Haasil By Umerah Ahmed Readdelle50102 Episode 10 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10 Part 1
حاصل
از عمیرہ احمد
قسط 10 (پارٹ 1)
ان دنوں اس کے لیے گھر میں ایک پرپوزل آیا ہوا تھا- اس کے ابو کو یہ پرپوزل بہت پسند آیا تھا- انہوں نے ثانیہ کی مرضی پوچھی تھی اور اس نے انکار کر دیا تھا-
“مگر تم آخر انکار کی کوئی وجہ تو بتاؤ- اتنا اچھا رشتہ آخر تمہیں کیوں پسند نہیں؟” اس کی امی حیران تھیں-
“بس میں نے کہا نہ کہ میں ابھی آگے پڑھنا چاہتی ہوں- گریجویشن کرنے سے پہلے مجھے شادی نہیں کرنی-“
“تو ہم تمہاری منگنی کر دیتے ہیں- تم گریجویشن کر لینا-“
“مجھے منگنی بھی نہیں کرنی- مجھے یہ رشتہ پسند ہی نہیں ہے-“
وہ چلانے لگی تھی- اس کی امی پہلی بار پریشان ہوئی تھیں- پچھلے کئی ماہ میں وہ بہت سے رشتے ٹھکرا چکی تھی-
“کیا تمہیں کوئی اور پسند ہے؟” انہوں نے دھڑکتے دل کے ساتھ اس سے پوچھا تھا-
“مجھے کوئی پسند نہیں ہے مگر مجھے ابھی شادی یا منگنی کچھ بھی نہیں کرنا ہے-“
اس کی امی خاموشی سے کمرے سے نکل گئیں تھیں- ثانیہ نے سکون کا سانس لیا تھا- اس کا خیال تھا کہ اس بار بھی بلا ٹل گئی ہے مگر ایسا نہیں تھا-
تین دن بعد اس کے والدین نے لڑکے والوں کو ہاں کر دی تھی اور منگنی کی تاریخ بھی طے کر دی تھی- اس کے چیخنے اور چلانے کی انہوں نے پرواہ نہیں کی تھی-
“تم منگنی ہونے دو- منگنی سے کچھ نہیں ہوتا- کم از کم روز روز کے پرپوزل سے تو تمہاری جان چھوٹ جائے گی-
ڈیوڈ سے رابطہ کرنے پر اس نے ثانیہ کو سمجھایا تھا-
“لیکن ڈیوڈ! اگر انہوں نے شادی کے لیے اصرار کیا تو؟”
“تب دیکھا جائے گا- فی الحال تم کسی پر کچھ ظاہر مت کرو-“
اس نے ڈیوڈ کے کہنے پر خاموشی سے منگنی کروا لی تھی- اس کی خاموشی پر سب نے سکون کا سانس لیا تھا- لیکن ثانیہ کے دل میں ان سب کے خلاف گرہ پڑ چکی تھی-
“ان لوگوں کے نزدیک میں انسان نہیں، بھیڑ بکری ہوں- جسے وہ جب چاہیں، جسکے لیے چاہیں ذبح کر دیں-“
منگنی کی انگوٹھی پہنتے ہوئے اس نے سوچا تھا- منگنی کے چند ہفتوں کے بعد ہی اس کے سسرال والوں نے شادی کی تاریخ طے کرنے پر اصرار شروع کر دیا- وہ بری طرح سٹپٹائی تھی-
“ڈیوڈ!اب تم پلیز اپنے پیرنٹس سے بات کرو- میرے ابو چند ماہ تک میری شادی کی تاریخ طے کر دیں گے اور مجھے اس سے پہلے اس گھر سے نکلنا ہے-“
ڈیوڈ اس کی بات پر پریشان ہو گیا تھا- وہ رو رہی تھی-
“پلیز ثانیہ! تم رونا بند کر دو- میں کچھ نہ کچھ کرتا ہوں لیکن تم روتی رہو گی تو میرے لیے کچھ کرنا بہت مشکل ہو جائے گا-“
اس نے ثانیہ کا ہاتھ سہلاتے ہوئے کہا تھا-
“میں اپنے پیرنٹس سے ایک دو دن میں بات کرتا ہوں- دیکھتا ہوں، ان کا کیا ری ایکشن ہوتا ہے-“
