Ex Mangetar By Zainab Sarwar Readelle50330 (Ex Mangetar) Episode 3
Rate this Novel
(Ex Mangetar) Episode 3
باب سوم
حال _ حیا باتھروم سے باہر نکلی تو سنان کو سر صوفے کی پشت سے ٹکائے ، لگ بھگ گنودگی میں پایا ۔ سانس بھر کے اس نے دروازہ آہستگی سے بند کیا کہ کہیں اسکی نیند میں خلل نہ پڑ جائے ۔۔ ( دیکھ رہے ہو لوگوں ابھی نیند کی کتنی فکر ہے اور ویسے نیند کی دشمن بنی ہوئی تھی ) ” کاش کہ ہم اتنی حسین جگہ یوں نہ ملے ہوتے سنان ۔۔۔ ” وہ کھڑکی تک گئی جہاں سے باہر کا خوبصورت لان نظر آرہا تھا ۔ نیچے کچھ ورکرز ٹینٹ لگا رہے تھے اور آہستہ آہستہ آس پاس کھڑے لوگوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی تھی ۔ ” اگر نکل گئیں تھیں باہر تو اٹھا ہی دیتیں ، مجھے بھی جانا تھا چینج کرنے ۔۔ ” وہ نیچے کے منظر میں مگن تھی جب سنان کی آواز پر چونک کہ پلٹی ۔ اور پھر اپنی نیکی کو سمندر میں بہا آئی ۔ ” اٹھ گئے نا تو چلے جاؤ ، اب سر کھانا ضروری ہے کیا ۔۔ ” منہ بنائے کہتی وہ بیڈ پر دھپ سے بیٹھ گئی ۔ اور گھور کر اسے باتھروم میں جاتے دیکھا ۔ سنان نے زور سے دروازہ بند کیا ایسے کی وہ اچھل کر رہ گئی ۔۔ ” اونہہ بدلا ۔۔ ” ” توڑنے کا ارادہ ہے کیا دروازے کو ۔ پیسے تم ہی بھرو گے یاد رکھنا ۔۔ ” حیا نے پیچھے سے ہانک لگائی ۔ جب کہ وہ اندر سے بھی جوابی کاروائی کر چکا تھا مگر دروازہ بھاری ہونے کی وجہ سے آواز ٹھیک سے باہر نہ آئی اور حیا اسے خاموش سمجھ کر خود بھی چپ ہوگئی ۔۔ سنان اب بھی باتھروم میں ہی تھا جب حیا اٹھی اور چلتی ہوئی سامنے گئی ، شیشے میں خود کو دیکھا ، درمیانہ قد ، چمکتی سفید رنگت بڑی بڑی آنکھیں لمبے سیاہ بال اور وہ خوبصورت سی حیا ۔۔۔ خود کو دیکھ ہمیشہ کی طرح چہرے پر شرمیلی سی مسکراہٹ بکھر گئی ۔ ” کوئی اتنا خوبصورت کیسے ہو سکتا ہے ۔۔ ” وہ مسکراتے ہوئے خود سے کہہ رہی تھی جب دروازہ کھولتے ہوئے سنان کے ہاتھ رک گئے ۔ اس نے بے اختیار ماتھے پر پریشانی زدہ لکیریں ابھاریں ۔ حیا نے ایک ادا سے شیشے میں دیکھ کر اسٹائل مارا سنان کی تو آنکھیں ہی باہر آگئیں۔ ” پھر خود سے باتیں کرنا شروع آہ ۔۔۔ ” سر افسوس میں ہلاتے وہ باہر آیا ، جبکہ حیا اب تک شیشے کے آگے کھڑی تھی ۔ سنان نے آنکھیں گھومائیں اور اپنے بیگ کی جانب چل دیا جو صوفے پر تھا ۔ ” ہائے نظر نہ لگے ۔۔ ” اپنے سر کے گرد ہاتھ گھما کر وہ نظر اتار رہی تھی ۔ ہاں خود کی نظر اتارنے کا شوق اسے اپنے بابا سے لگا تھا ۔ وہ کہتے تھے کہ اپنی نظر اتارتی رہا کرو ۔۔۔ اور اب وہ اسکی عادی ہوگئی تھی ۔ ہر انسان میں کچھ عجیب عادات ہوتی ہیں جس کو وہ کبھی نہیں چھوڑ پاتا اس میں بھی تھی ، خود کی نظر اتارنے کی عجیب سی عادت جسے شاید وہ کبھی نہیں چھوڑ پائے گی ۔۔ ” میں دیکھتا ہوں ۔۔ ” دروازہ بجا تو سنان اس سے کہتا ہوا دروازہ کھولنے آگے بڑھا ۔۔ حیا نے دوپٹہ شیشے میں دیکھتے ہوئے ٹھیک کیا اور وہ بھی اسکے پاس گئی ۔ ” ارے انکل آپ آئیے نا ۔۔” وہ واصف انکل تھے سنان کے کہنے پر اس سے مصافحہ کرتے ہوئے آگے بڑھے ۔۔ پھر خود صوفے پر بیٹھے اور ان دونوں کو بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔ حیا بیڈ کے سراہنے پر بیٹھ گئی اور سنان بیڈ کے دوسرے سراہنے پر ۔۔ جیسے شمال اور جنوب ” کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے ناں بچوں ۔ اور کمرے کے لئے معذرت یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ایک بھی کمرہ نہیں بچا جو خالی ہو ۔۔ ” ” ارے نہیں انکل معذرت کی کیا بات ، اور ویسے بھی ایک رات کی تو بات ہے کل کی فلائٹ ہے میری ۔۔ ” حیا نے کہا اور پھر سنان کی جانب دیکھ منہ بنا کہ واپس نظریں گھما لیں ۔۔ ‘ عجیب میں نے کیا کیا ہے ابھی ؟ ‘ سنان نے اوپر دیکھ دل میں شکوہ کیا اور افسوس سے اسے دیکھ کر رہ گیا ۔ اس کا کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔ ” کل کی فلائٹ ہے ؟ مگر کل تک کی ساری فلائیٹس کینسل ہو چکی ہیں ، تم لوگ فکر نہ کرو صبح تک آفت ٹل جائے گی تو رومز بھی خالی ہو جائیں گے ۔۔ ” وہ حیا کی بات پر حیران ہوئے تھے ظاہر ہے سونامی کے خدشات کے بابت فلائٹس تو کینسل ہی ہوگئی ہوں گی ۔ ” جی انکل ، اور سب ٹھیک ہے نیچے وہ لوگ ایڈجسٹ ہوگئے کیا ؟” سنان کو یاد آیا جب وہ لوگ آئے تب وہاں اینٹرینس پر بہت رش تھا ۔۔ ” ہاں بیٹا ۔۔ ” وہ رکے . “ویسے جو ہوتا ہے نا اچھے کے لئے ہی ہوتا ہے ۔ باہر گارڈن میں لگے ٹینٹ دیکھے تم لوگوں نے ؟ ” ” جی انکل میں نے دیکھے ابھی ۔” ان کے سوال پر حیا تیزی سے بولی ۔۔ ” ہاں دراصل وہ ہم نے ایک دوسری سائٹ کے لئے آرڈر کئے تھے مگر بدقسمتی سے وہاں کا کام رک گیا تو وہ سارے ٹینٹ یہیں رکھوا دیئے تھے ۔ اور میں پرسوں یہی سوچ رہا تھا کہ وہ بے کار پڑے ہیں ۔ لیکن آج اس آفت کی وجہ سے بہت مشکل ہوئی پھر یاد آیا کہ ہم وہ ٹینٹ نکال کر استعمال کروا سکتے ہیں ۔ بس دیکھو بے کار نہیں گیا میرا نقصان بھی ۔ اس ہی لئے اگر نقصان ہو بھی جائے تو صبر کرنا جیسے آج میرے کام آگیا ویسے ہی تمہارے کام بھی آئے گا ۔۔ ” وہ مسکراتے ہوئے کھڑے ہوگئے سنان اور حیا ایک پل کے لئے شل سے رہ گئے تھے ۔ اس نے حیا کی جانب دیکھا وہ بھی مڑی دونوں کی آنکھیں ایک دوسرے سے جا ملیں آج کتنے وقت بعد وہ دو سے چار ہوئیں تھیں لیکن ایک میں غم و غصہ جھلکا تو دوسرے میں صرف افسوس ۔۔۔ ” میری دعا ہے تم دونوں ہمیشہ خوش رہو ۔ اور میری اس بات کو یاد رکھنا جو بھی ہوتا ہے زندگی میں وہ اچھے کے لئے ہی ہوتا ہے ۔ اسلئے کبھی ذرا ذرا سی باتوں پر ایک دوسرے کا ساتھ نہ چھوڑنا ۔۔ ” وہ جذب کے عالم میں کہہ رہے تھے سنان انکے مقابل کھڑا ہوا ۔ وہ دیکھ سکتا تھا انکی آنکھیں چمک رہی ہیں لیکن جھلکتی نمی کے باعث ۔۔ وہ تابعداری کی صورت سر ہلا گیا ۔۔ ” زندگی میں بدمزگی تو پھر برداشت ہو جاتی ہے مگر زندگی تنہا کاٹنا بہت زیادہ مشکل ہے ۔ ہمیں تمہاری آنٹی بہت یاد آتی ہیں انکی کمی ہمیں باعث اوقات بہت ستاتی ہے ۔ ” نجانے کیوں مگر وہ جو دل میں آیا بولتے گئے ۔ حیا افسوس سے مسکرا دی۔ ” اللّٰہ آپ کو ہمت دے . ” اس نے آگے بڑھ کر کہا تو انکل واصف نے شفقت بھرا ہاتھ اسکے سر پر پھیرا ۔ ” آمین ۔۔ ” سنان نے دھیمے سے کہا ۔ ” خوش رہو میرے بچوں ۔ چلو مجھے کچھ کام ہیں خیال رکھنا ۔ آرام کرو کل ملتا ہوں اوکے ۔ ” انکا موبائل فون بجنے لگا تھا شاید کام ہوگا ۔ ” شب بخیر انکل ، آپ بھی اپنا خیال رکھئے گا ۔ ” حیا نے پیچھے سے کہا وہ پلٹ کر سر میں جنبش دیتے ہوئے مسکرا دیئے ۔ ” ایک واصف انکل ہیں اتنے اچھے سلجھے ہوئے انسان اور ایک انکی بیٹی چڑیل کہیں کی ” وہ چڑیل بولتے وقت سڑا ہوا منہ بنا گئی اور واپس بیڈ پر بیٹھ گئی چہرہ سامنے کھڑکی کی جانب تھا ۔ ” چلو شکر ہے تم نے مانا تو سہی کہ ، وہ چڑیل ہے میرا قصور نہیں ہے کوئی ۔ ” سنان نے صوفے کے پاس آتے کہا ۔ اسکے کہنے کی دیر تھی حیا نے سر اٹھا کر اسے خون خوار نظروں سے دیکھا ۔ ” تم یہ مت سوچو کہ میں تمہیں معاف کردوں گی اور سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ ” ” میں نے تم سے کوئی معافی مانگی بھی نہیں ہے ، نہ ہی میں مانگوں گا ۔۔ کیوں کہ میں نے کچھ غلط نہیں کیا ۔۔ ” حیا کی بات پر سنان نے سنجیدگی سے کہا اور سخت تیور لئے باہر کھلتی کھڑکی میں جا کھڑا ہوا ۔۔ حیا انگلیاں مڑورتی ہوئی اٹھی اور اپنے بیگ سے ورک شیٹ وغیرہ نکال کر بیڈ پر ہی بیٹھ گئی ۔ ” ہیلو ؟ ہاں ۔ شکر ہے فون اٹھایا تم نے سب ٹھیک ہے ناں ؟” وہ کسی سے فون پر بات کر رہا تھا ۔ حیا کی جانب اسکی پشت تھی ۔ وہ نہا کر نکلا تھا اس ہی لئے ٹی شرٹ اب بھی ہلکی نم سی تھی ۔ ‘ اوہو دوستوں کی اتنی فکر ۔۔ ‘ حیا نے مسکراتے ہوئے دل میں سوچا ۔ ویسے وہ تھا تو ایسا ہی سب کی فکر کرنے والا بس حیا ہی ہے لا پرواہ ۔۔ ( ” رائیٹر صاحبہ تم مجھے زیادہ ہی برا نہیں بنا رہیں ۔۔ ” حیا نے مجھے غصے سے کہا ہے یہ ۔ خیر میں کچھ نہیں کہتی اب اپنا کام کرو ، گھورو تو نہیں اونہہ ) ” ہمم کل تو مجھے بھی کام تھا لیکن لگتا نہیں کہ نکل پاؤں گا تم ایک کام کرو جینیریو تم مجھے ابھی اس وقت سب میل کر سکتی ہو ؟ ” حیا جو بظاہر بکھری شیٹس میں مصروف نظر آرہی تھی ۔ سنان کے منہ سے لڑکی کا نام سن کر بھنویں سمیٹیں اور چور نظر اس پر ٹکائی ۔ ” شکریہ ہاں صبح سے پہلے سب مکمل ہوجائے گا تم آگے میل کر دینا ٹھیک ہے ۔ ہیو آ گڈ نائٹ ۔۔ ” وہ مسکراتے ہوئے ریلیکس انداز میں مڑا ۔ حیا جو اس ہی کی جانب دیکھ رہی تھی ، تیزی سے سیدھی ہو کر بیٹھی ۔ چہرے پر سنجیدگی تھی لیکن بھنویں بیچ میں آ سمٹیں تھیں ۔ سنان نے دیکھا اور نا سمجھ بنتا ہوا صوفے پر بیٹھ گیا ۔ بیڈ پر تو بیچارے کو جگہ ہی نہیں دی تھی حیا نے ۔ اسے صوفے پر بیٹھنے سے ایلرجی جو ہوگئی تھی ۔ ( رائیٹر ! ) اچھا ٹھیک ہے بھئی ایلرجی نہیں ہوئی تھی حیا کو وہ بس سنان پر غصہ تھی ۔۔ ظاہر ہے دل جو توڑا ہے بدتمیز سنان نے ۔۔ اب ٹھیک ہے حیا میڈم ؟ ( بہت اچھے ) اونہہ رائیٹر میں ہوں لیکن حکم کردار چلاتے ہیں۔ دیکھا آپ سب نے ؟ اور بدنام ہم رائیٹرز ہو جاتے ہیں کہ فلاں کو ایسا بنایا فلاں سے ایسا کروایا ۔۔ خیر کہانی کہاں رہ گئی ۔۔۔ ” تم وہیں سو سکتی ہو میں تنگ نہیں کروں گا مجھے کام ہیں بہت ۔ ” سنان نے انگلیاں لیپ ٹاپ پر پھرتی سے چلاتے ہوئے کہا ۔ وہ اس وقت ٹانگ پر ٹانگ جمائے صوفے پر لمبائی میں بیٹھا ہوا تھا پیچھے کشن لگائے اور ایک اپنی گود میں رکھے جس پر لیپ ٹاپ تھا ۔ نم بال کی موٹی لٹیں ماتھے پر ہمیشہ کی طرح لہرا گئی تھیں ۔ ” ہمم مگر مجھے بھی کام ہے ۔ ” وہ دھیمے لہجے میں بولی ، سر نیچے جھکا ہوا تھا جبکہ بال اوپر سے کیچر میں بندھے تھے اور نیچے سے کھل کر آگے کو گر رہے تھے ۔ سنان نے کن اکھیوں سے دیکھا ، حیا کے چہرے پر سنجیدگی تھی یا اداسی وہ سمجھ نہ پایا ۔۔ ‘ نہیں بھلا اداسی کیوں ہوگی ۔۔ ‘ سر جھٹک کر واپس وہ نظریں لیپ ٹاپ پر جھکا گیا ۔ حیا نے پھر نگاہ اٹھا کر اسکی جانب دیکھا وہ کافی مصروف تھا ۔ ہمیشہ کی طرح اپنے کام میں جان توڑ کر محنت کر رہا تھا پھر چاہے صبح ہو یا رات کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ۔ اسکا یکدم ہی دل اچاٹ ہوگیا ورک شیٹ لپیٹیں اور واپس بیگ میں ڈال دیں ۔ باقی سامان بھی تیزی سے اٹھا کر بیگ کے اندر ڈال دیا ۔ ‘ کیا میں افسوس کر رہی ہوں اپنے رویے پر ؟ کہیں سنان سے مل کر میرا دل تو نہیں پگھل گیا ؟ مگر نہیں میں کیوں بھلا افسوس کروں جب کچھ نہیں کیا ۔۔ ہاں ۔۔” وہ خود سے دل ہی دل میں ہم کلام تھی جبکہ سنان اسے یوں کھڑا دیکھ پوچھنے کی غرض سے اسے پکارنے لگا مگر حیا تو نجانے کہاں کھو گئی تھی ۔۔ ” حیا ! ” اب کی بار اس نے زور سے پکارا ، حیا ایک جھٹکے سے چونک کر اپنے خیالوں سے باہر آئی ۔۔ ” ہاں ، ہاں کیا ہوا ۔ ” ” تمہیں کیا ہوا کب سے پکار رہا ہوں دماغ کہاں چل رہا ہے ؟ ” اس نے بھنویں اچکائے کہا ۔ ” آہ کچھ نہیں میں ، میں روم سے باہر جا رہی ہوں ٹہل کر واپس آتی ہوں ۔” وہ بول کر تیزی سے باہر نکل گئی ۔ سنان نے گہرا سانس کھینچا اور لیپ ٹاپ کھولا جو وہ حیا کی وجہ سے بند کر چکا تھا ۔۔ اس نے گھڑی میں وقت دیکھا جو رات کے گیارہ بجا رہی تھی ۔ اس وقت ٹہلنے گئی ہے ۔ حیا باہر آئی راہدیری اسے اس وقت خالی ملی ۔۔ سب تھک ہار کے آرام کر رہے ہوں گے شاید ۔ وہ ہاتھ بازوؤں پر باندھے آرام آرام سے چلنے لگی ۔ ” کافی اچھے سے ڈیکور کیا ہے انکل نے ہوٹل کو ، انٹرسٹنگ ۔ ” وہ ستائشی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔ انٹیریئر بہت ہی خوبصورت تھا ۔ اُس وقت تو وہ زیادہ دیکھ نہیں پائی تھی ۔۔ ” کچھ چاہیے تھا آپ کو میم ؟ ” وہ دیوار کے ساتھ رکھے پودے دیکھتے ہوئے چل رہی تھی جب عقب سے ایک آواز ابھری ۔ حیا پلٹی تو دیکھا یہ وہی لڑکی تھی جس نے نیچے انہیں کمرے کی چابی تھمائی تھی ۔۔ ” آہ نہیں کچھ نہیں بس ایسے ہی کمرے میں بور ہوگئی تھی تو ٹہلنے چلی آئی ۔ ” حیا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ، اس لڑکی نے سر کو خم دیا اور سامنے بنے روم کا دروازہ چابی سے کھولنے لگی ۔ ” مسٹر واصف نے بتایا تھا کہ آپ دونوں انکے گیسٹ ہیں ۔ تو کسی بھی چیز کی ضرورت ہو آپ نے بس ایک بیل بجانی ہے اور میں حاضر ۔۔ ” اس نے دروازہ کھولتے ہوئے حیا سے استفسار کیا جس پر وہ مسکرا کر اسکے پیچھے ہی کمرے میں آگئی ۔۔ ویسے بھی سنان کے ساتھ اب تک اسکا موڈ آف ہی رہا تھا ۔ ” ویسے کب تک حالات ٹھیک ہو جائیں گے میں نے سنا ہے ایک بار پہلے بھی کیلیفورنیا میں سونامی آ چکا ہے ” حیا نے اسے دیکھتے ہوئے کہا جو اب اِس کمرے میں رکھا لیمپ نکال رہی تھی ۔ ” جی میم آ تو چکا ہے اور اس سے تباہی بھی بہت ہوئی تھی مگر یہ والا جلد ہی ٹل جائے گا ڈونٹ وری ۔ اور میرے خیال سے تو صبح تک سب ٹھیک بھی ہو جائے ۔ ” وہ لڑکی لیمپ دونوں ہاتھوں میں پکڑے اسکی جانب پلٹی اور مسکرا دی ۔۔ پھر واپس باہر کو ہو لئے ۔۔ ” یہ فالتو کمرا ہے کیا ؟ ” ” نہیں تو میں تو بس لیمپ چینج کروانے کے لئے لے جا رہی ہوں ۔۔ ” وہی پروفیشنل مسکراہٹ لئے وہ ہر جواب دھیمے لہجے میں دے رہی تھی ۔ ” لیکن یہاں تو شاید کوئی ہے ہی نہیں ۔۔ ” وہ شش و پنج میں مبتلا ہوئی ہوٹل کے سارے رومز بک ہوگئے تھے تو یہ خالی کیسے رہ گیا ؟ ” کمرا بک ہو یا نا ہو مینیجر کا خاص خیال رہتا ہے ہر چیز پر ۔ کبھی بھی کچھ بھی خراب نہ پڑا رہے ۔۔ ” اسکی بات پر وہ بظاہر مسکرا دی ۔۔ واصف انکل نے تو کہا تھا کہ سارے کمرے بک ہوگئے ہیں ۔۔ ” آہ سنو ۔۔ یہاں کتنے رومز ہیں ؟ ” ” لگ بھگ دو سو سے زائد ۔۔۔ ” اس کا یہ جملا حیا نے زیرِ لب دہرایا تھا ۔۔ دو سو زائد کمرے ہیں تو پھر ۔۔ ” کوئی اور سوال میم ؟ ” ” ہاں کیا ۔۔ ” اسکے سوال کرنے پر وہ اپنی سوچ سے باہر آئی تھی ۔ ” نہیں شکریہ ۔۔۔ ” لڑکی سر ہلاتے ہوئے وہاں سے چلی گئی جبکہ پیچھے کھڑی حیا اب اصل معنوں میں سوالوں میں گھری تھی ۔۔ ” واصف انکل ۔۔۔ ” وہ زیرِ لب بڑبڑاتی ہوئی تیزی کسی راہ پر چل دی ۔ کچھ تھا جو بہت ضروری تھا ۔۔ Zainab Sarwar Novels_______________
دروازہ ناک ہونے کی آواز خاموش پڑے کمرے میں یکدم گونجی تو اس نے دروازے کے پار کھڑے ویٹر کو اندر آنے کا کہا ۔ ویٹر اسہی خاموشی کے ساتھ اندر آیا کافی کا کپ اسکے سامنے ٹیبل پر رکھا اور مسکرا کر سر کو خم دیئے واپس چل دیا ۔ سنان نے سستی اتارتے ایک لمبی سانس فضا میں تحلیل کی اور لیپ ٹاپ سائڈ میں رکھ کر سامنے ٹیبل پر رکھے گرما گرم کافی کا کپ اٹھایا ۔ جس کا دھواں فضا میں تیزی سے اڑ رہا تھا ۔ اس نے ایک سپ لیا اور آنکھیں بند کیں ، حیا کا حسین چہرہ اسکے سامنے لہرا گیا ۔۔ اس نے فوراً آنکھیں کھولیں نظر سیدھی گھڑی پر گئی جو رات کے فکس بارہ بجا رہی تھی ۔۔
