Ex Mangetar By Zainab Sarwar Readelle50330 (Ex Mangetar) Last Episode
Rate this Novel
(Ex Mangetar) Last Episode
باب چہارم
نیم بیہوشی کی کیفیت میں اس نے بے جان پڑتے ہاتھ دھیرے سے ہلائے مگر وہ اوپر اٹھ نہ سکے ۔ آنکھوں کو جنبش دیتے ہوئے اس نے ذرا سی کھولیں تو باہر کی تیز روشنی آنکھ میں تیزی سے چبھی ، چند سیکنڈز گزرے تو اس نے آہستہ آہستہ بل آخر آنکھیں کھولیں ۔ زور دینے کی وجہ سے سر میں ٹیس سی اٹھی تھی بے اختیار ہاتھ سر کو تھامنے اٹھا تو کسی نے تھام لیا ۔۔
” اونہہ سر میں چوٹ آئی ہے ، اور ہاتھ میں ڈرپ ہے تو اسے سیدھا ہی رکھو ۔ ” اسکا ہاتھ واپس سیدھا بیڈ پر رکھتے ہوئے سنان نے حیا کی جانب دیکھا ۔ جو اس ہی کو دیکھ رہی تھی چہرے پر کوئی آثار نہ تھے جسے جانچنے یا سمجھنے کی ضرورت پڑے ۔
” شکر ہے تم اٹھ گئیں ، اب کیسا محسوس ہورہا ہے ؟ ” سنان کی آواز پر اس نے پلکیں جھپکائیں جو کب سے جامد تھیں ۔۔
” سر میں درد ۔۔۔ ” وہ بولتے بولتے رکی اور سنان کو دیکھا جس کے چہرے کے تاثرات ایسے تھے کہ اسے سمجھ نہ آیا ہے ۔ وہ کیا کہہ رہی ہے ؟
” میں ٹھیک ہوں سنان ۔” اب کی بار اس نے پر اعتمادی سے بولا سنان نے سر ہلایا ۔۔ وہ جانتا تو تھا کہ حیا کو درد ہورہا ہوگا مگر اس نے بتایا کیوں نہیں ؟
‘ وہ تو سوئی بھی چبھ جانے پر میرے آگے گھنٹوں روتی تھی ۔ اور آج اتنے فاصلے آگئے ہیں کہ وہ دکھائی دیتا درد بھی چھپا رہی ہے ۔ ‘ سنان نے دل میں سوچا ، وہ اسکے سامنے کچھ ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا اسلئے اٹھ کھڑا ہوا ۔
” میں ڈاکٹر کو بلا لاتا ہوں ۔۔ ” بول کر بغیر اسکی جانب دیکھے وہ باہر نکل گیا ۔ حیا نے کرب سے آنکھیں بند کرلیں ۔
” وہ مجھ سے کترانے لگا ہے ، میں نے بہت فاصلے بڑھا لئے ہیں ۔ صحیح کہتی ہے رمشاء سب کچھ میرے شک کی وجہ سے ہوا ہے ۔ ” وہ منہ ہی منہ میں آنکھیں میچیں بول رہی تھی ۔ آنکھوں کے کناروں سے آنسوں بہہ کر گردن تک پھسلتا چلا گیا ۔
” یا اللّٰہ پلیز میرا سنان مجھے واپس کردیں ناں پلیز ۔ میں آپ سے اپنا سنان واپس مانگتی ہوں ۔ پلیز اسے مجھ سے دور نہ کریں پلیز اسے میرا ہی رہنے دیں ۔ میں اسکے بغیر نہیں رہ سکتی ۔ وہ بہت اچھا ہے بہت زیادہ۔۔ ” وہ بغیر ہاتھ میں لگی ڈرپ کی پرواہ کئے ہاتھ جوڑ کر ٹھوڑی سے ٹکائے روتے ہوئے من ہی من میں گڑگڑا رہی تھی ۔ ہاتھ میں اٹھتی ٹیسیں ، سر میں لگی چوٹ کے درد میں بڑھتی شدتیں وہ سب کچھ نظر انداز کرتے ہوئے بس گریا کر رہی تھی ۔ اسے بس فکر تھی تو بس اس بات کی کہ کچھ بھی کر کے اسے اس کا سنان واپس مل جائے ۔
” میں اب کبھی اس سے نہیں لڑوں گی کبھی بھی نہیں لڑوں گی ۔ کوئی سوال نہیں کوئی جواب نہیں بس اسے واپس کردیں مجھے پلیز یا اللّٰہ پلیز ۔ اسکی ساری باتیں بھی مان لوں گی بس ایک بار مجھے میرا سنان واپس کردیں ۔۔ بس ایک بار ۔۔” وہ ابھی ہی اندر آیا تھا اور سنان کا دل تڑپ کر رہ گیا ، اسے یوں ہاتھ جوڑے روتا دیکھ ۔ وہ اب تیز تیز بولنے لگی آنکھیں زور سے میچیں ہوئی تھیں ۔
” حیا ! حیا چپ ہو جاؤ ۔ پلیز آنکھیں کھولو میری طرف دیکھو ۔ ” وہ اسکے پاس جاتے اسکے جوڑے ہاتھ پکڑ کر سیدھے کرنے لگا جو اس قدر سختی سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے تھے کہ اسکے ہاتھوں کی نسیں ابھر گئی تھیں ۔
” یہیں ہوں میں حیا ۔ پلیز میری شیزوکا آنکھیں تو کھولو ۔۔ ” وہ اب باقاعدہ کپکپاتے ہوئے پوری ہل بھی رہی تھی ۔ اسکے ہاتھ ٹھنڈے برف سے ہوگئے تھے ۔
