Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11 Part 2

حاصل
از عمیرہ احمد
سکینڈ لاسٹ قسط 11 پارٹ 2

“جب ڈیوڈ میرے سامنے ختم ہوا، میرے لئے ساری دنیا ختم ہو گئی-” وہ کہہ رہی تھی- “میں نے سوچ لیا تھا مجھے اب زندگی میں کچھ نہیں کرنا- مجھے بس رونا ہے- مجھے یوں لگتا تھا جیسے دنیا میں کہیں کچھ ہے ہی نہیں- نہ کوئی خدا، نہ پیغمبر، نہ مذہب، نہ رشتہ- اگر کچھ ہے تو صرف خود غرضی- مجھے ہر چیز سے نفرت ہو گئی تھی، ہر چیز سے- میری فیملی مجھے مار دینا چاہتی تھی- جب انہوں نے ڈیوڈ کو مار دیا تو بہت دنوں تک میں سو نہیں سکی تھی- کمرہ بند ہونے پر بھی مجھے یونہی لگتا تھا جیسے ابھی کہیں سے گولی چلے گی اور میں مر جاؤں گی- انہوں نے ڈیوڈ کو میری وجہ سے مارا تھا اور میں جانتی تھی وہ ہر اس شخص کو مار دیں گے جو میرے قریب آنے کی کوشش کرے گا- تب میں نے سوچا تھا اب مجھے کسی سے کبھی بھی محبت نہیں کرنی ہے- میں کسی اور کا خون اپنے سر نہیں لینا چاہتی تھی- جب میں تم سے ملنے لگی تب میں نے سوچا، اگر وہ لوگ تمھارے بارے میں جان گئے تو……؟ میں خوفزدہ ہو گئی پھر میں نے سوچا میں بہت جلد تم سے ملنا چھوڑ دوں گی ہمیشہ کے لیے اور میں نے ایسا ہی کیا- تب تک تم میرے لیے صرف ایک نیکی تھے اور کچھ نہیں-
لیکن ان چھ سالوں میں سب کچھ بدل گیا- میرا خیال تھا محبت صرف ایک بار ہوتی ہے- میرا خیال تھا مجھے ڈیوڈ کے بعد دوبارہ کسی سے محبت نہیں ہو گی-“
وہ رک گئی تھی- حدید نے اسے چہرہ موڑتے ہوئے دیکھا تھا-
“ڈیوڈ سے میں نے خود محبت کی تھی- تم سے الله نے کروائی ہے- ان چھ سالوں میں ہر بار نماز پڑھنے کے بعد میں نے ایک ہی دعا کی تھی، میں تمہیں کبھی نہ دیکھوں، تم سے کبھی نہ ملوں- میں نے الله سے کہا تھا وہ تمھارے سامنے میرے عیبوں کو چھپا رہنے دے- وہ تمھارے سامنے میرا پردہ رہنے دے- چھ سال میری دعا قبول ہوتی رہی- میں نے تمہیں نہیں دیکھا- آج پہلی بار نماز میں یہ دعا کرنا بھول گئی اور…… اور تم میرے سامنے کھڑے ہو اور…… اور وہ بھی ہر راز جانتے ہوئے-
تمہیں یاد ہے جب تم پہلی بار مجھ سے ملے تھے تو تم نے کہا تھا کہ دنیا میں تمہارا کوئی نہیں ہے- تب میں تمہیں بتانا چاہتی تھی کہ دنیا میں بہت سے لوگ میرے ہیں مگر میرے لئے کوئی نہیں- تمہیں خدا نے بہت سے رشتوں سے محروم رکھا اور جو رشتے چھینے، وہ الله نے چھینے- مجھے الله نے ہر رشتے سے نوازا اور میں نے ہر رشتہ خود گنوایا، اپنے ہاتھوں سے- آج دنیا میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جو میرے لئے روتا ہو گا- مجھے یاد کرتا ہو گا اور پچھلے چھ سالوں میں، میں ہر رات یہ سوچ کر سویا کرتی تھی کہ تم…… تم کبھی نہ کبھی مجھے ضرور یاد کرتے ہو گے- دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جن سے آپ محبت کرتے ہیں- ان سے بھی کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو آپ سے محبت کرتے ہیں- میرا خیال تھا تمہیں مجھ سے محبت تھی- اب نہیں ہے، میں یہ بھی جانتی ہو-“
