45.8K
6

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

وہ آج دو ماہ بعد صائمہ سے ملنے آیا تھا, مریم کو رحیم یار خان گئے چار ماہ ہو گئے تھے, اس کے جانے کے کچھ دنوں بعد ہی وہ بھی لیاقت پور چلا گیا تھا, پندرہ, بیس دن بعد خان پور چکر لگا لیا کرتا تھا, وہ بھی گرمیوں کی ایک چلچلاتی ہوئی دوپہر تھی جب وہ خان پور چلا آیا
“تمہاری اماں کہاں ہے ؟” اس نے صحن میں شٹاپو کھیلتی صائمہ کی دونوں بیٹیوں سے پوچھا تھا
“اماں کسی کے گھر گئی ہے” ان میں سے ایک نے کہا, وہ سر ہلاتے ہوئے کچن میں آیا, کولر سے ٹھنڈا ٹھار پانی پیا اور برآمدے میں پڑی چارپائی اٹھا کر اوپر چھت پر لے آیا, ارادہ تھا کہ کچھ دیر سوۓ گا, چھت پر بنے اس اکلوتے ڈربے نما کمرے کا دروازہ کھلا ہی تھا, وہ چارپائی لیکر اندر آگیا اور…
“مریم… ” اس کے لبوں سے سرگوشی نکلی تھی, وہ کمرے کی دیوار کے ساتھ بیٹھی کسی کھیل میں لگی ہوئی تھی
“عالی… ” مریم نے اسے دیکھ کر قہقہہ لگایا تھا, وہ اسے پہچان گئی تھی
“اوہ میری رانی… میں نے کتنا یاد کیا تجھے ؟” علی کا دل یکدم خوشی سے بھر گیا, اس نے فرط جذبات میں آ کر زور سے مریم کو گلے لگایا تھا
“کہاں چلی گئی تھی تو… ؟” وہ اس کے گالوں کو چوم رہا تھا
“میری رانی… بس اب کہیں نہیں جانے دوں گے تجھے میں ” وہ اسے گلے سے لگاۓ, اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہہ رہا تھا
اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ صائمہ اور شاہد نے مریم کو رحیم یار خان ایسے ہی نہیں بھیجا تھا, انہیں کچھ تو پتہ چلا تھا… کچھ ایسا جو بہت غلط تھا اور اب اسے اس غلط کو ٹھیک کرنا تھا, چند دن بعد وہ دوبارہ خان پور آیا تو ایک لڑکی اس کے ساتھ تھی
“یہ کون ہے علی ؟” صائمہ ٹھٹھک گئی
“یہ میری بیوی ہے آپا… ہم دونوں نے کورٹ میرج کی ہے” علی نے بتایا, صائمہ کو اس لڑکی کی عمر کافی زیادہ لگی
“تیرا تو شناختی کارڈ بھی نہیں بنا ابھی… پھر کورٹ میرج کیسے کر لی ؟” صائمہ کا ماتھا ٹھنک رہا تھا
“او یہ پاکستان ہے آپا… یہاں سب چلتا ہے, میں نے لیاقت پور میں ایک کراۓ کا مکان بھی لے لیا ہے, تو کسی دن ضرور آنا ” وہ صائمہ کو پوری طرح مطمئن کرنے کی کوشش کر رہا تھا, دو, تین دن بعد صائمہ اس سے ملنے لیاقت پور چلی ہی گئی, علی نے نہ صرف اسے اپنا گھر دکھایا بلکہ اسے دوپہر کا کھانا بھی کھلایا, ان دونوں کا سلوک دیکھ کر صائمہ کافی حد تک مطمئن ہو گئی