” کیا ہورہا ہے یہ ۔ ڈاکٹر ! ڈاکٹر ! ۔۔۔ ” اس نے وہیں سے چیخ کر ڈاکٹر کو آواز دی جو اسکے بلانے کے باوجود بھی پتا نہیں کہاں رہ گئے تھے ۔ واپس حیا کی جانب مڑا تو وہ دیکھ سکتا تھا اسکے لب اب صرف سنان کی مالا جپ رہے تھے ۔ سر میں زور دینے کے باعث نئی پٹی پر بھی خون کی لکیریں نمایا ہوگئی تھیں اور یقیناً یوں سختی سے ہاتھوں کو جوڑے رکھنے پر اسے ہاتھ میں لگی سوئی بھی چبھ رہی ہوگی ۔ اسکی تکلیف کا اندازہ کرتے وہ اندر سے لرز گیا تھا۔
” حیا پلیز سنبھالو یہیں ہوں میں ۔۔۔ حیا ! ” آخر میں وہ اسے دونوں بازوؤں سے پکڑے زور سے چیخا یوں کے حیا نے جھٹکے سے آنکھیں کھولیں ۔ وہ اس کے چیخنے پر اندر تک جھنجھوڑ سی گئی تھی ۔
” ہوش کرو یہیں ہوں میں ، چپ ہو جاؤ ۔ ” وہ خود کو سنبھالتے ہوئے اسکے جڑے ہاتھ بل آخر الگ کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا ۔ ڈاکٹر بھی اندر آگئے تھے مگر حیا نے سنان کا پکڑا ہاتھ نہیں چھوڑا وہ اب تک ہکا بکا سی اسے دیکھ رہی تھی یا شاید سب سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی ۔ محسوس ہورہا تھا تو صرف اپنے برف سے ٹھنڈے پڑتے ہاتھوں پر اسکا گرم لمس ۔
” یہ ابھی سٹریس میں ہیں تبھی یہ سب ہورہا ہے ۔ میں نے آپ کو رات کو بھی بتایا تھا ناں مہینے سے زیادہ ہوگیا ہے یہ کسی ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور کھانے پینے کا بھی بالکل خیال نہیں رکھا گیا ہے بس تبھی یہ سب ہورہا ہے ۔ ” ڈاکٹر نے اپنے پروفیشنل انداز میں تحمل سے کہا ۔ سنان نے سر ہاں میں ہلاتے ہوئے حیا کی جانب دیکھا جو اب آنکھیں بند کئے سیدھا ہاتھ سر پر رکھی ہوئی تھی ۔ اسے یقیناً شدید درد ہورہا تھا۔
” مِس حیا ریلیکس ۔ خود پر زیادہ زور نہ ڈالیں جلد ہی ٹھیک ہو جائیں گی آپ ۔ سر کی چوٹ بس انکی بے ہوشی تک خطرناک تھی اب فکر کرنے کی کوئی بات نہیں بس انہیں پر سکون رکھنے کی کوشش کریں ۔ ” پہلے حیا کو اور پھر سنان سے مخاطب ہوتے ہوئے وہ بتلانے لگے ۔ سنان نے سکھ کا سانس لیا اور شکریہ کرتے ڈاکٹر سے ہاتھ ملایا پھر وہ اسے ایک پرچی پکڑا کر وہاں سے چلے گئے ۔
” حیا بس اب خود کو مزید پریشان نہ کرنا میں یہیں ہوں اور سب ٹھیک ہے ہمم ۔ ” وہ اسکے پاس بیٹھتے ہوئے سمجھانے والے انداز میں کہہ رہا تھا حیا نے سسکی بھرتے ہوئے آنکھیں کھولیں تو آنسو پھر لڑک کر آنکھ سے بہہ گیا ۔
” بس نا میں ہوں تو یہیں دیکھو کہیں نہیں جا رہا سب ٹھیک ہے حیا مت دو خود کو اتنی تکلیف پلیز ۔۔ ” وہ پاس ہوتے ہوئے اب اس سے منتوں پر آچکا تھا ۔ وہ اسکی بچپن کی محبت تھی وہ اسے یوں اس طرح روتا تڑپتا ہرگز نہیں دیکھ سکتا تھا ۔ حیا نے ہچکولے لیتے ہوئے سانس بھری اور اسکی جانب دیکھتے کچھ کہنے کے لئے لب کھولے جس پر سنان نے فوراً شہادت کی انگلی رکھ دی۔
” خبردار جو اب ایک لفظ بھی منہ سے نکالا ہو تو ورنہ یہیں چھوڑ کر چلا جاؤں گا پھر روتی رہنا ۔ ” وہ اسکے آنسوں پوچھتے ہوئے پیار کی دھمکی دے رہا تھا جس پر حیا نے واپس ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر نفی میں سر ہلایا ۔ وہ اس وقت شاید ہوش میں نہ تھی ۔
” بس پھر چپ چاپ لیٹو آنکھیں بند کرو شاباش اور یہ ہاتھ سیدھا رکھو ڈرپ ختم ہونے دو میں یہیں بیٹھا ہوں ٹھیک ہے ۔ “
اسکا ہاتھ سیدھا کیا جس میں ڈرپ لگی ہوئی تھی اور خود سٹول پاس کرتے ہوئے اسکے بیڈ کے ساتھ بیٹھ گیا ۔
” رونا نہیں آنکھیں بند کرلو ۔” وہ جو شاید پھر رو دیتی اسکے ڈپٹنے پر آنسوں پی گئی ۔
