Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3(Last)

عیدِ دل
مکمل افسانہ(پارٹ 3_آخری پارٹ)
از
خانزادی

عید کا پہلا دن خیر و عافیت سے طلوع ہوا۔اس وقت سب لوگ چھت پر باربی کیو کی تیاری میں مصروف تھے اور ساتھ ہی ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
حرم پانی پینے کے لیے نیچے آئی تو ارمان بھی اس کا پیچھا کرتے ہوئے نیچے آ گیا۔
بہت خوش لگ رہی ہو،وجہ جان سکتا ہوں؟
نہی۔۔۔۔حرم نے دو ٹوک جواب دیا اور پانی پیے بغیر ہی کچن سے باہر کی طرف بڑھی مگر ارمان نے اس کا راستہ روک دیا۔
ایسے نہی جا سکتی تم!
مجھے میرے سوال کا جواب نہی ملا ابھی تک۔
کونسے سوال کا جواب؟
حرم اسے نظر انداز کرتے ہوئے بولی۔
حرم تم اچھی طرح جانتی ہو میں کیا بات کر رہا ہوں۔کل رات مہندی کی رسم ہے اور تمہارا رِمی سے نکاح بھی۔۔۔۔
تو ہمارے پاس زیادہ وقت نہی ہے،ابھی بھی تمہارے پاس آپشن موجود ہے۔
میں وعدہ کرتا ہوں تمہارا ساتھ کبھی نہی چھوڑوں گا۔
اس شادی سے انکار کر دو،تم رِمی کے ساتھ کبھی خوش نہی رہ سکو گی۔
ہم دونوں ایک ساتھ خوش رہیں گے،تم اپنے گھر والوں سے بات کرو۔
اگر وہ مان جائیں تو ٹھیک ہے ورنہ ہم بھاگ کر شادی کر لیں گے۔
یہاں سے بہت دور لے جاوں گا میں تمہیں۔۔۔۔
مرتے دم تک تمہارا ساتھ نبھاوں گا،یہ میرا وعدہ ہے۔
چٹاخ۔۔۔۔حرم کا زور دار تھپڑ ارمان کے گال پر پڑا اور وہ بس حرم کو دیکھتا ہی رہ گیا۔
امید ہے اب تمہیں جواب مل چکا ہے مسٹر ارمان!
“میں ان لڑکیوں میں سے نہی ہوں جو اپنی خواہشات کی تکمیل کی خاطر اپنے ماں باپ کا سر شرم سے جھکا دیں،میں ان میں سے ہوں جو اپنے ماں باپ کی عزت کی خاطر اپنا سر کٹوا بھی سکتی ہیں اور کاٹ بھی سکتی ہیں،،
تو تم اپنے یہ فضول ہتھکنڈے استعمال کرنا بند کر دو اور یہاں سے واپس چلے جاو۔
ارمان کے سفید چہرے پر حرم کی انگلیوں کے نشان چھپ چکے تھے اور اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا۔
“رِمی کا تو بس رنگ ہی کالا ہے مگر اس کا دل سفید ہے اور میں شکر ادا کرتی ہوں اپنے خدا کا کہ اس نے مجھے رِمی جیسا صاف دل شوہر عطا کیا ہے،،
تمہارا دل کالا ہو چکا ہے ارمان۔۔۔۔بلکل ویسے ہی جیسے میرا ہو چکا تھا۔
“گورے یا کالے رنگ کی کوئی اہمیت نہی ہوتی،اہمیت ہوتی ہے تو بس اچھے اخلاق اور اچھے دل کی،،
وہ دل جو تمہارے پاس ہے ہی نہی۔۔۔۔آج میں خوبصورت ہوں تو تمہارا دل میری طرف مائل ہے لیکن اگر میرا رنگ بھی رِمی کی طرح کالا ہوتا تو شاید تم مجھ سے دوستی کرنا بھی پسند نہی کرتے۔
سہی کہا ناں میں نے؟
اب اپنا وقت یہاں ضائع مت کرو بہتر ہے کہ یہاں سے چلے جاو اور اپنے لیے اپنے جیسی یعنی کالے دل والی لڑکی ڈھونڈو،تم دونوں ایک دوسرے کے لیے پرفیکٹ رہو گے۔
وہ اپنی بات مکمل کرتی ہوئی ایک حقارت بھری نظر اس پر ڈال کر راستہ بناتی ہوئی وہاں سے نکل گئی۔
ارمان ظبط کی انتہا لیے وہی کھڑا رہ گیا۔آج اس کا گورا رنگ،سٹائلش ہئیر سٹائل، اور سٹائلش ڈریسنگ سب پھیکا پڑ چکا تھا۔
آج اسے اس وجہ سے ٹھکرا دیا گیا کیونکہ اس کا رنگ گورا تھا اور وہ آج کے معاشرے کا ایک پرفیکٹ،ہینڈسم مرد تھا۔
مگر اس کی اتنی اچھی پرسنیلٹی کے باوجود گاوں کا ایک عام سا سانولی رنگت والا،فیشن اور سٹائلز سے دور رہنے والا مرد سبقت لے گیا۔
