516.9K
4

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ex Mangetar) Episode 1

ہماری کہانی شروع ہوتی ہے ایک لفٹ کے منظر سے ۔ جب کیلیفورنیا جیسے شوخ و چنچل شہر میں رات کا سماں تھا ۔ وہ ہاتھ میں فون پر نیوز اپڈیٹ سنتا ہوا لفٹ میں داخل ہوا ۔ نظریں ہنوز فون پر مرکوز تھیں جیسے آج نہ سنی تو قیامت آجائے گی ۔
جبکہ دوسری جانب لفٹ میں موجود لمبی سیاہ فراک پہنے ہوئے حیا نے اسے دیکھ کر آنکھیں غصّہ سے اسکے چہرے پر مرکوز کر لیں ۔ وہ بھی سیاہ فارمل ڈریس میں ملبوس تھا ۔ ہاتھ میں بیش قیمتی چمکتی گھڑی میں ایک نظر وقت دیکھنے کے لئے نظروں کا زاویہ تبدیل کیا تو لفٹ کے چمچماتے دروازے پر اپنی گھڑی کی چمک نظر آئی اور پھر اپنے ساتھ اس دوشیزہ کا عکس ، جس کی لمبی فراک پر بے جا لال گلاب کے پھول بکھرے تھے ۔ جن کا عکس چمچماتے دروازے پر کسی بکھرے لال رنگ کی طرح دکھتا تھا ۔
” انتظامیہ کافی اچھی ہے ۔ لوگوں کو پہچاننے کے لئے پیچھے مڑنے کی زحمت ہی نہیں کرنی پڑی ۔ ” دھیمی سرگوشی نما لہجے میں کہتا وہ آخر میں تپا دینے والی مسکراہٹ چہرے پر بکھیر گیا ۔
” اب ہم کوئی عام تو ہیں نہیں جو لوگ پہچان نہ سکیں ۔ دیکھ لو لوگ عکس سے ہی پہچان لیتے ہیں ۔ ” اس نے بھی ایک ادا سے اپنے آگے آئے کھلے بال پیچھے جھٹکے ۔ ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ حیا جواب دئیے بغیر رہ سکے ۔ اور وہ بھی سنان کو ؟ کبھی نہیں ۔
” چڑیلوں کو دور سے ہی پہچاننا پڑتا ہے ۔ انکو سامنے سے دیکھنے کا خطرہ کون مول لے ؟ “
سنان نے فون بند کرتے ہوئے اپنی کوٹ کی جیب میں ڈالا اور ایک گہرہ سانس بھرا جیسے یہ بول کر اسنے بہت سکون پایا ہو ۔ لیکن حیا کے تو دماغ پہ جا لگی ۔
” تمہیں کہا کس نے ہے کہ منہ اٹھا کر کسی بھی چڑیل کے ساتھ چلتے بنو ۔ کیوں آئے ہو اس ہوٹل میں ؟ “
اس نے سنان کے کان پر غالباً چیختے ہوئے بولا تھا کہ وہ ماتھے پر بل ڈالے اپنا کان سہلانے پر مجبور ہوگیا ۔
” مطلب تم نے مان لیا نا کہ تم چڑیل ہو ۔ ” اسکی جانب پورے مکالمے میں پہلی بار دیکھتے ہوئے وہ مسکراہٹ دبائے بولا ۔ جس پر حیا نے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بنائے آنکھیں زور سے میچیں اور دانت پیستے ہوئے چیخی ۔
اور پھر غصّہ سے اسکی جانب دیکھتے پیر پٹختے باہر نکل گئی ۔ کیوں کہ ان لوگوں نے بس پہلے فلور پر ہی جانا تھا ۔ اور جب حیا کہ پاس جواب میں کہنے کو کچھ نہ بچے تو وہ آخر میں چیخ کر اس جگہ سے نکل پڑتی ہے ۔۔ وہ بھی ہنسی دبائے اسکے پیچھے پیچھے نکل گیا لیکن سامنے دیکھ دونوں رک گئے ۔