” میں وعدہ کرتا ہوں حیا کہیں بھی نہیں جاؤں گا کبھی بھی نہیں ، ہمیشہ تمہیں یہیں تمہارے ساتھ کھڑا ملوں گا ۔ آخر اپنی حیا کو چھوڑ کر سنان ملک کہاں جا سکتا ہے ؟ ” اسکے یوں محبت سے لبریز اعتراف پر وہ نم آنکھوں سے مسکرا دی ۔ اور اسکے اشارے پر بل آخر آنکھیں بند کرلیں ، سنان نے لمبی سانس بھری اور رب کا شکر ادا کرنے اٹھ کھڑا ہوا ۔
وہ وہیں ہاسپٹل کے اس کمرے میں شکرانے کے نوافل پڑھنے کی نیت سے کھڑا ہوگیا ظہر کی نماز میں ابھی کافی وقت تھا ۔ وضو کر کے باہر نکلا تو نظر بیڈ پر آنکھیں موندے لیٹی ہوئی حیا پر گئی وہ بے اختیار مسکرا دیا ۔ یہ اسکی زندگی میں پہلی بار ہوا تھا جب حیا نے اِس طرح اپنے جذبات ، اپنے احساسات اس کے سامنے بیاں کئے تھے ۔
‘ میں اسکے بغیر نہیں رہ سکتی ۔ وہ بہت اچھا ہے بہت زیادہ۔۔ ‘
‘ یا اللّٰہ پلیز میرا سنان مجھے واپس کردیں ناں پلیز۔ ‘
کانوں میں اسکے الفاظ اب تک سفر کر رہے تھے ۔ مسکراہٹ میں ڈھلے لبوں کے اوپر مونچھیں نم سی تھیں ۔ وضو کے پانی کے قطرے اسکے چہرے سے اب تک بہہ رہے تھے ۔ پھر وہ سانس بھر کے وہیں چادر بچھائے نماز کے لئے کھڑا ہوگیا ، اس نے سر پر رومال باندھ رکھا تھا ۔ اور چونکہ ہاسپٹل میں پریئر ہال تو تھا نہیں اور پھر حیا سے وعدہ بھی تو کیا تھا کہ وہ یہاں سے کہیں نہیں جائے گا۔
” یا اللّٰہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے میرے مولیٰ ۔ ” نوافل کی ادائیگی کے بعد اس نے ہاتھ اوپر کو اٹھا کر دعا کے طریقے سے پھیلا لئے اور آنکھیں بند کر کے دل ہی دل میں شکر ادا کرنے لگا ۔
” میں جانتا ہوں وہ جذباتی ہے غصہ بھی بہت جلدی آجاتا ہے اسے لیکن وہ دل کی بھی اتنی ہی صاف ہے میرے مولیٰ ۔ کم از کم منافقوں کی طرح دل میں باتیں تو نہیں چھپاتی ۔ ” یہ کہتے ہوئے اس نے کرب سے آنکھیں کھولیں ، کہ بند آنکھوں کے پار جو شخص نظر آیا تھا وہ ان سے نفرت نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
” بس میری حیا جلد از جلد ٹھیک ہو جائے پھر کوئی رکاوٹ ، کوئی شخص ہمارے بیچ نہیں آسکے گا نہ ہی میں آنے دوں گا ۔ یا رب میری مدد کرنا میں نہیں چاہتا کہ حیا کبھی بھی جان پائے کہ اسکے بابا نے ہی یہ سب ۔۔۔ ” کہتے کہتے لفظ حلق میں ہی کہیں نست و نابود ہوگئے ۔ اس نے گہرا سانس لیا اور اوپر کی جانب دیکھا جہاں سفید چھت نظر آرہی تھی مگر وہ آنکھیں بند کئے صرف اپنے رب سے مخاطب تھا ۔
” بس حیا کو ٹھیک کردیں وہ بہت حساس ہے یا رب آپ تو سب جانتے ہیں ۔ یا اللّٰہ آپ تو ہر چیز پر قادر ہیں ہمارے درمیان آئے ہر فاصلے کو بھی ختم کردیں ۔ اب اور مصیبتیں اور دوریاں نہ سہنی پڑیں ۔ میں حیا کو یوں روتا تڑپتا نہیں دیکھ پاؤں گا آپ تو سب جانتے ہیں نا یا اللّٰہ ، میری مدد کرنا میری مدد کرنا ۔۔ ” چہرے پر ہاتھ پھیرتے اسنے گردن موڑی حیا اب بھی ویسے ہی لیٹی ہوئی تھی ۔
” میری حیا ۔۔۔ سنان ملک کی حیا ! ” اسے پیار سے دیکھتے ہوئے وہ نیچے بچھی چادر اٹھاتے ہوئے اٹھا اور حیا کے پاس گیا پھر اسکے نزدیک جھکتے تین بار سر پر لگی چوٹ پہ پھونک ماری ۔
” اللّٰہ تمہیں جلد از جلد ٹھیک کرے ۔ ” جھکے ہوئے ہی اس دنیا جہاں سے بے خبر وجود کو دھیرے سے کہا اور پھر واپس سیدھا ہوگیا ۔ رات کو وہ اسے جس حالت میں روڈ کے بیچ و بیچ بے ہوش ملی تھی ۔ وہ اب تک بھول نہ پا رہا تھا ۔ حیا کے سر سے بہتا خو۔ن وہ لال رنگ جو اسکے کپڑوں میں اب تک لگا ہوا تھا ۔۔