” کیا ! بارہ بج گئے حیا واپس کیوں نہیں آئی ؟ ” اس نے ہاتھ میں پکڑا گرم کافی کا کپ ٹیبل پر واپس رکھتے ہوئے دل میں سوچا اور تیزی سے لیپ ٹاپ بند کر کے اٹھ کھڑا ہوا ۔
” ایک گھنٹہ ہوگیا مجھے پتا کیسے نہیں چلا ۔۔ ” منہ میں بڑبڑاتا وہ اپنی جیکٹ ، فون اور والٹ وغیرہ پھرتی سے اٹھا کر باہر کو نکلا ۔ پیچھے وہ دھویں اڑاتی کافی ٹیبل پر یوں ہی پڑی رہی ۔
وہ باہر نکل کر سب سے پہلے ریسیپشنسٹ کے پاس گیا اور واصف انکل کے بارے میں پوچھا جس پر اس نے بتایا کہ وہ کسی کام سے گئے ہیں ۔۔ اب صبح ہی آئیں گے ۔
” آپ کو کچھ چاہیے سر تو آپ مجھے بتا سکتے ہیں ۔”
” نہیں شکریہ ۔۔ ” بول کر وہ ایک قدم بڑھا پھر ٹہر واپس اس لڑکی کی جانب دیکھا جو یہیں دیکھ رہی تھی ۔
” کیا آپ نے کسی لڑکی کو جاتے دیکھا ہے وہ جو میرے ساتھ تھیں ؟” وہ بات ریسیپشنسٹ سے کر رہا تھا مگر اسکی آنکھیں چاروں اطراف گھومتی حیا کو ڈھونڈ رہی تھیں ۔
” اچھا وہ آپ کی ایکس منگیتر ؟ ” اسکے اس طرح کہنے پر وہ چونک کے دیکھنے لگا ۔ ریسیپشنسٹ بولتے بولتے رکی ۔۔
” ہاں وہ کچھ دیر پہلے باہر کی جانب جاتی نظر آئیں ہیں ۔ ” اٹک کر بولتے ہوئے اس نے جملہ مکمل کیا اور اپنے کام میں لگ گئی ۔ سنان سخت تیور لئے سر ہلائے چل دیا ۔۔
” اونہہ پہلے خود ہی ایکس منگیتر کہا اب میں نے کہہ دیا تو برا لگ گیا ۔۔ ” وہ لڑکی سنان کی پشت کو دیکھتے ہوئے من ہی من بولی اور سر جھٹک کر فائل اٹھا کر اپنے کام کو چل دی ۔
سنان باہر کو نکلا ، یہ ایک بہت وسیع گارڈن تھا ۔۔ آس پاس لوگ موجود تھے کچھ ٹینٹ میں انجوائے کر رہے تھے کچھ ٹہل رہے تھے ۔ کہیں سے نہیں لگ رہا تھا کہ یہ سب یہاں سونامی سے بچنے کے لئے آئے ہیں لگتا تھا سب کو پکنک پوائنٹ مل گیا ہو ۔
” حیا کہاں چلی گئیں تم ۔ ” وہ منہ پر ہاتھ رکھتا یہاں وہاں نظریں دوڑا رہا تھا ۔ چاروں اطراف ویسٹرن لوگ ہی لوگ بھرے تھے ۔ وہ یہاں تو نہیں ٹہلنے آئی ہوگی یقیناً کہیں خاموشی والی جگہ پر گئی ہوگی ۔۔ مگر کہاں ؟
” فون بھی بیوقوف کمرے میں چھوڑ کر گئی ہے ۔۔ اب ڈھونڈوں کیسے ، کہیں باہر تو نہیں نکل گئی ؟ ” اس نے باہر نظر بڑھائی سامنے گیٹ سے جتنی بھی سڑک نظر آئی سنسان پڑی تھی ۔
وہ باہر کو آیا ، ہوا کا ناموں نشان تک نہ تھا اوپر سے ہوٹل کی باؤنڈری کے علاؤہ آگے سب طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا ۔ وہ دل میں امید رکھتا قدم بڑھانے لگا ۔۔۔
Zainab Sarwar Novels__________________
کچھ دیر پہلے ؛
