Eid e Dil By Khanzaadi Readelle50070 Episode 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
عیدِ دل
مکمل افسانہ_(پارٹ 1)
از
خانزادی
حرم تم ابھی تک یہی بیٹھی ہو؟’بیگ کب پیک کرنا ہے۔سب لوگ تیار بیٹھے ہیں جانے کے لیے اور تم ابھی تک یہی بیٹھی ہو۔
آپی مجھے نہی جانا گاوں،آپ بابا سے کہہ دیں مجھے نہی کرنی یہ شادی۔
آہستہ بولو اگر بابا نے سن لیا تو اچھا نہی ہو گا۔
کیا اچھا نہی ہو گا آپی؟
تایا ابو کی دیتھ پر کیا چلے گئے ہم لوگ،انہوں نے تو ہم پر حق جتانا ہی شروع کر دیا۔
پتہ نہی کیا سوچ کر تائی اماں نے میرا رشتہ مانگ لیا اپنے نکمے،جاہل بیٹے کے لیے۔
مجھے نہی کرنی کسی جاہل اور گاوں والے سے شادی،ایسے لوگ بیوی کو اپنے پاوں کہ جوتی سمجھتے ہیں۔
آخر بابا کو یہ بات سمجھ کیوں نہی آ رہی؟
آپی آپ بات کریں ناں بابا اور ماما سے،آپ کی تو ہر بات مانتے ہیں بابا۔
میری ساری امیدیں اب بس آپ ہی سے جڑی ہیں۔
حرم پاگل ہو گئی تم؟
جیسا تم سمجھ رہی ہو ویسا کچھ نہی ہے۔رِمی بہت اچھا لڑکا ہے۔
ہاں آپی آپ کو تو سب ہی اچھے لگتے ہیں کیونکہ آپ خود بہت اچھی ہو اور آپ کو تو مل گیا ناں پڑھا لکھا،ہینڈسم شوہر مگر میری دفعہ سب کو وہ رِمی ہی نظر آیا۔
وہ جس کا کمپلیکشن توے سے زیادہ کالا ہے۔کالے رنگ کے ساتھ تو گزارا کر بھی لیتی میں مگر اس کی لینگویج۔۔۔۔مجھ سے نہی ہو گا یہ سب۔
آپی میں بتا رہی ہوں مجھے بچا لیں ورنہ اچھا نہی ہو گا۔
تمہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے حرم،شادی میں تین
دن رہ گئے ہیں اور تم عجیب ضد لیے بیٹھی ہے۔
اب میں تمہاری ایک بھی بات نہی سنوں گی جلدی سے تیار ہو جاو اور اپنا بیگ لے کر نیچے پہنچو۔
آج سعودیہ میں عید ہے اور کل پاکستان میں،ہمیں آج رات تک فیصل آباد پہنچنا ہے۔
نوید بھی آ گئے ہیں اور پھوپھو بھی،صرف تمہاری شادی ہی نہی ہمیں بکرا عید بھی منانی ہے۔میں جا رہی ہوں منیب اٹھ گیا ہے شاید،امید ہے اب مجھے واپس آنے کی ضرورت نہی پڑے گی اور تم خود ہی نیچے آ جاو گی۔
مریم اسے ڈانٹ کر کمرے سے باہر نکل گئی۔
مطلب میری دھمکی کا بھی کوئی اثر نہی ہوا آپی پر،وہ دونوں ہاتھوں سے سر تھام بیڈ پر بیٹھ گئی۔اس سے تو اچھا تھا کہ میں گاوں جاتی ہی نا۔
اچھا ہی ہوتا ہماری صلح نہ ہوتی تائی اماں سے،برسوں سے چلتی لڑائی میری قربانی پر ہی ختم ہونی تھی۔
مجھے تو ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ عیدِ قربان نہی میری قربانی والی عید ہے۔
