Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5 Part 1

حاصل

از عمیرہ احمد
قسط5 پارٹ 1

“حدید!”
“ہاں آپ کروا سکتی ہیں- آپ شوہر کو مار سکتی ہیں تو اولاد کو بھی مار سکتی ہیں- آپ نے میرے لئے دنیا میں کہیں کچھ نہیں چھوڑا- عزت کی ایک دھجی تک نہیں، میں لوگوں کو آپ کی بے گناہی کا یقین دلاتا پھر رہا ہوں اور آپ…. آپ جیسی عورت کو گھر نہیں بسانا چاہیے- آپ کو تو گھر کا مطلب بھی پتا نہیں- جس نام اور شہرت کے لئے آپ نے اپنا گھر برباد کر دیا، وہ نام اور شہرت آج کسی اخبار میں پڑھ کر دیکھیں، دیکھیں لوگ آپ کو کتنی عزت سے یاد کرتے ہیں- آپ جیسی عورتیں پتا نہیں دنیا سے اپنی کون سی قابلیت منوانا چاہتی ہیں- آپ نے ہمیشہ مجھے نظر انداز کیا- پاپا کو نظر انداز کیا- لوگوں کو یہ بتاتا ہوئے کہ آپ میری ماں ہیں، میں کس عذاب سے گزرتا ہوں، یہ صرف میں ہی جانتا ہوں، کیوں اتنی ہوس تھی آپ کو شہرت کی، نام کی؟ آخر کیوں؟ کیوں آپ نے اپنے ساتھ دو اور انسانوں کو بھی تباہ کر دیا- کیوں آپ کو ایک انسان کو قتل کرتے ہوئے خوف نہیں آیا؟”
اس کے سوالوں کا زرشی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا- وہ بس بہتے آنسوؤں کے ساتھ چپ چاپ اسے دیکھ رہی تھی-
جب وہ خاموش ہوا تو یک دم وہ سلاخوں کے ساتھ سر لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی- حدید کچھ کہے بغیر اس کے پاس سے اٹھ کر آ گیا تھا-
اگلے دن وہ وکیل کے پاس بیٹھا ہوا تھا-
“کچھ نہیں کہا جا سکتا، زیادہ امکان یہی ہے کہ انہیں پھانسی کی سزا ہو جائے گی کیونکہ پلانڈ مرڈر تھا، اگر کسی طرح پھانسی نہیں بھی ہوئی تو بھی لمبی سزا سے بچنا اسی صورت ممکن ہو سکتا ہے اگر بلال علی کے ورثاء انہیں معاف کر دیں یعنی ان کی بہنیں، دوسری بیوی اور آپ اور یہ کافی مشکل ہے- بہرحال آپ کوشش کریں، شاید وہ……”
وکیل نے اسے بتایا تھا اور وہ مایوسی سے اس کے آفس سے نکل آیا تھا-
“مجھے نہیں پتا، میں آپ کو کبھی معاف کر سکوں گا یا نہیں لیکن میں کوشش کر رہا ہوں آپ کو سزا نہ ہو اور یہ میں آپ کے لئے نہیں اپنے لئے کر رہا ہوں- میں باپ کے بعد اب ماں سے بھی محروم نہیں ہونا چاہتا-“
اگلی ملاقات پر وہ تھکے تھکے انداز میں زرشی کو بتا رہا تھا- وہ خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھتی رہی تھی- چند ماہ کے عرصے نے اسے اپنی عمر سے بوڑھا کر دیا تھا، فیشل اور ماسک کے ذریعے چھپائی جانے والی جھریاں اب چہرے پر نمایاں تھیں- پیڈی کیور اور مینی کیور سے محروم ہاتھ پاؤں کے ناخن بڑھے ہوئے اور گندے تھے- اس نے پتا نہیں کتنے دنوں سے کنگھی نہیں کی تھی- ملک کے سب سے مہنگے لباس تیار کروانے والی کے کپڑے ملگجے اور مسلے ہوئے تھے- حدید نے کبھی زرشی کو اس حالت میں نہیں دیکھا تھا اور اب اسے اس طرح دیکھ کر اسے تکلیف ہو رہی تھی-
