Ex Mangetar By Zainab Sarwar Readelle50330 (Ex Mangetar) Episode 2
Rate this Novel
(Ex Mangetar) Episode 2
وہ گھر پر آئی تو دیکھا واصف انکل انکے گھر پر ہی آئے ہوئے ہیں ۔ ڈرائنگ روم کے پاس سے ہی آوازیں سنتی وہ دبے پاؤں اوپر چلی گئی ۔۔ وہ لوگ شاید تب ہی یہاں آئیں ہوں گے جب اسکی اور سنان کی لڑائی ہو رہی ہوگی ۔ اگر رمشاء نے کچھ بتا دیا تو ؟
وہ کمرے میں آتے ہی دروازہ زور سے بند کر کے بیڈ پر جا کہ لیٹ گئی ۔ آنکھوں سے ایک بار پھر آنسو بہنے لگے اور اب کی شدت زیادہ تھی شاید اسلئے کہ وہ اکیلی ہے۔
” سنان کیوں کیا تم نے ایسے ، میں کیا کروں گی ۔ میں کیا کروں گی تمہارے بغیر ۔۔ ” وہ روتے ہوئے آنکھیں میچیں تکیہ ہاتھوں سے دبوچے ہچکولے لیتے ہوئے بول رہی تھی ۔ سارا بدن ہولے ہولے لرزنے لگا تھا ۔
اب کی اس نے اپنا منہ تکیے میں چھپا لیا وہ نہیں چاہتی تھی کہ چاہ کر بھی کوئی اسکی آواز سنے ۔ ان دونوں نے آج تک اپنے درمیان ہونے والی لڑائی جھگڑے اور باتوں کا ذکر کسی سے نہیں کیا تھا ۔ چاہے جتنی بھی لڑائی ہوجائے دونوں خود ہی مل کر حل کیا کرتے تھے ۔
” میری محبت بھی بھول گئے تھے کیا ۔۔” اس نے بھیگی آنکھوں سے اپنے ہاتھ کی خالی انگلی دیکھی جہاں اب کوئی انگوٹھی نہ تھی بس ایک دھندلاتا ہوا نشان تھا ۔ بس ایک یاد کے جیسے ۔۔۔
” نہیں ۔ اتنی آسانی سے نہیں ، اتنی آسانی کے ساتھ ہمارا رشتہ ایک یاد میں نہیں بدل سکتا ۔ ” اپنے ہی ہاتھ کو دوسرے سے پکڑتے وہ اس انگوٹھی کو محسوس کر رہی تھی جو اسکے ہاتھ میں تھی تو نہیں مگر وہ اسے واپس لے آئے گی ۔
وہ یوں ہی بیڈ پر پڑے پڑے سو گئی تھی جب دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز سے وہ چونک کر گنودگی سے باہر آئی ۔
” کون ؟ ” اسکے بولنے پر ملازمہ نے اندر کو سر نکالا ۔۔
” وہ بیگم صاحبہ کہہ رہی ہیں کہ واصف صاحب آئے ہیں انکی بیٹی بھی آئی ہیں ۔ آپ آکر مل لیں شام کی فلائٹ ہے انکی واپسی کی ۔ “
” ٹھیک ۔ تم جاؤ ۔۔” اس نے اپنی جان چھڑائی اور تیزی سے واشروم میں جا گھسی ۔ منہ دھوتے ہوئے اس نے خود کو رونے سے چپ رہنے پر بہت کنٹرول کیا تھا وہ نیچے کسی کو بھی یہ احساس نہیں دلانا چاہتی تھی کہ کچھ ہوا ہے ۔
حالت درست کرتی وہ جیسے ہی کمرے سے باہر نکلی تو اس ہستی کو دیکھ پہلے تو چونک گئی اور پھر بے تحاشہ غصہ لئے یقدم اسکی جانب بڑھی ۔
” کیوں آئی ہو یہاں ، ہمت کیسے ہوئی اتنا سب کچھ کرنے کے بعد میرے کمرے میں آنے کی ہاں ۔ ” وہ غصے سے بھرے لہجے میں گویا ہوئی ۔ رمشاء اسے یوں بلبلاتا دیکھ ڈھٹائی سے مسکرا دی ۔
” ویسے بہت دکھ ہوتا ہے چچ اچھی بھلی تو ہو ، مطلب شکل صورت میں بھی کم نہیں اور شوہر ! سوری سوری ۔۔۔۔ میرا مطلب ہونے والا شوہر ابھی سے ہی ۔” وہ مسکراتے ہوئے جملہ ادھورا چھوڑ کر حیا کے اندر جلتی آگ کو مزید بڑھاوا دے گئی ۔ حیا سے برداشت نہ ہوا وہ بے اختیار اس کی جانب بڑھی ۔۔۔ یقیناً ہاتھ اٹھ سکتا ہے ۔۔