رمی۔۔۔۔۔۔۔میں تمہیں چھوڑوں گی نہی،جینا حرام کر دوں گی تمہارا اور پھر دیکھنا تم خود اس شادی سے انکار کر دو گے۔
اب اس کے سوا اور کوئی حل نہی ہے میرے پاس،وہ بوجھل قدموں کے ساتھ الماری کی طرف بڑھی اور اپنا بیگ پیک کرنے لگی۔
بیگ پیک کیا اور تیار ہو کر نیچے پہنچ گئی۔بیگ گھسیٹتی ہوئی گاڑی کے پاس لے گئی۔
ڈرائِینگ روم میں گئی پھوپھو اور ان کی فیملی سے سلام کیا اور وہی بیٹھ گئی۔
ہو گئی تیاری تمہاری تو چلیں،کرن جو کہ اس کی بچپن دوست اور پھوپھو کی بیٹی ہے۔
وہ حرم کے پاس آ بیٹھی،اتنی دیر کیوں لگا دی تم نے؟
لگتا ہے بہت دل سے تیار ہوئی ہو،وہ تو ہونا ہی تھا آخر کو پیا گھر جو جا رہی ہو۔
رِمی بہت بے چینی سے انتظار کر رہا ہو گا اپنی حرم کا،وہ حرم کو تنگ کرنے کا کوئی بہانہ نہی چھوڑتی تھی۔
حرم نے اسے گھورا اور اس کے پاوں پر اپنا پاوں رکھ کر دبایا،تم میری دوست ہو یا دشمن؟
دشمن۔۔۔۔مممیرا مطلب دوست ہوں یار،پلیز حرم اپنا پاوں ہٹاو بہت درد ہو رہا ہے میرا پاوں زخمی ہو جائے گا۔
حرم نے مسکراتے ہوئے ہاتھ ہٹا دیا لیکن پھر سے اس نے چہرہ لٹکا لیا،وہ اس شادی سے خوش نہی تھی اس بات کا احساس بس کرن کو ہی تھا۔
سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔حرم نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسے حوصلہ دیا۔
ہاں جی تو ہو گئے سب تیار،حرم کے بابا بولے تو سب مسکراتے ہوئے اپنی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔
پھوپھا جی کی گاڑی میں کرن اور اس کی ماما تھی اور نوید اپنی گاڑی میں اپنے بیٹے منیب اور بیوی مریم کے ساتھ تھا۔
آخری گاڑی میں حرم اور اس کے ماما،بابا تھے۔گھر کو اچھی طرح بند کرتے ہوئے وہ لوگ گھر سے روانہ ہو گئے۔
چند گھنٹوں کی مسافت کے بعد وہ لوگ اپنے آبائی گاوں پہنچ گئے۔
گھر میں ان کا استقبال گلاب کی پتیوں سے کیا گیا۔
حرم بس چپ چاپ سر جھکائے سب کو سلام کرتی گئی۔
میری پیاری بیٹی۔۔۔۔تائی اماں اس کا ماتھا چومتے ہوئے بولیں۔
ہونہہ۔۔۔۔یہ پیاری بیٹی آپ کو پہلے تو یاد نہی تھی تائی اماں جی،جب اپنے بیٹے کے لیے کوئی اور لڑکی نہی ملی تو مجھے ہی قربانی کا بکرا سمجھ لیا آپ نے۔۔وہ دل ہی دل میں جلی،کٹی سناتی رہی اور چہرے پر زبردستی مسکراہٹ سجائے سب کے ساتھ بیٹھ گئی۔
بھابی رِمی کہاں ہے نظر نہی آ رہا؟