“کیا اسے مکافات عمل کہا جا سکتا ہے؟” اس نے سوچا تھا-
“مجھے یہاں نیند نہیں آتی- یہاں بہت مچھر ہیں- میں ساری رات جاگتی رہتی ہوں-“
وہ مضمحل آواز میں اسے بتا رہی تھی وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اسے تسلی دینےلگا تھا-
سزا معاف کروانے کی اس کی ساری کوششیں ناکام ہوئی تھیں- ان لوگوں میں سے کوئی بھی زرشی کو معاف کرنے پر تیار نہیں ہوا تھا- اب صرف یہ باقی رہ گیا تھا کہ جج اسے پھانسی کی سزا دیتا ہے یا عمر قید کی-
مقدمے کے فیصلے سے ایک رات پہلے وہ پھر بہت عرصہ کے بعد خدا کے سامنے زرشی کے لئے گڑگڑایا تھا-
“اس بار تو تم میری دعا سن لو- اس بار تو میرا ہاتھ نہ جھٹکو- پاپا کے لئے نہیں تو ممی کے لئے ہی سہی، مگر میری دعا قبول کر لو- کوئی ایک رشتہ تو میرے لئے رہنے دو- اے خدا میں تو مسلم ہوں- ایک خدا کا ماننے والا ہوں اور اپنی ماں کے لئے دعا کر رہا ہوں- ماں باپ کے لئے دعا کرنے والے کی دعا تو تم رد نہیں کرتے- میرے پاس یہ آخری رشتہ رہ گیا ہے یہ بھی ختم ہو گیا تو میں کیا کروں گا- کیسے رہوں گا، کیسے جیوں گا- خدا اس بار تو مجھ پر رحم کرنا، اس بار تو مجھے مایوس مت کرنا- میں تیرے سب سے عزیز پیغمبر کا ماننے والا ہوں- تو میرے لئے، ان کے لئے ہی مجھے معاف کر دینا، میری آزمائش ختم کر دینا- میری ماں کو تکلیف سے آزادی دے دینا- اپنے پیغمبر کی امّت کو تو تو مایوس نہیں کرتا- ان کی دعائیں تو تو ضرور سن لیتا ہے، میں بھی ان کی امّت میں سے ہوں- میں بھی تجھ سے مانگ رہا ہوں- مجھ پر اپنا کرم کر- مجھ کو مایوس مت کر-“
“ملزمہ زرشی بلال علی پر اپنے شوہر بلال علی کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے- تمام واقعات و حقائق اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ملزمہ زرشی بلال علی نے جائیداد کے حصول اور اپنے شوہر سے دوسری شادی کا بدلہ لینے کے لئے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بڑی بے رحمی سے قتل کیا- یہ عدالت ملزمہ زرشی بلال علی کو عمر قید اور پھانسی کی سزا دیتی ہے-“
اگلے روز صبح گیارہ بجے عدالت نے فیصلہ سنا دیا تھا- زرشی نے عدالت میں ہی بلند آواز میں رونا شروع کر دیا تھا- حدید کسی بت کی طرح اپنی سیٹ پر بیٹھا رہا تھا-