” آہ یہ تو کپلز کے لئے ہے ۔ ” سنان نے اسکے پیچھے کھڑے ہوتے ہوئے کہا جو سامنے کا منظر عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔ ہر جگہ لوگ ہی لوگ تھے ۔ لگتا تھا پورا کیلیفورنیا اٹھ کر ہوٹل میں آگیا ہو ۔
” یہاں تو بیٹھنے تک کی بھی جگہ نہیں ہے ۔ اور انکل نے بیس منٹ بعد آنے کا کہا ہے ۔ ” حیا نے پریشانی سے کہا ۔ اسکا منہ لٹک گیا تھا ۔۔
وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے یہاں کی سنسان سڑکوں پر بیگ گھسیٹے گھوم رہی تھی کوئی ٹیکسی تک نہ ملی تھی پھر بل آخر یہاں تک پہنچی ۔ اور اب کسی اور ہوٹل میں قیام اب نہیں کیا جاسکتا تھا ۔ ایک سونامی کا خدشہ تھا جسکی وجہ سے ہر ایک کو مطلع کیا گیا تھا کہ جو جہاں ہے وہیں رک جائے ۔
( سنان اور حیا کزنز تھے ۔ اور کیلیفورنیا میں واقع یہ خوبصورت ہوٹل سمیت ریستوران انکے ایک انکل کا تھا ۔ جسکی وجہ سے اس وقت دونوں کو اس ہوٹل میں ہی آنا پڑا انکے انکل نے جو کہا تھا ۔ حیا اپنے پروجیکٹ کے سلسلے میں نکلی تھی جبکہ سنان اپنی بزنس ٹرپ پر ۔ اور یوں ایک حسین ، میرا مطلب ان دونوں کے مطابق ایک برا سا اتفاق رونما ہوگیا کہ وہ دونوں ایک ہی ہوٹل میں آگئے ہیں ۔ خیر آگے بڑھتے ہیں )
” اگر تم چاہو تو یہاں بیٹھ سکتی ہو ۔ اتنی تو جگہ بنا ہی سکتا ہوں ۔ ” سنان کی آواز پر وہ پیچھے پلٹی جو ایک آخری بچے ہوئے صوفے پر بیٹھا ہوا تھا ۔ حیا کے ماتھے پر بل پڑے ۔
‘ میں یہ صوفہ پہلے کیوں نہ دیکھ سکی ۔ شٹ ‘ اپنی نظروں کو کوستی وہ من ہی من بول رہی تھی ۔ لفٹ سے ہڑبڑاہٹ میں نکلنے کے باعث وہ پورے ہال میں باقی آخری صوفے کو نہ دیکھ سکی ۔
” مجھے بالکل بھی شوق نہیں ہے لوگوں سے احسان لینے کا ” ناک بھوں چڑھاتے وہ واپس پلٹ گئی اور ہاتھ باندھ کر وہیں کھڑی ہوگئی ۔
سنان نے آئبرو اچکا کر اسے دیکھا ۔ ‘ اب تک اسکا ایٹیٹیوڈ کم نہیں ہوا ‘ دل میں سوچا ۔۔۔
سونامی کے خدشات بہت ذیادہ تھے ۔ تب ہی آس پاس کے سب ہی لوگ ، سیّاح اور جو جو یہاں پر تھا سب ہی ہوٹل میں آگئے ۔ نیوز اور موسمیات کے مطابق کم از کم صبح تک سب کو کسی خطرے سے پاک جگہ پر ٹہرنے کو کہا گیا تھا ۔
سنان نے آنکھیں ادھر اُدھر گھمائیں ۔ سب طرف گہما گہمی تھی ۔ سرگوشیاں اور لوگوں کا شور تھا ۔ تبھی سامنے سے ایک لڑکی چلتی ہوئی شاید اس کی جانب ہی آنے لگی ۔ سنان نے اس ویسٹرن فراک پہنی لڑکی کی نظروں کا تعاقب کیا اور پھر نظریں حیا کی جانب کیں ۔ اور پھر حیا سے نظریں ملاتے وہ مسکرا کر واپس اس ہی جانب دیکھنے لگا جہاں سے وہ لڑکی یقیناً اس خالی جگہ کو پر کرنے ہی آرہی تھی ۔
” اس کے پیٹ میں کیوں خوشی کے غبارے پھوٹنے لگے ۔” اس نے سنان کی ہنسی دیکھتے ہوئے سوچا اور اسکی نظروں کا تعاقب کیا تو وہ فوراً سمھجہ گئی ۔