اب علی کا راستہ صاف تھا, وہ ہر دوسرے, تیسرے دن خان پور چلا آتا, گرمیوں کے قیامت خیز طویل دنوں کا راج تھا, وہ اکثر دوپہر کو آتا جب شاہد کھیتوں میں ہوتا اور صائمہ اپنے بچوں کے ساتھ اندر ائیر کولر لگا کر سو رہی ہوتی, دروازے کی بجاۓ بڑی خاموشی سے گھر کی پچھلی دیوار پھلانگتا اور اوپر چھت پر چلا آتا, تین, چار گھنٹے مریم کے ساتھ گزار کر صائمہ کے اٹھنے سے پہلے ہی واپس چلا جاتا, دھیرے دھیرے اس نے مریم کو بھی پچھلی دیوار پھلانگنی سکھا دی, اب اکثر ہی وہ علی کے کہنے پر دیوار پھلانگ کر باہر آ جاتی اور وہ اسے لیکر گاؤں کی حدود پر موجود ایک زیر تعمیر مرغی خانے پر لے جاتا تھا
اس دن بھی ظہر کے بعد تیز آندھیوں کے جھکڑ چلنا شروع ہو گئے اور کچھ ہی دیر میں پورا آسمان سیاہ رنگ کے بادلوں سے ڈھک گیا, صائمہ اپنے بچوں کے ساتھ اندر سوئی پڑی تھی, مریم خوشی سے جھومتے ہوئی باہر نکل آئی, بارش کے موٹے موٹے قطرے گرنا شروع ہو گئے تھے, وہ یونہی بھاگتے دوڑتے گھر سے دور نکل آئی, علی اسے لینے ہی آ رہا تھا
چاروں طرف سنہری گندم کے لہلہاتے ہوۓ کھیت اور پگڈنڈی کے بیچوں بیچ دوپٹے سے بے نیاز خان پور کی مریم… وہ دونوں بازو پھیلا ۓ گول گول گھوم رہی تھی, بارش میں بھیگ رہی تھی, زور زور سے ہنس رہی تھی, علی کی تمام تر خواہشیں یکدم جاگ اٹھیں, وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اس زیر تعمیر مرغی خانے پر لے گیا
بارش, تنہائی, اندھیرا… اور مریم
بارش میں بھیگی ہوئی حسین ترین مریم جو اس وقت پوری طرح اس کی دسترس میں تھی, وہ اس کے لبوں اور گالوں کو چومتا جیسے پاگل ہو گیا
“عالی… ” مریم اس کی جنونیت سے خوفزدہ ہو کر ادھر ادھر ہاتھ مارنے لگی تھی لیکن وہ اسے اٹھا کر اندر لے آیا
“بس تھوڑی دیر… ” وہ اپنی شرٹ اتارتے ہوئے اس پر حاوی ہو گیا, ایک ہاتھ مضبوطی سے اس کے منہ پر رکھے, دوسرے ہاتھ سے اس کے بازو جکڑے… اپنے نفس کی تسکین کرتا چلا گیا
بارہ سالہ مریم پسینے سے شرابور ہو گئی تھی
آنکھیں پانیوں سے بھر گئیں تھیں
کلائیاں نیلی ہو رہی تھیں
سانسیں ٹوٹنے لگی تھیں
وہ تڑپ تڑپ کر ٹھنڈی ہو گئی, اپنی پیاس بجھا کر علی نے اس کے لبوں سے ہاتھ ہٹایا تھا
“میری رانی… ” اس نے بڑی محبت سے اس کا ٹوٹا بکھرا وجود اپنی آغوش میں بھر لیا
اور یہ اختتام نہیں تھا
…………………………………………………………..
رفتہ رفتہ اس نے دن کی بجاۓ رات کو آنا شروع کر دیا, مریم اس کے لئے ایک “حق” کی طرح ہو گئی, اس کے چھوٹے بڑے تحفوں کے بدلے پوری پوری رات وہ اس کی ہوتی, وہ اسے پیار کرتا, بانہوں میں بھرتا, اپنی پیاس بجھاتا… وہ اس کی ہر قسم کی خواہشات کی تسکین کے لئے کافی تھی
وہ بھی ساون کا ایک حبس زدہ دن تھا جب وہ ظہر کے بعد صائمہ سے ملنے چلا آیا, صائمہ سے ملے اسے بیس دن ہو گئے تھے
“کل میں لیاقت پور گئی تھی… ؟” صائمہ نے اس کے سر پر بم پھوڑا
“پر تیرے گھر کو تو تالا لگا ہوا تھا ” صائمہ اسے گھور رہی تھی
“آپا تو مجھے بتا کر آتی نا… کل تو میں اور نورین رحیم یار خان گئے ہوۓ تھے, اس کی اپنے ماں, باپ سے صلح ہو گئی ہے نا, ہم ان سے ملنے گئے تھے ” علی نے جلدی سے کہا