پوری رات گھٹنوں کے بل کسی بھکاری کی طرح خدا کے سامنے گڑگڑانے کا نتیجہ یہ ہے اور یہ سب پہلی بار نہیں ہوا، ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہا ہے- آخر میں نے الله سے دعا کیوں کی تھی- آخر کیوں میں نے….” وہ چہرہ دونوں ہاتھوں سے چھپا کر بلک بلک کر رونے لگا تھا- پولیس زرشی کو لے جا چکی تھی- فوٹو گرافر اس کے آگے پیچھے بھاگتے ہوئے برآمدے میں اس کی تصویر کھینچ رہے تھے- عدالت کا کمرہ خالی ہو چکا تھا- اس کا وکیل شکست خوردہ انداز میں اسے تسلی دے رہا تھا-
“زندگی میں خدا کی وجہ سے میں آخر کتنی بازیاں ہاروں گا-” اس نے اپنی سیٹ سے اٹھتے ہوئے تلخی سے سوچا ۔
اس شام اسے ایک بار پھر ٹینا کی ضرورت محسوس ہوئی تھی، اس نے اس امید میں اسے فون کیا تھا کہ شاید وہ بیرون ملک سے واپس آ گئی ہو- پچھلے کئی ماہ سے اسے فون کرنے پر یہی پتا چلتا تھا کہ وہ امریکہ گئی ہوئی ہے اور ابھی تک واپس نہیں آئی، اسے پہلی بار یہ جان کر حیرانی ہوئی تھی- کیونکہ وہ اسے مطلع کر کے نہیں گئی تھی- لیکن اس نے یہ سوچ کر خود کو تسلی دے لی تھی کہ وہ پچھلے کئی ماہ سے اتنا مصروف رہا ہے کہ شاید جب اس نے فون کیا ہو گا تو وہ اسے نہیں ملا ہو گا لیکن امریکہ جانے کے بعد ایک بار بھی اس نے حدید سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی تھی اور بہت سی دوسری پریشانیوں میں ایک پریشانی یہ بھی شامل ہو گئی تھی-
“کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ وہ کب تک واپس آئیں گی یا ان سے رابطے کے لئے کوئی فون نمبر یا ایڈریس دے دیں-“
اس نے ہمیشہ کی طرح فون پر اپنا مطالبہ دہرایا تھا- فون پر ٹینا کی کزن بات کر رہی تھی اور اس نے یہ کہہ کر فون رکھ دیا تھا کہ اس کا فون نمبر اور ایڈریس نہیں دے سکتی، البتہ ٹینا کا فون آنے پر اس کے بارے میں اسے بتا دے گی- ٹینا نے مناسب سمجھا تو وہ پھر خود اس سے رابطہ کر لے گی- حدید نے بے دلی سے فون رکھ دیا تھا-
اگلے دن وہ زرشی سے ملنے گیا تھا اور اسے دیکھتے ہی اسے اس کے ذہنی انتشار کا اندازہ ہو گیا تھا- وہ پوری ملاقات میں روتی رہی تھی اور التجائیں کرتی رہی تھی کہ وہ کسی طرح اسے جیل سے نکال لے- وہ سلاخوں کےدوسری طرف ہاتھ جوڑتی رہی تھی اور وہ بے بسی کے عالم میں ماں کو دیکھتا رہا تھا-
“حدید! میں یہاں مر جاؤں گی- میں یہاں نہیں رہ سکتی-“
وہ سلاخوں کے درمیان لگی ہوئی جالی پر ہاتھ مار مار کر روتی رہی- اس کے پاس تسلی کے لئے کوئی لفظ نہیں تھے، وہ صرف وہ چیزیں ان کے حوالے کر کے آ گیا تھا جو وہ زرشی کے لئے لے گیا تھا-
