Rate this Novel
Episode 2
سعدیہ مرتضیٰ پچھلے تین سالوں سے رحیم یار خان کے ایک حلقے کی ایم پی اے تھی جبکہ اس کا شوہر میر آصف مرتضیٰ وہاں کا ایم این اے تھا, آصف کا آبائی گھر رحیم یار خان کے ایک نواحی گاؤں میں تھا جہاں اس کی پہلی بیوی کی حکمرانی تھی, سعدیہ کو اس نے شہر میں ایک الگ بنگلہ لیکر دیا ہوا تھا, وہ خود بھی زیادہ تر شہر میں ہی رہتا تھا, سعدیہ سے اس کے دو بچے تھے, مائرہ اور ثمران…!
مریم کے رحیم یار خان آنے پر پہلے تو وہ خوب پھنکاری…پھر اسے دوسری منزل پر موجود ایک انتہائی پر آسائش کمرے میں بند کر کہ ایک ملازمہ مستقل طور پر اس پر مسلط کر دی, وہ اسے تین وقت کا کھانا اسی کمرے میں دے جاتی, اس کے کمرے کو چوبیس گھنٹے لاک لگا رہتا, سعدیہ اسے ایک لمحے کے لیے بھی کمرے سے باہر نہیں آنے دیتی تھی, اس نے سواۓ آصف کے کسی کو بھی مریم کی آمد کے بارے میں نہیں بتایا… اپنے دونوں بچوں کو بھی نہیں…
مریم صبح اٹھتی, ناشتہ کرتی, پھر دیر تک ٹی وی دیکھتی رہتی, دوپہر کا کھانا کھاتی اور سو جاتی, شام کو اٹھتی اور پھر ٹی وی, رات کا کھانا اور پھر ٹی وی… اور ٹی وی دیکھتے دیکھتے ہی سو جاتی, سعدیہ اس کی شکل تک دیکھنے کی روادار نہیں تھی, وہ بس اسے ایک کمرے میں بند کر کہ اپنے فرض سے سبکدوش ہو گئی تھی, مریم نے اس پنجرے میں دو ماہ گزارے… مسلسل تنہا رہنے سے وہ بری طرح نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو گئی, بولتی, سنتی تو پہلے ہی نہیں تھی, اب ہر وقت عجیب و غریب شکلیں بنا بنا کر اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتی رہتی, پہلے تو صرف ذہنی معذور تھی…وہاں آ کر بالکل ہی پاگل ہو گئی
اس دن بھی سعدیہ اور آصف نے اپنے بنگلے پر ایک انتہائی شاندار ڈنر پارٹی کا انتظام کیا تھا, سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے سبھی مرد و خواتین وہاں موجود تھیں, صبح سے لیکر شام تک سبھی ملازمائیں پارٹی کے انتظامات کرنے میں لگی رہیں اور مریم کو صبح کا ناشتہ پہنچانے کے بعد نہ تو کسی کو دوپہر کا کھانا یاد رہا اور نہ شام کا… رات دس بجے تک وہ بھوک سے ادھ مری ہو گئی, پہلے تو کمرے میں ہی بیٹھی شور و غوغا کرتی رہی پھر اٹھ کر دروازے تک آ گئی, ملازمہ جلدی میں صبح ناشتہ دینے کے بعد دروازہ لاک کرنا بھول گئی تھی, اس نے زور لگایا تو دروازہ کھل گیا, وہ زور سے ہنستی ہوئی نیچے آ گئی, ڈنر کا انتظام وسیع و عریض لاؤنج میں کیا گیا تھا, ایک طرف لگی گرما گرم کھانوں کی میزیں دیکھ کر وہ ندیدوں کی طرح اس طرف دوڑ پڑی, گرم گرم چاولوں کی ڈش میں یونہی ہاتھ مارا اور چاول اٹھا کر منہ میں رکھ لئے, منہ جل گیا, چیخ مارتے ہوئے پانی کا جگ اٹھایا اور منہ سے لگا لیا, وہ بھاری تھا… چھناکے کی آواز سے ٹوٹ گیا, سعدیہ سمیت سبھی مرد و خواتین اس کی طرف متوجہ ہوئے تھے