” اوہ پلیز مجھ پر اپنا غصہ بالکل بھی نہ اتارو ، اور سچ ہی تو کہا ہے میں نے ۔۔ نہیں مطلب تم نے دیکھا تھا نا کمرے میں آکر ؟ ہاں ۔۔ ” رمشاء نے ہاتھ اٹھائے اسے وہیں روکا ، جبکہ وہ ہوا میں اٹھے ہاتھ کو ضبط کرتی مٹھی میں بدل گئی ۔۔
” تم یہاں سے ابھی کے ابھی دفع ہو جاؤ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔ ” شہادت کی انگلی اٹھا کر اسے وارن کرتی وہ چبا چبا کر بولی ۔ رمشاء نے اپنی ہنسی روکی اور سانس بھر کر ایک ادا سے لہراتے ڈائی شدہ بال کندھے سے پیچھے کئے ۔
” پاکستانیز ، سچ آ کامیڈی ڈرامہ ۔۔ ہاہاہا ۔۔ ” وہ حیا پر نظریں جمائے دھیرے سے کہتی ہوئی باہر کو چلی گئی ۔ اسکی ہنسی اس وقت حیا کو اپنے منہ پر تمانچے جیسی لگی تھی ۔۔۔
” آہ ۔۔۔۔ ” وہ غصے سے چیخی تھی ۔۔ اپنے کندھے پہ ڈلا دوپٹہ نوچ کہ دور بیڈ پر پھینک ڈالا ۔
“رمشاء جیسے لوگ نہ خود سکون سے رہتے ہیں نہ دوسروں کو سکون سے رہنے دیتے ہیں ۔ لیکن سنان نے بھی تو حد کردی ہے ۔۔۔۔ ” وہ کرب سے آنکھیں بند کئے نیچے بیٹھتی چلی گئی ۔ کمرے کی کھلی کھڑکی سے آتی ٹھنڈی ہوائیں بھی اسے محسوس نہ ہوئیں ، خوشگوار موسم نے بھی اسکا غصہ ٹھنڈا کروانے سے ہار مان لی ۔۔
Zainab Sarwar Novels__________________
واصف صاحب اور رمشاء جا چکے تھے ۔ آسیہ بیگم ( حیا کی امی ) کو رمشاء نے مزید بڑھا چڑھا کر ان دونوں کے درمیان ہوئی لڑائی پہلے ہی بتا دی تھی ۔ اور اب وہ اس وقت لاؤنج میں بیٹھی شاہنواز صاحب سے یہی ذکر کر رہی تھیں ۔
” مطلب پھر سے ہوئی ہے لڑائی اور حیا نے رشتہ توڑ دیا کیا ؟ ” انہوں نے اخبار کو نیچے جھکائے تفتیش کے ساتھ کہا ۔
” آپ کی سوئیں رشتے کے ٹوٹنے پر ہی کیوں اٹکی رہتی ہے ۔ ایسا کچھ نہیں ہے شاہنواز ۔۔ ” وہ سر ہلائے تاسف سے بولیں ۔ لاونج کا گیٹ آدھا بند رہتا تھا ، سنان بھی اس ہی وقت آیا تھا حیا کو منانے مگر لفظ ” ٹوٹنے ” پر اسکے قدموں میں زنجیر ڈل گئیں ۔۔ وہ وہیں دروازے کے پار منجمد ہوگیا ، جبکہ ہاتھ میں پکڑے تین گلاب بے اختیار اپنی پشت سے لگائے تھے ۔۔
” تو پھر کیسا ہے ؟ جو کچھ ہوا ہے وہ کم نہیں ہے آسیہ ۔ اور حیا کا فیصلہ ہمارے لئے قابلِ احترام رہا ہے ہمیشہ سے اور رہے گا ۔ آپ کو بھی چاہئیے کہ اسکی خواہش کا احترام کریں ۔ بیٹی ہیں وہ ہماری اور زندگی حیا نے ہی گزارنی ہے ابھی ہی اگر اتنی پیچیدگیاں ہوں گی تو آگے کیسے چلے گا ؟ ” وہ اخبار کو فرصت سے ٹیبل پر رکھتے ہوئے سوچ سوچ کر کہہ رہے تھے۔
” ہاں تو سنان اور وہ ۔۔۔ “
” جانتے ہیں ہم وہ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے ۔ “
وہ ” تھے ” پر زور دیتے ہوئے ٹہرے اور سر اٹھا کر آسیہ بیگم کو دیکھا ، وہ جو خفا خفا سی نظر آرہی تھیں ۔
