپ کے باہر سیلانی والوں کا ایک کیمپ بھی لگا ہوا تھا جہاں مفت خیراتی کھانا ملتا تھا, وہاں سے چاولوں کا ایک شاپر لیکر بھوک مٹاتی, پھر انتظار گاہ میں پڑ کر سو جاتی, شام کے ساۓ لمبے ہونے لگتے تو آنکھیں ملتے ہوئے اٹھ بیٹھتی, رات کو پھر سے مانگ, تانگ کر کھانا کھاتی اور اپنا سکارف اوڑھ کر سو جاتی
اس معذور اور پاگل لڑکی نے پورے چھ ماہ اس بس سٹاپ پر گزارے, یونہی رلتے ہوۓ, خوار ہوتے ہوۓ, خیراتی کھانے اور گلے سڑے پھل کھاتے ہوئے, اس کے بدن پر موجود کپڑوں سے بدبو آنے لگی تھی, اس کے بالوں میں جوئیں پڑ گئیں, اس کے جوتے ٹوٹ گئے, ان چھ ماہ میں وہ کئی دفعہ بیمار بھی ہوئی
بخار, نزلہ, کھانسی, پیٹ درد… اور سب سے بڑھ کر حمل کی تکلیف…!
اسے پتہ ہی نہیں تھا کہ اس کے اندر ایک نیا وجود جنم لے رہا تھا
………………………..
وہ فروری کی ایک سرد رات تھی جب اسے شدید لیبر پین کی لہریں اٹھنے لگیں, کچھ دیر تو وہ تکلیف کی شدت سے بلبلاتی ہوئی ادھر ادھر پھرتی رہی, پھر جب درد ناقابل برداشت ہو گیا تو چیخیں مار مار کر رونے لگی, آس پاس کے لوگ بس اس کا تماشہ دیکھ رہے تھے
“اسے ہسپتال چھوڑ آؤ… ” ایک بوڑھی سی عورت نے کہا تھا, دو آدمی اسے بس سٹاپ کے قریب ہی موجود سرکاری ہسپتال میں چھوڑ آۓ
چیخوں اور سسکیوں کے ساتھ اس نے ایک بیٹے کو جنم دیا تھا
ہسپتال والوں نے بس اسے دو دن رکھا, اس کے بیٹے کی پیدائش نارمل ہی ہوئی تھی, دو دن بعد نرسوں نے اس پر ترس کھا کر نہ صرف اس کے دو دن کے بچے کو کپڑے دے دئیے بلکہ اس کے اپنے کپڑے بھی تبدیل کروا دئیے, بچے کو سفید کپڑے میں لپیٹ کر اس کی گود میں ڈالا اور کہا کہ “جاؤ”
وہ بچہ ہاتھ میں لئے کھڑی رہ گئی
“اسے کون لیکر آیا تھا ؟” نرس نے وارڈ بوائے سے پوچھا
“دو آدمی لیکر آۓ تھے, اڈے سے… ” اس نے کہا
“جاؤ اسے اڈے واپس چھوڑ آؤ” نرس نے اس کے ہاتھ پر سو روپے بھی رکھ دیئے تھے, وارڈ بوائے اسے واپس اڈے چھوڑ گیا
اب اس کے لئے ایک نئی پریشانی ؟
خود تو جیسے تیسے کھا پی کر گزارہ کر لیتی لیکن بچہ… اسے دودھ چاہئے تھا, وہ جب بھوک سے بلکتا تو ساتھ ہی خود بھی رونے لگتی, دھیرے دھیرے اسے پتہ چلا کہ بچہ دودھ مانگتا ہے, کبھی کسی ریڑھی والے کا بازو کھینچتی اور کبھی کسی کا… لوگ ترس بھی آخر کتنی دفعہ کھاتے… اس کے ہاتھ میں تو ایک سکہ تک نہیں تھا
ایک بار پھر سے اس کی خوبصورتی اور نسوانیت اس کے لئے مصیبت بن گئی, اس کے پاس پیسے نہیں تھے تو کیا ہوا ؟
وہ ایک لڑکی تھی… پندرہ سالہ نوخیز لڑکی
انتہائی حسین… وہ اپنے جسم کے بدلے سب کچھ خرید سکتی تھی اور اس نے خریدا… پورے دو سال اس نے اپنا آپ بیچ بیچ کر اپنے بچے کے لئے دودھ کے چند گھونٹ مہیا کئے, اس کے لئے گرم کپڑوں کا انتظام کیا, پورے بس سٹاپ کو اس کی کمزوری پتہ چل گئی تھی
اس کا چھوٹا سا بچہ…
ہر شخص نے اس سے فائدہ اٹھایا, ہر شخص نے اسے چند گھونٹ دودھ کے بدلے پوری پوری رات استعمال کیا, ہر رات کسی نہ کسی دوکان کے بند شٹر سے اس کی چیخیں باہر سنائی دے رہی ہوتیں, ہر رات وہ کسی نہ کسی کے نفس کی تسکین کر رہی ہوتی… صرف چند سکوں کے بدلے
وہ معذور تھی تو کیا ہوا؟
وہ پاگل تھی تو کیا ہوا ؟
وہ ایک ماں تھی, اسے پتہ تھا کہ بچہ روۓ تو سینے سے لگانا ہے, بلکے تو محبت سے ماتھا چومنا ہے, ضد کرے تو پیار سے بہلانا ہے, بھوک سے بلبلاۓ تو منہ میں دودھ ڈالنا ہے, سوۓ تو گود کی آغوش دینی ہے, سردی لگے تو خود ٹھنڈے فرش پر بیٹھ کر اسے گرم کمبل میں لپیٹنا ہے, گرمی لگے تو خود تپتے فرش پر بیٹھ کر اسے جھولی میں رکھنا ہے
…………………………….