“میں نے تمہیں کہا تھا نہ کہ اسے اوپر باندھ کر رکھنا… ” وہ ایک دم پاس کھڑی ملازمہ پر برس پڑی
“جاؤ… اسے اوپر لے جاؤ” ملازمہ سے کہتے ہوئے وہ پاس کھڑی خواتین کی طرف مڑی
“میری ملازمہ کی بیٹی ہے یہ, معذور اور پاگل…مجھے کہتی میڈم ساتھ لے آیا کروں تو میں نے کہا کہ لے آیا کرو, زمانہ بھی تو بہت خراب ہے نا, جوان بیٹی گھر اکیلی بھی نہیں چھوڑی جاتی… ” اس نے جلدی سے کہانی بنائی تھی اور کچھ دیر بعد غصے سے پھنکارتی ہوئی اوپر آ گئی
“میں نے منع کیا تھا نہ نیچے آنے سے… ” اس نے مریم کو ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کیا تھا
“کمرہ لاک کیوں نہیں کیا… ؟” ملازمہ کی بھی شامت آ گئی
“اب اس کمرے سے باہر نکلیں تو ٹانگیں توڑ دوں گی” سعدیہ نے پے در پے اسے دو تین تھپڑ رسید کئے تھے, وہ بیچاری ڈر کے مارے بیڈ کے نیچے چھپ گئی
“اسے کچھ کھانے کو نہیں دینا… مرے بھوکی” تنفر سے کہتے ہوئے وہ نیچے آ گئی
اسی ہنگامے کے دوران وہ اپنی کتابیں اٹھانے اوپر آیا تھا, اس کے میٹرک کے پیپرز ہونے والے تھے, ایک نظر سعدیہ اور مریم کو دیکھتا ہوا وہ اپنی کتابیں لیکر نیچے چلا گیا لیکن… اس دس, بارہ سالہ معصوم لڑکی کا چہرہ اس کے ذہن سے محو نہ ہوا, آخر کچھ دیر بعد وہ اٹھ کر کچن میں آیا, ملازمہ سے کہہ کر کھانے کی ٹرے تیار کروائی اور اسے لیکر اوپر آگیا, تانبے کی باریک سی تار سے اس نے کمرے کا لاک کھول لیا تھا, وہ ابھی تک بیڈ کے نیچے چھپی ہوئی تھی, اس نے ٹرے نیچے رکھتے ہوئے اسے آواز دی
“باہر آؤ… ” لیکن وہ باہر نہ نکلی, اس نے کھانے کی ٹرے بیڈ کے پاس کر دی, مریم نے فوراً ہاتھ باہر نکالا تھا, اس نے ٹرے واپس کھینچ لی
“پہلے باہر آؤ… ” اس نے بیڈ کے نیچے ہاتھ بڑھایا, کچھ دیر بعد وہ باہر نکل آئی, رو رو کر اس کی آنکھیں سوج گئیں تھیں, ٹوٹے ہوئے جگ کا شیشہ لگنے سے انگلیوں سے خون رس رہا تھا, اس نے مریم کی انگلیاں دھو کر ان پر سنی پلانٹ لگایا اور خود لقمہ بنا کر اس کی طرف بڑھا دیا
“لو کھاؤ… ” اس نے کہا
“عالی…” مریم ایک دم زور سے ہنسی تھی
“کیا… ؟” وہ سمجھ نہ سکا
“عالی… “مریم یونہی ہنستے ہوئے دوبارہ بولی تھی, وہ اس بار بھی نہ سمجھ سکا
“میرا نام ماحن ہے, تمہارا نام کیا ہے ؟” اس نے پوچھا لیکن وہ بس دھیرے دھیرے مسکراتی رہی, بولی کچھ نہیں, وہ ایک لمبا سانس بھرا ہوۓ اٹھ کھڑا ہوا
وہ آصف مرتضیٰ کا پہلا بیٹا تھا…ماحن مرتضیٰ لیکن بارہ سالہ مریم کے لئے وہ ماحن نہیں تھا, اس کے لئے وہ “عالی ” تھا
عالی…
جس نے اس کے لئے سب سے پہلے لقمہ بنایا تھا
……………………………………………