وہ تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔اس کے بعد حرم کو وہ کہی نظر نہی آیا۔
باربی کیو پارٹی کے بعد ساری لڑکیاں اور خواتین ڈھولک بجانے میں مصروف ہو گئیں۔
حرم کا دل ایک بار پھر سے اداس ہو چکا تھا،افسوس ہو رہا تھا اپنی غلطی پر کہ اسے ارمان کو تھپڑ نہی مارنا چاہیے تھا۔
مگر میں بھی کیا کرتی اب وہ حد سے بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا اور اسے روکنا بہت ضروری تھا۔
رات دیر تک ڈھولک بجتی رہی پھر سب اپنے اپنے کمروں میں چلی گئیں۔
عید کے دوسرے دن مہمانوں کی آمد شروع ہو گئی۔
گھر میں ایک رونق سی لگ چکی تھی۔
بچے اپنی کھیلوں میں مصروف تھے اور خواتین گھر کے کاموں میں،لڑکیاں حرم کے اردگرد گھیرا ڈالے بیٹھی تھیں۔
مہندی کی رسم سے پہلے نکاح کی رسم تھی۔
حرم پیلے جوڑے میں پھولوں کے زیورات پہنے سجی سنوری بیٹھی تھی۔
لڑکیاں اس کے اردگرد بیٹھی ڈھولک کی تھاپ پر ٹپے بول رہی تھیں۔
پورا گھر روشنیوں سے سجا ہوا تھا،ہر طرف ہنستے مسکراتے چہرے نظر آ رہے تھے۔
کھانے کی خوشبو اور مہندی کی بھینی بھینی سی خوشبو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔
حرم کے لیے یہ سب کچھ بہت نیا تھا کیونکہ گاوں میں ایسی شادیاں کہاں دیکھنے کو ملتی تھیں۔
گھر سے باہر کھلی جگہ پر ٹینٹ سجا کر بہت پیارا شادی ہال سجایا گیا تھا۔
مرد حضرات اسی کام میں مصروف تھے۔کھانے کی تیاری اور مہمانوں کا خیال مرد حضرات کی زمہ داری تھی اور وہ یہ زمہ داری بہت اچھے سے نبھا رہے تھے۔
حرم کبھی سوچ بھی نہی سکتی تھی کہ اس کی شادی ایسے ماحول میں ہو گی۔وہ خوش تھی مگر کوئی کمی سی تھی مگر کیا؟
وہ سمجھنے سے قاصر تھی،اس کا دل بے چین سا تھا۔
مریم آئی اور سب لڑکیوں کو کمرے سے باہر نکال دیا کیونکہ نکاح خواں آ چکا تھا۔
ردا،کرن،مریم،سانیہ،حرم کے ماما،بابا، نوید،زبیر، تائی اماں اور نکاح خواں اس وقت کمرے میں موجود تھے۔
حرم کا دل زور سے دھڑک رہا تھا اور ہاتھ ٹھنڈے پڑنے لگے۔
نکاح خواں نے نکاح پڑھانا شروع کر دیا۔
حرم بنتِ عبید حق مہر پچاس ہزار سکہ راج الوقت ارمان ابنِ سلطان سے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟؟
ارمان کے نام پر حرم کے ہاتھ پیر کانپنے لگے،اس نے نظریں اٹھا کر سب کی طرف دیکھا۔
ردا نظریں چرا گئی اور کرن بھی۔
حرم کیا ہوا؟
مریم اس کے کان میں آہستہ سے بولی۔
حرم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
حرم نکاح قبول کرو سب انتظار کر رہے ہیں پلیز کو سین مت کری ایٹ کرنا اس وقت۔۔۔۔مریم اب کی بار تھوڑا سخت لہجے میں بولی۔
حرم کے بابا نے آگے بڑھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا تو وہ ظبط سے آنکھیں بند کیے بول دی۔
قبول ہے۔۔۔۔۔
قبول ہے۔۔۔۔۔
قبول ہے۔۔۔۔۔
نکاح خواں کے تین بار دہرانے پر اس نے یہ نکاح قبول کر لیا اور کانپتے ہاتھوں سے نکاح نامے پر سائن کر دئیے۔
حرم کی نظر اوپر ارمان کے سائن پر پڑی تو نظریں وہی ٹک سی گئیں۔
ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟
ارمان تم ایسا کیسے کر سکتے ہو؟
میں رِمی کو دل سے قبول کر چکی تھی تو پھر تم نے ایسا کیوں کیا۔
