Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

عیدِ دل
مکمل افسانہ(پارٹ 2)
از
خانزادی

میں تمہیں ایسا نہی کرنے دوں گا حرم،خود پر اتنا بڑا ظلم مت کرو۔
کہاں تم اور کہاں وہ۔۔۔۔تم دونوں میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔
تم پڑھی لکھی اور معاشرے سے قدم سے قدم ملا کر چلنے والی لڑکی ہو اور وہ ان پڑھ گوار ہے،اس گاوں سے باہر کی دنیا تو کبھی دیکھی بھی نہی ہو گی اس نے۔
تم کیسے زندگی گزار سکو گی اس کے ساتھ؟
وہ تمہیں بھی اپنے جیسا بنا دے گا،تم بھی بس اس گاوں تک محدود رہ جاو گی۔
تمہیں نہی لگتا تمہارا فیصلہ بہت غلط ہے؟
دیکھو میری طرف۔۔۔۔ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے پرفیکٹ ہیں۔
بس تمہاری ہاں کی ضرورت ہے مجھے،تم ایک بار ہاں کہہ دو باقی سب مجھ پر چھوڑ دو۔
ارمان اس کا ہاتھ تھام چکا تھا اور حرم کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گرنے لگے۔
“ارمان تم سہی کہہ رہے ہو،مگر میں کچھ نہی کر سکتی میرے گھر والے زبردستی میری شادی رمی سے کروانا چاہتے ہیں۔
میں بھی جانتی ہوں کہ رِمی میرے لائق نہی ہے وہ ان پڑھ ہے،اس کا کالا رنگ مجھے بلکل بھی پسند نہی ہے لیکن میں کچھ نہی کر سکتی۔۔۔۔وہ بھی ارمان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھے دل کا بوجھ ہلکا کرنے لگی۔
سب کچھ ممکن ہے حرم تم اگر میرا ساتھ دو!
حرم نے تیزی سے ارمان کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ آزاد کیا کیونکہ رِمی جا چکا تھا۔
رِمی ابھی کمرے کے دروازے پر ہی تھا کہ ارمان کے ہاتھ میں حرم کا ہاتھ دیکھ کر پلٹنے ہی لگا تھا مگر حرم کی آواز پر وہ رک گیا۔
اسے دیکھ کر حرم نے ارمان کے ہاتھ پر اپنا رکھا تا کہ اسے ایسا لگے جیسا ارمان اور میرے درمیان کوئی رشتہ ہو۔
حرم کی باتیں سن کر وہ چپ چاپ دروازے سے واپس پلٹ گیا۔
ارمان تم جاو یہاں سے اگر کسی نے مجھے تمہارے ساتھ دیکھ لیا تو کوئی بات بن جائے گی اور میں نہی چاہتی کہ میری وجہ سے کسی کو میرے ماں،باپ کی تربیت پر انگلی اٹھانے کا کوئی موقع ملے۔
میں انتظار کروں گا تمہارے فیصلے کے لیے۔۔۔۔ابھی ہمارے پاس تھوڑا وقت ہے۔اچھی طرح سوچ لو۔۔۔وہ بے دلی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔
حرم چلو یار کھانا لگ گیا ہے سب تمہارا انتظار کر رہے ہیں،کرن اسے بازو سے کھینچتے ہوِئے باہر لے گئی جہاں بڑی میز پر کھانا لگ چکا تھا۔
وہ بھی کرسی کھینچتی ہوئی ردا کے ساتھ بیٹھ گئی۔
اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے ارمان اور رِمی کو ایک ساتھ بیٹھے اور باتوں میں مصروف دیکھا۔
اسی پل ارمان نے نظریں اٹھا کر حرم کی طرف دیکھا اور ایک حقارت بھری نظر رِمی پر ڈالی۔
حرم اسے نظر انداز کرتی ہوئی کھانا کھانے میں مصروف ہو گئی۔
سب لڑکیاں متوجہ ہو سانیہ نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
کھانا کھانے کے بعد نماز پڑھنے کے بعد ساری لڑکیاں صحن میں جمع ہو جائیں کیونکہ مہندی لگانے والی آنی والی ہیں۔
پھر کوئی رہ گئی تو مجھے نہ کہنا۔۔۔سانیہ کی بات پر سب نے قہقہ لگایا۔