صبح وہ ناشتہ کرنے کے لئے اپنے کمرے سے باہر نکلا تو ملازمہ مریم کا ناشتہ لیکر اوپر جا رہی تھی
“رکو… ہم دونوں ایک ساتھ ناشتہ کریں گے” وہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر گیا اور مریم کا ہاتھ پکڑ کر نیچے ناشتے کی میز پر لے آیا
“میڈم غصہ ہوں گی چھوٹے میر… ” ملازمہ ڈر رہی تھی, سعدیہ ابھی تک نہیں اٹھی تھی
“تم کہہ دینا اسے میں نے کمرے سے نکالا ہے” ماحن نے کندھے اچکا دئیے, ناشتے سے فارغ ہو کر وہ اسے اپنے کمرے میں لے آیا
“تمہیں پڑھنا آتا ہے ؟” اس نے پوچھا, مریم چپ…
“”لکھنا آتا ہے ؟” اس نے پھر پوچھا, مریم اس بار بھی چپ…
“میں تھوڑا سا پڑھ لوں, پھر ہم دونوں باہر ہو کر آتے ہیں” اس نے کہا, نہ جانے مریم کو سمجھ آئی کہ نہیں, وہ بس چپ چاپ بیٹھی اس کی کتابوں, رجسٹروں اور پنسلوں کو چھیڑتی رہی
وہ پانچ سال کا تھا جب اس کے باپ نے سعدیہ سے دوسری شادی کر لی تھی, اس کی ماں شوہر کی دوسری شادی کے بعد جیسے دنیا سے ہی بیزار ہو گئی, ہر وقت کمرے میں بند ہوئی رہتی, وہ حویلی کی ملازماؤں کے ہاتھوں میں ہی پلا بڑھا, دس سال کا ہوا تو آصف اسے شہر لے آیا, وہ بہت کم گو تھا, بس پنے کام سے کام رکھتا, پچھلے پانچ سالوں میں اس نے سعدیہ سے کوئی پانچ دفعہ ہی بات کی ہو گی, مائرہ اور ثمران سے بھی اس کی زیادہ نہیں بنتی تھی, پڑھائی سے فارغ ہو کر وہ اسے باہر گھمانے لے گیا تھا, سعدیہ کے کانوں تک بات پہنچا دی گئی اور اس نے رات کو اسے روئی کی طرح دھنک کر رکھ دیا
………………………………………….
سعدیہ کہیں جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی جب وہ اس کے کمرے کا دروازہ بجا کر اندر داخل ہو گیا, سعدیہ نے اچنبھے سے اس کی طرف دیکھا تھا
“یہ لڑکی کون ہے؟” اس نے پوچھا
“مریم… ” سعدیہ نے جواب دیا
“وہ بولتی کیوں نہیں ہے؟” اس نے پھر پوچھا
“وہ پیدائشی معذور ہے, نہ سن سکتی ہے نہ بول سکتی ہے, رات کو دیکھ بھی نہیں سکتی, ابنارمل بھی ہے, مینٹلی ڈفر اینڈ ڈمب… ” سعدیہ نے کہا
“وہ یہاں کیوں آئی ہے ؟” اس نے یک اور سوال کر دیا
“سنو…وہ یہاں صرف چند ماہ کے لیے آئی ہے, ہمیشہ کے لئے نہیں, جلد ہی واپس چلی جاۓ گی” سعدیہ نے بڑے دھیمے لہجے میں کہا تھا
“وہ آپ کی کیا لگتی ہے؟” ماحن کے سوال ختم نہیں ہو رہے تھے
“تمہیں اس سے کوئی مسئلہ ہے ؟” سعدیہ تڑخ گئی
“نہیں… لیکن آپ کو اس سے بہت مسئلے ہیں, اگر آپ کو وہ اتنی ہی ناقابل برداشت ہے تو اسے یہاں لیکر ہی کیوں آئیں؟” وہ کہتا چلا گیا
“وہ میری بیٹی ہے” سعدیہ نے ایک لمبا سانس بھرتے ہوئے کہا
“اور عالی کون ہے ؟” اس نے پوچھا
“پتہ نہیں ” سعدیہ نے کہا, وہ سر جھکاتے ہوئے واپس آ گیا