حیرانگی تو اس بات کی ہے کہ سارے گھر والے کیسے مان گئے اور سب اتنے خوش کیسے ہو سکتے ہیں۔
حرم کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہو رہے تھے مگر وہ کسی سے کچھ کہہ بھی نا سکی۔
کسی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کسی نے گلے سے لگا کر مبارکباد دی مگر حرم تو جیسے یہاں تھی ہی نہی۔
وہ تو کہی اور ہی گُم ہو چکی تھی۔
اسے پتہ ہی نہی چلا کب اسے کمرے سے باہر سٹیج پر لا کر بٹھا دیا گیا،وہ نظریں جھکائے سوچوں میں گُم چپ چاپ چلتی گئی۔
کیسا لگا سرپرائز مسز ارمان؟
ارمان کی آواز پر اس نے جلدی سے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔
وہ سفید شلوار قمیض اور اس پر ملٹی کلر واسکٹ پہنے حرم کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
حرم کا دل چاہا ابھی یہاں سے کہی دور بھاگ جائے،ارمان کی مسکراہٹ اور گہری نظروں نے اسے پلکیں جھکانے پر مجبور کر دیا۔
وہ نظریں جھکائے بیٹھ گئی کیونکہ اب وہ کچھ نہی کر سکتی تھی۔
رسمِ حنا شروع ہوئی سب سے پہلے گھر والوں نے اور پھر باری باری سب مہمانوں نے مہندی کی رسم ادا کی اور پھر کھانے کا دور چلا اور سب نے ان دونوں کے ساتھ تصویریں بنوائیں۔
حرم نا چاہتے ہوئے بھی مسکرا رہی تھی اور کر بھی کیا سکتی تھی۔
سب سے زیادہ حیرانگی اسے اس بات کی تھی کہ سارے گھر والے بہت پرسکون تھے اور کسی نے بھی اس کے ساتھ ارمان کے بارے میں کوئی بات نہی کی۔
جب فنکشن ختم ہوا تو کچھ مہمان اپنے گھروں کو واپس لوٹ گئے جبکہ کچھ مہمان گھر پر ہی ٹہر گئے۔
حرم کو مریم گھر لے آئی اور لڑکیوں نے پھر سے ڈھولک تھام لی۔
رات گئے تک لڑکیاں ڈھولک بجاتی رہی اور مجبوراً حرم کو وہی بیٹھنا پڑا۔
جب سب تھک ہار کر سونے چلی گئیں تو حرم بھی اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چل دی۔
تب ہی اس کی نظر رِمی پر پڑی حرم نے اسے آواز دی مگر وہ ایک مسکراہٹ بھری نظر حرم پر ڈالتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا۔
وہ بوجھل قدموں کے ساتھ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
کمرے میں آئی دروازہ بند کیا اور ڈریسنگ کے سامنے آ رکی۔
ڈوپٹے کی پنز کھول کر سائیڈ پر رکھا۔چوڑیاں اور زیور اتار کر وہی رکھ دیا اور الماری کی طرف بڑھی مگر جیسے ہی نظر الماری کے ساتھ پڑی تو تیزی سے اپنا ڈوپٹہ اٹھا کر سر پر اوڑھ لیا۔
یہ کیا بدتمیزی ہے ارمان؟
تم اس وقت یہاں میرے کمرے میں کیا کر رہے ہو؟
شششش۔۔۔۔۔ارمان نے آگے بڑھ کر اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا۔
آہستہ بولو کوئی آ جائے گا۔
حرم جلدی سے دور ہٹی۔۔۔۔یہ کیا بدتمیزی تھی تم نے مجھے ہاتھ کیسے لگایا؟
“مطلب تم ابھی تک نہی سمجھی،ہمارا نکاح ہو چکا ہے اور یہ کمرہ میری بیوی کا ہے جہاں جب دل چاہے میں آ سکتا ہوں،،
کیا کہا تم نے گھر والوں اور رِمی سے؟
یہ نکاح دھوکے سے ہوا ہے اور میں گھر والوں کو یہ سچ بتا دوں گی۔
یہ کیا تم،تم لگا رکھی ہے،بے بی اب میں آپ کا شوہر ہوں تو تھوڑا ادب و لحاظ کرو تم سے آپ ہر آ جاو اور۔۔۔۔
“ہاں شوق سے بتانا سب کو مگر مجھے افسوس رہے گا کیونکہ کوئی تمہاری بات پر یقین نہی کرے گا،،
تو کیا بولو گی تم گھر والوں سے کہ تم رِمی سے شادی کرنا چاہتی تھی یہی ناں!