کھانا کھانے کے بعد سب نماز پڑھنے چلے گئے۔
نماز پڑھنے کے بعد ساری لڑکیاں صحن میں بچھی چارپائیوں پر بیٹھ گئیں۔
مہندی والی ایک لڑکی حرم کو مہندی لگانے لگی اور دوسری ردا کو۔۔۔۔باقی سب اپنی باری کا انتظار کرنے لگیں۔
کچھ ہی دیر میں مرد حضرات نماز ادا کر کے گھر واپس آ گئے۔
حرم کے بابا اور نوید آرام کی غرض سے اپنے اپنے کمروں کی طرف بڑھ گئے جبکہ رِمی اور ارمان وہی چارپائی پر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔
ارمان باتیں تو رِمی سے کر رہا تھا مگر نظریں حرم کے ہاتھ پر لگنے والی مہندی پر ہی جمی تھیں۔
ارے بھئی رِمی کا نام کچھ اس انداز میں چھپانا مہندی میں کہ یہ ڈھونڈتا ہی رہ جائے۔۔۔سانیہ کی آواز پر سب کا قہقہ گونجا۔
حرم کی نظر رِمی پر پڑی تو وہ چپ چاپ فون میں مصروف تھا جبکہ ارمان کی نظریں خود پر جمی دیکھ کر وہ نظریں جھکا گئی۔
ارمان کی نظریں اسے کنفیوزڈ کر رہی تھیں،مگر وہ جب بھی نظریں اٹھا کر دیکھتی وہ اسی کو دیکھ رہا ہوتا۔
مرد حضرات کا یہاں کیا کام ہے؟
ردا نے ارمان کو حرم کو گھورتے پایا تو بولے بنا نہ رہ سکی۔
ہاں ہاں۔۔۔چلو رِمی جاو تم دونوں بھی اپنے اپنے کمروں میں،صبح نماز کے لیے جلدی اٹھنا ہے اور قربانی بھی کرنی ہے۔
تائی اماں کی آواز پر حرم نے پھر سے نظریں اٹھا کر ارمان کی طرف دیکھا۔
حرم کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر وہ مسکراتے ہوئے برآمدے کی طرف بڑھ گیا۔
رِمی بھی اندر کی طرف بڑھ گیا۔
حرم نے سکھ کا سانس لیا اور سکون سے مہندی لگوانے لگی۔
یہاں لکھ دوں نام آپ کے ہسبینڈ کا؟
مہندی والی نے پوچھا تو حرم چپ چاپ اسے گھورنے لگی۔
ہاں ہاں لکھ دو ادھر ہی۔۔۔۔حرم کی امی مسکراتے ہوئے بولیں۔
مگر ماما یہ تو عید کی مہندی ہے ناں؟
شادی کی مہندی تو بعد میں لگے گی ناں؟
نہی نہی۔۔۔۔اب شادی کی مہندی بھی یہی ہے۔اسی پر دوبارہ مہندی لگ جائے گی۔
تم لکھ دو نام رِمی کا بیٹا۔۔۔۔تائی اماں کی آواز پر حرم دانت پیس کر رہ گئی۔
سب کے سب میرے ہی دشمن بنے بیٹھے ہیں وہ زیرِ لب بولی۔
اس کا دل چاہا کہ ابھی اپنا ہاتھ واپس کھینچ لے مگر نہی کر سکی اور نہایت خوبصورتی سے مہندی کے ڈیزائن میں اس کے ہاتھ پر رِمی کا نام لکھ دیا گیا اور وہ بس دیکھتی ہی رہ گئی۔
اس کے ہاتھوں اور پیروں کی مہندی مکمل ہوئی تو وہ بنا چپل پہنے چھت کی طرف بڑھی۔
آنکھوں سے آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہے تھے چپ چاپ چھت پر چلی گئی۔
کسی نے آگے بڑھ کر اس کے آنسو صاف کیے۔
وہ چونک کر پیچھے ہٹی،سامنے ارمان کھڑا تھا۔
میں جانتا تھا تم یہی آو گی،کب سے بیٹھا ہوں تمہارے انتظار میں۔
تم میرا انتظار کیوں کر رہے تھے اور تم نے مجھے ہاتھ کیوں لگایا ارمان؟
تمہیں کوئی حق نہی میرے آنسو پونچھنے کا!
یہ حق مجھے مل سکتا ہے اگر اگر تم چاہو۔۔۔
میں ایک بار پھر تمہیں سمجھانے کے لیے تمہارا انتظار کر رہا تھا۔
تو پھر کیا سوچا تم نے میرے بارے میں؟
میرا جواب اب بھی یہی ہے جو پہلے تھا،میں کچھ نہی کر سکتی۔
“یہ دیکھو میرے ہاتھوں پر یہ مہندی عید کی نہی ہے “رمی کے نام کی ہے،،
یہ دیکھو اس کا نام!