کچھ دنوں کے اندر اندر وہ مریم کو ایک دوست کی مانند محسوس کرنے لگا, حالانکہ وہ بہت باتونی نہیں تھا لیکن مریم کے ساتھ بیٹھ کر وہ نہ جانے کیا کیا بولتا رہتا, کبھی وہ سن کر چپ ہو جاتی, کبھی مسکرا دیتی اور کبھی عجیب سی زبان میں کچھ کہہ دیتی جو ماحن کی سمجھ سے باہر ہوتا, ہر دوسرے دن وہ اسے کہیں نہ کہیں سیر کروانے لے جاتا, مریم بھی آہستہ آہستہ اس سے بہت مانوس ہو گئی تھی
………………………………………………
اس دن ماحن کی سالگرہ تھی, وہ پورے پندرہ سال کا ہو گیا تھا, اپنی سالگرہ مریم کے ساتھ منانے کے لئے وہ کیک, موم بتیاں اور اس کے لئے ایک چھوٹا سا گفٹ بھی پیک کروا کر لایا, مریم کے کمرے میں آ کر اس نے کیک پر موم بتیاں لگائیں اور انہیں روشن کر دیا
“آج میری سالگرہ ہے, ہم دونوں مل کر کیک کاٹتے ہیں” ماحن بہت خوش تھا
“چلو, موم بتیاں بجھاؤ” اس نے ایک موم بتی بجھاتے ہوۓ مریم سے کہا, اس نے ہنستے ہوئے زور سے پھونک مار کر ساری موم بتیاں بجھا دیں, ماحن نے اس کی ہاتھ میں چھری پکڑائی اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر کیک کاٹ دیا
“منہ کھولو… ” اس نے کیک کا ٹکرا اس کے منہ میں ڈالا تھا
“مجھے پتہ تھا تم میری لئے گفٹ نہیں خرید سکتیں اسلئے میں تمہارے لئے گفٹ لیکر آیا ہوں” اس نے ڈبہ مریم کی طرف بڑھا دیا جسے اس نے ہنستے ہوئے بری طرح پھاڑ کر کھول لیا, وہ ایک بہت خوبصورت نیکلس تھا
“لاؤ میں پہناؤں ” ماحن نے اس کے ہاتھ سے نیکلس لیتے ہوئے اس کی گردن میں سجا دیا, وہ تالیاں بجا کر مسکرا دی
“کاش تمہیں پتہ ہوتا کہ تم کتنی خوبصورت ہو؟” وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا تھا اور اس سے پہلے کہ کچھ اور کہتا, مریم نے دھیرے سے اپنی قمیض کے اوپر والے دو, تین بٹن کھولے اور اس کا گال چومتے ہوۓ اس کے گلے لگ گئی, ماحن سن رہ گیا
“عالی… “وہ اس کے کانوں میں سرگوشیاں کر رہی تھی
اسے تحفے کے بدلے یوں ہی تحفہ دینا آتا تھا… کیونکہ اسے یہ ہی سکھایا گیا تھا
ماحن کے نیکلس کے بدلے اس نے اسے اپنا آپ پیش کر دیا تھا… کیونکہ اس نے یہ ہی سیکھا تھا
“تم نے یہ سب کہاں سے سیکھا ؟” ماحن نے دم بخود ہوتے ہوئے اسے خود سے الگ کیا اور اس کے بٹن بند کر دئیے
“میں اس سے کیسے پوچھوں ؟” وہ اس کے مسکراتے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا
“عالی کون ہے؟” اس نے مریم ک نیکلس چھوتے ہوئے اشاروں سے پوچھا
“عالی… میم… عالی” وہ مسکراتے ہوئے اپنی انگلیاں اپنے گالوں, ہونٹوں اور جسم کے مختلف حصوں پر رکھ رہی تھی, لمبے لمبے سانس بھر رہی تھی, ہاتھوں سے اشارے کر رہی تھی, ماحن منہ کھولے اسے دیکھتا رہ گیا, وہ نہ جانے کس کی خواہشات اور ہوس کی تسکین کا ذریعہ بنتی رہی تھی, اس کا دل دکھ سے بھر گیا
وہ ابھی صرف بارہ سال کی تھی
……………………………………………..