وہ سانس بھر کر پیچھے ٹیک لگا کر آنکھیں موند گیا ۔ یہ صرف وہی جانتا تھا کہ وہ حیا کو وہاں روڈ سے ہاسپٹل تک اس حالت میں کس طرح لایا ہے اور پھر اس نے خود کو کیسے سنبھالا ہے ۔
حیا کے سر پر چوٹ لگی تھی اور اسکا ہوش میں آنا بے حد ضروری تھا اگر وہ ہوش میں نہ آتی تو ؟ نہیں اب تو وہ ہوش میں ہے اب سب ٹھیک ہے ۔۔۔ خود کو یقین دہانی کراتا وہ جو ٹیک لگا کر آنکھیں موندا ہوا تھا گنودگی میں چلا گیا ۔
Zainab Sarwar Novels__________________
سر بھاری ہورہا تھا وہ بیدار ہوچکی تھی مگر کمزوری کے باعث آنکھیں کھولنے کی ہمت نہ ہوئی ۔ باہر کھڑکی سے آتی دھوپ اسکے چہرے پر پڑ رہی تھی شاید کسی نے کھڑکی کھول دی تھی لیکن وہ چپ رہی جیسے وہ سو رہی ہے ۔
” پریشان نہ ہو وہ جلد ٹھیک ہو جائے گی تم نے شاہنواز بھائی کو کال کی ؟ انہیں بتانا چاہئیے میرے خیال سے ۔” وہ سن سکتی تھی دو جوتوں کی ٹک ٹک کرتی آواز اور پھر واصف انکل کی آواز اسکے کانوں میں آئی ۔ اس سے ملنے آئے ہیں اسے اٹھنا چاہئیے ۔
” خالہ کو کال کردی تھی میں نے ۔ مجھے یقین نہیں آتا شاہنواز انکل ایسا کیسے کر سکتے ہیں حالانکہ وہ جانتے تھے کہ میں اور حیا ایک دوسرے کو کتنا چاہتے ہیں ۔ میں انہیں کچھ نہیں بتانا چاہتا اس وقت تو بات تک کرنے کا دل نہیں ۔” حیا جو آنکھیں کھولنے لگی تھی ٹہر سی گئی ۔ کیا کیا ہے اسکے بابا نے ؟ سنان کس چیز کی بات کر رہا ہے ؟
” یہ کھڑکی کس نے کھول دی ۔ ” سنان نے اسکی جانب دیکھا حیا کے آدھے چہرے پر باہر سے آتی دھوپ دیکھ وہ آگے بڑھا اور کھڑکی سے پردہ بند کردیا ۔۔
” جو ہوا سو ہوا اگر تم مجھے پہلے ہی بتا دیتے تو میں حیا کو الگ سے سمجھاتا ۔ اور رہی بات شاہنواز بھائی کی تو تم جانتے تو ہو وہ ہمیشہ سے چاہتے تھے کہ حیا کی شادی انکے بھائی کے بیٹے سے ہی ہو ۔ یہ تو بعد میں سب کو علم ہوا ہے کہ ۔۔ “
” نہیں انکل ، وہ جانتے تھے سب کچھ ۔ وہ اپنی بیٹی کو اچھے سے جانتے ہیں پتا نہیں پھر بھی کیوں رمشاء کو وہ سب کچھ بولا اور وہ بھی انکی باتوں میں آگئی ۔ ” وہ انکے ساتھ وہیں رکھے صوفے پر بیٹھ گیا ۔
” سنان بیٹا دیکھو مجھے پتا ہے یہ سب انہوں نے کیوں کیا ۔ دراصل وہ شروع سے ہی حیا کو لے کر بہت حساس رہے ہیں ۔ انہوں نے دیکھا ہے تم دونوں کو ہمیشہ لڑتے جھگڑتے ۔۔ ” لڑتے جھگڑتے لفظ سن کر سنان نے انہیں افسوس سے دیکھا ۔۔
” اب میں نے غلط بھی نہیں کہا کون ہے خاندان میں جو تم دونوں کی لڑائی سے واقف نہیں ؟ “
” ہاں لیکن ضروری تھوڑی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے لئے ٹھیک نہیں ۔ لڑائی تو ہر جگہ ہوتی ہے ۔ ” واصف صاحب نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔
” بس پھر منگنی کے بعد سے تم نے جیسا بتایا کہ اختلافات بڑھ گئے اور پھر جو کچھ بھی ہوا اگر ان کی جگہ میں بھی ہوتا تو یہی سوچتا کہ جس کے ساتھ میری بیٹی کی ابھی ہی انڈرسٹینڈنگ نہیں ہے تو بعد میں کیا ہوگی ۔ اسکے علاوہ تم انکے بڑے بھائی کو اتنے اچھے سے نہیں جانتے سنان وہ بہت روڈ ہیں اور انکے فیصلے سر آنکھوں پر رکھتے ہیں شاہنواز بھائی ۔ اب ایسے حالات میں انہیں تم دونوں کے بیچ میں آئی لڑائی نے مزید موقع دیا اور پھر میری بیوقوف بچی ۔۔۔ میری ہی تربیت میں کمی رہ گئی شاید۔ ” وہ اسے سمجھاتے سمجھاتے رک گئے اور ایک لمبی سانس خارج کی ۔۔
” اس نے معافی مانگ تو لی ہے اب آپ اسکی وجہ سے بالکل شرمندہ نہ ہوں ۔ اور حیا کو میں سمجھا لوں گا وہ سمجھ جائے گی مجھے امید ہے ۔ ” اس کی نگاہیں یہ کہتے ہوئے بے اختیار حیا کی جانب گئیں وہ جو بند آنکھوں سے بے آواز رو رہی تھی ۔