” لیکن اب ہم اپنی بچی سے خود بات کرلیں گے اور ہمارے خیال سے اب وہ مان بھی جائیں گی ۔۔ “
سنان نے گہرا سانس بھرا ، اسے اندر جانا چاہئے انکل اور حیا دونوں کو منانا تھا اب اسے ۔۔
” کیا مطلب کیا مان جائے گی ؟” آسیہ بیگم نے سوالیہ نظروں سے دیکھا وہ سنان کے لئے منانے کی بات ہرگز نہیں کر رہے تھے اتنا تو وہ جانتی ہی تھیں ۔۔
” علی کے لئے ۔۔ ” وہ جو ابھی قدم بڑھا ہی رہا تھا واپس ٹہر گیا ماتھے پر یکدم لکیریں ابھر آئیں ۔۔ ہاتھ میں پکڑے پھول اس نے غصے سے مٹھی میں جکڑ لئے ۔۔
” ہم ان سے علی کے لئے بات کریں گے اور اس موقع پر وہ مان بھی جائیں گی جانتے ہیں ہم ، بیٹی ہیں وہ ہماری ۔ کبھی کبھی ڈگمگا جاتی ہیں مگر فیصلے لینے آتے ہیں ۔۔ ” یہاں دروازے کے پار کھڑے سنان کا ہلنا محال تھا اور وہاں آسیہ بیگم نے نفی میں سر ہلایا تھا ۔ اس نے ہاتھ میں پکڑے گلاب مسل ڈالے پتیاں بکھر کر زمین پر پھیل گئیں اور وہ ضبط کے بندھن کھونے سے پہلے ہی الٹے پاؤں واپس چل دیا ۔
” آپ ہوش میں تو ہیں ؟ وہ کبھی نہیں مانے گی شاہنواز ، وہ سنان کے آگے کسی کو نہیں مانگتی اور رہی بات علی کی تو وہ اسکے لئے بھائی کے برابر ہے ۔ کیا آپ بھول گئے ہیں پہلے بھی اس موضوع پر بات کر کے وہ آپ سے کس قدر خفا رہی تھی ؟ آپ چاہتے ہیں کہ وہ پھر سے گھر سے دور جا کر رہے ؟ ” آسیہ بیگم کا صبر بھی جواب دے گیا تھا ۔ وہ جانتی ہیں حیا سنان کے آگے کسی کو نہیں مانگتی چاہے انکے درمیان جتنی بھی کڑواہٹیں گھل جائیں ۔
” لیکن بات ضرور کریں گے ہم ان سے ۔ بھائی جان کی خواہش کا بھی پاس رہ جائے گا ۔ ” ان کی باتیں سن کر آسیہ بیگم اٹھ کھڑی ہوئیں ۔
” بس کریں شاہنواز ۔۔ اب آپ بھائی جان کی خواہش پوری کرنے کے لئے اپنی بیٹے کے غصے کا ناجائز فائدہ اٹھائیں گے ؟ “
” آپ سے بات کرنا ہی فضول ہے ہم ان پر کچھ مسلط نہیں کرتے لیکن رشتہ تو پیش کر سکتے ہیں ناں ؟ یا نہیں ” انکی آواز تیز ہوئی تب ہی حیا اوپر سے نیچے آتے آتے رک گئی ۔ وہ اس وقت کپڑے تبدیل کر کے نہا دھو کر اتری تھی ۔۔
” حیا ، آگئی لیں اب پیش کریں ذرا میں بھی دیکھوں ۔” آسیہ بیگم نے حیا کو اپنے پاس بیٹھاتے ہوئے کہا وہ جو اپنے ماں باپ کو اچنبھے پن سے دیکھ رہی تھی ۔
” کچھ ہوا ہے کیا ؟ کوئی بات ہوئی ہے۔۔ ” دونوں پر ایک نظر ڈالتی ہوئی وہ دھیرے سے بولی ۔ شاہنواز صاحب اسکے برابر میں آ کر بیٹھے ۔ ان کے بیٹھنے کے انداز سے ہی صاف ظاہر تھا کہ وہ کوئی ضروری بات کرنے آئے ہیں ۔۔
” ہاں بہت ضروری بات ہے بلکہ ایک پیشکش ہے ۔۔ ” وہ کون سی پیشکش کرنے والے تھے اب ۔۔ حیا اچھے سے جانتی ہے آج تک انہوں نے رشتوں کی ہی پیشکش کی تھی ۔
” ساجدہ ! میرے لئے تو تم چائے لے آؤ ، سر میں درد کردیا ہے ۔۔ ” آخری جملہ انہوں نے بھنبھناتے ہوئے کہا تھا ۔ حیا جو ماں کے برابر میں بیٹھی تھی انہیں دیکھ دھیرے سے مسکرا دی ۔