اس نے رفتہ رفتہ مریم کا کمرہ چھوٹے بڑے لا تعداد تحائف سے بھر دیا, ہر بار س سے تحفہ لینے کے بعد وہ صرف ایک لفظ کہتی
“عالی”
ماحن نے اسے بہت توجہ دی, اس کا بہت خیال رکھا, اس سے بہت…محبت کی, وہ دن بدن اور نکھرتی چلی گئی, اور حسین ہوتی چلی گئی, اس دن بھی وہ اسے شاپنگ کروانے لے گیا, رنگ برنگے کپڑے اور جوتے دیکھ کر مریم کی خوشی ک کوئی ٹھکانہ نہیں تھا, شاپنگ کے بعد ان دونوں نے ڈنر کیا اور رات گیارہ بجے گھر واپس آۓ, مریم کو ساتھ لیے جب وہ اندر داخل ہوا تو سعدیہ اور اس کے دونوں بچے ڈنر کر رہے تھے, سعدیہ ان دونوں کو ایک ساتھ اندر آتا دیکھ کر ٹھٹھک گئی, وہ ایک دم ان دونوں کی طرف آئی تھی
“یہ ہو کیا رہا ہے؟” اس نے پی
“ہم شاپنگ اور ڈنر کر کے آۓ ہیں” ماحن نے کہا, سعدیہ نے قہر بار نظروں سے مریم کو گھورا, اس نے خوفزدہ ہو کر ماحن کے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ چھڑوا لیا, ماحن نے ایک نظر سعدیہ کی طرف دیکھتے ہوئے بڑے حق سے اپن بازو مریم کے کندھوں کے گرد لپیٹ کر اسے اپنے ساتھ لگایا تھا
“میری بات سنو ماحن… یہ تمہارے لئے نہیں ہے, یہ صرف چند دنوں کی مہمان ہے, میں کل ہی اسے واپس بھجوا دوں گی” سعدیہ نے کہا
“میں اسے دوبارہ لے آؤں گا ” ماحن مسکرا کر بولا
“تمہیں ہو کیا گیا ہے ؟” سعدیہ تڑخی
“مجھے اس سے پیار ہو گیا ہے” ماحن نے ببانگ دہل کہہ دیا, سعدیہ دم بخود رہ گئی
“شروع دن سے میرے لئے عذاب ہے یہ لڑکی… ” سعدیہ نے اسے بازو سے پکڑ کر کھینچتے ہوۓ تھپڑ رسید کیا تھا
“آئیندہ آپ نے اسے چھوا بھی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا” ماحن کو قہر چڑھ گیا
“میں کل اسے لیکر گاؤں جا رہا ہوں اور پرسوں اس سے شادی کر لوں گا” اس نے سعدیہ کے سر پر دھماکہ کیا تھا
“شادی… تم ابھی صرف پندرہ سال کے ہو ڈئیر ” سعدیہ طنز سے ہنسی تھی
“میرے ڈیڈ کی شادی بھی پندرہ سال کی عمر میں ہی ہوئی تھی… ڈئیر” ماحن اسی کے انداز میں کہتا ہوا مریم کا ہاتھ پکڑ کر اوپر چلا گیا تھا
………………………………………………
وہ اسے اپنے گاؤں لے آیا, وہ بہت خوش تھا
وہ صبح سویرے مریم ک ہاتھ تھامے شٹالے کے سر سبز کھیتوں میں ننگے پاؤں چلتے ہوئے بہت خوش تھا