اب تو میرا پیچھا چھوڑ دو تم،،،،،بہتر یہی ہو گا کہ یہاں سے چلے جاو۔
ارمان اس کے ہاتھوں کی مہندی کو دیکھتے ہوئے چپ چاپ نیچے کی طرف بڑھ گیا۔
حرم وہی زمین پر بیٹھی آنسو بہانے لگی۔
کیا ہوا سب خیریت آپ ایسے کیوں بیٹھی ہیں؟
رِمی کی آواز پر حرم تیزی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
کچھ نہی بس ایسے ہی!
وہ نیچے کی طرف جانے لگی تب ہی وہ تیزی سے اس کے سامنے آ رکا۔
مجھے بات کرنی ہے آپ سے!
میں جانتا ہوں آپ اس شادی سے خوش نہی ہیں اور اس کی وجہ سے یہ میرا کالا رنگ۔۔۔۔
بہت دکھ ہوا مجھے آپ جیسی پڑھی لکھی لڑکی کے منہ سے اپنے لیے ایسے الفاظ سن کر،آج تک کبھی مجھے احساس کسی نے یہ احساس دلایا ہی نہی کہ میرا رنگ کالا ہے۔
اگر کسی نے یہ احساس دلایا ہوتا تو شاید میں اپنا رنگ گورا کرنے کے لیے مختلف کریمیں استعمال کرتا جیسے دوسرے لڑکے اور لڑکیاں کرتے ہیں۔
آپ کی باتوں کے بعد مجھے یہ احساس ہوا بھی کہ میں ایسا کروں تا کہ میں آپ کی پسند بن جاوں۔
مگر پھر خیال آیا کہ اگر میں ایسا کر بھی لوں تو کیا پھر بھی میں آپ کے معیار پر پورا اتر سکوں گا یا نہی؟
یا پھر ایسا ہو کہ گورا ہونے کے بعد مجھے میں غرور آ جائے اور میں بھی آپ کی طرح “کالے لوگوں سے نفرت کرنے لگوں،،
کیا خیال ہے ایسا ہو سکتا ہے ناں؟
ایسا ممکن ہے کہ میں گورا ہو سکتا ہوں،مہنگی سکن کریمز،وائیٹننگ انجیکشنز اور سرجری سے ایسا ممکن ہے۔
ہے ناں ممکن؟
آپ تو پڑھی لکھی ہیں،معاشرے سے قدم سے قدم ملا کر چلنے والی آپ تو سب جانتی ہو گی۔
اور میں ٹہرا ان پڑھ،جاہل اور گاوں کی حدود تک محدود کالا سا لڑکا۔۔۔۔”کیا رنگ گورا ہونے کے باوجود بھی میں آپ کی توقعات پر پورا اتر سکوں گا”؟
میرا خیال ہے نہی۔۔۔۔؟
جانتی ہیں کیوں؟
“کیونکہ رنگ گورا ہونے کے بعد میرا دل کالا ہو جائے گا،بلکل ویسے جیسے آپ کا ہو چکا ہے،،
میرے دل میں بھی کالے لوگوں کے لیے نفرت اور حقارت پیدا ہو جائے گی جو میں ہرگز ہونے نہی دوں گا۔
میں جیسا ہوں ویسا ہی خوش ہوں۔
“تصویر کی تزلیل کرنے والا تصویر کی نہی دراصل تصویر بنانے والی کی تزلیل کرتا ہے،،
“مجھے کالے رنگ کے ساتھ میرے خدا نے پیدا کیا ہے اور میرے کالے رنگ پر تنقید کرنے والا دراصل خدا کی تخلیق پر تنقید کر رہا ہے،،
ابھی بھی وقت ہے آپ فکر مت کریں میں صبح ہی امی اور چاچو سے بات کرتا ہوں اس بارے میں،آپ زبردستی اگر مجھ سے شادی کر بھی لیں مگر میرے ساتھ کبھی خوش نہی رہ سکیں گی۔
اپنی بات مکمل کرتے ہوئے وہ تیزی سے نیچے چلا گیا۔
حرم وہی کھڑی رہ گئی۔
وہ منہ پر ہاتھ رکھے اپنی غلطی پر ششدرہ رہ گئی،سہی تو کہہ رہا تھا وہ ہم تصویر کی نہی بلکہ تصویر بنانے والی کی تذلیل کرتے ہیں اور مجھے اس بات کا اندازہ ہی نہی ہو سکا۔