” اپنی ماں کو چھوڑیں انکا تو روز کا ہے ۔۔ ” شاہنواز صاحب نے نظر انداز کرتے ہوئے اسے اپنی طرف متوجہ کیا ۔۔
” دیکھو بچے ہم جانتے ہیں جو کچھ سنان اور آپ کے بیچ ہوا ہے ۔ بالکل اچھا نہیں ہوا ، لیکن اب بھی وقت ہے بلکہ اب ہی اصل وقت ہے آپ علی کے لئے ہاں کردیں ۔۔ ” وہ جو نارمل تھی اب تک انکی بات پر شل سی دیکھنے لگی ۔ بے اختیار نظریں اپنی ماں پر گئی تھیں جو کندھے اچکا کر یہی بتا رہی تھیں کہ ” میں بول چکی ہوں اب تم ہی سمجھا لو اپنے پیارے بابا جان کو ۔ “
” بتائیں ۔۔ جواب دیں حیا ، انسان کی سمجھداری اسکے کئے فیصلوں سے ہی جھلکتی ہے ۔ اور پسند وہ تو دو دن کی مہمان ہوتی ہے بچے ۔۔ ” وہ سانس بھر کر رہ گئی ۔ آنکھوں کے پار پھر وہی کمرے کا منظر گھوم گیا ۔ کرب سے آنکھیں بند کیں تو رمشاء کی وہ طنزیہ ہنسی اسے کسی ڈراؤنے منظر سے کم نہ لگی ۔
_ ” ویسے بہت دکھ ہوتا ہے چچ اچھی بھلی تو ہو ، مطلب شکل صورت میں بھی کم نہیں اور شوہر ! سوری سوری ۔۔۔۔ میرا مطلب ہونے والا شوہر ابھی سے ہی ۔” _
_ ” جسٹ شٹ اپ حیا ، جسٹ شٹ اپ ۔ اتنا بھی کیا رئیکٹ کرنا جب میں کہہ رہا ہوں کہ پیر پھسلا تھا اور وہ سب ہوا ۔ تب ہی تم بھی آگئیں ۔ لیکن نہیں تمہیں تو عادت ہے ہر چھوٹی چھوٹی باتوں کا بتنگڑ بنانے کی ۔ ” _
_ ” حیا تمہیں کیسے سمجھاؤں ۔ وہ خود آئی تھی میں نے نہیں بلایا اسے ۔۔۔ اور چلو آ بھی گئی تو کوئی مسئلہ نہیں کزن ہی تو ہے باقی جو کچھ ۔۔ ” _
اس نے پل میں آنکھیں کھولی تھیں ، وہ کیسے بھولے گی یہ آوازیں ۔۔ شاہنواز صاحب نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے ہوش دلایا ۔ وہ اب تک اسکے جواب کے منتظر تھے ۔۔۔
” میں ۔۔۔۔ ” پھر جو اس نے کہا آسیہ بیگم کی چائے انکے حلق میں اٹک کر رہ گئی ۔۔۔
” نہیں حیا یہ ٹھیک فیصلہ نہیں ہے ۔۔ ” وہ وہاں اس وقت چیخی تھیں ۔۔
Zainab Sarwar Novels__________________
اسکا کمرا فلوقت اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔ باہر بھی اب اجالا برائے نام کا رہ گیا تھا ۔ مغرب کا وقت اگنے لگا تھا یعنی دن اور رات کے ملاب کا وقت استقبال کر رہا تھا ۔۔ ایسے میں وہ نڈھال سا بیڈ سے ٹیک لگائے اپنے سر کو جھکائے فرش پر بیٹھا ہوا نظر آرہا تھا ۔ ہاتھ میں یویو تھا جسے وہ بے لگام اوپر نیچے کر رہا تھا ۔
شاہین بیگم جو اس ہی کے پاس آرہی تھیں کمرے کو یوں اندھیرے میں دیکھ ٹھٹھک کر رہ گئیں ۔۔
” کہیں اِن دونوں کی بہت زیادہ لڑائی تو نہیں ہوئی ۔ ورنہ ایک گھنٹے کے بعد ہی معاملہ حل ہو جاتا ہے ۔۔ ” وہ باہر کھڑی دل میں سوچ رہی تھیں ۔ پھر آہستہ آہستہ اندر کو بڑھیں پردہ کھسکایا جس سے باہر کی روشنی اس پر پڑنے لگی ۔ جھکے سر کی وجہ سے اسکا چہرہ واضح نہ ہوا ۔۔ وہ سانس بھر رہ گئیں ۔۔۔