وہ چپ چاپ اسے دیکھتا رہا تھا- پارک میں خاموشی چھائی ہوئی تھی- بعض دفعہ سناٹا صرف باہر ہی نہیں، بلکہ انسان کے اندر بھی ہوتا ہے-
“میں بہت سے لوگوں کی مجرم ہوں- بہت سے لوگوں نے میری وجہ سے بہت کچھ سہا ہے- میں نے اپنے ماں باپ کے اعتماد کی دھجیاں اڑا دیں- میں نے اپنے خاندان کی عزت کو نیلام کر دیا- میری وجہ سے ڈیوڈ کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے- میری وجہ سے ڈیوڈ کے گھر والوں کو اس سے ہمیشہ کے لیے محروم ہونا پڑا- مگر حدید! میری وجہ سے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا- میں نے کم از کم تمھارے لئے کچھ برا نہیں کیا- پھر بھی میری وجہ سے تمہیں جو تکلیف پہنچی، میں اس کے لئے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتی ہوں-“
حدید نے اپنے سامنے اس کے جڑے ہوئے ہاتھوں کو دیکھا تھا- وہ بے یقینی سے اسے دیکھتا رہا تھا- پھر کچھ کہے بغیر ایک جھٹکے سے وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا تھا، چند لمحے وہ کچھ کہنے کی کوشش کرتا رہا پھر لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چلا گیا-
فضا میں خنکی بہت بڑھ گئی تھی- ثانیہ اپنا بیگ اٹھا کر کھڑی ہو گئی- وہ اندھیرے میں غائب ہو چکا تھا- اس نے اسے ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کی تھی- وہ جانتی تھی حدید اب دوبارہ اسے کبھی نظر نہیں آئے گا-
“حدید کی زندگی، حدید کی زندگی ہے- اس میں کہیں بھی کسی ثانیہ شفیق کو نہیں ہونا چاہیے-“
اس کے ساتھ پارک میں آتے ہوئے اس نے سوچا تھا-
“مجھے اسے سب کچھ بتا دینا ہے، سب کچھ- مجھے آج اس سے کچھ بھی نہیں چھپانا-“
اس نے طے کیا تھا اور پھر اس نے یہی کیا تھا- اس نے حدید کو ہر بات بتا دی تھی- کچھ بھی راز میں نہیں رکھا تھا- وہ جانتی تھی اس کا نتیجہ کیا ہو گا-
“ہر کہانی کے انجام پر کچھ کردار کھو جاتے ہیں، کچھ کردار پاتے ہیں- میں کھونے والے کرداروں میں سے ہوں-“
اس نے پارک کے گیٹ سے نکلتے ہوئے سوچا تھا-
اس دن کے بعد وہ دوبارہ کبھی اسلامک سینٹر نہیں گئی- اب وہ کسی کے سوال کا جواب نہیں دینا چاہتی تھی اور پروفیسر عبدالکریم…… وہ دوبارہ ان کا سامنا کرنا نہیں چاہتی تھی- وہ کسی کا سامنا کرنا نہیں چاہتی تھی-

کمیونٹی سینٹر میں عید کے اجتماع میں شرکت کر کے جب وہ باہر نکلی تو ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہو چکی تھی- ہال کے اندر اور باہر لوگوں کی ایک بڑی تعداد تھی- گروپس میں کھڑے ہوئے لوگوں کے قہقہوں اور آوازوں نے ماحول پر ہمیشہ چھائی رہنے والی خاموشی کو ختم کر دیا تھا- اس کے شناسا وہاں صرف چند لوگ تھے اور ان کے پاس اس کے لیے زیادہ وقت نہیں تھا- وہ سب وہاں اپنی فیملیز کے ساتھ آئے ہوئے تھے اور فیملیز آپس میں گھل مل کر خوش گپیوں میں مصروف تھیں- اس کے لیے کچھ بھی نیا اور مختلف نہیں تھا- پچھلے کئی سالوں سے وہ ایسی ہی عیدیں مناتی آ رہی تھی-
لوگوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے اس نے اوورکوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈال لیے تھے- خنکی میں غیر معمولی حد تک اضافہ ہو گیا تھا- کمیونٹی سینٹر سے نکلنے کے بعد وہ سڑک پر آ گئی تھی- اوورکوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے وہ فٹ پاتھ پر چلتی رہی-
“اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو ڈراپ کر سکتا ہوں؟”
اس نے اپنے قریب ایک گاڑی کو رکتے دیکھا تھا اور پھر آواز آئی تھی- اس نے بے اختیار مڑ کر دیکھا- چند لمحے خاموشی سے دیکھنے کے بعد اس نے کہا تھا-
“نہیں، شکریہ-“
“بارش تیز ہو سکتی ہے-” بڑی ہمدردی سے ایک بار پھر کہا گیا تھا-
“اٹس آل رائٹ-“
وہ ایک بار پھر چلنے لگی تھی- اس کے پاس رکنے والی گاڑی فراٹے کے ساتھ اس کے پاس سے گزر گئی تھی- اس کی اداسی یکدم بےحد گہری ہو گئی تھی- سڑک کے کنارے لگے ہوئے درخت کی نچلی شاخ پر اس نے پرندوں کا ایک جوڑا بیٹھے دیکھا تھا-
“One for sorrow two for joy “
اس نے زیر لب کہا تھا-
“Joy” ایک تلخ مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر ابھری تھی- بارش یکدم تیز ہو گئی تھی- وہ مین روڈ پر پہنچنے کے لیے تیزی سے چلنے لگی-
بس شیلٹر کے نیچے پہنچ کر وہ سوچنے لگی تھی کہ اسے اس وقت کہاں جانا چاہیے- وہ گھر جانا نہیں چاہتی تھی- کم از کم آج کے دن وہ گھر جا کر کمرے میں قید ہونا نہیں چاہتی تھی- اس نے دور سے بس کو آتا دیکھ لیا تھا-
ایک سستے سے انڈین ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر اس نے کھانا کھایا تھا اور پھر پہلے کی طرح سڑکوں پر بے مقصد بارش میں بھیگنے کے بجائے وہ ایک شاپنگ مال میں گھس گئی تھی- مختلف چیزوں اور لوگوں پر نظر دوڑاتے ہوئے بہت دیر تک وہ ادھر سے ادھر پھرتی رہی تھی- اسے یاد آیا تھا پچھلی عید پر بھی وہ یہاں اسی طرح پھرتی رہی تھی-
“اگلے کتنے سال میں اپنی عیدیں اس طرح گزاروں گی؟” شاپنگ مال میں کافی پیتے ہوئے اس نے سوچا تھا- “یہاں اس طرح اکیلے پاگلوں کی طرح پھرتے ہوئے-“
اسے اندازہ نہیں ہوا اس نے وہاں کتنے گھنٹے گزارے تھے- جب وہ شاپنگ مال سے نکلی تھی تو آسمان تاریک تھا- بارش اب بھی برس رہی تھی- اس نے گھڑی میں وقت دیکھا تھا- شام کے چھ بج رہے تھے-
جس وقت وہ بس سے اتری تھی، بارش تیز ہو چکی تھی- مین روڈ سے بائی روڈ کا فاصلہ اس نے تقریباً بھاگتے ہوئے طے کیا تھا- پانچ منٹ کے بعد وہ اپنے گھر کے سامنے تھی- گھر کے عقبی جانب آتے ہی اس نے سب سے اوپر والی سیڑھی پر کسی کو بیٹھے دیکھا تھا- وہ کچھ حیران ہوئی تھی- اس وقت اتنی بارش میں کون بیٹھا ہے؟ اس نے اندازہ لگانے کی کوشش کی تھی مگر دور سے کچھ پتا نہیں چل رہا تھا-
“جولین کا کوئی بوائے فرینڈ ہو گا- شاید ابھی وہ نہیں آئی تھی-“
سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس نے اوورکوٹ کی جیب سے کمرے کی چابی نکال لی تھی-