’ حیا چھوڑ دے ضد نہیں تو یہ جگہ بھی جائے گی ۔ ہنسنا دیکھو مکھی چوس انسان کا ۔۔ ‘ دل میں کہتی وہ کبھی لڑکی کو آتے ہوئے تو کبھی سنان کو نیم مسکراہٹ لئے اپنے فون پر جھکے دیکھ رہی تھی۔
’ حیا بیٹھ جا ۔ بیٹھ جا حیا ۔۔ ہاں ! ‘ اور پھر حیا کسی اڑن طشتری کی طرح فوراً سنان کے پاس دھپ کی آواز کے ساتھ جا بیٹھی ۔
” آرام سے تمہاری یہ سختی ہر کوئی برداشت نہیں کر سکتا ۔ یہ صوفہ تو بالکل بھی نہیں ۔ ” سنان ہلکا تیور چڑھائے بولا اور پھر اس ویسٹرن لڑکی کو دیکھا جو سیدھا ریسیپشن پر جا کھڑی ہوئی ۔ وہ ملازم تھی یہاں کی۔ حیا نے اس بار بھی نظروں کا زاویہ سنان کے ساتھ ساتھ ملا کر دیکھا تو اسکا منہ کھل گیا۔ جبکہ یہاں سنان نے لب دباتے ہوئے اپنی ہنسی روکی تھی۔
” ویسے تم تو ابھی تک احسان نہیں لینا چاہ رہی تھیں نہ کوئی ۔۔ تو اب ! ” سنان کی بات پر اس نے منہ بنائے رُخ پھیر لیا ۔
” ہر وقت جواب دینے کا شوق نہیں مجھے ۔ ” اسکی آواز پر سنان نے آئبرو اچکائیں اور ہونٹوں کو واہ کہنے کے انداز میں کھولا ۔ پھر آنکھیں مٹکا کر فون میں لگ گیا ۔ اب وہ اس لڑکی سے کیا بحث کرتا ۔ وہ بھی منہ بنائے چہرہ پھیر گئی ۔
تقریباً دو منٹ گزرے ہوں گے یہاں وہاں دیکھتی حیا کا فون کسی روتے بچے کی طرح بج اٹھا کسی کی کال آئی تھی ، جسے دیکھتے ہی وہ اسنے تیور چڑھا چکی تھی ۔۔ بیک وقت سنان نے بھی اپنا گرتا ہوا فون سنبھالا تھا۔۔۔
” کال کیوں کی ہے مجھے ؟ ” حیا اسکی جانب مڑ کر تنک کر بولی ۔
” فون سلپ ہوگیا ورنہ کوئی شوق نہیں مجھے تمہیں کال کرنے کی ۔۔ “
سنان نے بھی اسہی کی طرح کہتے ہوئے واپس اپنے پانچ سال پرانے فون کو دیکھا تھا ۔( شکر بچ گیا ۔ )
” ذرا دھیان سے پکڑو یہ نہ ہو کہ ڈی پی دیکھ کہ تمہارا دل بھی واپس یہیں سلپ ہوجائے ۔ “
جلا دینی والی مسکراہٹ کے ساتھ وہ اسے سر تاسف سے ہلانے پر مجبور کر گئی ۔
” افف ۔ کتنی ۔۔ ” سنان نے لب کھولے ۔۔
” میں نے تو کہا تھا ۔۔۔ ڈی پی سے بچ کے رہنا ، اب ہوگئی نہ مصیبت ۔ ” سنان کی بات کاٹتے وہ ایک ادا سے کہہ رہی تھی جبکہ مسکراتے ہوئے اس کا ایک ہاتھ اپنی بالوں کی لٹوں میں تھا ۔
” اففف کتنی خوش فہمی ہوگئی ہے تمہیں ۔ حیا “
اس کے قریب ہو کہ وہ چبا کہ بولا تھا اور اب کی جلانے والی مسکراہٹ سنان کی تھی ۔ حیا غصّہ سے بیگ لے کر اٹھ کھڑی ہوئی ۔ سامنے سے انکے انکل چلتے ہوئے آرہے تھے ۔۔
سنان بھی ہنسی روکتے کوٹ جھاڑتے ( ٹشن میں ) اٹھ گیا ۔ اور ان دونوں پہ ایک بم پھوٹا تھا ۔
” دیکھو بیٹا تم دونوں تو گھر کے بچے ہو نہ ۔ ایک ہی روم خالی ہے یہ لو چابی ۔ دونوں ایڈجسٹ کرلو ایک رات کی بات ہے ۔ ” حیا کا منہ کھل کر رہ گیا ۔۔
” میں چلتا ہوں بہت کام دیکھنے ہیں کسی بھی چیز کی ضرورت ہو انہیں کہنا ہے اوکے “