” سنان ، یہ کیا حالت بنا رکھی ہے ۔۔۔ ” وہ پل میں اس کے پاس پہنچیں اور بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہنے لگیں ۔ نیچے ان سے اب جوڑوں کے مسئلہ کے باعث بیٹھا نہیں جاتا تھا ۔ اس نے ہاتھ میں پکڑا یو یو آہستہ سے روکا جو پہلے بل کھاتے ہوئے اوپر نیچے ہو رہا تھا اب اسکے یوں ہاتھ روک لینے پر پینڈیولم کی طرح ہلنے لگا ۔۔۔
” سنان کچھ بولو بیٹا تم گئے تھے وہاں کیا ہوا ہے ؟ منایا حیا ۔۔ ” وہ بول ہی رہیں تھیں جب سنان کے ہاتھ سے یویو چھوٹا اور وہ ماں کے پیروں سے لگ کر آنکھیں بھیگانا شروع ہوگیا ۔
” سنان ! میرے بچے کیا ہوگیا ، کچھ تو کہو سنان ۔ ” اسے یوں سسکتا دیکھ ان کا اپنا دل مٹھی میں آگیا ۔
” میں نے ہمیشہ ۔۔۔ ہمیشہ ہمارا رشتہ بچایا ہے امی ۔ اور مجھے یہ صلہ مل رہا ہے ۔ اور خالو وہ کہتے ہیں کہ حیا کی شادی علی سے ۔۔۔ ” اسکی آواز حلق میں ہی پھنس گئی ۔۔۔ شاہین بیگم نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسکے سر کو اپنی گود میں رکھا ۔ پھر لمبی سانس لی اور دوسری جانب دیکھ اپنے آنسو پی گئیں ۔
” پلیز رونا بند کرو میں ابھی جا کر بات کرتی ہوں ۔ ایسے کیسے وہ ۔۔ “
” نہیں امی آپ یا ہم میں سے کوئی بھی اب وہاں نہیں جائے گا بس بہت ہوگیا ۔۔ ” ان کی بات کو بیچ میں کاٹتے وہ سیدھا ہوا اور چہرہ صاف کیا ۔ ایک پل لگا تھا اسے فیصلہ کرنے میں ۔
” بہت پہل کرلی ہر بار میں نے اور آپ نے ، اب حیا کی باری ہے اور شاہنواز خالو کی ۔ اسے اپنی غلطی کا کچھ احساس تو ہونا چاہئیے ۔ عادت ہوگئی ہے اسے ہر دوسرے دن ناراض ہونے کی ۔۔۔ “
” کیونکہ اسے معلوم ہے کہ تم اسے منا لیتے ہو سنان ۔۔” اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے وہ پیار سے کہنے لگیں ۔
” ہاں منا لیتا تھا لیکن اب نہیں اسے یہ احساس دلانا بہت ضروری ہے امی ۔۔۔ آپ خالہ کو فون کر کے سب بتا دینا ۔۔ ” وہ اب رو نہیں رہا تھا بس گیلی آواز سے نجانے کیا کرنے کا کہہ رہا تھا ۔۔ ان کا ہاتھ آہستگی سے چھوڑتے وہ اٹھا اور لائٹس کھول کر اپنی الماری کی جانب بڑھا ۔۔
” کیا مطلب کیا بتا دوں ؟ ” وہ پریشانی سے کھڑی ہوگئیں ۔ اب نجانے وہ کیا کہنے لگا تھا ۔۔
” یہی کہ ۔۔ ” الماری سے شرٹ نکالتے نکالتے یکدم رکا اور ماں کی جانب پلٹا وہ شش و پنج میں کھڑی تھیں ۔۔
” یہی کہ ہم رشتہ ختم کر رہے ہیں ۔۔ “
” سنان ! ” اسکے کہنے پر وہ بے اختیار اسکا نام پکاری تھیں ۔۔
” اور ویسے بھی میں باہر جارہا ہوں کام کے سلسلے میں ایک ڈیڑھ مہینے سے پہلے نہیں آسکوں گا ۔ ” بول کر وہ پھر مڑا اور اپنے کپڑے پیک کرنے لگا ۔ پیچھے کھڑی شاہین بیگم سر پکڑ کر رہ گئیں ۔۔
Zainab Sarwar Novels__________________
اس سب معاملے کے بعد سنان چلا گیا کیلیفورنیا ، اور رشتے کے ختم ہونے کا سن کر جہاں حیا کو دھچکہ لگا تھا وہیں شاہنواز صاحب سر ہلا کر حیا کو یوں دیکھنے لگے جیسے کہہ رہے ہوں ۔۔ ” میں نے کہا تھا نا ایک اچھا فیصلہ ہی انسان کی عقلمندی کی گواہی ہے .”