“اچھا… بڑی جلدی صلح ہو گئی ” صائمہ کو یقین نہ آیا
“ہاں آپا… میں نورین کو ان کے پاس ہی چھوڑ آیا ہوں, وہ امید سے ہے آپا” علی کے جھوٹ کی کوئی حد نہیں تھی, صائمہ ایک دم خوش ہو گئی
“اچھا اچھا… مبارک ہو, اس کا مطلب تو تو ابا بننے والا ہے” صائمہ مطمئن ہو ہی گئی, اس نے سکون کا سانس بھرا تھا
“مریم کہاں ہے ؟” اس نے پوچھا
“اوپر ہے… دو دن ہو گئے اس کا تاپ ہی نہیں اتر رہا, الٹیاں ہی کرتی رہتی یے” صائمہ ایک دم بیزار ہو کر بولی, علی ٹھٹھک گیا
“میں اکیلی کس کس طرف ہوا کروں ؟” وہ بڑبڑاۓ جا رہی تھی, علی چپ چاپ اوپر آ گیا, مریم نے جان سی ہو کر چارپائی پر پڑی تھی, کمرے میں جگہ جگہ اس نے الٹیاں کی ہوئی تھیں, مکھیوں اور بدبو سے برا حال تھا
“مریم… کیا ہوا ہے ؟” علی نے اسے سیدھا کیا, مارے نقاہت کے وہ بول بھی نہ سکی, علی کے کانوں میں سائرن بجنے لگے تھے, اگلی صبح وہ اسے خان پور شہر لے آیا
اس کا خدشہ بالکل درست تھا… وہ امید سے تھی
علی بے حد پریشان ہو گیا, اسے فوری طور پر کچھ کرنا تھا, مریم کو واپس گاؤں چھوڑ کر وہ واپس شہر آیا اور ایک پرائیویٹ لیڈی ڈاکٹر کو اچھی خاصی رقم دے کر مریم کے ابارشن کے لئے راضی کر لیا, اگلی دن تقریباً گیارہ بجے وہ اسے ساتھ لیکر خان پور شہر آ گیا, لیڈی ڈاکٹر تو مریم کو دیکھ کر ہی بدک گئی
“تم نے تو کہا تھا کہ لڑکی بالغ ہے, یہ تو پورے چودہ کی بھی نہیں ہے” لیڈی ڈاکٹر کو غصہ آ گیا, علی نے اس کی خوب منتیں کیں لیکن بے سود…
“اس کی عمر بہت کم ہے, اس کی جان چلی جاۓ گی, کسی اور سے کروا لو” لیڈی ڈاکٹر نے صاف انکار کر دیا, پورا دن مریم کے ساتھ خان پور میں ذلیل و خوار ہو کر آخر ایک نرس اس کا ابارشن کرنے پر راضی ہو گئی تھی
کمرے سے آتی مریم کی درد بھری چیخیں بھی علی کو شرمندہ نہ کر سکیں… اس لمحے اسے صرف اپنا الو سیدھا کرنا تھا, شام کے ساۓ گہرے ہو رہے تھے جب وہ اسے واپس گاؤں لیکر آیا, مریم درد سے بلبلا رہی تھی, اس کے کپڑے خون سے سرخ ہو رہے تھے, وہ اسے مرغی خانے پر ہی لے آیا, سب سے پہلے اس کے کپڑے بدلوا ۓ جو وہ خان پور سے ہی خرید کر لایا تھا, پھر اس کے منہ سے دودھ کا گلاس لگا دیا
“بس تھوڑی دیر… سب ٹھیک ہو جاۓ گا, تو تو میری رانی ہے” وہ مسلسل اس کا دل بہلا رہا تھا, اس کے آنسو صاف کر رہا تھا, اسے دوائیں کھلا رہا تھا, جوس پلا رہا تھا, سیب کاٹ کاٹ کے اس کے منہ میں رکھ رہا تھا, اس کے ہاتھوں میں چوڑیاں پہنا رہا تھا, اس کے بالوں میں پھول لگا رہا تھا, اس کے گلے میں ہار پہنا رہا تھا, اسے سینے سے لگاۓ پیار کر رہا تھا, اس کے گال چوم رہا تھا
شاہد اور صائمہ کو پتہ بھی نہ چلا کہ کیا ہو گیا تھا
اور یہ بھی اختتام نہیں تھا
……………………………………………………….