وہ بہت فکرمند لگ رہا تھا-
ربیکا تین دن سے کالج نہیں آ رہی تھی- تیسرے دن اسے گیٹ سے اندر داخل ہوتے دیکھ کر ثانیہ تیر کی طرح اس کے پاس گئی تھی-
“کیا ہوا بھئی؟ اتنے دن سے کہاں تھیں؟ میں نے فون کیا تو تمھارے ملازم نے بتایا کہ تم گھر پر نہیں ہو- کہاں گئی ہوئی تھیں- مجھے بتایا……”
ثانیہ بات کرتے کرتے اچانک رک گئی تھی- اسے احساس ہوا تھا کہ ربیکا اسے بہت عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی-
“ثانیہ! مجھے تم سے بہت سی باتیں کرنی ہیں- ہم کلاس میں نہیں جا رہے ہیں-” ربیکا نے سرد لہجے میں اس سے کہا تھا-
“تم ڈیوڈ کے ساتھ کیا کرنا چاہتی ہو؟” لان کے ایک سنسان گوشے میں آتے ہی اس نے پوچھا تھا- ثانیہ کچھ بول نہیں سکی-
“میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی ثانیہ! کہ تم اتنی بیوقوف ہو سکتی ہو-“
“پلیز ربیکا! کچھ مت کہو-“
“کیوں نہ کہوں- تم جانتی ہو- تمہاری وجہ سے ہمارے گھر میں کیا کیا ہوا ہے- تمہاری وجہ سے پہلی بار ڈیوڈ نے ممی اور ڈیڈی سے جھگڑا کیا اور پھر سلیپنگ پلز کھا لیں-“
“ربیکا!” ثانیہ کے منہ سے چیخ نکلی تھی-
“وہ بچ گیا ہے لیکن جو کچھ تم دونوں کرنا چاہتے ہو، وہ ہم سب کو مار ڈالے گا-“
“ڈیوڈ کیساہے؟ وہ گھر پر ہے؟”
“یہ سب چھوڑو- تم اس کی زندگی سے نکل جاؤ- دیکھو ثانیہ! میرا صرف ایک بھائی ہے- اسے کچھ ہو گیا تو ہم…… ہم جیتے جی مر جائیں گے- تم مسلم ہو- ہم اقلیت ہیں- ہمیں یہاں رہنا ہے- ہمارا گھر بار سب کچھ یہاں ہے مگر ڈیوڈ سے تمہاری شادی کے بعد ہمارا گھر برباد ہو جائے گا-“
“ربیکا! میں اس سے محبت کرتی ہوں-“
“تمہیں اس سے بہتر لڑکے مل جائیں گے اور پھر تمہاری تو منگنی بھی ہو چکی ہے، پھر تم کیوں میرے بھائی کے پیچھے پڑ گئی ہو-“
“منگنی میں نے ڈیوڈ کے کہنے پر کروائی تھی- مجھے اپنے فیانسی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے-“
“ثانیہ! تم میرے بھائی کا پیچھا چھوڑ دو، ورنہ میں تمھارے گھر والوں کو سب کچھ بتا دوں گی- اس عمر میں محبت وغیرہ نہیں ہوتی- صرف دلچسپی ہوتی ہے اور دلچسپی کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے- تم مسلم ہو- ڈیوڈ کرسچین ہے- تمھارے مذہب میں ویسے بھی اس کے ساتھ شادی جائز نہیں ہے- کیا تم اپنے مذہب کے خلاف جاؤ گی-“
ربیکا نے اسے ایموشنلی بلیک میل کرنے کی کوشش کی تھی-
“مجھے ڈیوڈ سے محبت ہے اور میں اسے نہیں چھوڑ سکتی- میں اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی-“
“تم پاگل ہو چکی ہو ثانیہ اور پاگل اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی تباہ کر دیتے ہیں- اگر تم ڈیوڈ کو نہیں چھوڑ سکتیں تو پھر اپنی اور میری دوستی ختم سمجھو- دوبارہ کبھی میرے گھر مت آنا-“