سیڑھی پر جو بھی بیٹھا تھا اسے آتا دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا تھا- ثانیہ نے اس کے پاس سے گذرتے ہوئے سرسری نظر اس کے چہرے پر ڈالی تھی- اس کے ذہن میں جیسے ایک جھماکا ہوا تھا- سیڑھی کے کونے میں لٹکے ہوئے بلب کی ہلکی سی روشنی اس کا چہرہ شناخت کرنے کے لیے کافی تھی- وہ چند لمحے وہاں سے ہل نہیں سکی-
اپنے کمرے کے دروازے کی طرف جاتے ہوئے اس نے اپنے پیچھے قدموں کی آواز سنی تھی- دروازہ کھول کر اسے بند کیے بغیر وہ اندر کمرے میں چلی آئی تھی-
“سڑک پر لفٹ کی آفر دینے کے بعد وہ شاید سیدھا یہیں آیا تھا مگر کیوں؟”
اس نے اپنا اوورکوٹ دروازے کے پیچھے لٹکاتے ہوئے سوچا تھا- وہ اندر آنے کے بجائے دروازے کے باہر ہی رک گیا تھا- ثانیہ نے خاموشی سے دروازہ کھول دیا تھا- وہ کچھ جھجکتے ہوئے اندر آیا تھا- وہ بری طرح بھیگا ہاتھ-
“اس طرح بھیگنے کی کیا ضرورت تھی- تم برآمدے میں انتظار کر سکتے تھے-” دروازہ بند کرتے ہوئے ثانیہ نے مدھم آواز میں اس سے کہا تھا-
“بھیگنے سے کیا ہوتا ہے؟” اس نے مڑ کر پوچھا تھا- اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں-
وہ شاید سیڑھیوں پر بیٹھا روتا رہا تھا- سات سال پہلے بھی اس نے ایک بار اسے اسی طرح پارک میں……
وہ آگے بڑھ گئی تھی- ہیٹر آن کرنے کے بعد اس نے ایک فلور کشن اس کے سامنے رکھ دیا تھا-
“یہاں بیٹھ جاؤ-“
وہ جوتے اتار چکا تھا- ثانیہ نے باتھ روم میں جا کر اپنا گیلا حجاب اتار کر دوسرا حجاب اوڑھ لیا تھا- وہ واپس کمرے میں آئی تو وہ فلور کشن پر بیٹھا ہوا تھا-
“اپنا سویٹر اتار دو-” اس نے ایک تولیہ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا تھا-
اس نے خاموشی سے تولیہ پکڑ کر اپنا سویٹر اتارنا شروع کر دیا- ثانیہ نے کیتلی میں کافی کے لیے پانی گرم ہونے کے لیے رکھ دیا- حدید نے سویٹر اتار کر کارپٹ پر رکھ دیا تھا اور تولیے سے بال خشک کرنے لگا تھا- وہ اس کے پاس آئی تھی اور سویٹر کو سیدھا کر کے اس نے ہیٹر کے سامنے پھیلا دیا تھا- وہ خاموشی سے اس کی سرگرمیاں دیکھ رہا تھا- وہ اسے ایک اونی شال تھمانے کے بعد واپس کونے میں جا کر کافی بنانے میں مصروف تھی- جب اس نے حدید کی آواز سنی تھی-
“کیا تم یہ سب کام میرے لیے ساری عمر نہیں کر سکتیں-” وہ اپنی جگہ پہ ساکت ہو گئی تھی-
“یہ کیا کہہ رہا ہے؟” اس نے سوچا تھا-
“کیا اب بھی یہ ممکن ہے؟” اس نے مڑ کر اسے دیکھا تھا- وہ اس کی طرف متوجہ نہیں تھا- ہیٹر پر نظریں جمائے بیٹھا تھا-
“شاید مجھے کچھ غلط فہمی ہوئی ہے-” ثانیہ نے سوچا تھا- کافی کی ٹرے اس نے حدید کے سامنے لا کر رکھ دی تھی-
“تم جانتی ہو، آج کیا دن ہے؟” اس نے کافی کا کپ اٹھاتے ہوئے اس سے پوچھا تھا-
ثانیہ نے اس کے چہرے کو دیکھا تھا- وہاں ایک عجیب سی کیفیت تھی-
“عید ہے-” بہت مدھم آواز میں اس نے کہا تھا-
“بس…… بس عید ہے-” اس کی آواز میں عجیب سی مایوسی تھی-
“تمہیں کچھ یاد نہیں؟” اسے یاد تھا مگر وہ خاموشی سے دونوں ہاتھوں میں پکڑے ہوئے کپ کو گھورتی رہی-

آخری قسط بھی آج ہی پوسٹ کردی جائے گی رات میں