ہاں میں بتاوں گی سب کو کہ تم نے رِمی کو روکا ہے مجھ سے شادی کرنے سے۔
حرم کی بات پر وہ مسکراتے ہوئے اس کی طرف بڑھا۔
اور اگر رِمی نے کہہ دیا کہ ارمان نے ایسا کچھ نہی کہا تو؟
وہ ایسا نہی کرے گا۔۔۔مجھے یقین ہے۔
رِمی پر اتنا یقین۔۔۔۔۔اور مجھ پر بے اعتباری کیوں؟
کیوں کہ تم دھوکے باز ہو۔۔۔۔اس کی بات پر وہ چلا اٹھی۔
حرم آہستہ بولو پلیز!
نہی بولوں گی میں آہستہ۔۔۔۔بلکہ ابھی سب بتاوں گی گھر والوں کو وہ تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی۔
جیسے ہی دروازہ کھولا باہر لمبی قطار لگی ہوئی تھی۔
ردا،کرن،سانیہ،مریم،نوید اور رِمی سب دروازے سے کان لگائے اندر سے آتی آوازیں سننے میں مصروف تھے۔
حرم حیران رہ گئی سب کو یہاں دیکھ کر جبکہ ارمان نے آگے بڑھ کر سب کو گھوری ڈالی۔
وہ ہم تو بس ایسے ہی یہاں سے گزر رہے تھے۔۔۔۔ردا بچ کر وہاں سے نکل گئی۔
آپ کیا کر رہے ہیں یہاں۔۔۔۔چلیں کمرے میں رات بہت ہو گئی ہے،مریم بھی نوید کو ساتھ لیے وہاں سے چل دی۔
سانیہ اور کرن نے بھی دوڑ لگا دی،باقی بچا رِمی۔
جو ان دونوں کو دیکھ کر مسکرا دیا بدلے میں ارمان نے اسے گھورا۔
رِمی۔۔۔تم میرے سوالوں کے جواب دئیے بغیر یہاں سے نہی جا سکتے،حرم اس کے سامنے آ رکی۔
آپ کے سارے سوالات کے جواب ارمان بھائی کے پاس ہیں آپ ان ہی سے پوچھ لیجئیے گا۔وہ بھی تیزی سے وہاں سے چلتا بنا۔
ارمان واپس کمرے میں چلا گیا اور اس کے ساتھ حرم بھی۔
آخر یہ سب کیا چل رہا کچھ بتاو گے؟
حرم کی بات پر ارمان اس کی طرف بڑھا اور اس کے مہندی سے بھرے ہاتھ تھام لیے۔
چند لمحے غور سے دیکھتا رہا اور پھر اس کی ہتھیلی کو ہونٹوں سے چھوا۔
“میرا نام اچھا لگ رہا ہے تمہارے ہاتھ پر”
بس اتنا بول کر مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
حرم اس کے حصار میں قید گم سم سی کھڑی اپنی ہتھیلی کو دیکھتی رہ گئی جہاں ارمان نے چھوا تھا۔
لیکن اگلے ہی پل اس کے دماغ نے خطرے کی گھنٹی بجائی۔
“کیا کہا ارمان نے اس کا نام؟
“مگر یہ تو رِمی کا نام لکھا ہے”۔۔۔۔
اب اس بات کا کیا مطلب سمجھوں میں؟
پاگل ہو گیا ہے یہ کچھ بھی بولتا رہتا ہے،دماغ خراب ہو چکا ہے اس کا۔۔۔خود کو رِمی سمجھنے لگا ہے مگر میں اس کی باتوں میں نہی آنے والی۔
وہ اس کی بات نظر انداز کرتے ہوئے چینج کر کے سونے کے لیے لیٹ گئی۔
اگلے دن بھی گھر میں گہما گہمی کا راج تھا،ہر طرف مہمانوں کی چہل پہل اور بچوں کا شور شرابہ پھیلا ہوا تھا۔
حرم اپنے کمرے سے باہر نکلی ہی نہی اور نہ ہی صبح سے تائی اماں کے علاوہ کوئی اور اس کے کمرے میں آیا۔
وہ حرم کے لیے ناشتہ لے کر آئی تھیں،حرم نے ان سے ارمان کے بارے میں بات کرنی چاہی مگر وہ اس کی بات پر مسکرا کر کمرے سے باہر نکل گئی۔
تائی اماں وہ ارمان۔۔۔۔۔مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔
بعد میں بیٹا ابھی میں بہت مصروف ہوں،وہ کمرے سے باہر نکل گئیں۔
حرم کو رہ رہ کر سب پر غصہ آ رہا تھا کہ صبح سے کوئی بھی اس کے کمرے میں نہی آیا،اسے جاننا تھا کہ آخر کیسے سب مان گئے ارمان اور میرے نکاح کے لیے اور رِمی۔۔۔۔اس سے تو میری بات ہو چکی تھی۔
میں نے بتایا تھا اسے کہ مجھے کوئی اعتراض نہی اس کے کالے رنگ سے۔
پھر بھی اس نے ایسا کیا”
نہی چھوڑوں گی میں سب کو آج۔۔۔۔ایک بار مجھے مل تو لیں سب۔