” لیکن بیٹا دیکھو وہ بڑے ہیں اور جو کچھ بھی ہوا اسے بھول جاؤ اب تو سب ٹھیک ہے نا ۔ اور مجھے امید ہے کہ شاہنواز بھائی بھی تمہیں دل سے قبول کریں گے کیونکہ علی کا رشتہ طے ہوگیا ہے کل ہی باتوں باتوں میں آسیہ سے معلوم چلا تھا ۔ ” وہ ہلکا سا ہنس دیئے تو سنان نے بھی مسکراتے ہوئے سر ہلا دیا ۔
” انکل ! میں جانتا ہوں وہ میرے باپ کی جگہ ہیں ۔ ابو تو اس دنیا میں ہیں نہیں جو کچھ ہیں اب وہی ہیں ۔ اور میں نے ہمیشہ انہیں اپنے ابو کے جیسے ہی سمجھا ہے ۔ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں انہوں نے جو کچھ بھی کیا تھا وہ حیا کی محبت میں ہی کیا تھا ۔ ” اس نے وقفہ لیا تو وہ اسے دیکھ مسکرا دیئے دل میں یہی دعا جاری تھی کہ سنان جیسا بیٹا خدا سب کو دے ۔
” آپ بے فکر رہیں میں اپنے دل میں کوئی میل نہیں رکھوں گا ۔۔ وہ میرے لئے ہمیشہ سے قابلِ احترام تھے اور ہمیشہ رہیں گے ۔۔ ” جہاں واصف صاحب سنان کی صاف گوئی اور بڑے دل پر عش عش کر اٹھے وہیں حیا نے خود پر رشک کیا تھا ۔ سنان ملک جیسا کوئی نہیں ہو سکتا نہ ہی کبھی کوئی اس جیسا حیا کو مل سکتا تھا۔ آج اسے خود کی بیوقوفی پر افسوس اور سنان کی بے انتہاء محبت پر فخر ہوا تھا ۔
” غلط فہمیاں رشتوں کو بالکل ویسے ہی ختم کردیتی ہیں جیسے کہ لکڑی کو دیمک ، بس اپنے رشتے میں کبھی بھی یہ دیمک نہ لگنے دینا ۔۔۔ ” انکی بات پر وہ فرمانبرداری سے سر ہلا گیا۔
” سدا خوش رہو میرے بچے اللّٰہ تمہیں ڈھیروں خوشیاں نصیب کرے ۔ ” انکی دعاؤں پر وہ مسکرائے بغیر نہ رہ سکا ۔ حیا بھی لیٹے لیٹے ہی مسکرا دی اور ایک گہری سکون سے بھرپور سانس فضا میں چھوڑی ۔
Zainab Sarwar Novels__________________
تین دن بعد !
حیا کے زخم پہلے سے بہتر ہوگئے تھے ۔ اسلئے آج ان دونوں کی روانگی تھی ، وہ دونوں یہاں کیلیفورنیا آئے تو الگ الگ تھے مگر قسمت کے کھیل کہ اب واپس ساتھ میں ہنسی خوشی جا رہے تھے ۔ انکل واصف اور رمشاء نے ان دونوں کو رخصتی دی اور ائیرپورٹ تک چھوڑ کر آئے ۔ حیا اور رمشاء کے بیچ تو پہلے بھی کوئی خاص تضاد نہ تھا ۔ جو کچھ بھی ہوا تھا دونوں کی فطرت کے بابت ہوا ۔ لیکن اب سب کچھ ٹھیک تھا سب کچھ ۔
” سنان ! ” وہ جو منہ کے آگے میگزین پھیلائے سکون سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا ، حیا کے اتنی محبت سے کی گئی پکار پر فٹ سے اسکی جانب متوجہ ہوا ۔۔
” جی کہئے زوجہ ٹو بی ! ” اسکی جانب پورا گھوم کر اس طرح کہا کہ وہ جو مسکرا رہی تھی پزل ہوگئی ۔
” بولو بھی ، ایسے کیا دیکھ رہی ہو ؟ ” سنان کی گہری آنکھیں اسے خود میں پیوست ہوتی نظر آئیں ۔ وہ یکدم سیدھی ہوئی اور گہری سانس بھری سنان ہنسی دبا کر رہ گیا ۔
” اس طرح دیکھو گے تو کیا کہوں گی میں اونہہ ۔ ” وہ دونوں بازوؤں کو سینے پر لپیٹے اسے کن اکھیوں سے دیکھے کہنے لگی ۔ لہجے میں نروٹھا پن امڈ آیا تھا ، ظاہر سی بات ہے وہ اسے کنفیوز کر رہا تھا یوں معنی خیزی سے دیکھ کر ۔
” اچھا چلو نہیں دیکھتا تمہاری طرف ، اب بولو ۔ ” سنان نے واپس میگزین کھولا لیکن اس بار اپنی گود میں رکھ لیا چہرہ چھپا نہ رہا تھا ۔ وہ اسکی اس حرکت پر بے اختیار ہنس دی ۔۔
” کچھ خاص نہیں بس پوچھنا تھا مجھے کچھ ۔۔ ” حیا نے نگاہیں نیچے کئے کہا ۔۔ ہاتھوں کی انگلیاں اسکارف کے سرے سے الجھ رہی تھیں ۔
” پوچھو میں سن رہا ہوں ۔ ” سنان نے اسکا وہی ہاتھ تھاما اور اسکی ہاتھوں کی حرکت کو مکمل ختم کر کے بولا ۔ حیا نے آنکھیں زور سے میچیں اور پھر اسکی جانب دیکھتے ہوئے کہا ۔