“ربیکا! میں ڈیوڈ کو نہیں چھوڑ سکتی- وہ میرا سب کچھ ہے- تم مجھے اس کے پاس جانے سے روک سکتی ہو مگر اسے میرے پاس آنے سے نہیں روک سکتیں- میرے پیرنٹس کو تم اگر کچھ بتاؤ گی تو میں ڈیوڈ کے ساتھ گھر سے بھاگ جاؤں گی، پھر کیا ہو گا تم اچھی طرح جانتی ہو-“
ربیکا نے بےبسی اسے دیکھا تھا-
“میں نے تم سے دوستی کر کے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی ہے-” ثانیہ نے اس کی بات پر کچھ نہیں کہا تھا-
شام کو وہ ربیکا کے گھر پہنچ گئی تھی- پہلی بار وہاں اس کا استقبال بڑی سرد مہری سے کیا گیا تھا اور اسے اس کی پرواہ نہیں تھی- ربیکا کا بس چلتا تو شاید وہ اسے دھکے دے کر وہاں سے نکال دیتی- وہ ڈھیٹوں کی طرح خود ہی اٹھ کر ڈیوڈ کے کمرے میں چلی گئی تھی- وہ جاگ رہا تھا- وہ اس کے پاس بیٹھ کر رونے لگی-
“تم جانتی ہو- جو کچھ تم کرنا چاہتی ہو اس کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے-” ڈیوڈ کے پاس سے آنے کے بعد ربیکا نے اسے روک لیا تھا- لاؤنج میں ربیکا کے والدین کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا-
“میں جانتی ہوں-” اس نے سر جھکاتے ہوئے کہا تھا-
لاؤنج میں کچھ دیر خاموشی چھائی رہی تھی- پھر ڈیوڈ کے ڈیڈی نے کہا تھا-
“تمہیں یا ڈیوڈ کو سمجھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے- میں اس لیے تم دونوں کی مدد کرنے پر مجبور ہوں کیونکہ میں ڈیوڈ کا باپ ہوں- اس نے اپنے آپ کو جس مصیبت میں پھنسا لیا ہے، میں اسے وہاں اس حالت میں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا- میں چند ہفتوں تک تمھارے کاغذات بنوا لوں گا پھر تمہیں امریکہ بجھوا دوں گا- وہاں تم اس وقت تک میری بہن کے پاس رہو گی جب تک ڈیوڈ اپنی انجینرنگ مکمل نہیں کر لیتا- سال کے اینڈ میں ڈیوڈ امریکہ آئے گا اور وہاں تم دونوں کی شادی ہو جائے گی اور ڈیوڈ پھر اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے پاکستان آ جائے گا- بعد میں ڈیوڈ بھی امریکہ سیٹل ہو جائے گا مگر تم ایک بات ذہن میں رکھنا کہ تمہیں اپنے گھر والوں کو ڈیوڈ کے بارے میں کچھ نہیں بتانا- جب تمھارے پیپرز مکمل ہو جائیں گے تو تم خاموشی سے گھر چھوڑ کر آ جانا- میں نہیں چاہتا، تمھارے گھر والوں کو اس معاملہ کا پتا چلے اور پھر میرے بیٹے کو اور میری فیملی کو کوئی نقصان پہنچے-“
انہوں نے ثانیہ کو سنجیدگی سے سب کچھ بتا دیا تھا-
اس دن ڈیوڈ کے گھر سے نکلتے ہوئے وہ بےتحاشا خوش تھی- چند گھنٹوں پہلے تک ناممکن نظر آنے والی چیز ناممکن نہیں رہی تھی- اب ممکن نظر آنے لگی تھی-” اب میں اور ڈیوڈ ساری زندگی اکھٹے گزاریں گے-” اس کا دل جیسے بلیوں اچھل رہا تھا-