اس نے چوری چھپے پورے آٹھ ماہ مریم کو استعمال کیا…اور ایک بار بھی اس سے نکاح کرنے کا نہیں سوچا, ذرا خیال نہ کیا کہ جس لڑکی سے میں دن رات فائدہ اٹھاتا ہوں اسے ہمیشہ کے لئے اپنی حفاظت میں ہی رکھ لوں… بس اسے ایک چور دروازے کی طرف استعمال کرتا چلا گیا
وہ کوئی چھوٹا موٹا شکاری نہیں تھا, وہ لیاقت پور کے ایک بدنام زمانہ غنڈے نادر شاہ عرف شاہ بھائی کے لئے کام کرتا تھا, مار پیٹ, چوری چکاری, غنڈہ گردی, جوۓ کے اڈے, شراب اور لڑکیوں کی اسمگلنگ… کیا تھا جو وہ نہیں کرتا تھا, دس سال کی عمر سے ہی وہ اس اندھیر نگری کا باسی بن چکا تھا اور آٹھ سال ہو گئے تھے اسے یہ سب کرتے ہوئے, جب زیادہ جان کے لالے پڑ جاتے تو روپوش ہو کر صائمہ کے پاس چلا آتا, اس دن بھی وہ لیاقت پور آیا تو شاہ نے اس کے لئے ایک کام تیار کیا ہوا تھا
“رحیم یار خان سے ایک لڑکی یہاں لیکر آنی ہے, دس لاکھ ملنا ہے اس کا, لیکن انتہائی احتیاط اور ذمہ داری سے, کسی بھی قسم کی گڑ بڑ نہ ہو” شاہ نے کہا
“کمال کرتے ہیں شاہ بھائی… پہلے کبھی گڑ بڑ ہوئی ہے کیا؟” اس نے ہنس کر کہا تھا, دو دن بعد وہ اس لڑکی کو لینے رحیم یار خان چلا گیا, لڑکی تو اس نے آسانی سے اغواء کر لی لیکن واپسی پر وہ ایک جگہ چاۓ پینے رک گیا اور وہ لڑکی اس کے چنگل سے نکل بھاگی, اس نے پورا رحیم یار خان چھان مارا لیکن وہ نہ ملی… ڈر کے مارے اس نے شاہ کو کچھ نہ بتایا اور خان پور بھاگ آیا, ہفتے, دس دن بعد شاہ کے آدمی خان پور آۓ اور اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر لیاقت پور لے گئے
“اس کی عقل ٹھکانے لگاؤ ذرا… ” شاہ کے آدمیوں نے اسے مار مار کر نیلا کر دیا
“لڑکی کہاں ہے؟” شاہ نے پوچھا
“میں اسے ڈھونڈ رہا ہوں شاہ بھائی ” اس کی ناک سے خون بہنے لگا تھا
“میں نے کہا تھا نا کہ کوئی گڑ بڑ نہ ہو” شاہ نے کہا
“بس دو دن دے دیں شاہ بھائی… میں پرسوں اسے آپ کے پاس لے آؤں گا” اس نے بمشکل اپنی جان چھڑوائی تھی
اگلے دو دن اس نے اپنی پوری کوشش کر لی لیکن وہ لڑکی تو کیا… کوئی بھی لڑکی اس کے ہاتھ نہ لگ سکی, شاہ کا پستول اسے اپنے سر پر رکھا نظر آ رہا تھا, اس رات بھی وہ مریم سے فائدہ اٹھا کر فارغ ہوا تو شاہ کی کال آ گئی, مریم نڈھال ہو کر چارپائی پر پڑی تھی
“جی شاہ بھائی… ” وہ جلدی سے شرٹ پہنتے ہوئے بولا
“مل گئی لڑکی… ” اس نے پوچھا
“حج… جی شاہ بھائی ” اس نے ایک نظر مریم کو دیکھا تھا
“کب لیکر آۓ گا ؟” شاہ نے پوچھا
“پرسوں… ” علی نے کہا
“ٹھیک ہے ” شاہ نے کال کاٹ دی, وہ مریم کے پاس کھڑا اسے دیکھتا رہ گیا
وہ آخر تھی ہی کیا… ؟
ایک پاگل اور معذور لڑکی…!
وہ اس کی جان سے زیادہ اہم تھوڑی نہ تھی, وہ اگر اغواء ہو بھی جاۓ تو کسے فرق پڑے گا ؟
کسی کو نہیں
اس کی کسی کو ضرورت نہیں تھی
…………………………………………………………….