اور مسکراتے ہوئے انکے انکل واصف واپس چل دئیے ۔ پھر ساتھ میں کھڑی سٹاف کی لڑکی نے ان کے آگے چابی بڑھائی ، جسے حیا نے شکار سمجھ کر بھوکی شیرنی کی طرح جھپٹ لیا ۔
” ویسے آپ دونوں ایک دوسرے کے ہیں کون ۔ میاں بیوی ہیں ؟ “لڑکی کی بات پر دونوں نے اسے چیخ کر “نہیں ” بولا تھا اور رخ پھیر کر پھر سے لب کھولے ۔۔
” میرا ایکس منگیتر ہے ۔ “
” خالہ کی بیٹی ہے ۔ ” دوبارہ یک زبان بولنے پر چونک کر واپس ایک دوسرے کو دیکھا تھا ۔ اور پھر یکسوئی سے اس لڑکی کو دیکھ کر زبان کھولی ۔
” خالہ کا بیٹا ہے ۔ “
” ہاں میری ایکس منگیتر ۔۔۔۔ “
سنان نے اسکی جانب اب غصے سے دیکھا تھا ۔ حیا بھی پیر پٹختی بھاگ گئی جبکہ سٹاف گرل ہنسی روکتے واپس کاؤنٹر پر چلی گئی ۔
” وہ میرا بھی روم ہے تم اکیلے قبضہ نہیں کر سکتی ۔ چڑیل حیا ” پیچھے سنان کی آواز اسے کانوں میں زور سے لگی تھی ۔ لیکن وہ رکی نہیں اور چابی پر لکھے نمبر کو دیکھ کمرے کی جانب بڑھتی رہی ۔
” مگر بیڈ میرا ہے سو مجھے سونا ہے ۔ تم حکم نہیں چلا سکتے ۔ سنسان ” منہ بنا کر کہتے ہوئے وہ اسکا نام بگاڑ چکی تھی اور پھر تیزی سے کمرے کی جانب لگ بھگ اڑتے ہوئے بھاگی ۔
کمرے میں پہنچتے ہی اسنے کندھے پر کب سے لٹکا ہوا بیگ بیڈ پر ڈالا تھا ۔ اور پھر دروازے کی جانب رخ موڑے ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھ گئی تھی ۔۔
” حیا یہ غلط ہے بہت زیادہ غلط ہے ، اور تمہیں تو ویسے بھی صوفوں پر سونے کا کتنا شوق تھا ۔ ” سنان نے اندر آکر اسے یوں ملکہ کی طرح بیٹھا دیکھا تو انگلی اٹھا کر کہتا ہوا وہ ایموشنل ہوگیا تھا ۔۔
افف اسے تو صوفوں پر سونے کی بلکل عادت نہیں ہے ۔
” تھا ۔۔۔ شوق تھا ، اب نہیں ہے مسٹر سنسان ! ” وہ بازوؤں کو سینے پر لپیٹے مسکراتے ہوئے اسے غصہ دلا گئی ۔
” میں انکل کو بتانے جا رہا ہوں ۔۔ “
” انکل کو کیا بولو گے؟ یہ بتاؤ گے کہ ہماری شادی ختم ہوگئی ہے اور اب میں اتنی خوبصورت لڑکی کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں کر سکتا ، دیکھو تم سوچ لو اس سے پہلے کہ وہ اپنی بیٹی کو تمہارے ساتھ جوڑنے کا سوچ لیں ۔” اس نے سنجیدگی سے مسکراہٹ لئے کہا ۔ آنکھوں میں جو چمک رہا تھا وہ کچھ اور جو شاید سنان دیکھ چکا تھا ۔۔
” لیکن خیر ! تم تو خود بھی یہی چاہتے ہو نا ۔ “
آخر میں وہ بے اختیار سر ہلائے ہنستے ہوئے کھڑی ہوگئی ۔۔ لیکن وہ ہنسی نہیں تھی وہ طنز تھا جسے سنان بخوبی سمجھ گیا تھا ۔۔