وہ شام کے سرخی مائل دھندلکوں میں اس کے ساتھ نہر کے کنارے چلتے ہوئے بہت خوش تھا
وہ چلچلاتی ہوئی دوپہروں میں اس کے ساتھ کھالوں کے یخ بستہ پانیوں میں ٹانگیں لٹکا کر بیٹھتے ہوئے بہت خوش تھا
اس کے لئے زندگی کا سب سے خوبصورت ترین لمحہ وہ ہوت احب وہ درختوں کے پتوں سے چھن کر آتی سورج کی سنہری کرنوں نے سامنے کھڑا ہو کر اسے بڑا سا سرخ گلاب دیتا اور وہ مسکراتے ہوئے اس کے کندھے پر سر جھکا دیتی
وہ مون سون کی ایک ابر آلود شام تھی, نیلے آسمان پر سفید اور کالے بادلوں کے ٹکرے جمع ہونا شروع ہو گئے تھے, کچھ ہی دیر بعد آندھیوں کے جھکڑوں کے ساتھ بارش کے موٹے موٹے قطرے گرنا شروع ہو گئے, مریم ہنستی ہوئی چھت کی طرف بھاگی تھی, بارش تیز سے تیز ہوتی چلی گئی, وہ اس کے پیچھے ہی اوپر آ گیا, مریم کا سکارف سیڑھیوں میں ہی گر گیا تھا, وہ دونوں بازو پھیلا ۓ, چہرہ اوپر کو کئے, گول گول گھوم رہی تھی
وہ بارش کا ایک قطرہ ہی لگ رہی تھی
ہوا کا ایک جھونکا ہی لگ رہی تھی
بادل کا ایک ٹکرا ہی لگ رہی تھی
“سکارف تو لے لو” وہ زور سے ماحن سے آ کر ٹکرائی تھی, اس نے مریم ک سکارف اس کے کندھوں پر ڈال دیا, مریم نے ہنستے ہوئے اس کے گلے میں اپنے دونوں بازو ڈال دئیے
حویلی کے داخلی دروازے سے گاڑی اندر لے کر آتی ہوئی سعدیہ مرتضیٰ نے بے حد صدمے کی حالت میں یہ منظر دیکھا تھا
……………………………………………..
رات تقریباً دس بجے کا وقت تھا جب وہ مریم کو بالوں سے پکڑ کر بے دردی سے گھسیٹتے ہوئے اپنے کمرے میں لیکر آئی, ماحن اپنے کمرے میں تھا
“تم ہو کون منحوس لڑکی…” وہ مسلسل اس پر تھپڑ برسا رہی تھی
“میں تم سے جاں چھڑوا کر یہاں آئی تھی, نہیں چاہئے مجھے تم جیسی بیٹی ؟” وہ دھاڑ رہی تھی, مریم نے رونا شروع کر دیا
“ایک لمحہ بھی اور برداشت نہیں کر سکتی میں تمہیں, دفع ہو جاؤ اپنے باپ کے پاس ” سعدیہ نے اسے بالوں سے پکڑ کر دروازے کی ڈھکا دیا تھا, وہ بری طرح اندر آتے ماحن سے ٹکرا گئی, اس نے قہر بار نظروں سے سعدیہ کی طرف دیکھا تھا, مریم تھر تھر کانپتے ہوۓ ماحن کے پیچھے چھپ گئی
“تمہاری جرأت کیسے ہوئی اسے ہاتھ لگانے کی ؟” وہ برس پڑا