موجودہ حکومت کے پانچ سال پورے ہو گئے تھے, الیکشنز نزدیک تھے, پورے ملک میں الیکشنز کمپینز شروع ہو گئی تھیں, ایک دن رحیم یار خان سے ایک انتہائی سر گرم سیاسی کارکن جاوید کاردار صادق آباد آیا, وہ اپنی پارٹی کے لئے ووٹ جمع کر رہا تھا, اسی دوران اس کی نظر سترہ سالہ مریم پر پڑی… وہ ایک ماہر جوہری تھا اور اس نے ہیرے کو پہچان لیا, ادھر ادھر سے مریم کی سن گن لیکر وہ اسے اپنے ساتھ رحیم یار خان لے گیا اور وہاں اسے ایک بدنام زمانہ گینگ کو بیچ کر میر آصف مرتضیٰ اور سعدیہ مرتضیٰ کے لئے 200 ووٹ حاصل کر لئے, مسلسل ہر رات وہ کمروں کے اندر پامال ہوتی اور اس کا دو سالہ بچہ دروازے سے باہر فرش پر پڑا اس کی چیخیں سن رہا ہوتا… جاوید کاردار نے پورے سات ماہ اسے استعمال کیا, بیشک اس دوران اسے اپنے گھر چھت کے نام پر ایک ڈربہ نما کمرہ دیا, تین وقت کا کھانا دیا, اسے اور اس کے بچے کو کپڑے دئیے لیکن… بدلے میں اسے جسم فروشی پر لگا دیا, ہر رات کے بدلے وہ دس, دس ووٹ خریدتا, خدا خدا کر کے الیکشنز ختم ہوۓ اور مریم کی جان چھوٹی… اپنا مطلب پورا ہوتے ہی وہ اسے فٹ پاتھ پر چھوڑ گیا
تب اس کا بیٹا چار سال کا تھا
………………………………
وہ الیکشنز والی رات تھی… میر آصف مرتضیٰ اور اس کی بیوی سعدیہ مرتضیٰ کی جیت کی رات
ہر طرف جشن, پٹاخے, فائرنگ, ناچ گانا, پینا پلانا…!
نوجوانوں کے غول کے غول موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں پر سیٹیاں بجاتے اور غل غپاڑ کرتے پھر رہے تھے, جیتنے والی پارٹی پورے رحیم یار خان میں خوشی کے شادیانے بجوا رہی تھی, وہ تین, چار لڑکوں سے بھری ہوئی ایک کار تھی جو زن سے اس کے پاس سے گزری… وہ فٹ پاتھ کے کنارے لیٹی ہوئی تھی, اس کا بیٹا اس کے پاس ہی بیٹھا کر رہا تھا
“بریک لگا… بریک لگا” ایک لڑکے نے زور سے کہا, گاڑی اس کے بلکل قریب آ کر رک گئی
“یہ اکیلی ہے جگر… ؟” ایک اور لڑکے نے کہا
“ہاں… اٹھا لیں” دوسرے نے پوچھا
“جب اکیلی ہے تو پوچھنا کیسا… اٹھا کے اندر ڈال” پہلے لڑکے نے کہا اور مریم کو زبردستی کھینچ کر گاڑی میں ڈال لیا
“اماں… ” اس کا چار سالہ بیٹا ننگے پاؤں گاڑی کے پیچھے بھاگا تھا, وہ چاروں اسے لیکر ایک خالی شیڈ میں آ گئے, ان میں سے ایک نے مریم کے سکارف سے اس کا منہ باندھ دیا تھا
پوری رات ان چاروں نے باری باری اس کی بے حرمتی کی, مریم کی چیخیں بھی باہر نہ نکل سکیں, اس کا چار سالہ بیٹا شیڈ کا دروازہ بجا بجا کر تھک گیا, رو رو کر تھک گیا, چیخ چیخ کر تھک گیا
کوئی مدد کے لیے نہ آیا… کسی کو رحم نہ آیا
صبح کے قریب وہ چاروں جیت کے نشے میں مدہوش اسے وہیں چھوڑ کر واپس چلے گۓ
“اماں… “وہ چار سالہ بچہ اندر آیا تھا, اس کی ماں کے جسم پر ایک چیتھڑا تک نہیں تھا, اس نے بڑی مشکلوں سے اس کے منہ پر بندھا ہوا سکارف کھول دیا, وہ نیم مردہ ہوئی پڑی تھی, اس کے خون سے فرش سرخ ہوتا جا رہا تھا, اس بچے نے دھیرے سے اپنا سر اس کے سینے پر رکھتے ہوۓ آنکھیں بند کر لیں تھیں
…………………………………
رحیم یار خان کے فٹ پاتھ پر پڑے اس نے مزید دو سال گزارے, اس کا بیٹا چھ سال کا ہو گیا
وہ اپنی ماں جیسا نہیں تھا
وہ ایک مکمل انسان تھا, انتہائی سمجھدار, انتہائی ذہین…!