” اب بھی سوئی وہیں اٹکی ہوئی ہے ۔۔ دماغ تو ہے نہیں ، سوچنے کی صلاحیت کیسے استعمال کر سکتی ہے ۔۔ ” وہ بڑبڑاتا ہوا وہیں پاس رکھے صوفے پر بیٹھ گیا ۔ بکھرے بالوں سے ڈھکے ماتھے پر سلوٹیں ابھر گئی تھیں ۔ حیا نے سانس بھری اور اپنا بیگ اٹھائے واشروم میں چل دی اسے مزید سنان کے سامنے رکنے کا بالکل شوق نہیں تھا ۔۔ جبکہ کمرے کا ماحول آلودہ ہو چکا تھا ۔ وہ دونوں جو اب تک لڑ رہے تھے اب دونوں کی جانب سے خاموشی ہوگئی تھی ۔۔
باتھ روم کا دروازہ زور سے بند ہوا اتنی زور سے جیسے وہ دروازہ بند نہیں کر رہی بلکہ سنان پر غصہ اتار رہی ہو ، وہ سر جھٹک کر رہ گیا ۔ کنپٹی مسلتے صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے وہ آنکھیں موند گیا ۔۔۔
دو مہینے پہلے کی ہی تو بات تھی سب کتنے خوش تھے ، وہ دونوں کتنے خوش تھے ایک ساتھ ۔۔ بچپن سے جس دن کا اس نے انتظار کیا تھا وہ آگیا تھا ، حیا اور وہ ایک ساتھ ہونے جارہے تھے ۔ لیکن پھر ۔۔۔
Zainab Sarwar Novels ______
ماضی _ یہ کوئی دو مہینے پہلے کی بات ہے جب وہ اپنی خالہ کے گھر آئی تھی لیکن سنان کو بتائے بغیر اور اب اسکے کمرے میں یوں اچانک جا کر اسنے جو دیکھا وہ دیکھنے لائق نہیں تھا ۔۔ ” بہت خوب مسٹر سنان ، مطلب شک بالکل ٹھیک تھا ۔۔ تم واقعی مجھ سے اکتا چکے ہو نا ؟ ہاں بولو ۔۔۔” وہ باقاعدہ تالیاں بجاتے ہوئے اس تک آئی تھی ۔ سنان خود کو سنبھالتے ہوئے سیدھا ہوا ساتھ میں رمشاء ( واصف انکل کی بیٹی ) بھی سیدھی ہو کر کھڑی ہوئی اور حیا کے پاس آئی ۔۔ ” نہیں بالکل نہیں تم سے مجھے کوئی بات نہیں کرنی جاؤ یہاں سے ۔ ” اس کے قریب آتے ہی ہاتھ اٹھا کر نم آنکھوں سے رمشاء کو روکا تھا ۔۔ ” اتنا بھی کیا غصہ ۔۔ ” ” میں نے کہا جاؤ یہاں سے ۔۔ ” اس سے پہلے کے وہ مزید کچھ کہتی حیا چلائی تھی ۔ آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر پھسلنے لگے تھے ۔۔ سنان سر میں ہاتھ پھیرتا بیڈ پر بیٹھ گیا ، اب وہ اسے کیسے سمجھائے گا ۔ ” عجیب ہو بھئی ، آنسو ایسے جاری ہوئے ہیں جیسے تمہارا شوہر ہو ۔۔ ” وہ حیا پر طنز کر کے گئی تھی اور سنان صرف دیکھتا رہا ۔ یہ دیکھ آنکھوں سے بقیہ آنسو بھی جاری ہوگئے ۔ ” تم نے اسے کچھ کہا تک نہیں سنان ۔ ” حیا نے خالی پن لئے سنان سے استفسار کیا تھا اسے یقین نہیں آرہا تھا وہ کیسے چپ رہ سکتا ہے ؟ اس نے کیوں کچھ نہ کہا ؟ آخر کیوں ۔۔ ” تم اس وقت غصے میں ہو حیا ، اور غصے میں انسان کچھ بھی سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے ۔ اور رہی بات اسکی تو وہ ۔۔۔ ” سنان کھڑا ہوا اور حیا کو بازوؤں سے پکڑ کر بیڈ پر اپنی جگہ بیٹھایا پھر اسکے سامنے پنجوں کے بل بیٹھا ، وہ تو آنکھیں میچیں بس آنسوؤں کو پی رہی تھی ۔ ” تم اتنا پوسیسیو کیوں ہو رہی ہو میرا صرف پیر پھسلا تھا وہ تو چائے ۔۔ ” ” اوہ پلیز سنان پلیز اپنے جعلی فلسفے اپنے پاس رکھو ، وہ مجھے کیا بول کر گئی ہے سنا نہیں کیا تم نے ہاں ؟ ” سنان کے ہاتھ جھٹکتی وہ اپنے چہرے سے آنسو صاف کرتی ہوئی بولی ۔ ” تم جانتی ہو نہ اسکی نیچر وہ باہر پلی بڑی ہے ، وہاں تو کیا کچھ نہیں ہوتا اب تمہارا ایک غلط فہمی پر اتنا زیادہ رئیکٹ کرتے دیکھ وہ یوں ہی ۔۔ ” ” واؤ گریٹ ، میری ذرا سی غلط فہمی ، یہ غلط فہمی نہیں ہے سنان آنکھوں دیکھا سچ ہے ۔۔ تم تو کسی کو کمرے میں آنے کی اجازت تک نہیں دیتے نا تو پھر وہ کیسے آئی ؟ ہاں وہ کیسے آگئی ۔۔ ” وہ بے یقینی لئے امڈتے آنسوؤں کو روک رہی تھی ۔ اس سے برداشت نہیں ہوا تھا وہ جو اس نے دیکھا ۔ وہ تو کسی کی نظر بھی سنان پر برداشت نہیں کرتی ۔ ” حیا حیا حیا ۔۔ میرا پیر پھسلا تھا بس اور تمہارے آنے کی ٹائمنگ غلط تھی یار ، اب تم بات کو غلط رنگ دے رہی ہو ۔۔ ” ” اچھا میری ٹائمنگ غلط تھی ۔۔ ” وہ ایک پل ٹہری اور پھر طنزیہ مسکراتے ہوئے آنسوؤں سے لبریز چہرہ صاف کیا ۔ ” صحیح کہہ رہے ہو میری ٹائمنگ نا ، دراصل میری ٹائمنگ بالکل ٹھیک تھی ۔ تبھی اپنی آنکھوں سے سب دیکھ لیا ورنہ میری آنکھوں پر سے تو تمہارے پیار کی پٹی ہی نہیں اترتی ۔ اور تم یوں ہی پیٹھ پیچھے آنکھوں میں دھول ۔۔ ” ” جسٹ شٹ اپ حیا ، جسٹ شٹ اپ ۔ اتنا بھی کیا رئیکٹ کرنا جب میں کہہ رہا ہوں کہ پیر پھسلا تھا اور وہ سب ہوا ۔ تب ہی تم بھی آگئیں ۔ لیکن نہیں تمہیں تو عادت ہے ہر چھوٹی چھوٹی باتوں کا بتنگڑ بنانے کی ۔ پہلے بھی جب وہ سٹیج پر پاس بیٹھ گئی تھی تب بھی تم نے اتنا ہنگامہ کیا ، ارے تم ۔ چلو بھاڑ میں ڈالو دنیا کو لیکن تم مجھ پر شک کیوں کر رہی ہو ؟ ” وہ شل سی سنان کو دیکھ رہی تھی بے یقینی سے اسے تکتے جا رہی تھی ۔ جبکہ آنسو کی روانگی میں اضافہ ہوگیا ۔ ” میں ہر بات کا بتنگڑ بناتی ہوں ؟ ” خالی خالی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے وہ روتے ہوئے ہنس دی ، پھر مڑ کر بالوں میں ہاتھ پھنسائے یہی سطر دہرانے لگی ۔ ” میں باتوں کا بتنگڑ بناتی ہوں ، میں باتوں کا بتنگڑ بناتی ہوں ۔۔ ” منہ پر ہاتھ رکھے وہ اسکی جانب پلٹی تھی جسے اس وقت کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ وہ حیا کا غصہ کم کرنے کے بجائے بڑھا چکا تھا ۔ افف وہ تو ایسا کچھ نہیں چاہتا تھا ۔ ” حیا ، میری شیزوکا ۔۔ ” سنان نے اس بار اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے اسے سمجھانا چاہا مگر حیا نے ایک بار پھر اسکا ہاتھ جھٹک دیا۔ ” نہیں ، تم ۔۔۔ تمہیں تو بالکل پسند نہ تھا نہ کہ کوئی بھی لڑکی تمہارے پاس تک نہ بیٹھے بھلے سے وہ کوئی کزن ہی کیوں نہ ہو تم تو بے وجہ بات بھی نہیں کرتے تھے تمہیں تو برا لگتا تھا کہ کوئی کمرے میں کیسے آگیا اور ۔۔ اور اب ” ” حیا میری بات سنو ۔۔ ” وہ کچھ سمجھنا نہیں چاہتی تھی وہ غصے میں بھی نہیں تھی وہ بے یقینی کی کیفیت میں تھی اسے شاکڈ لگا تھا اسکا سنان بدل چکا ہے ۔ ” نہیں دور رہو ، تم پہلے جیسے نہیں رہے ہو سنان تم بدل گئے ہو ۔ اور جسے تم میری over possessiveness کہہ رہے ہو نہ یہ بھی تمہاری ہی دی ہوئی ہے میں خود سے نہیں ہورہی ۔ اگر تم یوں بدل جاؤ گے ، تمہیں یہ رمشاء کی حرکتیں کچھ نہیں لگیں گی تو میں یوں ہی رئیکٹ کروں گی ناں کیونکہ تم ایسے نہیں تھے ۔۔ ” وہ آخری جملے پر ایک بار پھر بری طرح سے رو دی تھی اور نیچے منہ گٹھنوں میں چھپائے بیٹھ گئی ۔ ” حیا تمہیں کیسے سمجھاؤں ۔ وہ خود آئی تھی میں نے نہیں بلایا اسے ۔۔۔ اور چلو آ بھی گئی تو کوئی مسئلہ نہیں کزن ہی تو ہے باقی جو کچھ ۔۔ ” اسکی بات پر وہ بھیگی آنکھوں سے دیکھ جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔ ” ہاں کیوں نہیں کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے کزن ہی تو ہے ۔ اور کزن کے پاس تو سارے حق ہوتے ہیں ناں ، جیسے دل چاہے ویسے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر پورے ھال میں گھومو ۔ وہاں منگنی ہماری اور تصویریں وہ گھس گھس کر لے ، اوپر سے بے ہوشی کا ناٹک کرے چیپ انسان ۔ یہاں منگیتر میرا اور کمرے میں وہ یوں ۔۔ ” ” حیا چپ ، بالکل چپ ایک لفظ اور نہ نکلے منہ سے ۔۔” وہ مزید بھی کچھ کہتی مگر سنان نے اسے طاقت سے پکڑ کر جھنجھوڑ ڈالا جس سے وہ سکتے میں آگئی ۔ سنان کی آواز پہلی بار اس طرح نکلی تھی کہ وہ اسکی دھاڑ سے سہم کر رہ گئی ۔ رونے کے ساتھ ساتھ ہچکیاں بندھ چکی تھیں ۔ ” مجھے لگتا تھا کہ حیا بہت سمجھدار ہے وہ ہر چیز کو بہت اچھے سے انڈرسٹینڈ کرتی ہے آگے بھی کرے گی ۔ میری اب جاب ہی ایسی ہے آئے دن باہر جانا پڑتا ہے اور باہر تو طرح طرح کے لوگ اور اس رمشاء سے زیادہ بے حیا لڑکیاں ہوتی ہیں ۔ لیکن ہمیں سب سے ڈیل کرنی ہے نا ۔ اب اگر تم ہر چھوٹی چھوٹی باتوں کو پکڑ اتنا ہنگامہ کروگی تو ہمارا رشتہ کھوکھلا ہوجائے گا حیا ، تمہیں کم از کم مجھ پر بھروسہ تو ہونا چاہیے نا ۔۔۔ اور اگر میں بھی تمہاری طرح یوں ہی ہر بات کو پکڑ کے بیٹھ جاؤں ناں تو یاد رکھو تم سے زیادہ جواز ہیں میرے پاس لڑنے کےلئے اندھا نہیں ہوں میں ۔ ” وہ آخر کب تک چپ رہتا بل آخر زبان پھسل ہی گئی ۔ حیا نے سر نفی میں ہلایا ۔۔ ” اچھا تو تم اس رمشاء کی باتوں پر یقین کرو گے وہ جھوٹی ہے ۔۔ ” ” اچھا اب وہ جھوٹی ہوگئی اپنے پر آئی تو جھوٹی حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ خالو تمہاری شادی اس علی سے کروانا چاہتے تھے ۔ اور وہ بھی تمہیں پسند کرتا ہے اب یہ تو جھوٹ نہیں ہے نا ۔ مگر تم نے مجھ سے سب چھپایا ، اگر دل میں کھوٹ نہ ہو تو کچھ چھپایا نہیں جاتا حیا ۔۔ ” اس کی بس ہو چکی تھی وہ حیا کو جتنا سمجھا سکتا تھا سمجھا چکا تھا ۔ اور چونکہ اب منہ کھل چکا تھا تو وہ بھی چپ نہیں ہوسکتا تھا شکوے کرنے کا حق صرف ایک کو تو نہیں ۔۔ ” مجھے تو خود نہیں معلوم تھا سنان ۔۔” اسکی چلتی زبان کو سنان نے اپنی شہادت کی انگلی دکھا کر روکا تھا ۔۔ ” بس ، میں نے اپنی صفائی جتنی دینی تھی دے دی جو کہنا تھا کہہ دیا اب تم جاؤ یہاں سے ۔ آنکھوں پر پٹی کی بات کرتی ہو ، تمہارے نہیں شاید میرے بندھی ہے ۔۔ ” وہ جزباتی ہو چکا تھا اسلئے بھیگے لہجے میں کہتے رخ موڑ گیا ۔ وہ مزید کچھ نہیں کہہ سکتا تھا ۔ ” سب کچھ اس رمشاء کی وجہ سے ہوا ہے اور قصور وار مجھے ٹہرا دیا واہ ۔۔ تم ہمیشہ میرے ساتھ ناانصافی کرتے ہو سنان ۔۔ ” حیا نے بے اختیار انگلی میں پہنی انگوٹھی بے دردی سے نکال کر بلکتے بچے کی طرح بیڈ پر پھینکی تھی ۔ سنان کو یہ امید نہ تھی اس سے ، اس بار وہ شاکڈ سا دیکھتے گیا ۔ حیا انگوٹھی پھینک کر چلی گئی ۔۔ اسنے نگاہ اٹھائی تو دیکھا وہ بھیگے چہرے کو بے دردی سے پوچھتے نیچے فرش سے اپنا بیگ اٹھا رہی تھی ۔ پھر غم و غصے سے ایک آخری بار اس پر نظر ڈالتے وہاں سے چلی گئی نیچے سب نے اسے بہت روکا مگر کچھ بھی بولے بغیر وہ چلی گئی ۔ اور آخر وہ بولتی بھی کیا ؟ کہ اسکا ہونے والا شوہر ۔۔۔۔ سنان نے نم آنکھوں سے وہ ہیرے کی انگوٹھی اٹھائی اور وہیں بیٹھ گیا ۔ آنکھوں کے سامنے بیتے لمحے کسی فلم کی طرح چلنے لگے ۔ وہ انکا بچپن سے ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے کے باوجود ساتھ ساتھ رہنا ، ایک دوسرے کی ڈھال بن کر ، وقت گزرتے دوستی کا محبت میں بدلنا اور پھر سب کی رضامندی سے انکی شادی طے پانا ۔ مگر اب ، اب جو ہورہا ہے جو ہو چکا ہے وہ ناقابلِ برداشت ہے ۔ کیا اتنا کمزور رشتہ تھا جو یوں ٹوٹ رہا ہے ؟ اس نے اس لفظ ٹوٹنے پر آنکھیں کھولیں اور انگوٹھی کو مضبوطی سے پکڑ لیا ۔۔ ” ٹوٹ رہا ہے ۔۔۔ نہیں ٹوٹ نہیں سکتا ، کبھی نہیں ۔۔ میں میں منا لوں گا ۔ ہاں میں میں منا لوں گا ” آنکھیں صاف کرتے وہ نفی میں سر ہلائے ایک بار پھر اپنے رشتے کے لئے کھڑا ہوگیا تھا ۔ ” حیا نا سمجھ ہے تو کیا ہوا میں سمجھا لوں گا ۔ کچھ دن بعد ، ہاں کچھ دن بعد جا کر منا لوں تب تک غصہ ٹھنڈا ہوجائے گا اسکا ۔۔ ” وہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ارادہ کر چکا تھا ۔ وہ منائے گا اور اسکی حیا مان جائے گی ۔ اسے پورا یقین تھا ۔۔ Zainab Sarwar Novels______________
جاری ہے