حرم کو اپنی ماما کے پوچھا ہوا سوال کسی کانٹے کی طرح چُبا وہ کسی صورت بھی ابھی اس کا سامنا نہی کرنا چاہتی تھی۔
وہ باہر گیا ہے شاید کسی کام سے،جلدی آ جائے گا۔
اماں کھانا لگا دیا ہے آ جائیں آپ سب،یہ رِمی کی بڑی بہن سانیہ تھی۔
آ جاو بھئی سب کھانا کھانے چلیں۔۔۔۔تائی اماں کی آواز پر سب ڈائینگ ٹیبل کی طرف بڑھ گئے۔
کرن زبردستی حرم کو بازو سے کھینچتے ہوئے اندر کی طرف بڑھی مگر صحن سے گزرتے ہوئے حرم کی نظر چھت تک گئی اور وہ رک کر اوپر دیکھنے لگی۔اسے ایسا لگا جیسا کوئی تھا وہاں۔
کیا ہوا رک کیوں گئی؟
کرن بھی اوپر کی طرف دیکھنے لگی۔
کچھ نہی مجھے ایسے لگا جیسے کوئی مجھے دیکھ رہا تھا اور جیسے ہی میں نے اوپر دیکھا وہ پیچھے ہٹ گیا۔
تمہیں دیکھ رہا تھا’کرن معنی خیز انداز میں بولی۔
میرا مطلب ہمیں۔۔۔۔ہم سب کو دیکھ رہا تھا،حرم اسے گھوری ڈالتے ہوئے بولی۔
چلو اب دیر ہو رہی ہے۔۔۔وہ تیزی سے اندر کی طرف بڑھی اور اس کے پیچھے کرن بھی اندر کی طرف بڑھ گئی۔
کھانا کھانے کے بعد وہ سب لوگ واپس صحن میں آ کر چارپائیوں پر بیٹھ گئے۔
تھوڑی دیر بعد ہی مغرب کی اذان ہونے لگی،حرم کے بابا،نوید اور زبیر(سانیہ کا شوہر) وہ سب مسجد کی طرف بڑھ گئے۔
حرم آو تمہیں تمہارا کمرہ دکھا دوں،سانیہ کی آواز پر حرم نے اپنی ماما اور آپی کی طرف دیکھا۔
وہ دونوں مسکرا دیں اور حرم سے جانے کو کہا۔
میں بھی ساتھ چلتی ہوں،کرن بھی ان کے پیچھے چل دی۔
وہ تینوں اوپر والے پورشن کی طرف بڑھیں۔
ویسے تو یہ تمہارا کمرہ ہے لیکن اس کمرے میں آنے کے لیے تمہیں تھوڑا انتظار کرنا ہو گا۔
مطلب یہ کمرہ رِمی بھائی کا ہے۔۔۔کرن مسکراہٹ دبائے بولی۔
ہاں یہ رِمی کا کمرہ ہے،سانیہ بھی مسکراتے ہوئے بولی۔
حرم کو اس نام سے نفرت سی ہونے لگی۔دل چاہا کہ ابھی یہاں سے کہی دور چلی جاوں۔
آپی پلیز مجھے میرا کمرہ دکھا دیں،حرم سنجیدگی سے بولی تو دونوں کی باتیں ختم ہوئیں۔
وہ دراصل مجھے نماز پڑھنی ہے اور دیر ہو رہی ہے،وہ اپنی غلطی پر شرمندہ ہوتے ہوئے بولی۔
سانیہ نے اسے کمرہ دکھا دیا تو وہ نماز پڑھنے چلی گئی۔
نماز پڑھنے کے بعد وہ کمرے سے باہر آئی اور چھت کی طرف بڑھ گئی۔
چھت پر کھڑی وہ نیچے صحن میں دیکھنے لگی جہاں سب باتوں میں مصروف تھے۔
رِمی۔۔۔۔او رِمی
اس کی نظر تائی اماں پر پڑی،وہ رِمی کو پکار رہی تھیں۔
ابھی تو ہمارے ساتھ ہی تھا وہ،پھر سے کہاں چلا گیا ممانی جان؟
نوید مسکراتے ہوئے بولا۔
پتہ نہی چلتا اس لڑکے کا کبھی یہاں تو کبھی وہاں،شادی ہونے والی ہے مگر پتہ نہی یہ لڑکا کب سدھرے گا۔