” بابا نے کیا کیا تھا سنان ؟ ” اسکے سوال پر سنان نے اپنا ہاتھ اٹھانا چاہا تو حیا نے اپنا دوسرا ہاتھ اسکے اوپر رکھ لیا اور نفی میں سر ہلائے اسے دیکھا۔
” حیا اب سب ۔۔ “
” سنان پلیز میں جاننا چاہتی ہوں ، میں نہیں چاہتی کچھ بھی چھپا رہے مجھ سے پلیز ۔ اور وعدہ کرتی ہوں اب کی بار غصہ بھی نہیں کروں گی۔ ” آخری جملے پر اس نے اپنا ہاتھ اٹھا کر گردن کی کھال پکڑے وعدے کا سگنیچر سائن بنایا۔
” اچھا بتاتا ہوں لیکن یہ جان لو کہ انہوں نے اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق ٹھیک ہی کیا تو اسلئے میں جو کچھ بھی بتاؤں گا اسے یہیں بھول جاؤ گی ۔ “
” ہاں پکا پکا ۔۔ ” اسکے یوں تیزی سے پکا پکا کہنے پر وہ ہلکا سا مسکرا دیا اور گود میں رکھا میگزین بند کر کے سائڈ میں کیا ۔
” حیا دراصل رمشاء منگنی والے دن اندر روم میں یہ کہنے آئی تھی کہ میں تم سے شادی نہ کروں ۔ کیونکہ تمہاری اور میری بالکل نہیں بنتی ہے اور یہ بات پورے خاندان کو معلوم ہے ۔ اس نے کہا کہ حیا کی شادی تو ویسے بھی اسکے کزن علی سے ہی ہوگی اور وہ بھی بہت جلد اس فیصلے پر حامی بھر دے گی ۔ جب میں نے پوچھا اور مزید اگلوانے کی کوشش کی تو اس نے شاہنواز انکل کا نام لیا کہ وہی ایسا چاہتے ہیں ۔ اس نے یہ سب تب ہی بتایا جس دن وہ لوگ جانے والے تھے ۔ میں اس سے منگنی کے بعد سے صرف اسلئے اتنی بات کر رہا تھا تاکہ مجھے معلوم ہو جائے کہ یہ بات اسے کہی کس نے ہے ۔ لیکن جب میں نے اس پر غصہ کیا اور باہر جانے کو کہا تو وہ اپنی عادت کے مطابق مجھ پر ہی چڑ دوڑی اس ہی دوران میرا پیر پھسل گیا اور تم بھی آگئیں ۔ اسکے بعد میں گیا بھی تھا تمہارے گھر اسہی دن لیکن شاہنواز انکل کی باتیں سنیں تو الٹے پاؤں واپس آگیا اور یقین بھی ہوگیا کہ رمشاء کو انہوں نے ہی کہا ہوگا ۔ لیکن میں نے تم سے رشتہ کبھی ختم نہیں کیا تھا حیا بس تمہیں احساس دلانے کی غرض سے دور ہوگیا تھا ۔ وہ ہوٹل میں ایک کمرے کا بھی میں نے واصف انکل کو کہا تھا ۔ اور دیکھو میرا صبر کا پھل مجھے مل گیا مجھے میری حیا واپس مل گئی ۔۔ “
اس نے بات مکمل کر کے سر اٹھایا تو حیا کا ایک بار پھر نم چہرہ دیکھنے کو ملا ۔ سنان نے نفی میں سر ہلایا اور اسکا چہرہ صاف کیا ۔
” رو نہیں حیا اگر تمہاری جگہ میں ہوتا تو شاید اس سے زیادہ ریئکٹ کر جاتا ۔ “
” نہیں تم میری جگہ ہوتے تو پہلے پوری بات سنتے سمجھتے اور سب سے بڑی بات کسی غیر کی باتوں پر یوں یقین نہ کرتے ۔ پتا ہے وہ رمشاء بعد میں میرے پاس بھی آئی تھی اور اتنا کچھ کہہ گئی کہ میں ۔۔ مجھے پتا نہیں کیا ہوگیا تھا میں سمجھ ہی نہ پائی کچھ ۔۔ میری غلط فہمیوں نے ہمارا رشتہ ڈیمج کر دیا نا سنان ۔ ” وہ بھیگے چہرے کے ساتھ بول رہی تھی جبکہ آواز میں کپکپاہٹ سنان محسوس کر چکا تھا۔
” کچھ برباد نہیں ہوا ہے حیا سب کچھ ٹھیک ہے میں نے کہا ہے نا تمہیں اور دیکھو یہ رونا بند کرو ورنہ وہ سامنے بیٹھا بچا تم پر یوں ہی ہنستا رہے گا ۔ ” اسکے پاس آکر اس طرح سے کہنے پر حیا نے بے اختیار سامنے نگاہ اٹھا کر دیکھا جہاں ایک چار سالہ بچا ان دونوں کی جانب ہی دیکھ رہا تھا حیا کے دیکھنے پر مسکرا دیا اور زور سے آنکھیں جھپکائیں ۔۔ اس کیوٹ سے بچے کی اس ادا پر روتی ہوئی حیا بل آخر مسکرا دی ۔