“ئی میری بیٹی ہے, میں چاہے اسے زندہ درگور کر دوں, تم کون ہوتے ہو مجھ سے سوال کرنے والے” سعدیہ غرا کر بولی
“ٹھیک ہے سعدیہ میڈم… آج یہ تمہاری بیٹی ہے نا, کل یہ میری بیوی ہو گی, پھر میں دیکھوں گا تم اسے کیسے ہاتھ لگاؤ گی” ماحن اسے وارن کرتے ہوئے بولا تھا
“صبح ہوتے ہی میں اس سے نکاح کر لوں گا اور اسے میڈیا کے سامنے لیکر آؤں گا, ابھی تک میں نے کسی کو بھی اس کے بارے میں نہیں بتایا, کل کو سب کو بتاؤں گا کہ یہ کون ہے, پوری حویلی کو, ملازموں کو, گاؤں والوں کو, رپورٹروں کو.. سب کو, کل تمہارا سر عام بھانڈہ پھوڑوں گا میں کہ جس عورت کو اپنی خود کی بیٹی کا احساس نہیں ہے وہ قوم کی بیٹیوں کا کیا احساس کرے گی ؟ سب کو بتاؤں گا کہ تم اپنی بیٹی کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہو, سر عام تمہارا تماشہ بناؤں گا اور پھر دیکھوں گا کہ آنے والے الیکشنز میں تمہیں کون ووٹ دے گا ؟” ماحن کہتا چلا گیا تھا, سعدیہ بے بس ہو کر اسے دیکھتی رہ گئی
اسی رات اس نے کال کر کے میر آصف کو گاؤں بلا لیا تھا
……………………………………………………
” آصف پلیز… میں دوبارہ اپنی پہلی زندگی میں واپس نہیں جانا چاہتی, میں دوبارہ اس گند اور کیچڑ میں نہیں لتھڑنا چاہتی, تمہیں خد کا واسطہ… میں اسے اپنی بیٹی نہیں کہنا چاہتی” سعدیہ اس کے آگے رو ہی پڑی
“تو اسے واپس بھجوا دو” آصف نے کہا
“تمہارا بیٹا اسے واپس لے آۓ گا, وہ اس سے پیار کرنے لگ اہے” سعدیہ نے کہا
“تو اسے کسی پاگل خانے بھجوا دو, کسی یتیم خانے یا کسی دارالامان… ” آصف نے کہا
“آصف وہ اسے کہیں سے بھی ڈھونڈ لے گا اور لا کر میڈیا کے سامنے خ
کھڑ کر دے گا, میری ساری عزت, شہرت اور ساکھ برباد ہو جاۓ گی” سعدیہ بیت ڈر گئی تھی
“تو پھر میں کیا کروں ؟” آصف نے کہا
“اسے ختم کروا دو” آصف حیران رہ گیا
“وہ تمہاراخون ہے سعدیہ… ” اسے یقین نہ آیا
“نہیں ہے وہ میرا خون… میرا خون مائرہ اور ثمران ہیں بس… ” سعدیہ سفاکی کی انتہاؤں پر تھی, آصف خاموش ہو گیا اور اگلی صبح سورج اگنے سے پہلے ہی اس کے گارڈز مریم کو گاڑی میں ڈال کر اس کے ڈیرے پر لے آۓ تھے
…………………………………………..