جی۔۔۔۔برآمدے سے ایک لڑکا بھاگتا ہوا آیا۔
حرم کا سارا دھیان اسی کی طرف تھا مگر وہ اس کا چہرہ نہی دیکھ پا رہی تھی۔
کب سے آوازیں دے رہی ہوں مگر مجال ہے کہ کوئی جواب دے۔
ارے بھئی قصائی کا کیا بنا؟
بکنگ ہوئی یا نہی۔۔۔۔عید ہے کل اور شادی والا گھر ہے سو کام نپٹانے ہیں مگر تم لوگوں کو اپنے کاموں سے ہی فرصت ہی نہی ہے۔
جی میں ابھی فون کرتا ہوں قصائی کو آپ بے فکر ہو جائیں۔
وہ فون کان سے لگائے جیسے ہی پلٹا اس کی نظر اوپر کھڑی حرم پر پڑی،وہ اسے دیکھ کر نظریں جھکا کر گیٹ کی طرف چل دیا۔
اوپر کھڑی حرم کا دل چاہا کہ اپنا سر پیٹ لے یا پھر ابھی ٹیرس سے نیچے کود جائے۔
جیسا اس نے سوچا تھا رِمی بلکل ویسا ہی تھا۔اس کا رنگ کالا تھا جو حرم کو بلکل پسند نہی تھا۔
آج سے پہلے وہ رِمی سے بچپن میں ہی ملی تھی۔اس کی بچپن کی تصویر کے مطابق ہی اس کا تصور اپنے ذہن میں تیار کر رکھا تھا اس نے اور جیسے ہی رِمی اس کے سامنے آیا اس کی ساری امیدیں دم توڑ چکی تھیں۔
وہ ابھی تک وہی کھڑی تھی کہ وہ گیٹ سے واپس آتا دکھائی دیا اور برآمدے میں چلا گیا۔
حرم نیچے جانے کے لیے پلٹی ہی تھی کہ وہ اس کے پیچھے کھڑا تھا چپ چاپ دونوں بازو فولڈ کیے۔
اسلام و علیکم!
اس نے سلام کیا مگر حرم نے جواب دینے کی بجائے اسے گھوری سے نوازا۔
یہاں لائیٹس آن ہونے والی ہیں تو آپ سائیڈ پر ہو جائیں یا پھر ایسا کریں نیچے چلی جائیں ویسے بھی ساری چھت پر تاریں بکھری پڑی ہیں،جب حرم نے سلام کا جواب نہی دیا تو وہ لائیٹس آن کرنے میں مصروف ہو گیا۔
حرم کو اس کا اسے نظر انداز کرنا بہت برا لگا وہ غصے سے اس کی طرف بڑھی۔
“آخر تم سمجھتے کیا ہو خود کو؟
“تم کیا سمجھتے ہو میں تمہاری غلام بن جاوں؟
“جیسے تم چاہو ویسی بن جاوں’جہاں تم کہو گے بیٹھ جاوں گی اور جہاں کہو گے کھڑی ہو جاوں گی،وہ اس کا گریبان دونوں ہاتھوں سے کھینچتے ہوئے بول رہی تھی۔
یہ کیا بدتمیزی ہے؟
اس نے خود کو حرم کی قید سے آزاد کروایا۔
میں نے ایسا تو کچھ نہی کہا آپ سے،میں تو بس یہ کہہ رہا تھا کہ۔۔۔اس نے کچھ بولنا چاہا مگر حرم پھر سے بول پڑی۔
کیا کہہ رہے تھے تم ہاں؟
تم نے سوچا کسی بہانے دونوں گھرانوں کی صلح ہو جائے اور اس کے لیے تم نے نشانہ بنایا مجھے،کیونکہ تمہیں تو کوئی لڑکی ملنی نہی تھی تو تم نے میری زندگی عذاب بنانے کا فیصلہ کیا۔
مگر یہ تمہاری غلط فہمی ہے مسٹر رِمی!