اب تقریباً ایک ہفتہ گزر چکا تھا سنان کو گئے ۔ یہ بات اسے خالہ سے معلوم چل گئی تھی ۔ اور اس ایک ہفتے کو اس نے کیسے گزارا ہے یہ صرف وہی جانتی تھی ۔۔
” لیکن اب بہت ہوا میں اس شخص کے لئے بالکل نہیں روؤں گی ۔۔ ” وہ اس وقت اپنی سب سے اچھی دوست ” لائبہ ” کے ساتھ اپنے کمرے میں موجود تھی ۔۔ ملازم نے آکر لوازمات سے بھری ٹرالی اندر کھسکھائی تو اس نے وہیں سے واپس چلے جانے کا اشارہ کیا اور خود اٹھ گئی ۔۔
” مگر حیا تم بھول گئی ہو کیا سنان کا نیچر ۔۔ ” وہ جو ٹرالی بیڈ تک لا رہی تھی اسکی بات پر لائبہ کو اچنبھے پن سے دیکھنے لگی ۔
“اب اس سے کیا مطلب ہے تمہارا ۔۔ ” ٹرالی بیڈ کے ساتھ لگا کر اب وہ پلیٹ میں چیزیں ڈال رہی تھی ۔ اس نے بیکری ٹونگ ( چمٹا نما چمچ ) اٹھایا اور پھر پیسٹری پر سے گلاس کور ہٹایا ۔۔ میٹھی میٹھی خوشبو پورے کمرے میں پھیل گئی ۔
” حیا تم خود سوچو آج تک صرف تم ہی ناراض ہوتی آئی ہو اور سنان نے ہمیشہ تمہیں منایا ہے ۔ لیکن اس بار نہیں منایا کوئی تو وجہ ہوگی نا ۔ کیا معلوم وہ تمہاری جانب سے پہل کا انتظار کر رہے ہوں ۔ ہاں ؟ “
” اب کون سی پہل ، اس نے رشتہ ختم کردیا ہے ۔۔ ” اسکا ہاتھ جہاں تھا وہیں رک گیا پھر جیسے وہ برف کے مجسمے سے پگھلی اور سر جھٹک کر پلیٹ اسکے آگے رکھی ۔۔۔
” ایک بار سوچو تو سہی ، بلکہ بس ایک بار کال کرلو بس ایک بار میری خاطر پلیز ۔۔” اس نے منتی انداز میں کہا حیا نے نظریں چرا لیں ۔
” میں کیسے ۔۔ ” اس نے سانس چھوڑی اور ہارے ہوئے کی طرح منہ موڑ کہ بیٹھ گئی ۔ لائبہ نے پلیٹ سائڈ میں کی اور اٹھ کر اسکی جانب آکر بیٹھی ۔ وہ دونوں اب بیڈ سے پیر لٹکائے بیٹھی ہوئی تھیں ۔۔
” حیا پہل کرنے سے کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہو جاتا ۔ اور سوچو وہ تم سے پہلی بار ناراض ہوئے ہیں۔ “
” اس نے رشتہ ختم کردیا ہے تم ۔۔” وہ بے اختیار اسکی بات کاٹتے ہوئے تیزی سے بولی ۔۔
” حیا میک اٹ ایزی ، تم دونوں ایک دوسرے کو کتنا چاہتے ہو یہ سب جانتے ہیں ۔ اور پھر ایسے تو غصے میں انگوٹھی پہلے تم پھینک کر آئی ہو نا ۔ اب کم از کم ایک بار بات کرو معاملات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے سمجھیں ؟ ” اسنے آئبرو اچکائے کہا ۔ حیا گلے لگ گئی ، لائبہ دھیرے سے مسکرا دی ۔۔۔
” چلو تم ذرا فون ملاؤ میں یہ پیسٹری بالکنی میں جا کر ختم کرتی ہوں بڑا پیارا موسم ہورہا ہے ۔۔ ” وہ مسکرا کر سر ہلا گئی ، لائبہ نے زوروں سے اسکا گال کھینچا اور اٹھ کر اپنی پیسٹری کی پلیٹ اٹھائی اور اسے آل دی بیسٹ کا تھمز اپ دیتے بالکنی میں چلی گئی ۔۔ وہ حیا کی سب سے اچھی دوست تھی ۔ اور واقعی اسکی چلبلی ، پیاری اور ایک وفادار دوست تھی ۔ اور دوست تو ایسے ہی ہوتے ہیں جو آپ کو ایک مفید مشورہ دیں جس سے آپ کا دل بھی ہلکا ہوجائے ۔۔
اس نے سانس بھرتے فون اٹھایا پھر گال پھلائے سانس باہر چھوڑی ۔ وہ نروس ہوگئی تھی لیکن کیوں ؟ وہ سنان سے بات کرنے لگی ہے پھر نروسنس کیسی ۔۔
” کال کرتی ہوں ۔۔ ” اس نے واٹس ایپ آن کیا اور سنان کی چیٹ کھولی ۔ ان دونوں نے اس پورے ہفتے ذرا بات نہ کی تھی ۔ دونوں رات کو ایک ہی وقت آن لائن ہوتے جس وقت بات کیا کرتے تھے مگر اس پورے ہفتے آن لائن ہو کر بھی ان دونوں نے بات نہ کی تھی ۔۔