بہت بڑی غلطی ہو گئی مجھ سے۔۔۔مجھے معافی مانگنی ہو گی رِمی سے۔
میں پڑھی لکھی ہو کر بھی وہ بات نہی جان سکی جو بات وہ “ان پڑھ ہو کر کر مجھے سمجھا گیا۔
وہ شرمندہ سی آنسو بہاتی ہوئی اپنے کمرے میں جا چھپی۔۔۔۔
احساسِ شرمندگی میں پوری رات آنسو بہاتی رہی،فجر کی اذان ہوئی تو آنسو پونچھتے ہوئے وضو کرنے چلی گئی۔
نمازِ فجر ادا کی اور دو نفل شکرانے کے ادا کیے کہ “اللہ نے اسے ہدایت بخشی،،
روتے اور گڑگڑاتے ہوئے خدا سے معافی مانگی اور اپنی ہتھیلی پر موجود رِمی کا نام دیکھ کر دل سے مسکرا دی۔
“یا اللہ مجھے یہ رشتہ دل سے منظور ہے،میرے اللہ میں تیرے فیصلوں کو سمجھنے سے قاصر ہوں میری عقل اتنی وسیع نہی کہ تیرے فیصلوں کو سمجھ سکوں،،
“یا اللہ مجھے ہدایت دے کہ میں صراطِ مستقیم پر چل سکوں اور اپنے دل میں اپنے شوہر کا مقام عالٰی بنا سکوں،،
آمین۔۔
وہ دعا مانگ کر تیار ہو کر نیچے پہنچی، وائٹ کلر کا خوبصورت ڈیزائینر ڈریس پہن کر سلیقے سے تیار ہوئی۔
سب کو سلام کیا اور عید مبارک بولا۔
آج اس کے چہرے کی مسکراہٹ اس کے اس شادی سے خوش ہونے کا منہ بولتا ثبوت تھی۔
مرد حضرات بھی نماز پڑھ کر واپس آ گئے۔آج سب نے ہی سفید کپڑے پہن رکھے تھے۔
سب نے مل کر یہ پلان بنایا تھا سارے گھر والے اس رنگ میں نکھرے نکھرے سے لگ رہے تھے۔
یہ ایک خوبصورت عید کی صبح تھی۔
تائی اماں نے سب کے لیے شیر خورمہ تیار کیا ہوا تھا جیسے ہی مرد حضرات نماز پڑھ کر آیا انہوں نے میز پر ناشتہ لگوا دیا۔
سب نے مل کر عید کا یہ میٹھا پکوان انجوائے کیا۔
سارے مرد حضرات قربانی کے لیے چلے گئے سوائے رِمی کے وہ فون پر کسی سے بات کرتے ہوئے چھت کی طرف بڑھا۔
حرم نے اسے اکیلے اوپر جاتے دیکھا تو اس کے سب سے چھپ کر اوپر چلی گئی۔
رِمی جیسے ہی کال بند کر کے واپس پلٹا حرم کو سامنے پایا۔
اچھا ہوا آپ مل گئے مجھے۔۔۔۔۔وہ سانس بحال کرتے ہوئے بولی۔
کوئی کام تھا؟
رِمی اسے نظر انداز کرتے ہوئے پھر سے فون میں مصروف ہوتے ہوئے لاپرواہی سے بولا۔
فکر مت کریں آج شام تک میں چاچو سے بات کر لوں گا۔
نہی۔۔۔۔۔کوئی ضرورت نہی آپ کو بات کرنے کی۔
میرا مطلب ہے کہ مجھے اس شادی سے کوئی اعتراض نہی۔۔۔وہ احساسِ شرمندگی سے نگاہیں جھکا گئی۔
میں نہی چاہتا کہ آپ یہ شادی کسی کے دباو میں آ کر کریں،آپ کو پورا حق ہے انکار کا۔
فکر مت کریں میں سب سنبھال لوں گا۔
نہی۔۔۔۔۔آپ ایسا کچھ نہی کریں گے مجھے اس رشتے سے کوئی اعتراض نہی ہے۔
اور میرے رنگ سے؟
آپ کے رنگ سے بھی کوئی اعتراض نہی ہے!
Sorry۔
میں نے آپ کا بہت دل دکھایا۔
ایک بار پھر سے سوچ لیں۔۔۔۔وہ ایک بار پھر سے بولا۔
جی مجھے کوئی اعتراض نہی،میں دل سے خوش ہوں اس رشتے کے لیے۔۔۔۔وہ اپنی بات مکمل کرتے ہوِے نیچے کی طرف بڑھی کیونکہ تائی اماں رِمی کو ہی پکار رہی تھیں۔

(جاری ہے)