“تم میری زندگی کیا برباد کرو گے’تمہاری زندگی کو عذاب میں بناوں گی،،
ابھی بھی وقت ہے تمہارے پاس انکار کر دو اس شادی سے ورنہ،انجام کے زمہ دار تم خود ہو گے۔
دیکھو تمہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے جیسا تم سوچ رہی ہو ویسا کچھ بھی نہی ہے۔۔وہ پھر سے اپنی صفائی میں بولنا چاہا مگر حرم نے اسے ہاتھ کے اشارے سے چپ ہونے کو کہا اور تیزی سے نیچے کی جانب بڑھ گئی۔
“اتنی نفرت۔۔۔بس کالے رنگ کی وجہ سے،کیا کالے لوگوں کی کوئی زندگی نہی ہوتی؟
کالے رنگ کو لے کر کتنی حقارت تھی اس کی نظروں میں میرے لیے۔۔۔اس لڑکی کو راہِ راست پر لانا ہی پڑے گا،،
وہ اپنے کمرے آ گئی اور دروازہ بند کیے آنسو بہانے لگی۔جس دن سے اسے اپنی اور رِمی کی شادی کا پتہ چلا اس دن سے اس کی یہی کیفیت تھی۔
سب سے الگ اپنے کمرے تک محدود ہو چکی تھی اور جب دل چاہتا بات بات پر آنسو بہانے لگتی۔
موبائل کی رِنگ ٹون بجی تو اس کی آواز پر وہ آنسو پونچھتی ہوئی اٹھ بیٹھی۔
سکرین پر ردا کا نمبر جگمگا رہا تھا۔
خود کو ریلیکس کرتے ہوئے اس نے کال پِک کی۔
ہاں ردا کیسی ہو؟
کیسی کی بچی۔۔۔۔کب سے کال کر رہی ہوں کہاں گُم تھی توں؟
مجھے ایڈریس سمجھ نہی آ رہا جلدی سے کسی کو فون دو یار۔
اچھا ٹھیک ہے رکو میں کسی سے بات کرواتی ہوں تمہاری،وہ دروازہ کھولتے ہوئے باہر کی طرف بڑھی۔
باہر صحن میں سامنے اسے بس نوید ہی نظر آیا۔
بھائی میری دوست کو یہاں کا ایڈریس سمجھا دیں پلیز۔
ہاں کیوں نہی لاو،وہ ردا کو ایڈریس سمجھانے لگے۔
ایڈریس سمجھانے کے بعد انہوں نے فون واپس حرم کو تھما دیا۔وہ شکریہ ادا کرتے ہوئے واپس اپنے کمرے کی طرف بڑھی۔
کس سے بات کر رہی تھی تم؟
کرن اس کے پیچھے ہی کمرے میں آ گئی۔
ردا آ رہی ہے اسے ایڈریس سمجھ نہی آ رہا تھا تو نوید بھائی سے بات کرائی اس کی۔
اچھا۔۔۔۔۔یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ویسے صبح تو مجھے کہہ رہی تھی ابھی نہی آ سکتی اور اب آ رہی ہے اگر آج ہی آنا تھا تو ہمارے ساتھ ہی آ جاتی مگر نہی یہ لڑکی اپنی ہی من مانیاں کرتی ہے۔
کوئی بات نہی کرن،وہ آ رہی ہے یہی بہت ہے۔
تم رو رہی تھی؟
کرن جو اب تک فون میں مصروف تھی اس کی رونی صورت دیکھ کر پریشان ہو گئی۔
کیا فرق پڑتا ہے میرے رونے یا ہنسنے سے،میری زندگی کا فیصلہ تو ہو چکا ہے۔
حرم آخر تم کب تک اس بات کو سر پر سوار رکھو گی۔
ماموں کا فیصلہ کبھی غلط نہی ہو سکتا۔
رِمی بہت اچھا لڑکا ہے۔میرا خیال ہے تمہیں اسے سمجھنے میں تھوڑا وقت لگے گا،اتنی جلدی ہار کیسے مان سکتی ہو تم؟
تم سے اس بات کی توقع بلکل نہی تھی مجھے،میں تو سمجھی بس تم اتنی حلدی شادی پر گھبرا گئی ہو،گھر والوں سے دور جانے کا سوچ کر پریشان ہو رہی ہو مگر یہاں تو سارا معاملہ ہی الٹ ہے۔