حیا نے دیکھا واصف انکل غصے میں آگ بگولہ ہوتے ہوئے کہیں جا رہے ہیں وہ بھی انکے پیچھے ہو لی ۔۔ وہ تیزی سے نیچے کی جانب اتر رہے تھے ۔ حیا بھی پیچھے آئی دراصل وہ تو ان سے کمرے کی بات کرنے جا رہی تھی کہ جب اتنے سارے کمرے خالی ہیں تو الگ الگ کیوں نہ دیا ۔
وہ ایک کمرے کی جانب بڑھے حیا جو پیچھے پیچھے ہی تھی اسکا دوپٹہ سائڈ میں رکھے گلدان سے اٹک گیا ۔۔
” چچ یہ کہاں پھنس گیا ۔۔ ” وہ دوپٹہ نکالتے ہوئے کہنے لگی واصف انکل اب کمرے کے اندر جا چکے تھے ۔ اس نے دوپٹہ نکالتے ہوئے سانس بھری اور کمرے کی جانب بڑی جب واصف انکل کی چیخنے کی آواز آئی ۔ آس پاس کوئی نہ تھا یہ آفس تھا شاید ۔
” جسٹ شٹ اپ رمشاء ! یہ سیکھایا ہے میں نے کہ دوسروں کا فون بغیر اجازت اٹھاؤ اور یہ سب کرو ؟ ” وہ تیز آواز میں رمشاء پر چلائے ۔۔ حیا کو یہاں کھڑے باتیں سننا ٹھیک نہ لگا ۔
” مجھے بعد میں آنا چاہئیے ۔۔ “
” میں نے سنان کا فون اٹھایا تھا اور وہی کہا تھا جو کہنا چاہئیے تھا اور ان دونوں کی تو پہلے سے ہی اتنی لڑائی تھی میری کیا غلطی ۔ ” وہ جو جا رہی تھی رمشاء کی باتوں نے اسکے پیر میں بیڑیاں ڈال دیں وہ منہ کھولے واپس شاک میں پلٹی ۔۔ ماتھے پر لکیریں ابھر گئیں ۔
” تو سنان کو بتانا چاہئیے تھا ناں کہ حیا کا فون آیا ہے تم نے کیوں اٹھایا اور پھر اس سے ایسا کیا کہا جو ان دونوں کے درمیان اتنے فاصلے بڑھ گئے کہ نوبت رشتہ ختم کرنے پر آگئی ۔ مجھے تو پتا بھی نہ چلتا اگر میں پوچھتا نہیں ۔۔ ” واصف صاحب سر پکڑ کر بیٹھ گئے انہوں نے کہاں کوتاہی کر دی تھی اسکی پرورش میں کہاں کون سی غلطی سر زد ہوگئی تھی جو وہ ایسی نکلی تھی ۔۔
” ڈیڈ … ” وہ انکے پاس بیٹھی اور سمجھانے کے لئے لب کھولے ۔ ” آپ کو اتنی ٹینشن لینے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے ۔ ان دونوں کے بیچ جو کچھ بھی ہوا ہے وہ حیا کی وجہ سے ہوا ہے ۔ آپ کو پتا ہے وہ سنان پر شک کرتی ہے اب میں نے ذرا سا چڑا کیا دیا وہ تو بھڑک ہی گئی ۔ سو ٹیکی ، مطلب اتنا پوسیسیو کون ہوتا ہے ؟ ” اسکی بات پر واصف صاحب نے گھور کر دیکھا اور افسوس سے سر ہلایا ۔۔ باہر کھڑی حیا نم آنکھوں سے دیوار تھام گئی ۔
” رمشاء میں تمہارا باپ ہوں تمہاری رگ رگ سے واقف ہوں ۔ اور یہ بات میں اچھے سے جانتا ہوں کہ ان دونوں کے درمیان جو کچھ بھی ہوا ہے اس میں تمہارا ہی ہاتھ ہے ۔ اور اب یاد رکھو کہ ان دونوں کی مِس انڈرسٹینڈنگ تم ٹھیک کرو گی ۔ بتاؤ گی کہ کیوں گئیں تھیں وہاں اور کیوں حیا کو جھوٹ بولا تھا سمجھیں ۔” وہ بول کر اٹھ کھڑے ہوئے رمشاء بھی تنک کر اٹھی ۔۔
” نو وے ڈیڈ ۔ میں کوئی صفائی پیش نہیں کروں گی ۔ اور اگر ان دونوں کا رشتہ اتنا ہی مضبوط ہوتا نا تو وہ کبھی نہ اس پر شک کرتی اور نہ ہی وہ دور ہوتا ۔ غلطی ان کی ہے میری نہیں ۔ اور باقی سب بھی مزاق میں کہا تھا وہ دونوں سیریس لے گئے تو میں کیا کروں ۔ ” وہ بول کر منہ بنائے ہاتھوں کو بازوؤں کے گرد باندھے کھڑی ہوگئی ۔