اس دن جیل سے نکلنے کے بعد وہ گھر نہیں گیا تھا- وہ پورا دن اور پوری رات بے مقصد سڑکوں کے چکر کاٹتا رہا تھا- رات کے بارہ بجے نہر کے کنارے گھاس کے قطعے پر جا کر وہ بیٹھ گیا تھا اور پوری رات اس نے نہر کے پانی اور سامنے سڑک پر نظر آنے والی ٹریفک کو دیکھتے ہوئے گزار دی تھی-
“سات سال میں جیل اور گھر کے درمیان چکر کاٹتے گزار دوں گا اور سات سال کے بعد میں جسے گھر لے کے آؤں گا، وہ میری ماں کی لاش ہو گی اور اس کے بعد میری زندگی میں آنے والا دوسرا خونی رشتہ بھی ختم ہو جائے گا-” وہ گیلی آنکھوں سے نہر کے پانی کو دیکھتا رہا-
اسے سات سال جیل اور گھر کے چکر کاٹنے نہیں پڑے- اگلی ملاقات سے پہلے ہی ایک رات اسے جیل میں اپنی ماں کی خود کشی کی
خبر مل گئی تھی- زرشی نے نیند کی گولیاں کھا کر خود کشی کی تھی-
نیند کی گولیاں جیل کے اندر ان تک کس نے پہنچائی تھیں؟
اس کی خود کشی کا ذمہ دار کون تھا؟
جیل حکام کی لاپرواہی سے اسے کیا نقصان پہنچا تھا؟
حدید کو کسی چیز میں دلچسپی نہیں تھی، وہ جیل گیا تھا اور چپ چاپ زرشی کی لاش لے کر واپس آ گیا تھا- نانا نانی کو فلائٹ نہیں مل پائی تھی اور وہ فوراً نہیں آ سکتے تھے- ہمسایوں کے دس پندرہ لوگوں کی موجودگی میں ملک کی نامور فیشن ڈیزائنر کو ڈیفنس کے علاقے کے ایک چھوٹے سے قبرستان میں دفنا دیا گیا تھا- اس کے فیشن شوز میں ہزاروں لوگ شرکت کرتے تھے- اس کے جنازے میں بیس لوگ بھی نہیں تھے- بلال علی کی موت پر وہ بہت رویا تھا- زرشی کی موت پر وہ بلکل گم صم رہا تھا- وہ ماں کو اس روز رو چکا تھا جس روز اسے پھانسی کی سزا ہوئی تھی- زرشی جیسی ماؤں کے لئے دوسری بار رونا بہت مشکل ہوتا ہے-
زرشی کی موت کے دوسرے دن اس نے ایک بار پھر ٹینا سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی- ایک بار پھر وو ناکام ہو گیا تھا-
“میں نے انہیں آپ کے بارے میں بتا دیا تھا، وہ آپ سے خود ہی رابطہ کر لیں گی-“
“کب؟”
“یہ انہوں نے نہیں بتایا-” فون رکھ دیا گیا تھا-
حدید کو اس وقت کسی کی ضرورت تھی تو ٹینا کی ضرورت تھی- وہ اس سے بات کرنا چاہتا تھا- وہ اس کے ساتھ اپنی تکلیف شیئر کرنا چاہتا تھا- وہ اسکے سامنے رونا چاہتا تھا تا کہ وہ اسے دلاسا دے، اسے چپ کروائے جس طرح وہ ہمیشہ کیا کرتی تھی- وہ اس سے پوچھنا چاہتا تھا کہ اب اسے کیا کرنا چاہیے- کیا اسے پاکستان میں رہنا چاہیے یا پھر واپس انگلینڈ چلے جانا چاہیے-
کورٹ جائیداد کے بارے میں فیصلہ کر چکا تھا- جائیداد کا ایک بڑا حصہ بلال علی کی دوسری بیوی کے پاس چلا گیا تھا- فیکٹری کے کچھ شیئرز، گھر اور بینک اکاؤنٹس حدید کے حصے میں آئے تھے- اس نے وہ شیئر بھی بلال علی کی بیوی کو ہی بیچ دیے تھے- زرشی کا بوتیک اور ورکشاپ بھی وہ بیچ چکا تھا-