” چلو چپ ہو جاؤ ورنہ میری ہونے والی بیوی کے ڈارک سرکلز ہوجائیں گے ۔۔ ” ایک بار پھر اسکے آنسوں صاف کرتے ہوئے وہ محبت سے بولا ۔ حیا نے رشک بھری نظروں سے اسے دیکھا ۔ وہ اسکا کس قدر خیال رکھتا ہے اور شاید ہی کوئی سنان ملک جیسے خیال رکھ سکے یا اس کے جیسے معاملات کو ہینڈل کرنا جانتا ہو ۔
” ایسے نہ دیکھو پھر کہو گی کہ ۔۔۔ ” سنان کا چھوڑا ادھورا جملہ اور اسکی وہ مسکراہٹ سے جگمگاتا چہرہ حیا نے اپنے ہاتھ چھڑائے اور مسکراہٹ چھپائے واپس سیٹ پر ٹیک لگا گئی ۔
” ہیو آ گڈ نیپ مائے چھوٹا بے بی ۔۔ ” اپنے کان کے پاس ہوئی سرگوشی پر حیا نے فوراً آنکھیں کھولیں اور سنان کو گھور کے دیکھا وہ جو قہقہہ لگائے کان پکڑتے ہوئے واپس پیچھے کھسک گیا تھا ۔ سنان اسے یہ جملہ چڑانے کے لئے کہتا تھا کیونکہ اسے چھوٹا بے بی اپنی چڑ لگتی تھی ۔ دراصل وہ سنان کے کندھے تک جو آتی تھی ۔
” تنگ مت کرو سونے دو مجھے ورنہ واپس سے ایکس منگیتر بنا دوں گی اونہہ ۔ ” اسے دھمکی لگاتے ہوئے وہ واپس آنکھیں بند کرنے لگی تب ہی سنان نے اسکا کان کھینچا اور پھرتی سے میگزین سامنے پھیلایا ۔
” میں لاسٹ وارننگ دیتی ہوں ۔ ” حیا نے منہ بنائے کہا لیکن سنان کے سر پر جوں نہ رینگی نہ ہی اسکے ہاتھوں نے حرکت کی ۔ وہ اب کی بار پھر آنکھیں موندیں سونے کی کوشش کرنے لگی جب ایک بار پھر سنان نے اسکا گال کھینچا ۔ اب بس ہوگئی تھی حیا اسکی جانب مڑی اور اپنے ہاتھوں کا مکہ بناتے ہوئے اسکے بازو پر مارنا شروع کردیا ۔۔
” اچھا بس بس معاف کرو ۔۔ ” اپنی حرکت پر افسوس کرتے ہوئے وہ ہنسی روکے حیا سے معافی مانگنے لگا ۔ وہ سنان کے مقابلے کافی دبلی تھی لیکن ہاتھ بڑے زور کے لگتے تھے۔
” اونہہ معاف کیا ۔ ” خون خوار نظروں سے کہتے ہوئے وہ اب سانس بھر کر تحمل سے سونے لگی جب ایک بار پھر ۔۔۔
” سنان ! ” حیا کی روندتی ہوئی چیخ پر جہاں باقی سب متوجہ ہوئے تھے وہیں قہقہ لگاتے سنان کی شامت آ پہنچی تھی ۔۔
Zainab Sarwar Novels__________________
یہ سنان ملک کی زندگی کی سب سے حسین شب تھی ۔ جسے وہ شاید زندگی بھر کبھی نہ بھلا پائے گا ۔ آج اسکی قربانیاں ، اسکا سمجھوتا ، اسکا خلوص اور سب سے بڑھ کر اسکا صبر اپنے تکمیل تک پہنچ چکا تھا ۔ آج اسے اسکے صبر کا میٹھا نہیں بلکہ شہد سے زیادہ میٹھا پھل مل چکا تھا ۔
آج اسکی بچپن کی محبت ، اسکی شیزوکا ، اسکی حیا ہمیشہ کے لئے اسکی ہو چلی تھی ۔ وہ جو اسکے ہجر کی راتوں میں بہائے آنسوں تھے آج کی شب اس پر پھول بن کر نچھاور ہو رہے تھے ۔ وہ کڑوی یادیں جو اس نے صبر سے گزاری تھیں آج کی شب اس پر نور بن کر بکھر رہی تھیں ۔ پس کہ آج اسے اسکی ساری خوشیاں دے دی گئی تھیں ۔ آج سنان ملک کا امتحان اختتام پزیر ہوا تھا اور ایک خوبصورت سفر کا باقاعدہ آغاز ہو چلا تھا ۔۔
کمرے میں پھیلی جان لیوا خاموشی کو دروازے کی چرچراہٹ نے توڑا تو حیا نے بے اختیار یہاں وہاں گھومتی نگاہیں نیچے جھکا لیں ۔ گھونگھٹ نے تو پہلے سے ہی اسکے حسن کو ڈھک رکھا تھا جبکہ گود میں رکھے سجے سنورے ہاتھ دیکھ سنان بے اختیار سا ہوا تھا ۔ وہ کس طرح اس مالک کا شکر ادا کرے اسے سمجھ نہ آرہا تھا ۔ اسکی حیا سنان ملک کی حیا ۔۔۔ اسکے کمرے میں دلہن کے روپ میں بیٹھی ہوئی تھی اور وہ بھی اس طرح کہ جیسے کسی گڑیا کا گمان ہو ۔۔
“السلامُ علیکم ، آدابِ عاشقانہ قبول کیجئیے زوجہ محترمہ ۔۔ ” اسکے سامنے بیٹھتے ہوئے ، حیا کے ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھامے وہ اسکو زندگی میں پہلی بار صحیح معنوں میں نمک کا مجسمہ بنا گیا تھا ۔
” وعلیکم السلام ۔ ” حیا کی آواز جو شاید نجانے کتنے سیکنڈ بعد نکلی تھی اور وہ بھی اتنی ہلکی کہ کانوں کو آواز کا شائبہ ہو ۔