” تمہیں فون کر کے اوٹ پٹانگ باتیں نہیں بولنی چاہئیے تھیں اور سنان کب آؤٹنگ پر گیا ہاں ؟ ڈسکسٹنگ رمشاء مجھے اندازہ نہیں تھا کہ تم یہ سب کرو گی ۔ تمہارا مزاق ہوگیا اور اس مزاق میں انکا رشتہ اجڑ گیا ۔ میری بہنیں جنہوں نے میرا کبھی ساتھ نہیں چھوڑا آج میری اپنی اولاد کی وجہ سے انکے بچوں کا گھر اجڑ گیا ۔ ” وہ افسوس و صدمے سے کہہ رہے تھے ۔۔ رمشاء نے انکی جانب دیکھا وہ یہ نہیں چاہتی تھی کہ اسکے ڈیڈ فرسٹیٹڈ ہوں وہ بھی اسکی وجہ سے ۔۔
حیا کا سانس لینا محال ہوگیا اسکا یہاں دم سا گھٹنے لگا ۔۔ وہ الٹے پاؤں باہر کو بھاگی ۔ آنکھیں بھیگنے لگی تھیں۔
” ڈیڈ آپ کیوں ٹینس ہو ر۔۔۔ ” رمشاء دھیرے سے کہتے ہوئی آگے بڑھی ۔
” نہیں کوئی بات اب منہ سے نہ نکلے صبح بات کریں گے اور تم سب کچھ سارٹ آؤٹ کروگی سمجھ آئی ۔ ابھی گھر جاؤ ڈرائیور باہر ہی کھڑا ہے ۔۔ ” بول کر وہ باہر چلے گئے پیچھے سے رمشاء پیر پٹخ کر رہ گئی ۔
” عجیب ڈیڈ کو یہ نہیں دکھتا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے قابل ہی نہیں اونہہ ۔ “
وہ منہ میں بڑبڑاتی ہوئی باہر گاڑی کی جانب چل دی اب صبح ہی دیکھیں گے کیا ہوتا ہے ابھی تو وہ سوئے جا کر ۔۔
حیا کے پیر مدھم چال چل رہے تھے وہ دونوں ہاتھ بازوؤں کے گرد باندھے ڈگمگاتی ہوئی چلنے لگی ۔ آنکھوں سے گرتے آنسوں پورا چہرہ بھگونے کے کام میں مگن تھے ۔ دل لرز سا رہا تھا ، ایسے میں حالِ دل کسے سنائے جا کر وہ ۔ کچھ سمجھ نہ آرہا تھا ۔۔
” اوہ میرے اللّٰہ میں کیا کروں ، میں اتنا روڈ کیسے ہو سکتی ہوں یہ جانتے ہوئے کہ سنان نے کبھی کسی لڑکی کی جانب آنکھ بھی اٹھا کر نہیں دیکھی پھر بھی میں رمشاء کی چال نہ سمجھ سکی اور سب برباد کرلیا ۔۔ میں ہمیشہ یہی کرتی ہوں ہمیشہ یہی ۔۔ ” وہ روتے روتے روڈ پر ہی بیٹھتی چلی گئی ۔ آس پاس اس وقت سناٹا تھا تاریک سڑک پر وہ فلوقت تنہاء معلوم ہوتی تھی ۔
” میں کیسے ٹھیک کروں گی سب کچھ ، کیسے ہوگا سب ٹھیک ۔ میں نے یہ کیا کردیا ۔۔ کاش میں سنان سے ایک بار اکیلے بات کرلیتی شاید وہ ۔۔۔۔ میں کیا کروں یا اللّٰہ! ” وہ وہیں سر جھکائے روئے چلی جا رہی تھی ۔ آنکھیں دھندلا چکی تھیں تاریک منظر جو تھوڑا بہت نظر آتا تھا اب وہ بھی آنسوؤں کے پار چلا گیا تھا ۔۔
سر میں ٹیس سی اٹھی تو وہ سر دونوں ہاتھوں سے تھامے کھڑی ہونے لگی ، مگر درد کی شدت مزید بڑھ گئی اور اس سے آنکھیں تک نہ کھولی گئیں چند لمحے سرکے تو وہ توازن برقرار نہ رکھ پائی اور ہوش سے بیگانہ ہوتی ہوئی نیچے ڈھ گئی ۔ اور سر جا کہ نوکیلے پتھر پر لگا جس سے دماغ سن ہوگیا ۔۔
” حیا ! ۔۔۔ حیا ! ” دور کہیں سے اسے ایک مدھم آواز سنائی دی جسے اسکے دماغ نے پہچاننے کے عمل سے گزارے بغیر ہی چھوڑ کر اس پر وجد سا تاری کردیا ۔ آخری بار جو محسوس ہوا تھا وہ صرف ایک شناسا لمس تھا جسے وہ پہچانتی تھی مگر کس کا ہے یہ سمجھ سے باہر تھا ؟
جاری ہے __
