Khan Pur Ki Maryam By Ayesha Zulfiqar Readelle50164 Last updated: 16 August 2025
Rate this Novel
KhanPur Ki Maryam
By Ayesha Zulfiqar
وہ ایک لڑکی تھی... پندرہ سالہ نوخیز لڑکی انتہائی حسین... وہ اپنے جسم کے بدلے سب کچھ خرید سکتی تھی اور اس نے خریدا... پورے دو سال اس نے اپنا آپ بیچ بیچ کر اپنے بچے کے لئے دودھ کے چند گھونٹ مہیا کئے, اس کے لئے گرم کپڑوں کا انتظام کیا, پورے بس سٹاپ کو اس کی کمزوری پتہ چل گئی تھی اس کا چھوٹا سا بچہ... ہر شخص نے اس سے فائدہ اٹھایا, ہر شخص نے اسے چند گھونٹ دودھ کے بدلے پوری پوری رات استعمال کیا, ہر رات کسی نہ کسی دوکان کے بند شٹر سے اس کی چیخیں باہر سنائی دے رہی ہوتیں, ہر رات وہ کسی نہ کسی کے نفس کی تسکین کر رہی ہوتی... صرف چند سکوں کے بدلے وہ معذور تھی تو کیا ہوا؟ وہ پاگل تھی تو کیا ہوا ؟ وہ ایک ماں تھی, اسے پتہ تھا کہ بچہ روۓ تو سینے سے لگانا ہے, بلکے تو محبت سے ماتھا چومنا ہے, ضد کرے تو پیار سے بہلانا ہے, بھوک سے بلبلاۓ تو منہ میں دودھ ڈالنا ہے, سوۓ تو گود کی آغوش دینی ہے, سردی لگے تو خود ٹھنڈے فرش پر بیٹھ کر اسے گرم کمبل میں لپیٹنا ہے, گرمی لگے تو خود تپتے فرش پر بیٹھ کر اسے جھولی میں رکھنا ہے .................................. موجودہ حکومت کے پانچ سال پورے ہو گئے تھے, الیکشنز نزدیک تھے, پورے ملک میں الیکشنز کمپینز شروع ہو گئی تھیں, ایک دن رحیم یار خان سے ایک انتہائی سر گرم سیاسی کارکن جاوید کاردار صادق آباد آیا, وہ اپنی پارٹی کے لئے ووٹ جمع کر رہا تھا, اسی دوران اس کی نظر سترہ سالہ مریم پر پڑی... وہ ایک ماہر جوہری تھا اور اس نے ہیرے کو پہچان لیا, ادھر ادھر سے مریم کی سن گن لیکر وہ اسے اپنے ساتھ رحیم یار خان لے گیا اور وہاں اسے ایک بدنام زمانہ گینگ کو بیچ کر میر آصف مرتضیٰ اور سعدیہ مرتضیٰ کے لئے 200 ووٹ حاصل کر لئے, مسلسل ہر رات وہ کمروں کے اندر پامال ہوتی اور اس کا دو سالہ بچہ دروازے سے باہر فرش پر پڑا اس کی چیخیں سن رہا ہوتا... جاوید کاردار نے پورے سات ماہ اسے استعمال کیا, بیشک اس دوران اسے اپنے گھر چھت کے نام پر ایک ڈربہ نما کمرہ دیا, تین وقت کا کھانا دیا, اسے اور اس کے بچے کو کپڑے دئیے لیکن... بدلے میں اسے جسم فروشی پر لگا دیا, ہر رات کے بدلے وہ دس, دس ووٹ خریدتا, خدا خدا کر کے الیکشنز ختم ہوۓ اور مریم کی جان چھوٹی... اپنا مطلب پورا ہوتے ہی وہ اسے فٹ پاتھ پر چھوڑ گیا تب اس کا بیٹا چار سال کا تھا .................................... وہ الیکشنز والی رات تھی... میر آصف مرتضیٰ اور اس کی بیوی سعدیہ مرتضیٰ کی جیت کی رات ہر طرف جشن, پٹاخے, فائرنگ, ناچ گانا, پینا پلانا...! نوجوانوں کے غول کے غول موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں پر سیٹیاں بجاتے اور غل غپاڑ کرتے پھر رہے تھے, جیتنے والی پارٹی پورے رحیم یار خان میں خوشی کے شادیانے بجوا رہی تھی, وہ تین, چار لڑکوں سے بھری ہوئی ایک کار تھی جو زن سے اس کے پاس سے گزری... وہ فٹ پاتھ کے کنارے لیٹی ہوئی تھی, اس کا بیٹا اس کے پاس ہی بیٹھا کر رہا تھا "بریک لگا... بریک لگا" ایک لڑکے نے زور سے کہا, گاڑی اس کے بلکل قریب آ کر رک گئی "یہ اکیلی ہے جگر... ؟" ایک اور لڑکے نے کہا "ہاں... اٹھا لیں" دوسرے نے پوچھا "جب اکیلی ہے تو پوچھنا کیسا... اٹھا کے اندر ڈال" پہلے لڑکے نے کہا اور مریم کو زبردستی کھینچ کر گاڑی میں ڈال لیا "اماں... " اس کا چار سالہ بیٹا ننگے پاؤں گاڑی کے پیچھے بھاگا تھا, وہ چاروں اسے لیکر ایک خالی شیڈ میں آ گئے, ان میں سے ایک نے مریم کے سکارف سے اس کا منہ باندھ دیا تھا پوری رات ان چاروں نے باری باری اس کی بے حرمتی کی, مریم کی چیخیں بھی باہر نہ نکل سکیں, اس کا چار سالہ بیٹا شیڈ کا دروازہ بجا بجا کر تھک گیا, رو رو کر تھک گیا, چیخ چیخ کر تھک گیا کوئی مدد کے لیے نہ آیا... کسی کو رحم نہ آیا صبح کے قریب وہ چاروں جیت کے نشے میں مدہوش اسے وہیں چھوڑ کر واپس چلے گۓ "اماں... "وہ چار سالہ بچہ اندر آیا تھا, اس کی ماں کے جسم پر ایک چیتھڑا تک نہیں تھا, اس نے بڑی مشکلوں سے اس کے منہ پر بندھا ہوا سکارف کھول دیا, وہ نیم مردہ ہوئی پڑی تھی, اس کے خون سے فرش سرخ ہوتا جا رہا تھا, اس بچے نے دھیرے سے اپنا سر اس کے سینے پر رکھتے ہوۓ آنکھیں بند کر لیں تھیں .......................................