اب وہ ٹینا سے پوچھنا چاہتا تھا کہ اسے آگے کیا کرنا چاہیے- وہ اس سے اپنی اور اس کی شادی کے بارے میں بھی بات کرنا چاہتا تھا- وہ سارے رشتے کھونے کے بعد ایک بار پھر سے نئے رشتے قائم کرنا چاہتا تھا اور ٹینا…. ٹینا جیسے گم ہو گئی تھی-
“اس نے میرا بہت انتظار کیا ہے- مجھے بھی اس کا انتظار کرنا چاہیے، وہ کبھی نہ کبھی تو واپس آئے گی-” اس نے دل میں فیصلہ کیا تھا-
اس دن وہ لبرٹی کے سامنے سے گزر رہا تھا جب بے اختیار اس نے گاڑی کو بریکیں لگا دی تھیں- اس نے ٹینا کو ایک دوسرے لڑکے کے ساتھ ایک دکان میں داخل ہوتے دیکھا تھا- اس کا دل جیسے خوشی سے اچھل کر حلق میں آ گیا تھا-
“تو وہ واپس آ گئی ہے-“
وہ بھاگ کر اس دکان میں جانا چاہتا تھا مگر خود پر ضبط کرتے ہوئے وہ گاڑی میں ہی بیٹھا رہا-
پندرہ منٹ کے بعد اس نے ٹینا کو اسی لڑکے کے ساتھ دکان سے نکلتے دیکھا تھا- دکان سے نکلنے کے بعد وہ پارکنگ میں کھڑی اپنی کار کی طرف گئی تھی- ٹینا کی گاڑی چند لمحوں کے بعد ایک فراٹے سے حدید کے پاس سے گزر گئی تھی- حدید تیز رفتاری سے گاڑی چلاتے ہوئے اپنے گھر چلا گیا تھا- آج ٹینا کو دیکھ کر وہ بہت عرصے کے بعد اتنا خوش ہوا تھا-
اس نے گھر پہنچتے ہی ٹینا کو کال کیا تھا- ایک بار پھر فون پر وہی آواز سنائی دی تھی- حدید نے اپنا تعارف کروایا تھا-
“دیکھیں، میں نے آپ کو بتایا ہے ناکہ وہ ملک میں نہیں ہے- باہر گئی ہوئی ہیں- جب واپس آئیں گی تو آپ سے رابطہ کر لیں گی-“
حدید کو جیسے کرنٹ لگا تھا-
“آپ کیا کہہ رہی ہیں، میں نے ابھی چند منٹوں پہلے ٹینا کو لبرٹی میں دیکھا ہے-” اس نے بے یقینی کے عالم میں کہا تھا-
دوسری طرف یک دم خاموشی چھا گئی تھی- چند لمحوں بعد آواز دوبارہ آئی تھی-
“آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے- ٹینا یہاں…….”
حدید نے تیزی سے بات کاٹ دی تھی- “مجھے کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی- میں نے ٹینا کو ہی دیکھا ہے- میں اس کی گاڑی کا نمبر تک جانتا ہوں- کیا مجھے اس کے بارے میں بھی غلط فہمی ہوئی ہے، آپ آخر مجھ سے جھوٹ کیوں بول رہی ہیں-“
“آپ صاف صاف سننا چاہتے ہیں تو سن لیجئے- ٹینا آپ سے بات نہیں کرنا چاہتی-“
حدید کے سر پر جیسے آسمان گر پڑا تھا-
“میں ٹینا کے کہنے پر ہی آپ سے جھوٹ بولتی رہی ہوں-“
حدید کچھ بول نہیں سکا-
“پلیز، آپ ایک بار اس سے میری بات کروا دیں-“
“وہ آپ سے بات کرنا نہیں چاہتی-“
“اس سے کہیں کہ وہ یہ بات خود فون پر مجھ سے کہہ دے-“