وہ انہی سوچوں میں گم تھی کہ پارلر والی آ گئی اور اسے تیار کرنے میں مصروف ہو گئی۔
مہرون اور گولڈن ڈیزائینگ ڈریس میں وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
فنکشنز کے سارے ڈیزائینر ڈریسز تائی اماں نے خریدے تھے اس کے لیے مگر وہ حیران تھی کہ تائی اماں تو گاوں میں رہتی ہیں مگر ان کی چوائس اتنی اچھی کیسے ہو سکتی ہے۔
پسند کا دولہا نہ سہی۔۔۔۔پسند کا ڈریس تو مل ہی گیا مجھے۔۔۔۔اپنی بات پر وہ خود ہی مسکرا دی۔
تیار ہو جاو مسٹر ارمان۔۔۔۔تمہاری زندگی برباد ہونے والی ہے۔
بہت بڑی غلطی کر دی تم نے حرم عبید سے شادی کر کے،اس غلطی کا احساس تمہیں بہت جلد ہو گا۔
Waaaoooo beautiful….
پارلر والی دادا دیے بغیر نہ رہ سکی۔
Thanks۔…
حرم نے بھی مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
Most welcome,
آپ کے ہسبینڈ بہت اچھے ہیں،انہوں نے مجھے سپیشلی تین دن آپ کے لیے یہاں بلایا۔
حالانکہ ہم ایسا کرتے نہی ہیں۔بہت قسمت والی ہیں آپ جو ارمان سر جیسے ہسبینڈ ملے آپ کو۔دو ہفتے پہلے ہی بکنگ کروا دی تھی انہوں نے۔
ارمان سر؟
ایسا کیسے ہو سکتا ہے ارمان کیسے بکنگ کروا سکتا ہے وہ تو خود چند دن پہلے یہاں آیا ہے۔۔۔۔مطلب اس کی پہلے سے ہی پلاننگ تھی مجھ سے شادی کی۔
ایک بار مل جائے مجھے،اس کو نہی چھوڑنے والی میں۔
Any problem mam?
حرم کو بڑبڑاتے دیکھ وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
Not at all,thank you.
حرم کی بات پر وہ اپنا سامان سمیٹ کر کمرے سے باہر نکل گئی۔
اس کے جاتے ہی سب نے کمرے میں ہلا بول دیا۔
سب سے ملنے کے بعد ردا نے اس کی جان چھڑائی اور اس پر چادر اوڑھ کر گاڑی کی طرف بڑھ گئی اور ہال کی طرف روانہ ہو گئی۔
یہ سب کیا کر دیا ارمان نے ردا؟
تمہارا بھائی ہے وہ تمہیں روکنا چاہیے تھا اسے،میں دل سے راضی ہو چکی تھی رِمی سے شادی کے لیے مگر اس نے عین وقت پر یہ سب کر دیا۔
مطلب تم ابھی بھی نہی سمجھی حرم؟
ردا کو حیرت ہوئی اس کی باتوں پر۔
کیا مطلب کیا نہی سمجھی میں؟
حرم نے الٹا اسی سے سوال کر ڈالا۔
مطلب تو اب تمہیں تمہارے ہسبینڈ مسٹر ارمان ہی سمجھا سکتے ہیں۔
تم بتا تو مجھے ردا،آخر کیا کھچڑی پکائی ہے تم دونوں بہن بھائی نے مل کر۔
اب تو میں یہاں سے واپس شہر چلی جاوں گی تمہارے گھر،پتہ نہی کتنے ظلم کرے گا تمہارا بھائی مجھ پر،مگر ایک بات بتا دینا اپنے بھائی کو میں اس کے ظلم ہرگز برداشت نہی کروں گی۔
ہاں ہاں بتا دوں گی،ردا اپنی ہنسی کنٹرول نہی کر پا رہی تھی۔
ہنس لو ہنس لو تم دونوں بہن،بھائی نے مل کر مجھے بے وقوف بنایا ہے۔حرم رونے کو تیار تھی۔
جو پہلے سے ہی بے وقوف ہو اسے ہم کیا بے وقوف بنائیں گے،ردا ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔
ہال کے باہر گاڑی پارک کی اور حرم کو برائیڈل روم میں بٹھا کر خود باہر چلی گئی۔
کچھ دیر بعد مریم،ردا،کرن اور سانیہ اسے ساتھ لے کر باہر کی طرف بڑھیں۔
ارمان بھی مہرون اور گولڈن شیڈ ورک والی ڈیزائینر شیروانی پہنے بہت جچ رہا تھا۔
حرم کو آتے دیکھ سٹیج کی سیڑھیاں اتر کر نیچے آیا اور اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
حرم کا دل تو چاہا کہ ابھی اس کا ہاتھ جھٹک دے مگر سب کی نظریں خود پر جمی دیکھ کر اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ دیا اور اس کے ساتھ قدم سے قدم ملاتی سٹیج پر جا رکی۔
Beautiful….