“ہاں میں اپنے گھر والوں کو کچھ نہیں بتاؤں گی- ورنہ وہ ڈیوڈ اور اسکی فیملی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں- میں وہی کروں گی جو ڈیوڈ کے ڈیڈی چاہتے ہیں-“
اسے یہ سب طے کرتے ہوئے ایک بار بھی اپنی فیملی کا خیال نہیں آیا تھا- ایک بار بھی اسے اپنے فیصلے کی سنگینی اور ہولناکی کا احساس نہیں ہوا تھا- وہ ٹین ایج میں تھی اور اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ جس شخص سے وہ محبت کرتی ہے، وہ یکدم اس کی دسترس میں آ گیا ہے-
اگلے چند ہفتوں میں وہ ڈیوڈ کے ڈیڈی کے ساتھ دو تین بار اپنے پیپرز کے سلسلہ میں امریکن ایمبیسی جاتی رہی تھی- ہر کام بہت تیز رفتاری سے ہو رہا تھا- امریکن ایمبیسی کے ایک سینئر آفیسر نے اپنی زندگی کے اتنے اہم فیصلے پر اس طرح ‘جرات اور بہادری’ دکھانے پر اس کی تعریف کی تھی-
“تم دوسری پاکستانی لڑکیوں کے لیے ایک مثال ہو-” اس وقت ان کلمات پر بےتحاشا فخر محسوس ہوا تھا-
“ہاں واقعی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ میں اپنے والدین کو کیوں کرنے دیتی، خود کیوں نہ کرتی- میں جو کر رہی ہوں، ٹھیک کر رہی ہوں-” اسے مزید اطمینان ہو گیا تھا-
گھر میں کسی کو بھی اس کی سرگرمیوں پر کوئی شبہ نہیں ہوا تھا- وہ بہت نارمل طریقے سے گھر میں رہتی تھی- اپنی امی اور بھابھی کے ساتھ اپنی شادی کے لیے چیزوں کی خریداری کے لیے بھی بازار جاتی رہتی مگر دوسری طرف اس نے بہت سی چیزیں آہستہ آہستہ ربیکا کے گھر منتقل کر دی تھیں- اپنے پاس موجود سارا زیور اور بینک اکاؤنٹ میں موجود سارا روپیہ وہ ڈیوڈ کے والدین کے حوالے کر چکی تھی- چند دن تک اسے امریکہ کا ویزا ملنے والا تھا اور پھر وہ ہمیشہ کے لیے اپنا گھر چھوڑنے پر تیار تھی-
اس دن وہ کالج سے ڈیوڈ کے ساتھ چلی گئی تھی- اس کے ساتھ لنچ کرنے کے بعد جب وہ چار بجے کے قریب گھر آئی تو گھر میں اس کے لیے ایک ہنگامہ تیار تھا- اس کے سب سے چھوٹے بھائی نے اسے ڈیوڈ کے ساتھ ریسٹورنٹ میں لنچ کرتے دیکھ لیا تھا اور اس نے گھر آ کر یہ بات سب کو بتا دی تھی-
ثانیہ صبح اپنی امی سے یہ کہہ کر گئی تھی کہ وہ کالج سے ربیکا کے گھر جائے گی مگر جب اس کے بھائی نے گھر آ کر اس کی امی کو بتایا تو انہوں نے ربیکا کے گھر فون کیا- ربیکا نے انہیں بتا دیا کہ وہ ان کے ہاں نہیں ہے-
ثانیہ کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا- اپنی امی کے پوچھنے پر اس نے یہی کہا کہ وہ ربیکا کے گھر سے آ رہی ہے- اس کے بھائی کو بھڑکانے کے لیے اس کا یہی جملہ کافی تھا- اس نے ثانیہ پر تھپڑوں کی بارش کر دی تھی- اس کی امی نے اسے بچانے کی کوشش کی تھی نہ ہی بھابھی نے- آدھ گھنٹہ بھر وہ بری طرح اپنے بھائی سے پٹتی رہی لیکن اس نے یہ نہیں مانا تھا کہ وہ کسی لڑکے کے ساتھ لنچ کرنے گئی تھی-