فون بند کر دیا گیا تھا- وہ پاگلوں کی طرح بار بار ٹینا کو کال کرتا رہا- دوسری طرف سے بلآخر کسی نے ریسیور اٹھا کر رکھ دیا تھا- وہ کچھ سوچے سمجھے بغیر ٹینا کے گھر پہنچ گیا تھا- لیکن گیٹ کیپر نے اسے اندر نہیں جانے دیا تھا-
“ٹینا بی بی کسی سے ملنا نہیں چاہتی- آپ یہاں سے جاؤ ورنہ ہم پولیس کو بلوا لے گا-“
اس نے انٹر کام پر بات کرتے ہوئے حدید سے کہا تھا- وہ شاک کے عالم میں وہاں سے آیا تھا-
گھر آنے کے بعد وہ کچھ دیر بعد فون کرنے لگا تھا- ہر بار اس کی آواز سنتے ہی فون رکھ دیا جاتا- وہ باز نہیں آیا تھا-
رات کے نو بجے بلآخر ٹینا کی آواز اسے فون پر سنائی دی تھی- وہ شدید غصے میں تھی-
“تم بار بار مجھے تنگ کیوں کر رہے ہو- تم جانتے ہو کہ میں تم سے بات کرنا نہیں چاہتی-“
“لیکن کیوں ٹینا؟ آخر میں نے کیا کیا ہے؟”
“بس میں تم سے بات کرنا نہیں چاہتی- تم میرا پیچھا چھوڑ دو-“
“ٹینا! تم نے مجھ سے شادی…..”
“حدید! یہ فضول باتیں چھوڑو- میں اپنی زندگی کا ساتھی چن چکی ہوں اور وہ تم سے بہت بہتر ہے- تم بھی اپنے لئے کسی اور لڑکی کو ڈھونڈ لو-” اس کا سانس رک گیا تھا-
“تم کیا کہہ رہی ہو؟”
“وہی کہہ رہی ہوں جو تم سن رہے ہو- آئندہ مجھے فون مت کرنا-“
“ٹینا پلیز، پلیز ایک بار مجھ سے مل لو- آئی سویئر میں دوبارہ تمہیں تنگ نہیں کروں گا- بس ایک بار میری بات سن لو- اگر پھر بھی تم مجھے چھوڑنے کے فیصلے پر قائم رہیں تو میں دوبارہ کبھی تمھارے راستے میں نہیں آؤں گا-“
دوسری طرف خاموشی چھائی رہی تھی- چند لمحوں بعد ٹینا نے ایک گہرا سانس لیتے ہوئے کہا-
“ٹھیک ہے کل ماڈل ٹاؤن پارک میں مجھ سے مل لو-“
فون بند ہو گیا تھا- وہ بہت دیر تک ریسیور ہاتھ میں لئے بیٹھا رہا- “میں اس سے بات کروں گا، وہ مجھ سے محبت کرتی ہے- وہ میری بات سمجھ جائے گی- میں اس کی ہر غلط فہمی دور کر دوں گا- میں اسے یاد دلاؤں گا اس کے سارے وعدے، وہ مجھے کیسے چھوڑ سکتی ہے-” وہ بہت دیر تک بے چینی کے عالم میں لاؤنج میں چکر لگاتا رہا تھا-
“آخر مجھ سے ایسی کون سی غلطی ہوئی جس نے اسے ناراض کر دیا- میں نے تو کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی جو اسے ناراض کر دے- میں پھر بھی اس سے ایکسکیوز کر لوں گا- ہو سکتا ہے، انجانے میں میری کوئی بات اسے بری لگی ہو-” وہ خود کو دلاسہ دینے لگا تھا-
“مگر اگر اس نے میری کوئی بات نہ سنی، اگر اس نے اپنا فیصلہ نہ بدلہ، اگر اس نے مجھے چھوڑ……”
وہ آگے کچھ سوچنا نہیں چاہتا تھا- اس کی بے قراری بڑھتی جا رہی تھی- مجھے کیا کرنا چاہیے جس سے ٹینا کی خفگی ختم ہو جائے، وہ اپنا فیصلہ تبدیل کر دے- میری کون سی بات اس کا دل بدل سکتی ہے-” وہ لاؤنج میں چکر کاٹتا رہا تھا-