رفتہ رفتہ اسے اندازہ ہو گیا کہ اس کی ماں فٹ پاتھ پر پڑی دوسری عورتوں کی طرح نہیں تھی, وہ اس کی کوئی بات نہیں سنتی تھی, اس کی کسی بھی بات کاجواب نہیں دیتی تھی, اسے دوسری عورتوں کی طرح بولنا نہیں آتا تھا, وہ صرف ایک لفظ بولتی تھی
“عالی”
لوگ اس کی ماں کو پاگل کہتے تھے, اس سے فائدہ اٹھاتے تھے
وہ اس سے بہت پیار کرتی تھی, اس کا بہت خیال رکھتی تھی لیکن… وہ اس کی کوئی بات نہیں سمجھتی تھی…دھیرے دھیرے اسے اس بات ک ادراک ہوا کہ اسے اپنی ماں کی حفاظت کرنا تھی
کیونکہ وہ خود اپنی حفاظت کرنا نہیں جانتی تھی
………………………………..
وہ ساون کا ایک ابر آلود دن تھا, پورا آسمان کالے بادلوں سے بھرا ہوا تھا, کسی بھی وقت بارش کی چھما چھم شروع ہو جاتی, وہ دونوں سڑک کے کنارے بیٹھے دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے جب اچانک وہاں پولیس کا چھاپہ پڑ گیا, مار پیٹ اور گالم گلوچ کے بعد وہ پندرہ بیس مردوں اور عورتوں کو ڈالے میں ڈال کر تھانے لے گئے, مریم اور اس کا بیٹا بھی ان میں ہی شامل تھے, ایس ایچ او نے ایک ایک بندے کو مرد و زن کی تفریق کئے بنا دھنک کر رکھ دیا, مریم اور اس کا بیٹا جس کوٹھری میں بند تھے وہاں چار, پانچ ہٹے کٹے بدمعاش بھی بند تھے, اس نے نیل و نیل ہوئی مریم کو گلے لگا کر ایک کونے میں بیٹھ گیا, ان میں سے ایک بدمعاش اس کی طرف کھسک آیا
“یہ کون ہے ؟” اس نے پوچھا
“میری اماں… ” اس نے دھیرے سے کہا
“کہاں رہتا ہے؟” بدمعاش نے پھر پوچھا
“ہمارا کوئی گھر نہیں ہے ” اس نے کہا
“تجھے گھر چاہئے ؟” بدمعاش آگے کو ہوا تھا, اس نے اثبات میں سر ہلا دیا, بدمعاش نے اپنی ہتھیلی اس کے سامنے کھول دی, اس میں ایک چاقو بند تھا, وہ ایک دم ڈر گیا اور منہ دوسری طرف کر کے بیٹھ گیا
کچھ دیر بعد ایس ایچ اور وہاں سے گزرا تو یکدم ٹھٹھک گیا, مریم سکارف سے بے نیاز دیوار سے ٹیک لگاۓ بے سدھ پڑی تھی
“اسے رات کو میری پاس لیکر آنا… ” اس نے کانسٹیبل سے کہا, وہ سر ہلاتے ہوئے مسکرا دیا, رات دس بجے کا وقت تھا جب وہ کانسٹیبل اسے بالوں سے گھسیٹتے ہوئے ایس ایچ او کے کمرے میں لے گیا, مریم کی دلدوز چیخیں بلند ہو رہی تھیں
“چھوڑو… چھوڑو میری اماں کو… ” وہ اس کے پیچھے بھاگا لیکن کانسٹیبل نے سلاخیں بند کر دیں, مریم کی چیخیں پورے تھانے کو ہلا گئیں, اس کا چھ سالہ بیٹا کوٹھری کی سلاخیں جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر رو رہا تھا, رفتہ رفتہ اس کی چیخیں دم توڑ گئیں, تین, چار گھنٹوں بعد کانسٹیبل اسے واپس کوٹھری میں پھینک گیا