وہ حرم کا کان میں تھوڑا جھکتے ہوئے بولا۔
بدلے میں حرم نے اپنی ہیل اس کے پاوں پر رکھ دی اور ارمان تڑپ کر رہ گیا۔
اس کی حالت کو انجوائے کرتی ہوئی حرم مسکراتی ہوئی پیچھے ہٹی،ارمان نے اسے غصے سے گھورا۔
پاگل لڑکی۔۔۔۔وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔
کھانے اور ملنے ملانے کا دور چلا اور پھر گفٹس کا۔
حرم بری طرح تھک چکی تھی۔ابھی بیٹھی ہی تھی کہ رخصتی کا شور مچ گیا۔
مریم نے پھر سے اس کے سر پر اچھی طرح چادر اوڑھائی اور گھونگٹ اوڑھایا۔
ہر لڑکی کی طرح یہ وقت حرم کے لیے بھی بہت نازک ٹہرا۔
وہ بھی سب سے گلے ملتے ہوئے آنسو بہاتی گئی۔
ایک تو اسے اپنوں سے دوری کا دکھ تھا اور دوسرا ارمان سے شادی کا،پتہ نہی کیسا سلوک کرے گا یہ میرے ساتھ،جو اتنی آسانی سے گھر والوں کو اس شادی پر راضی کر سکتا ہے مطلب وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔
وہ کب گاڑی میں آ کر بیٹھ گئی اسے پتہ ہی نہی چلا ہوش تب آیا جب ارمان نے اس کا ہاتھ تھاما۔
اس نے ہاتھ چھڑانا چاہا مگر ایسا نہی کر سکی۔
کچھ دیر بعد وہ لوگ گھر پہنچے تو ارمان اس کا ہاتھ تھامے گھر میں داخل ہوا۔
حرم نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی تو سب گھر والے یہاں موجود تھے اور یہ گھر تائی اماں کا تھا۔
حرم کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔۔۔۔آخر ایسا کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔
وہ سب سے بات کرنا چاہتی تھی مگر موقع ہی نہی ملا۔
اسے کمرے میں چھوڑ کر سب باہر نکل گئے۔
ایسا کیسے ہو سکتا ہے یہ کمرہ تو رِمی کا ہے۔۔۔۔وہ اپنا کمرہ ہمیں کیسے دے سکتا ہے۔
یہ تصویریں تو ارمان کی ہیں،مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس دن یہاں کوئی تصویر نہی تھی۔تو کیا رِمی نے ارمان پر بھروسہ کر لیا۔
مگر رِمی کا کیا؟
کیا وہ خوش ہے؟
وہ اسی پریشانی میں گم تھی کہ ارمان کمرے میں داخل ہوا۔
اسے دیکھتے ہی حرم تیزی سے اس کی طرف بڑھی مگر ڈریس میں پاوں اٹکا اور وہ سیدھی ارمان کے سینے سے جا لگی۔
خود کو سنبھال کر تیزی سے پیچھے ہٹی۔
تم نے یہ سب ٹھیک نہی کیا ارمان!
میں ابھی سارے گھر والوں کو تمہاری سچائی بتا دوں گی۔
تم نے رِمی سے اس کی خوشیاں چھین لیں،کسی کو نا خوش کر کے تم بھی خوش نہی رہ سکو گے۔
ارمان کا دل چاہا کہ اپنا سر پیٹ لے۔
وہ غصے سے اس کی طرف بڑھا بازو سے کھینچتے ہوئے اپنے قریب کیا۔
“تو تمہیں لگتا ہے کہ رِمی خوش نہی ہے؟
“دیکھو زرا رِمی کی آنکھوں میں کیا میں خوش نہی ہوں؟”
حرم پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے گھورنے لگی۔
تم رِمی ہو؟
نہی میں اس کا بھوت ہوں!