بل آخر اس نے کال ملائی اور فون کان سے لگائے بالکنی کی جانب دیکھا باہر بارش ہونے لگی تھی ۔ شاید ہلکی پھوار سی تھی لائبہ نے مسکرا کر حوصلہ دیا اور واپس مڑ گئی۔
کال بس جا رہی تھی وہ اٹھا کیوں نہیں رہا تھا ۔ دس سیکنڈ گزر گئے حیا نے لب کاٹتے ہوئے فون نیچے ہی کیا تھا کہ رنگنگ کی جگہ منٹ لکھے دکھائی دیئے اس نے بے اختیار فون کان سے لگایا مگر ۔۔۔۔
” اوہ ہیلو حیا کیسی ہو ؟ ” وہ نسوانی آواز تھی ۔ سنان کا فون کسی لڑکی کے پاس کیسے ؟ حیا نے فون کان سے ہٹائے سکتے میں آئے دیکھا ۔۔۔
” ہیلو حیا سن رہی ہو ۔۔ ” وہاں دوسری جانب وہ رمشاء تھی جو فون پر آوازیں دے رہی تھی ۔ سنان انکل واصف سے ملنے انکے گھر گیا تھا اور اس وقت وہ واصف صاحب کے ساتھ انکے کمرے تک کسی کام سے گیا تھا ۔ واصف صاحب کو اسکی مدد درکار تھی اور اس ہی لئے وہ اپنا فون باہر لاؤنج میں ہی بھول گیا تھا جو بجتے دیکھ پہلے تو اس نے اگنور کیا مگر جب حیا کا نام دیکھا تو اٹھا لیا ۔۔
” تمہارے پاس سنان کا فون کیا کر رہا ہے ۔۔ سنان کہاں ہے ؟ ” رمشاء نے ماتھے پر بل ڈالے فون دیکھا پھر سمجھتے ہوئے فون واپس کان سے لگایا ۔ اب کی بار اسکا شیطانی دماغ پھر کچھ سوچنے لگا تھا ۔ حیا کی بھیگی آواز اور اسکے سوال سے وہ سمجھ گئی تھی کہ ان دونوں کی صلاح نہیں ہوئی ہے ۔۔ اور تھوڑی دیر پہلے جو سنان کہہ رہا تھا کہ سب ٹھیک چل رہا ہے وہ سب جھوٹ تھا ۔
” یہ تمہیں معلوم ہونا چاہئیے نا ، اوہ تو کیا ۔۔۔
تم دونوں کی اب تک صلاح نہیں ہوئی ۔ چچ چچ افسوس ہوا سن کر اللّٰہ تمہیں صبر دے ۔۔ ” وہ دکھی سی آواز میں کہنے لگی حیا کی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گال تک پھسل گیا ۔
” سنان کو فون دو ۔۔ ” اپنے آنسووں پر قابو پاتی وہ ضبط کرتی ہوئی بولی ۔
” سنان ۔۔۔ دراصل وہ ۔۔ میرا مطلب ہے کہ ہم باہر آؤٹنگ پر آئے ہوئے ہیں اور وہ شاید ۔۔۔ ” وہ ٹہری اور کمرے کی جانب دیکھا وہاں کوئی نظر نہ آیا شاید وہ لوگ اسکے ڈیڈ کے سٹڈی روم میں چلے گئے تھے ۔ یہ دیکھ رمشاء مزید آرام سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی ۔۔
” ابھی ذرا آرڈر دینے گیا ہوا ہے ۔ گھر جائے گا تو کرلینا بات ۔ ” حیا کو دھچکا سا لگا وہ اسکے ساتھ باہر لنچ پر گیا تھا ۔ مگر سنان کو تو باہر کا کھانا پسند ہی نہیں ہے ۔ وہ لوگ بھی کبھی کسی ڈنر اور لنچ پر اس ہی لئے نہیں گئے تھے اور وہ ۔۔
” ہیلو کہاں کھو گئیں ۔۔ ” رمشاء نے اپنی ہنسی دباتے ہوئے کہا جب وہ سکتے سے باہر نکلی ۔ بھاری سانسیں اور بھیگی آنکھوں کے ساتھ اس نے غصے سے فون بند کر کے پٹخا تھا ، اور اتنی زور سے کہ بالکنی میں کھڑی لائبہ اچھل کر اندر اسکی جانب بھاگی ۔
” کیا ہوگیا حیا ۔۔ کیا بات ہوئی ۔۔ ” وہ اسکے پاس بیٹھی اور کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا ۔۔
” نہیں ہوئی کوئی بات کیونکہ اسے دوسری لڑکیوں کے ساتھ لنچ سے فرصت نہیں ہے ۔ ” اسکی بات سن کر لائبہ نے اچنبھے پن سے اسے دیکھا تھا ۔۔
” لیکن وہ تو باہر کا کھانا کھاتا ہی نہیں تم ہی نے تو بتایا تھا جس پر تم بہت ناراض بھی ہوگئیں تھیں پھر سنان نے تمہیں سرپرائز دے کر منایا تھا ۔ ارے مزاق کر رہے ہوں گے چڑانے کے لئے ۔۔ “