وہ دسمبر کا ایک دھند آلود دن تھا جب وہ مریم کے لئے خان پور شہر سے انتہائی خوبصورت اور ہوش ربا سوٹ لیکر آیا, ان دنوں اس نے خان پور کی حدود پر ایک خالی مکان کو اپنا اڈہ بنایا ہوا تھا, وہ مریم کو لیکر وہاں آ گیا, اسے نہلایا, خوشبو لگائی, نئے کپڑے پہناۓ, بالوں میں پھول لگایا, ہونٹوں پر سرخی لگائی… اور وقفے وقفے سے تھوڑی سی شراب بھی پلا دی, مریم دھیرے دھیرے اپنے حواسوں سے باہر ہوتی چلی گئی, ابھی وہ شاہ کو کال کرنے ہی والا تھا کہ اس کی کال آ گئی
“کدھر ہے شہزادے ؟” اس نے پوچھا
“میں بس آنے لگا ہوں شاہ بھائی ” اس نے کہا
“تو نہ آ… میں خان پور آیا ہو ہوں, مجھے اپنا پتہ بتا, میں آ جاتا ہوں” شاہ نے کہا, علی نے اسے اپنا ایڈرس بتا دیا
“دس منٹ میں آتا ہوں ” شاہ نے کال کاٹ دی, وہ موبائل کان سے ہٹاتا ہوا اندر آ گیا
“عالی… ” مریم نے اندرونی کمرے کے دروازے میں کھڑے ہو کر اسے آواز دی تھی, وہ ایک دم ٹھٹھک گیا
اس نے گہرے سے گلے کی سلیو لیس شرٹ پہنی ہوئی تھی
اس کے کندھے… دودھ ملائی جیسے سفید کندھے برہنہ ہو کر باہر جھانک رہے تھے
اس کے بازو… سنگ مرمر جیسے تراشے ہوئے بازو اس کی جانب پھیلے ہوئے تھے
اس کی آنکھیں… نشیلی رتوں سی مخمور آنکھیں سر عام اسے دعوت دے رہی تھیں
اس کے ہونٹ… گلابوں کی سرخیوں سے زیادہ سرخ اس کے ہونٹ
اس کے گال… شفق کی لالیوں سے زیادہ لال اس کے گال
وہ مبہوت رہ گیا
وہ اس کی جنت تھی… اور وہ اپنی جنت کسی اور کے حوالے کرنے جا رہا تھا
وہ اس کی رانی تھی… اور وہ اپنی رانی کسی اور کو دینے جا رہا تھا
وہ اس کا سکون تھی… اور وہ اپنا سکون کسی اور کو سونپنے جا رہا تھا
“عالی… ” مریم نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا, وہ اسے بلا رہی تھی, علی کیسے منع کر دیتا… کیسے اسے نظر انداز کر دیتا, کیسے اس اس کا بڑھا ہوا ہاتھ جھٹک دیتا… ؟
“میری رانی… ” وہ سرگوشی کرتے ہوئے اس کی طرف بڑھا لیکن عین اسی لمحے شاہ اندر داخل ہو گیا, سب سے پہلے اس کی نظر دروازے سے ٹیک لگاۓ کھڑی مریم پر پڑی
“واہ… کمال ہے” شاہ اس کی طرف بڑھا تھا
“شاہ بھائی یہ وہ نہیں ہے” علی اس کے راستے میں آ گیا
“یہ تیری ہے ؟” شاہ نے پوچھا
“ہاں… ” اس نے فوراً کہا تھا
“بس اب یہ میری ہے” شاہ آگے بڑھا تھا
“میں نے کہا یہ میری ہے” علی اس پر جھپٹ پڑا تھا
“یہ تو ٹھیک نہیں کر رہا…” شاہ نے غصے سے کہا
“نکل یہاں سے… ” علی نے اس کے دو, تین مکے رسید کئے تھے, شاہ عمر رسیدہ تھا, علی اس پر حاوی آ گیا, “دیکھ لوں گا تجھے ؟” شاہ اسے وارننگ دیتا ہوا باہر نکل گیا, علی دروازہ بند کرتے ہوئے مریم کی طرف آیا
اس ایک لمحے اسے لگا کہ اسے مریم سے محبت ہے
والہانہ محبت…!
اس ایک لمحے اس نے خود سے عہد کیا کہ وہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہے گا
اس ایک لمحے اس نے دل سے کہا تھا ” میری رانی”
بس پھر وہ تھا اور مریم… وہ خود کو روک نہیں پا رہا تھا, اس کے سحر سے نکل نہیں پا رہا تھا, اسے اپنی بانہوں سے آزاد نہیں کر پا رہا تھا
مریم کی حالت اس سوکھے پتے کی طرح ہو گئی جس پر سے کوئی پاؤں رکھ کر گزر گیا ہو
اچانک باہر پولیس کی گاڑی کا سائرن بجنے لگا, شاہ نے پولیس کو کال کر دی تھی, علی نے ایک دم مریم کو خود سے دور کرتے ہوئے اپنی شرٹ اٹھائی تھی, اچانک اسے بیرونی دروازہ کھلنے کی آواز آئی, پولیس اندر آ گئی تھی
اس نے ایک نظر فرش پر پڑی مریم کو دیکھا…اپنی اس ایک لمحے کی محبت کو وہیں بے یار و مددگار چھوڑ کر وہ کھڑکی کے راستے فرار ہو گیا تھا
……………………………………………………………….