مطلب تم ابھی تک نہی سمجھی؟
“رِمی مطلب ارمان اور ارمان مطلب رِمی”
نہی ایسا نہی ہو سکتا رِمی تو وہ ہے۔۔۔۔حرم حیرت سے بولی۔
“نہی ہے وہ رِمی!
وہ خرم ہے سانیہ آپی کا دیور۔۔۔۔
تمہیں کالے رنگ سے نفرت تھی اسی لیے یہ سارا کھیل کھیلا میں نے تا کہ تمہیں سبق سکھا سکوں۔
نہی ایسا نہی ہو سکتا حرم بے یقینی سے پیچھے ہٹی اور اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھامے بیڈ پر بیٹھ گئی۔
“اور ردا”؟
ردا تو تمہاری بہن ہے ناں تو پھر تم رِمی کیسے ہو سکتے ہو؟
حرم کسی صورت اس کی بات ماننے کو تیار نہی تھی۔
نہی ہے وہ میری بہن!
ارمان بھی اس کے پاس بیٹھ گیا اور اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لیے۔
میں کل رات ہی تمہیں سب کچھ بتانا چاہتا تھا مگر سب نے میرا پلان خراب کر دیا۔
دراصل بات یہ ہے کہ ردا تمہاری دوست تھی اور تم تک پہنچنے کے لیے مجھے اس کا بھائی بننا پڑا۔
تمہیں یاد ہے وہ دن جب تم یونیورسٹی میں فارم جمع کروانے آئی تھی اور اپنی فائل کینٹین میں بھول گئی تھی؟
خوش قسمتی سے اس کینٹین میں موجود تھا میں بھی۔۔۔۔تمہاری فائل اٹھا کر تمہارے پیچھے دوڑا تو میرا پاوں کرسی سے ٹکرا گیا اور میں گرتے گرتے بچا لیکن میرے ہاتھ سے فائل چھوٹ کر بکھر گئی۔
جب چاچو کے آئی ڈی کارڈ پر میری نظر پڑی تو میں چونگ گیا اور پھر تمہاری ڈگریز اور نام دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نا رہی۔
میں ابھی وہ فائل سمیٹ کر اٹھا ہی تھا کہ تم پریشان سی واپس آتی دکھائی دی۔
میں نے جلدی سے فائل واپس اسی میز پر رکھی اور دوبارہ اپنی کرسی پر جا کر بیٹھ گیا۔
تم خوشی خوشی اپنی فائل اٹھائے وہاں سے چلی گئی۔
میں بھی اپنی فارم جمع کروانے کے بعد گھر چلا گیا۔
گھر آ کر اس بارے میں اماں سے بات کی،وہ بھی حیران ہوئیں۔
انہوں نے بتایا کہ جب ہم لوگ چھوٹے تھے تب ابا نے میرے لیے تمہارا تمہارا رشتہ مانگ لیا تھا۔
مگر چچی جان کو یہ بات مناسب نہہی لگی اور لڑائی بڑھتے بڑھتے اتنی بڑھی کہ وہ لوگ گاوں سے شہر چلے گئے۔
بس اتنی سی بات تھی کہ ابا چاہتے تھے ہم دونوں کا نکاح ہو جائے بچپن میں،جو چچی جان کو ہرگز منظور نہی تھا۔
میں نے اماں سے کہا کہ میں یہ جھگڑا ختم کروا سکتا ہوں۔
میں چاچو سے بات کروں گا آپ بابا سے بات کریں تا کہ ہم لوگ وہاں جا سکیں حرم کا رشتہ مانگنے۔
اماں مسکرا دیں۔۔۔۔تمہیں لگتا ہے وہ مان جائیں گے؟
یہ بات سن کر میری رہی سہی امید جواب دے گئی مگر میں نے ٹھان لی کہ دونوں گھروں کو ایک کر کے ہی چھوڑوں گا۔
ابا سے بات کی تو وہ بھڑک اٹھے۔۔۔۔کہنے لگے ایسا ممکن نہی ہے۔
میں چاچو سے ملنے ان کے آفس پہنچا ان کو اپنا تعارف کروایا تو انہوں نے خوشی سے مجھے گلے لگا لیا۔
کہنے لگے میں تو خود یہ چاہتا ہوں کہ اپنے بھائی سے رشتہ مظبوط کر لوں،میں ملنا چاہتا ہوں مگر ڈرتا ہوں کہ کہی وہ مجھے ٹھکرا نا دیں جیسے میں نے پندرہ سال پہلے ٹھکرایا تھا۔
میرے بہت منانے کے بعد آخر کار چاچو اور چچی جان میرے ساتھ گاوں چلنے پر راضی ہو گئے۔