” کوئی مزاق نہیں ہے اور اگر نہیں بھی گیا لنچ پر تو رمشاء کے پاس اسکا فون کیا کر رہا ہے ۔۔ ” وہ چیخ کر بولی تھی اس وقت لائبہ کی سنان کی ہمدردی میں کی گئی باتیں اسے غصہ دلا رہی تھیں ۔۔
” ارے تو ۔۔ “
” تم جاؤ پلیز ابھی مجھے کسی سے بات نہیں کرنی ۔۔”
اس نے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے کہا جب ہی فون بجنے لگا سنان کی کال آرہی تھی ۔۔ حیا نے غصے سے فون سوئچ آف کر کے دور پھینک دیا ۔۔
” آہ یہ کیا کیا حیا تم ۔۔ ” وہ کچھ بولتی جب حیا کے اشارے نے اسے سر ہلاتے ہوئے باہر جانے پر مجبور کر دیا ۔ اور حیا وہیں بیڈ پر گر گئی ۔ وہ جو خود کو رونے سے روک رہی تھی دو دن کے بعد آج پھر وہ ضبط ٹوٹ گیا تھا ۔
Zainab Sarwar Novels__________________
” حیا کا فون آیا تھا تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں ۔ ” وہ رمشاء سے اپنا فون لیتے ہوئے کڑے تیوروں کے ساتھ کہنے لگا ۔
” تم اندر تھے میں نے پک کر لیا اس میں کیا ہوا ۔۔ اور میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ تم ڈیڈ کے ساتھ بزی ہو بس اس نے فون کاٹ دیا ۔ ” اس نے صاف جان چھڑانے والے انداز میں کہا اور کندھے اچکا کر اپنا فون اٹھا لیا ۔۔
” ذرہ برابر بھروسہ نہیں ہے مجھے تم پر ۔۔ ” رمشاء کو گھوری سے نوازتا وہ ایک بار پھر حیا کو کال ملا رہا تھا لیکن اب کی بار نمبر بند تھا یقیناً اس نے فون بند کرلیا ہے ۔۔
” اففف ایک تو اس نے فون کیا اور تم ۔۔۔” وہ دانت پیستے ہوئے بولا اور پیر ٹیبل پر مارتے اپنا کوٹ صوفے سے اٹھا کر چلا گیا ۔۔ پیچھے سے واصف صاحب آئے تو لاؤنج میں رمشاء کو اکیلا پایا ۔۔
” کیا تم نے پھر مہمان کو کچھ کہا ہے ۔۔ کتنا سمجھایا ہے میں نے خود کی زبان پر کنٹرول رکھا کرو ۔ کیا کہا ہے تم نے اسے ۔۔ ” وہ اپنی بیٹی کی خصلت سے اچھی طرح واقف تھے تبھی آتے ہی اس پر شروع ہوگئے ۔۔
” واؤ ڈیڈ آپ نے کچھ دیکھے بغیر ہی سوچ لیا کہ میں نے کچھ کیا ہے ۔ اسے کسی کام سے جانا تھا وہ چلا گیا ۔۔ ” وہ بول کر اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔ واصف صاحب نے تاسف سے سر ہلا کر اسے دیکھا ۔
” کاش تمہاری ماں زندہ ہوتی تو آج۔۔” وہ کچھ اور بھی کہتے تبھی وہ ہاتھ کے اشارے سے روک وہاں سے چلی گئی ۔۔
” کاش ۔۔ ” واصف صاحب نے گہری سانس بھر کے چھوڑی ۔ ان کے سیاہ فارمل ڈریس سے لے کر سب کچھ نیا تھا ماسوائے ان کی آنکھوں میں بسی اداسی کے ۔
” کبھی کبھی ہم آپ کو بہت یاد کرتے ہیں ہاجرہ ۔۔ ” وہ دل میں اپنی مرحوم زوجہ سے مخاطب تھے ۔۔
لوگ تو چلے جاتے ہیں دنیا سے مگر اپنے پیاروں کی زندگی میں ایک خلا سا چھوڑ جاتے ہیں جو پھر کبھی پورا نہیں ہو پاتا ۔۔
وہ دن آخری دن تھا جب اس نے سنان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی ۔ سنان نے ہاں اس کال کے بعد بھی بہت دفع اسے کال کی مگر اس نے موبائل ہی نہ کھولا۔ اور یوں ان دونوں کے بیچ ذرا سی غلط فہمی نے بدگمانی کی بڑی سی دیوار قائم کردی جس نے بل آخر انہیں الگ کر ڈالا ۔۔۔
Zainab Sarwar Novels__________________
جاری ہے ۔۔۔