تم تو سیریس ہو چکی ہے۔بس کر دو اب۔۔۔صبح عید ہے اور تم منہ لٹکائے بیٹھی ہو۔
میری عید نہی ہے کوئی،میرا دل ٹوٹ چکا ہے۔اب اس دل میں کوئی عید نہی آنے والی۔۔وہ نہایت افسردگی سے بولی۔
ایک بار تمہاری شادی تو ہو جائے تو پھر تمہارے دل کی عید بھی ہو ہی جائے گی۔
مجھے امی آواز دے رہی ہیں میں آتی ہوں تھوڑی دیر تک،کرن کمرے سے باہر نکل گئی۔
دروازہ ناک ہوا اور ردا کمرے میں داخل ہوئی۔
حرم۔۔۔۔وہ اس سے لپٹ گئی۔
حرم بھی مسکرا دی۔۔۔۔راستے میں کوئی مشکل تو نہی ہوئی؟
نہی۔۔۔۔آسانی سے گھر مل گیا۔وہ کیا ہے ناں کہ میرے ہونے والے جیجو رِمی اس گاوں کے بہت مشہور انسان ہیں بس ان کا نام بتانے کی دیر تھی کہ لوگ گھر تک چھوڑ کر گئے۔
چھوڑو یہ سب تم بتاو پہلے کھانا کھاو گی یا چائے پیو گی،حرم رِمی کے ذکر پر چڑ سی گئی۔
وہ سب بعد میں پہلے اپنے بقیہ مہمانوں سے تو مل لو۔۔۔۔
کس سے؟
ردا کی بات پر حرم سوچ میں پڑ گئی۔
مطلب میرے بھائی سے۔۔۔۔ردا نے دروازے کی طرف اشارہ کیا تو حرم دروازے کی طرف پلٹی۔
ارمان کو سامنے دروازے سے ٹیک لگائے کھڑے دیکھ کر حرم کی حیرت کی انتہا نا رہی۔
ارمان۔۔۔۔
جی ہاں ارمان ہی ہوں،کب سے دروازے میں کھڑا ہوں مگر مجال ہے کہ میڈم نے پلٹ کر دیکھا ہو۔
وہ مسکراتے ہوئے کمرے میں داخل ہو گیا۔
حرم نے سوالیہ نظروں سے ردا کی طرف دیکھا۔
ردا نے کندھے اچکا دئیے۔۔۔ان کے بغیر اتنی دور آنے کی اجازت نہی مل سکتی تھی مجھے مام ڈیڈ سے وہ موبائل کان سے لگائے کمرے سے باہر نکل گئی۔
حرم بس شاکڈ سی کھڑی ارمان کو دیکھ رہی تھی۔
اب بیٹھ بھی جاو۔۔۔آخر کب تک مجھے یونہی گھورتی رہو گی۔
کیوں آئے ہو تم یہاں ارمان؟
حرم کی بات پر وہ مسکرا دیا۔
کمال ہے بھئی ہم دوست ہیں اور تم نے مجھے شادی میں انوائٹ ہی نہی کیا مگر میں بنا بلائے مہمان کی طرح خود ہی آ گیا۔
وہ حرم کے سامنے آ رکا۔
اسی وقت کمرے کا دروازہ ناک ہوا اور رِمی دروازے پر کھڑا تھا۔
یہ ارمان ہے میری دوست کا بھائی۔۔۔۔رِمی سے اس کا تعارف کروانے لگی۔
جی میں مل چکا ہوں۔۔۔رِمی نے مختصر جواب دیا اور واپس پلٹ گیا۔
یہ کون تھا؟
یہ میرا ہونے والا شوہر ہے،حرم نے لاپرواہی سے جواب دیا۔
اوہ۔۔۔۔تو یہ لڑکا ڈھونڈا ہے تمہارے گھر والوں نے تمہارے لیے۔
اگر اسی سے شادی کرنی تھی تو مجھ میں کیا کمی تھی حرم؟
کیا میں اس سے زیادہ ہینڈسم نہی ہوں،ادھر دیکھو میری طرف۔
کیا وہ مجھ سے زیادہ ہینڈسم ہے؟
اس کی خاطر تم نے میرا پرپوزل ایکسیپٹ نہی کیا۔
دیکھو حرم ابھی بھی وقت ہے اس شادی سے انکار کر دو،میں بات کروں گا تمہارے گھر والوں سے۔
بس کر دو ارمان۔۔۔۔۔تم یہاں میرے زخموں پر نمک چھڑکنے آئے ہو،یہ میرے ماں باپ کا فیصلہ ہے۔
تم ہوتے کون ہو مجھے روکنے والے؟
میں اس رشتے سے انکار نہی کر سکتی میرے ماں باپ کی عزت پر آنچ نہی آنے دوں گی میں۔
(جاری ہے)