اس نے پوری حویلی چھان ماری, مریم کہیں بھی نہیں تھی, تھک ہار کر اس نے ایک ملازمہ سے اس کے بارے میں پوچھا, اس نے ڈرتے ڈرتے اسے بتایا کہ مریم کو بڑے صاحب کے آدمی ڈیرے پر لے گئے ہیں, ماحن کے ہوش گم ہو گئے, طوفانی رفتار سے گیراج میں کھڑی آصف کی جیپ دوڑاتا ہوا وہ ڈیرے پہنچا تھا
“آصف اسے کہو یہاں سے دفع ہو جاۓ” سعدیہ بھی وہیں موجود تھی
“مریم کہاں ہے؟ وہ اس کی سنی ان سنی کرتے ہوا اندر آ گیا, مریم کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے اور منہ پر کپڑا بندھا ہوا تھا, وہ دیوار کے ساتھ زمین پر گری پڑی تھی, ماحن کو لگا جیسے کسی نے اس کی روح کھینچ لی ہو, وہ اس کی طرف بھاگا لیکن آصف نے اس کا بازو پکڑ لیا
“ماحن رک جاؤ… ” آصف نے کہا
“بابا میں اس سے پیار کرتا ہوں” ماحن بے بس تھا
“میری بات سنو ماحن… تم ایک پرفیکٹ لڑکے ہو, تم اپنی آنے والی زندگی میں یقیناً اس جیسی ابنارمل لڑکی کو ڈیزرو نہیں کرتے سو بھول جاؤ اسے” سعدیہ نے اسے کہتے ہوئے اپنے گارڈز کو اشارہ کیا تھا
“ڈیڈ آپ کو خدا کا واسطہ… وہ بہت معصوم ہے, میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آئیندہ کبھی اس کا نام بھی نہیں لوں گا, کبھی اس سے نہیں ملوں گا, بابا میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں اس سے کبھی شادی نہیں کروں گا لیکن… پلیز اسے چھوڑ دیں” ماحن منتوں پر اتر آیا
“خدا کے لئے اس پر رحم کھاؤ, یہ تمہاری بیٹی ہے, تمہارا خون… اسے قتل تو نہ کرواؤ” وہ سعدیہ کی طرف مڑا
“میں کسی کو اس کے بارے میں نہیں بتاؤں گا, میں سمجھوں گا کی میں کبھی اس سے ملا ہی نہیں, میں وعدہ کرتا ہوں کہ اسے بھول جاؤں گا بس… اسے زندہ چھوڑ دو” وہ گڑگڑا رہا تھا
“سعدیہ اسے واپس بھیج دو ” آصف کو اس پر ترس آ گیا
“نہیں ڈیڈ… خدا کے لئے اسے واپس مت بھیجیں, اسے کہیں اور بھجوا دیں, کسی یتیم خانے, دارالامان… کہیں بھی لیکن اسے واپس اس جہنم میں میں نہ بھیجیں, ڈیڈ آپ نہیں جانتے وہاں اس کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے, پلیز ڈیڈ… ” ماحن ہاتھ جوڑ کر رو پڑا
“دیکھو ماحن… تمہارے سامنے دو آپشنز ہیں, یا تو میں اسے واپس بھجوا دوں یا پی… ختم کروا دوں” سعدیہ نے سفاکی سے کہا, ماحن سن رہ گیا
“وہ تمہاری بیٹی ہے, وہ ابھی صرف بارہ سال کی ہے, وہاں نہ جانے کون کون اسے اپنی خواہشوں کی تسکین کا ذریعہ بناتا ہے, اس پر رحم کرو” ماحن نے ایک آخری کوشش کی تھی لیکن سعدیہ کو اس لمحے سب کچھ چاہئے تھا
عزت, شہرت, دولت , اختیار, مرتبہ…سب کچھ
اگر نہیں چاہئے تھی تو مریم نہیں چاہئے تھی
“کوئی ایک آپشن چن لو ماحن… ” سعدیہ نے آخری بار کہا تھا, اس نے ایک نظر مریم کی طرف دیکھا
وہ کیسے اس کی موت چن لیتا… ؟ کیسےکہہ دیتا کہ اسے مار دو… ؟ نہیں کہہ سکا
“اسے واپس بھیج دیں” اس نے سر جھکاتے ہوۓ مریم کی تباہی چن لی, اس کی رسوائی چن لی, اس کے لئے موت کی بجاۓ ظلم چن لیا
“اسے خان پور چھوڑ آؤ” سعدیہ نے گارڈز سے کہا تھا
“میری ایک بات کان کھول کر سن لو, اگر تم نے بھولے سے بھی خان پور میں قدم رکھا, تو اس کی لاش تمہارا استقبال کرے گی” سعدیہ نے انتہائی سرد لحجے میں کہا تھا
وی بس نم آنکھوں سے اسے دور جاتے ہوئے دیکھتا رہا…
اور وہ چلی گئی… ہمیشہ کے لئے