پولیس اسے انتہائی نا گفتہ بہ حالت میں خان پور پولیس سٹیشن لے آئی, اس کے بدن پر کپڑے تک نہیں تھے, ایس ایچ او نے ایک سفید چادر اس کے مرے ہوۓ وجود پر ڈال دی, شاہ نے اس سارے معاملے سے بالکل ہی لاتعلقی اختیار کر لی تھی, علی مسلسل فرار تھا اور مریم…اس کی حالت انتہائی تشویشناک ہو رہی تھی, پور ایک ہفتہ وہ تھانے میں بند رہی, ادھر ادھر پوچھ تاچھ کروا کر ایس ایچ او نے شاہد نذیر کو تھانے بلوا لیا
“یہ لڑکی ہمیں خان پور کی حدود پر واقع ایک گھر سے ملی ہے, اس کے ساتھ زیادتی کی جارہی تھی, مجرم ابھی تک فرار ہے” ایس ایچ او نے مریم کو بھی وہاں بلوا لیا, شاہد اس کی اسقدر نازک حالت دیکھ کر سن رہ گیا
“کیا یہ تمہاری بیٹی ہے ؟” ایس ایچ او نے پوچھا, شاہد نے ایک نظر مریم کو دیکھا
سفید چادر میں لپٹا برہنہ وجود, نیلے اور سرخ نشانوں سے بھرا ہوا جسم, بند ہوتی آنکھیں, لرزتے ہوۓ ہونٹ…
“نہیں ” وہ انکار کر گیا تھا, ایس ایچ او نے اسے واپس بھیج دیا, مزید ایک ہفتہ گزرا تو مریم کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی, اسے الٹیوں پر الٹیاں آ رہی تھیں, ایس ایچ او نے اسے لیڈی کانسٹیبل منگوا کر سرکاری ہسپتال بھجوا دیا
وہ پھر امید سے تھی
سرکاری ہسپتال کی ایک نرس نے اسے پہچان لیا, وہ اسی کے گاؤں سے تھی, اس نے پولیس کو بتا دیا کہ وہ شاہد نذیر کی ہی بیٹی ہے, ایس ایچ او نے شاہد کو دوبارہ بلوا لیا
“پولیس سے جھوٹ بولتے ہو…” ایس ایچ او نے اس کے دو, تین لگائیں اور مریم کو اس کے حوالے کر دیا
شاہد اور صائمہ کے لئے وہ انتہائی کالی رات تھی جب شاہد اسے گھر لیکر آیا, صائمہ نے مار مار کر اسے خونم خون کر دیا
“منحوس… آوارہ” وہ مسلسل روتے ہوئے اسے گالیاں دے رہی تھی
“شاہد… اس گناہوں کی پنڈ کو گھر سے نکال دے, یہ ہمارا اس گاؤں میں رہنا مشکل کر دے گی, اسے کہیں دفع کر دے, کہیں دور بھیج دے, اس جیسے ہزاروں بچے لاوارثوں کی طرح رل رل کر پل جاتے ہیں, یہ بھی پل جاۓ گی” صائمہ نے کہا تھا, شاہد سوچ میں پڑ گیا
“سوچ کیا رہا ہے ؟ اس سے زیادہ اور کیا ذلیل ہوں گے ہم؟ کل یہ کسی اور کے ساتھ منہ کالا کر کے گی, پرسوں کوئی اور… کس کس سے بچاۓ گا اسے” صائمہ کہتی چلی گئی
“اسے کپڑے پہنا” شاہد کھڑا ہو گیا, صائمہ نے اسے جلدی سے کپڑے پہناۓ, سر پر سکارف دیا اور پاؤں میں جوتا ڈالا, شاہد اسی رات اسے لیکر خان پور بس سٹاپ پر آ گیا اور اسے صادق آباد جانے والی بس میں بٹھا دیا
“اسے اڈے اتار دینا ” اس نے کرایہ دیتے ہوئے کنڈکٹر سے کہا تھا
سنگدلی اور سفاکی کی انتہا تھی
تیری سالہ مریم کے لئے یہ بھی اختتام نہیں تھا
جاری ہے