Eid e Dil By Khanzaadi Readelle50070

Eid e Dil By Khanzaadi Readelle50070 Last updated: 10 July 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Eid e Dil By

Khanzaadi

رم اسے نظر انداز کرتی ہوئی کھانا کھانے میں مصروف ہو گئی۔ سب لڑکیاں متوجہ ہو سانیہ نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ کھانا کھانے کے بعد نماز پڑھنے کے بعد ساری لڑکیاں صحن میں جمع ہو جائیں کیونکہ مہندی لگانے والی آنی والی ہیں۔ پھر کوئی رہ گئی تو مجھے نہ کہنا۔۔۔سانیہ کی بات پر سب نے قہقہ لگایا۔ کھانا کھانے کے بعد سب نماز پڑھنے چلے گئے۔ نماز پڑھنے کے بعد ساری لڑکیاں صحن میں بچھی چارپائیوں پر بیٹھ گئیں۔ مہندی والی ایک لڑکی حرم کو مہندی لگانے لگی اور دوسری ردا کو۔۔۔۔باقی سب اپنی باری کا انتظار کرنے لگیں۔ کچھ ہی دیر میں مرد حضرات نماز ادا کر کے گھر واپس آ گئے۔ حرم کے بابا اور نوید آرام کی غرض سے اپنے اپنے کمروں کی طرف بڑھ گئے جبکہ رِمی اور ارمان وہی چارپائی پر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ ارمان باتیں تو رِمی سے کر رہا تھا مگر نظریں حرم کے ہاتھ پر لگنے والی مہندی پر ہی جمی تھیں۔ ارے بھئی رِمی کا نام کچھ اس انداز میں چھپانا مہندی میں کہ یہ ڈھونڈتا ہی رہ جائے۔۔۔سانیہ کی آواز پر سب کا قہقہ گونجا۔ حرم کی نظر رِمی پر پڑی تو وہ چپ چاپ فون میں مصروف تھا جبکہ ارمان کی نظریں خود پر جمی دیکھ کر وہ نظریں جھکا گئی۔ ارمان کی نظریں اسے کنفیوزڈ کر رہی تھیں،مگر وہ جب بھی نظریں اٹھا کر دیکھتی وہ اسی کو دیکھ رہا ہوتا۔ مرد حضرات کا یہاں کیا کام ہے؟ ردا نے ارمان کو حرم کو گھورتے پایا تو بولے بنا نہ رہ سکی۔ ہاں ہاں۔۔۔چلو رِمی جاو تم دونوں بھی اپنے اپنے کمروں میں،صبح نماز کے لیے جلدی اٹھنا ہے اور قربانی بھی کرنی ہے۔ تائی اماں کی آواز پر حرم نے پھر سے نظریں اٹھا کر ارمان کی طرف دیکھا۔ حرم کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر وہ مسکراتے ہوئے برآمدے کی طرف بڑھ گیا۔ رِمی بھی اندر کی طرف بڑھ گیا۔ حرم نے سکھ کا سانس لیا اور سکون سے مہندی لگوانے لگی۔ یہاں لکھ دوں نام آپ کے ہسبینڈ کا؟ مہندی والی نے پوچھا تو حرم چپ چاپ اسے گھورنے لگی۔ ہاں ہاں لکھ دو ادھر ہی۔۔۔۔حرم کی امی مسکراتے ہوئے بولیں۔ مگر ماما یہ تو عید کی مہندی ہے ناں؟ شادی کی مہندی تو بعد میں لگے گی ناں؟ نہی نہی۔۔۔۔اب شادی کی مہندی بھی یہی ہے۔اسی پر دوبارہ مہندی لگ جائے گی