Haasil By Umerah Ahmed Readdelle50102

Haasil By Umerah Ahmed Readdelle50102 Last updated: 19 July 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haasil

By Umerah Ahmed

اسے سات سال جیل اور گھر کے چکر کاٹنے نہیں پڑے- اگلی ملاقات سے پہلے ہی ایک رات اسے جیل میں اپنی ماں کی خود کشی کی خبر مل گئی تھی- زرشی نے نیند کی گولیاں کھا کر خود کشی کی تھی- نیند کی گولیاں جیل کے اندر ان تک کس نے پہنچائی تھیں؟ اس کی خود کشی کا ذمہ دار کون تھا؟ جیل حکام کی لاپرواہی سے اسے کیا نقصان پہنچا تھا؟ حدید کو کسی چیز میں دلچسپی نہیں تھی، وہ جیل گیا تھا اور چپ چاپ زرشی کی لاش لے کر واپس آ گیا تھا-

نانا نانی کو فلائٹ نہیں مل پائی تھی اور وہ فوراً نہیں آ سکتے تھے- ہمسایوں کے دس پندرہ لوگوں کی

موجودگی میں ملک کی نامور فیشن ڈیزائنر کو ڈیفنس کے علاقے کے ایک چھوٹے سے قبرستان میں

دفنا دیا گیا تھا- اس کے فیشن شوز میں ہزاروں لوگ شرکت کرتے تھے- اس کے جنازے میں بیس لوگ بھی نہیں تھے- بلال علی کی موت پر وہ بہت رویا تھا-

زرشی کی موت پر وہ بلکل گم صم رہا تھا- وہ ماں کو اس روز رو چکا تھا جس روز

اسے پھانسی کی سزا ہوئی تھی- زرشی جیسی ماؤں کے لئے دوسری بار رونا بہت مشکل ہوتا ہے- زرشی کی موت کے دوسرے دن اس نے ایک بار پھر ٹینا سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی- ایک بار پھر وو ناکام ہو گیا تھا- "میں نے انہیں آپ کے بارے میں بتا دیا تھا، وہ آپ سے خود ہی رابطہ کر لیں گی-" "کب؟" "یہ انہوں نے نہیں بتایا-" فون رکھ دیا گیا تھا- حدید کو اس وقت کسی کی ضرورت تھی تو ٹینا کی ضرورت تھی- وہ اس سے بات کرنا چاہتا تھا- وہ اس کے

ساتھ اپنی تکلیف شیئر کرنا چاہتا تھا- وہ اسکے سامنے رونا چاہتا تھا تا کہ وہ اسے دلاسا دے، اسے چپ کروائے جس طرح وہ ہمیشہ کیا کرتی تھی- وہ اس سے پوچھنا چاہتا تھا کہ اب اسے کیا کرنا

چاہیے- کیا اسے پاکستان میں رہنا چاہیے یا پھر واپس انگلینڈ چلے جانا چاہیے- کورٹ جائیداد کے بارے میں فیصلہ کر چکا تھا- جائیداد کا ایک بڑا حصہ بلال علی کی دوسری بیوی کے پاس

چلا گیا تھا- فیکٹری کے کچھ شیئرز، گھر اور بینک اکاؤنٹس حدید کے حصے میں آئے تھے- اس نے وہ شیئر بھی بلال علی کی بیوی کو ہی بیچ دیے تھے- زرشی کا بوتیک اور ورکشاپ بھی وہ بیچ چکا تھا- اب وہ ٹینا سے پوچھنا چاہتا تھا کہ اسے آگے کیا کرنا چاہیے- وہ اس سے اپنی اور اس کی شادی کے بارے

میں بھی بات کرنا چاہتا تھا- وہ سارے رشتے کھونے کے بعد ایک بار پھر سے نئے رشتے قائم کرنا چاہتا تھا اور ٹینا.... ٹینا جیسے گم ہو گئی تھی- "اس نے میرا بہت انتظار کیا ہے- مجھے بھی

اس کا انتظار کرنا چاہیے، وہ کبھی نہ کبھی تو واپس آئے گی-" اس نے دل میں فیصلہ کیا تھا- اس دن وہ لبرٹی کے سامنے سے گزر رہا تھا جب بے اختیار اس نے گاڑی کو بریکیں لگا دی تھیں-

اس نے ٹینا کو ایک دوسرے لڑکے کے ساتھ ایک دکان میں داخل ہوتے دیکھا تھا- اس کا دل جیسے خوشی سے اچھل کر حلق میں آ گیا تھا- "تو وہ واپس آ گئی ہے-" وہ بھاگ کر اس دکان میں جانا چاہتا تھا مگر خود پر ضبط کرتے ہوئے وہ گاڑی میں ہی بیٹھا رہا- پندرہ منٹ کے بعد اس نے ٹینا کو اسی لڑکے کے ساتھ دکان سے نکلتے دیکھا تھا- دکان سے نکلنے کے بعد

وہ پارکنگ میں کھڑی اپنی کار کی طرف گئی تھی- ٹینا کی گاڑی چند لمحوں کے بعد ایک فراٹے سے حدید کے

پاس سے گزر گئی تھی- حدید تیز رفتاری سے گاڑی چلاتے ہوئے اپنے گھر چلا گیا تھا- آج ٹینا کو دیکھ کر وہ بہت عرصے کے بعد اتنا خوش ہوا تھا- اس نے گھر پہنچتے ہی ٹینا کو کال کیا تھا- ایک بار پھر فون پر وہی آواز سنائی دی تھی- حدید نے اپنا تعارف کروایا تھا- "دیکھیں، میں نے آپ کو بتایا ہے ناکہ وہ ملک میں نہیں ہے- باہر گئی ہوئی ہیں- جب واپس آئیں گی تو آپ سے رابطہ کر لیں گی-" حدید کو جیسے کرنٹ لگا تھا-