ابا بھی جیسے اسی انتظار میں تھے بھائی کو اتنے عرصے بعد دیکھ کر گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دئیے۔
ہماری شادی تو اسی دن فکس ہو گئی تھی مگر اب مسئلہ یہ تھا کہ تم کیسے راضی ہو گی اس شادی سے۔
تو میں نے ردا سے بات کرنے کا سوچا اور بہت منت کرنے کے بعد وہ مان گئی مجھے اپنا بھائی بنانے کے لیے۔
اس کے بعد میں تمہارے آس پاس رہا اپنی شاندار پرسنیلٹی سے تمہیں متاثر کرنے کے لیے مگر تم نے کبھی گھاس ہی ڈالی۔
پھر ابو کی اچانک دیتھ نے مجھے جھنجوڑ کر رکھ دیا۔
خیر اس کے بعد سہی معنوں میں ہمارے رشتے کی بات چلی۔۔۔انہی دنوں میں جب ہمارے رشتے کی بات چلی تو میں نے تمہیں پرپوز کیا جو تم نے فوراً ریجیکٹ کر دیا یہ کہتے ہوئے کہ بہت جلد تمہاری شادی ہے تمہارے کزن کے ساتھ۔
اس دن دل میں ایک امید سی جگی کہ تمہارے دل میں ایک مقام ہے ہمارے انجان رشتے کے لیے مگر جب میں نے تمہارے منہ سے رِمی کے لیے نفرت کا اظہار سنا تو دل دہل کر رہ گیا۔
تم خرم کو رِمی سمجھ بیٹھی تھی اور میں اس وقت چھت پر ہی تھا۔تمہارے جانے کے بعد خرم کو اپنے پلان میں شامل کیا تا کہ تمہارے دل سے کالے رنگ کے لیے نفرت ختم کر سکوں۔
اب جب تم گھر آئی تو مسئلہ یہ تھا کہ تمہارا سامنا کیسے کیا جائے۔
تو ایسے میں ردا کا یہاں ہونا بہت ضروری تھا،اسے بلایا بہت منت سماجت کی تب جا کر وہ آئی۔
پھر میں تمہارے سامنے آیا رِمی نہی ارمان بن کر اور اس پلان میں گھر کی ساری نوجوان پارٹی شامل تھی۔
مجھے خوشی ہوئی تمہارے تھپڑ کی آخر کار تمہارے دل سے کالے رنگ کے لیے نفرت ختم ہو ہی گئی۔
لیکن وہ جو بھاگنے کی بات کی تھی اس کا کیا؟
حرم اس کے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ چھڑا کر ناراضگی کا اظہار کرتی ہوئی ڈریسنگ کے سامنے جا رکی۔
وہ تو بس میں تمہں آزما رہا تھا دیکھنا چاہتا تھا تمہارے دل میں رِمی کا مقام دیکھنا چاہتا تھا۔
حرم گہری سانس بھر کر رہ گئی۔۔۔۔اتنا سب کچھ ہو گیا میرے ساتھ اور مجھے پتہ ہی نہی چلا وہ غصے سے چوڑیاں اتارنے ہی لگی تھی کہ ارمان نے اس کے ہاتھ تھام لیے اور ہونٹوں سے چھوتے ہوئے آنکھوں سے لگا لیے۔
I am really sorry,sorry for every thing.
اس کا مدہم سا لہجہ حرم کو نظریں جھکانے پر مجبور کر گیا۔
مجھے چینج کرنا ہے پیچھے ہٹو،وہ اپنے ہاتھ آزاد کروانے کی کوشش کرنے لگی مگر ارمان نے اسے بازو سے کھینچ کر خود میں بھینچ لیا۔
معاف تو کر دو مجھے اپنے رِمی کو۔۔۔
حرم نے شرما کر اس کے سینے میں منہ چھپا لیا۔۔کر دیا معاف۔
مگر ایک شرط پر سر اٹھا کر ارمان کی طرف دیکھا۔
ساری زندگی میری غلامی کرنی پڑے گی اور میری کسی بات سے انکار کرو گے۔
ارمان نے بھنوئیں سکوڑ کر اسے دیکھا مگر اگلے ہی پل مسکرا دیا اور حرم کی ناک دبائی مجھے ساری شرطیں منظور ہیں مگر کل سے۔
حرم نے مسکراتے ہوئے پھر سے سر اس کے سینے پر رکھ دیا۔
“کبھی انسان کو وہ بھی مل جاتا جس کا وہ تصور بھی نہی کر سکتا،اسی لیے کہتے ہیں کہ صبر کا دامن نہی چھوڑنا چاہیے۔۔۔اللہ پر مکمل بھروسہ ہو تو وہ ہماری سوچ سے بہتر نوازتا ہے”

ختم شدہ