” حیا میرے پاس تو الفاظ ہی ختم ہوگئے ہیں میری محرمِ جاں ۔۔۔ ” اسکا گھونگھٹ اٹھا کر وہ واری واری ہو گیا ۔ یہ کوئی پہلی بار نہ تھا جو وہ حیا کو اتنے قریب سے دیکھ رہا تھا مگر اس روپ میں وہ واقعی اسے پہلی بار دیکھ رہا تھا ۔ اپنے نام کی طرح ہی پاکیزگی اسکے چہرے پر نور بن کر بکھر رہی تھی ۔ اسکے الفاظوں کی گہرائی میں جاتی حیا شرماتے ہوئے لال پڑ گئی ۔
” ویسے تم اس قدر کیوں شرما رہی ہو ہم پہلی بار مل رہے ہیں کیا ۔ ” اسکے ہاتھوں کو دھیرے سے جھنجھوڑنے والے انداز میں ہلاتے ہوئے وہ حیا کو چہرہ چھپانے پر مجبور کر گیا ۔
” آپ اس طرح باتیں کریں گے تو میں شرماوں گی ہی نا ہر لڑکی ہی شرماتی ہے ۔ ” وہ دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپائے کہہ رہی تھی ۔
” افف کیا تم نے آپ کہا ؟ واقعی میں ۔۔ ” سنان نے اداکاری کرتے ہوئے دل پر ہاتھ رکھا اور اسکا ہاتھ کھینچا کہ وہ آخر کار اسکی نظروں سے بچ نہ سکی ۔
سنان کی نظروں میں خود کے لئے اتنی محبت وہ دیکھ نہ سکی اور ہمیشہ کی طرح اس موقع پر بھی آنکھیں نم کرلیں ۔۔
” اوہو میری محرمِ جاں اتنا رو کر تو آئی ہو رخصتی میں واللہ اب آنسوں نکلے نہ تو ۔۔ ” پھر وہی ادھورا جملہ اور لو دیتی نگاہیں ۔۔۔
” سنان ۔۔ “
” جی میری جان ۔۔ ” پیار کی پکار پر پیار سے دیا گیا جواب , حیا رشک بھری نگاہوں سے اسے دیکھے مسکرا دی ۔
” واصف انکل ٹھیک کہہ رہے تھے جو بھی ہوتا ہے اچھے کے لئے ہی ہوتا ہے ۔ دیکھیں نا میں نے اپنی غلطیوں سے ہمارے رشتے کی اہمیت جانی اور خاص کر آپ کی اہمیت جانی ، یہ جانا کہ میں حیا سنان ملک کے بغیر ادھوری ہوں ۔ میں نے جانا کہ سنان مر تو سکتے ہیں مگر اپنی محبت سے بے وفائی نہیں کر سکتے ۔ اور یہ بھی جانا کہ سنان ملک مجھ سے کتنا پیار کرتے ہیں ۔۔ ” سنان بے اختیار مسکرایا اور اسکے ساتھ آکر بیٹھ گیا ایسے کہ حیا کا سر اسکے کاندھے پر ٹک گیا ۔
” کیوں کہ جو ہوتا ہے اچھے کے لئے ہی ہوتا ہے حیا ۔ ” اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے وہ سانس بھر کر کہنے لگا ۔
” اگر آپ کی محبت کی طاقت نہ ہوتی تو شاید میری نادانیاں ہمارے رشتوں کو کچا نگل جاتیں۔ “
” حیا ! بس کرو جو ہوا سو ہوا اب تو سب ٹھیک ہے نا ۔ اب اس نئے رشتے کی شروعات سب کچھ بھلا کر ایک نئے سرے سے کرو ۔ جو کچھ تم نے اپنی غلطیوں سے سیکھا اسے آئیندہ آنے والے کل میں استعمال کرنا ۔” حیا نے مسکراتے ہوئے اسکے کندھے پر ٹھوڑی ٹکائی اور اسے پیار سے دیکھا ۔
” لڑائیوں سے دوستی تک کا سفر ، پھر دوستی سے محبت ، محبت سے ایکس منگیتر اور پھر بل آخر وہی محبت سے محرم تک کا سفر بہت بہت مبارک ہو آپ کو ۔۔ ” حیا کے اتنے خوبصورت انداز پر وہ اسے خود کے ساتھ لگائے اس پر جاں نثار گیا ۔
” اور یہ تم سے آپ تک کا سفر بھی بہت بہت مبارک ہو زوجہ محترمہ ۔۔ ” اسکی بات پر وہ پھسلا کر شرما گئی ۔ اسکے یوں شرماتے ہوئے ہنسنے پر سنان کا اونچا قہقہہ فضا میں بلند ہوا ۔ اور یوں ہمارے حیا اور سنان کی کہانی اختتام پزیر ہوتی ہے ۔
یہ غلط فہمیاں رشتے میں کسی آگ کے شعلے جیسا کام کرتی ہیں جس کی ذرا سی چنگاری بھی رشتوں کو پکڑ لے تو آہستہ آہستہ سب جلا کر راکھ کر دیتی ہے ۔
جبکہ شک کا بیج بھی ان غلط فہمیوں کے سہارے ہی پروان چڑھتا ہے ۔ اسلئے بہتر ہے کہ ہم غیروں کی باتوں پر جلدی عمل پیرا نہ ہوں ۔ اور اپنے رشتوں میں پر اعتمادی اور بھروسہ قائم کریں ۔
ختم شد !