اس کے بدن پر کپڑے کے نام پر ایک چیتھڑا تک نہیں تھا, اس کے بیٹے نے اپنی قمیض اتار کر اس کا وجود ڈھک دیا, اس کا پورا جسم نیلے اور سرخ نشانوں سے بھرا پڑا تھا, وہ اس کے سینے پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا, وہ بدمعاش اٹھ کر اس کے پاس آ گیا اور اپنی ہتھیلی دوبارہ اس کے سامنے کھول دی
“تو چاہے تو آنے والا وقت تیرا ہو سکتا ہے” بدمعاش نے کہا تھا, اس نے ایک نظر مریم کو دیکھا
دو سال تو اسے ہو گئے تھے اپنی ماں کو پامال ہوتے دیکھتے ہوئے… اور اس سے پہلے وہ نہ جانے کب سے یوں خوار ہو رہی تھی, ذلیل ہو رہی تھی, رل رہی تھی
کیا ہمیشہ ایسے ہی ہو گا ؟
کیا ہمیشہ میری ماں یونہی بے حرمت ہوتی رہے گی؟
“تو چاہے تو اپنی ماں کا بدلہ لے سکتا ہے ؟” بدمعاش کہتا جا رہا تھا
ہاں… وہ اپنی ماں کو بچا سکتا تھا
اس نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے وہ چاقو اٹھا لیا تھا
……………………
“شاہ بھائی کہاں ہیں ؟” ولی اسے اور مریم کو لیکر اپنے اڈے پر آیا تھا
“اندر ہیں… ” دو, تین آوازیں آئی تھیں
“اپنی ماں کو یہاں بٹھا دے اور تو میرے ساتھ آ… ” ولی نے کہا, اس نے مریم کو اشارے سے وہاں موجود ایک کرسی پر بیٹھنے کو کہا اور خود ولی کے ساتھ اندر چلا گیا, اس کے دائیں ہاتھ میں پکڑے چاقو پہ خون لگا ہوا تھا
“کیسے ہیں شاہ بھائی ؟” ولی اندر موجود ایک عمر رسیدہ آدمی کے گلے لگ کر بولا
“ٹھیک ہوں… تجھے تو کل ہی آ جانا چاہئے تھا ” شاہ نے کہا
“میں کل ہی آنے والا تھا شاہ بھائی لیکن… مجھے یہ مل گیا” ولی نے اس کی طرف اشارہ کیا تھا
“یہ کون ہے ؟” شاہ نے پوچھا
“قیامت… ” ولی زور سے ہنسا
“مطلب… ؟” شاہ سمجھ نہ سکا
“یہ چھ سال کا ہے اور اس نے آج صبح ایک کانسٹیبل کا گلا کاٹ دیا” ولی نے کہا, شاہ نے بغور اس کی طرف دیکھا تھا
“ڈر نہیں لگا… ؟” اس نے پوچھا
“چاقو اٹھاتے ہوئے لگا تھا, چلاتے ہوئے نہیں لگا” اس نے کہا
“اس کے ساتھ صرف اس کی ماں ہے جس کے لئے اسے ایک گھر چاہئے, بدلے میں یہ ہمارا… ” ولی نے کہا
“ٹھیک ہے, دے دے اسے ایک گھر… اور اڈے ہاشمی کے پاس بھیج دے, وہ اسے ٹرین کرے گا” شاہ نے کہا تھا ولی نے سر ہلا دیا
“نام کیا ہے تیرا ؟” شاہ نے پھر پوچھا
“پتہ نہیں ” اس نے کہا
“پانچ سال پہلے پولیس نے میرا چھ سالہ بیٹا مار دیا… تو اس کا نام لے لے… غازی ” شاہ نے کہا, اس نے سر ہلا دیا, ولی اسے لیکر باہر آ گیا اور کچھ دیر بعد اسے اور مریم کو ایک چھوٹےسے گھر لے آیا
“لے شہزادے… یہ تیرا گھر ہے, تیرا کھانا پینا سب شاہ بھائی کے ذمے…” ولی نے کہا تھا
جاری ہے