رات کو اس کے ابو اور بڑے بھائی گھر آئے تھے اور نئے سرے سے عدالت لگ گئی تھی- تب اس کے صبر کی حد ختم ہو گئی تھی-
“ہاں گئی تھی کسی لڑکے کے ساتھ لنچ کرنے پھر…… کیا تم نہیں جاتے نئی نئی لڑکیوں کے ساتھ لنچ کرنے-” وہ پہلی بار اپنے چھوٹے بھائی پر چلائی تھی-
بلال نے جواباً اس کے منہ پر زور کا تھپڑ مرا تھا اور اس بار خاموشی سے پٹنے کے بجائے اس نے بلال کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی تھی- اس کی اس حرکت نے اس کے بھائی کو اور مشتعل کیا تھا- اس نے اس کے چہرے پر ایک اور تھپڑ مارا تھا- ثانیہ نے تھپڑ کھانے کے بعد کارنس پر رکھا ہوا ایک گلدان اٹھایا اور اشتعال میں پوری قوت سے بلال کو دے مارا تھا- اس نے گلدان بلال کے ماتھے پر لگتے اور پھر خون کی ایک لکیر نکلتے دیکھی تھی- باقی سب جو خاموش تماشائی بنے بیٹھے تھے، یکدم جیسے ان میں حرکت پیدا ہو گئی تھی- اس کے ابو اس بار اس کی طرف آئے تھے اور ان کے ہاتھ میں جو چیز آئی تھی ، انہوں نے ثانیہ کو اس سے مارا تھا- وہ جواباً چلاتی رہی تھی-
“ہاں مجھے اسی لڑکے سے شادی کرنی ہے جسے میں چاہتی ہوں- میں مر جاؤں گی لیکن کبھی وہاں شادی نہیں کروں گی، جہاں آپ چاہتے ہیں-“
“کس سے شادی کرو گی؟ بتاؤ، کس سے شادی کرو گی؟” اس کی امی ہزیانی انداز میں چیخنے لگی تھیں-
“ڈیوڈ سے شادی کروں گی، ڈیوڈ سے-“
وہ پاگلوں کی طرح چلائی تھی- اسکے ابو یکدم ساکت ہو گئے تھے- ہر شخص اپنی جگہ جیسے پتھر کا مجسمہ بن گیا تھا- وہ اپنے ہونٹوں سے نکلتا ہوا خون ہاتھ سے پونچھتے ہوئے بڑی بےخوفی سے ہر ایک کو دیکھتی رہی-
“ربیکا کے بھائی سے-” اس کی امی کی آواز کسی گہری کھائی سے آتی ہوئی سنائی دی تھی-
“ہاں ربیکا کے بھائی سے-“
وہ آج جتنی نڈر تھی، پہلے کبھی نہیں تھی- بلال کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا-
“اور میں نے تم دونوں کو زندہ رہنے دیا تو پھر کہنا- اسے تو میں دیکھ لوں گا لیکن تم آج کے بعد اس گھر سے قدم باہر نکالنا اور پھر دیکھنا میں تمہارا کیا حشر کروں گا-“
“ثانیہ! تمہارا دماغ کیوں خراب ہو گیا ہے- تمہیں پتا ہے تم کیا کر رہی ہو- تم مسلمان ہو اور وہ کرسچین ہے- ہمارے مذہب میں یہ شادی جائز نہیں ہو سکتی- تم دوزخ میں……” آمنہ بھابھی نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی
میں اب دوزخ میں ہوں- یہ گھر دوزخ ہے میرے لئے- اورآپ جو کہہ رہی ہیں، غلط کہہ رہی ہیں- محبت میں کوئی مسلمان اور کرسچین نہیں ہوتا اور میں اس سے محبت کرتی ہوں-” وہ بلا جھجک بولتی گئی تھی
Continue…
