Ex Mangetar By Zainab Sarwar Readelle50330

Ex Mangetar By Zainab Sarwar Readelle50330 Last updated: 10 November 2025

514K
4

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ex Mangetar

By Zainab Sarwar

کچھ دیر پہلے ؛ حیا نے دیکھا واصف انکل غصے میں آگ بگولہ ہوتے ہوئے کہیں جا رہے ہیں وہ بھی انکے پیچھے ہو لی ۔۔ وہ تیزی سے نیچے کی جانب اتر رہے تھے ۔ حیا بھی پیچھے آئی دراصل وہ تو ان سے کمرے کی بات کرنے جا رہی تھی کہ جب اتنے سارے کمرے خالی ہیں تو الگ الگ کیوں نہ دیا ۔ وہ ایک کمرے کی جانب بڑھے حیا جو پیچھے پیچھے ہی تھی اسکا دوپٹہ سائڈ میں رکھے گلدان سے اٹک گیا ۔۔ " چچ یہ کہاں پھنس گیا ۔۔ " وہ دوپٹہ نکالتے ہوئے کہنے لگی واصف انکل اب کمرے کے اندر جا چکے تھے ۔ اس نے دوپٹہ نکالتے ہوئے سانس بھری اور کمرے کی جانب بڑی جب واصف انکل کی چیخنے کی آواز آئی ۔ آس پاس کوئی نہ تھا یہ آفس تھا شاید ۔ " جسٹ شٹ اپ رمشاء ! یہ سیکھایا ہے میں نے کہ دوسروں کا فون بغیر اجازت اٹھاؤ اور یہ سب کرو ؟ " وہ تیز آواز میں رمشاء پر چلائے ۔۔ حیا کو یہاں کھڑے باتیں سننا ٹھیک نہ لگا ۔ " مجھے بعد میں آنا چاہئیے ۔۔ " " میں نے سنان کا فون اٹھایا تھا اور وہی کہا تھا جو کہنا چاہئیے تھا اور ان دونوں کی تو پہلے سے ہی اتنی لڑائی تھی میری کیا غلطی ۔ " وہ جو جا رہی تھی رمشاء کی باتوں نے اسکے پیر میں بیڑیاں ڈال دیں وہ منہ کھولے واپس شاک میں پلٹی ۔۔ ماتھے پر لکیریں ابھر گئیں ۔ " تو سنان کو بتانا چاہئیے تھا ناں کہ حیا کا فون آیا ہے تم نے کیوں اٹھایا اور پھر اس سے ایسا کیا کہا جو ان دونوں کے درمیان اتنے فاصلے بڑھ گئے کہ نوبت رشتہ ختم کرنے پر آگئی ۔ مجھے تو پتا بھی نہ چلتا اگر میں پوچھتا نہیں ۔۔ " واصف صاحب سر پکڑ کر بیٹھ گئے انہوں نے کہاں کوتاہی کر دی تھی اسکی پرورش میں کہاں کون سی غلطی سر زد ہوگئی تھی جو وہ ایسی نکلی تھی ۔۔ " ڈیڈ ... " وہ انکے پاس بیٹھی اور سمجھانے کے لئے لب کھولے ۔ " آپ کو اتنی ٹینشن لینے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے ۔ ان دونوں کے بیچ جو کچھ بھی ہوا ہے وہ حیا کی وجہ سے ہوا ہے ۔ آپ کو پتا ہے وہ سنان پر شک کرتی ہے اب میں نے ذرا سا چڑا کیا دیا وہ تو بھڑک ہی گئی ۔ سو ٹیکی ، مطلب اتنا پوسیسیو کون ہوتا ہے ؟ " اسکی بات پر واصف صاحب نے گھور کر دیکھا اور افسوس سے سر ہلایا ۔۔ باہر کھڑی حیا نم آنکھوں سے دیوار تھام گئی ۔ " رمشاء میں تمہارا باپ ہوں تمہاری رگ رگ سے واقف ہوں ۔ اور یہ بات میں اچھے سے جانتا ہوں کہ ان دونوں کے درمیان جو کچھ بھی ہوا ہے اس میں تمہارا ہی ہاتھ ہے ۔ اور اب یاد رکھو کہ ان دونوں کی مِس انڈرسٹینڈنگ تم ٹھیک کرو گی ۔ بتاؤ گی کہ کیوں گئیں تھیں وہاں اور کیوں حیا کو جھوٹ بولا تھا سمجھیں ۔" وہ بول کر اٹھ کھڑے ہوئے رمشاء بھی تنک کر اٹھی ۔۔ " نو وے ڈیڈ ۔ میں کوئی صفائی پیش نہیں کروں گی ۔ اور اگر ان دونوں کا رشتہ اتنا ہی مضبوط ہوتا نا تو وہ کبھی نہ اس پر شک کرتی اور نہ ہی وہ دور ہوتا ۔ غلطی ان کی ہے میری نہیں ۔ اور باقی سب بھی مزاق میں کہا تھا وہ دونوں سیریس لے گئے تو میں کیا کروں ۔ " وہ بول کر منہ بنائے ہاتھوں کو بازوؤں کے گرد باندھے کھڑی ہوگئی ۔ " تمہیں فون کر کے اوٹ پٹانگ باتیں نہیں بولنی چاہئیے تھیں اور سنان کب آؤٹنگ پر گیا ہاں ؟ ڈسکسٹنگ رمشاء مجھے اندازہ نہیں تھا کہ تم یہ سب کرو گی ۔ تمہارا مزاق ہوگیا اور اس مزاق میں انکا رشتہ اجڑ گیا ۔ میری بہنیں جنہوں نے میرا کبھی ساتھ نہیں چھوڑا آج میری اپنی اولاد کی وجہ سے انکے بچوں کا گھر اجڑ گیا ۔ " وہ افسوس و صدمے سے کہہ رہے تھے ۔۔ رمشاء نے انکی جانب دیکھا وہ یہ نہیں چاہتی تھی کہ اسکے ڈیڈ فرسٹیٹڈ ہوں وہ بھی اسکی وجہ سے ۔۔ حیا کا سانس لینا محال ہوگیا اسکا یہاں دم سا گھٹنے لگا ۔۔ وہ الٹے پاؤں باہر کو بھاگی ۔ آنکھیں بھیگنے لگی تھیں۔ " ڈیڈ آپ کیوں ٹینس ہو ر۔۔۔ " رمشاء دھیرے سے کہتے ہوئی آگے بڑھی ۔ " نہیں کوئی بات اب منہ سے نہ نکلے صبح بات کریں گے اور تم سب کچھ سارٹ آؤٹ کروگی سمجھ آئی ۔ ابھی گھر جاؤ ڈرائیور باہر ہی کھڑا ہے ۔۔ " بول کر وہ باہر چلے گئے پیچھے سے رمشاء پیر پٹخ کر رہ گئی ۔ " عجیب ڈیڈ کو یہ نہیں دکھتا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے قابل ہی نہیں اونہہ ۔ " وہ منہ میں بڑبڑاتی ہوئی باہر گاڑی کی جانب چل دی اب صبح ہی دیکھیں گے کیا ہوتا ہے ابھی تو وہ سوئے جا کر ۔۔ ______________