Dill Ghafil By Habza Maqsood Readelle50294 Dill Ghafil (Episode 4)
No Download Link
Rate this Novel
Dill Ghafil (Episode 4)
Dill Ghafil By Habza Maqsood
سب سے پہلے امی جان بولے ۔۔۔
ارے!!!!!!!
حنا بیٹا یار کیا ہے کمرہ الگ کر رہی ہو ؟؟؟؟
کومل کی جان خلق میں اٹک گئی تھی کے پتہ نہیں اب کیا کہ دے ؟؟؟؟؟؟
مگر حنا بس اتنا ہی بولی نہیں امی جی وہ پتہ ہے نہ اپ کو کے میں ساری رات “عبادت” کرتی ہو تو پھر کومل نیند کی کچی ہے ۔۔۔۔ساری رات تنگ ہوتی رہتی ہے ۔۔۔۔۔
اس لئے میں سوچا کے میں الگ کمرے میں سو جاتی ہو کیوں کے ایسی “عبادت” کا کیا فائدہ کے جس سے کوئی تنگ ہو !!!!!!
ہاں چلو یہ بھی اچھی بات ہے ۔۔۔۔۔
حنا کمرے میں آئی تو جلدی جلدی اس کے پیچھے آ گئی دیکھو میں تمھارے آگے ہاتھ جوڑتی ہو مجھے معاف کر دو ۔۔۔۔۔ائندہ کے بعد کبھی کوئی ایسی ویسی بات نہیں کرو گی ۔۔۔۔۔۔۔
میں تمہاری خاطر روزہ رکھ کے جھوٹ نہیں بول سکتی کومل مجھے گنہگار مت کرو ۔۔۔۔۔
میری ایسی عبادت کی بھی کوئی ضرورت نہیں اللّه پاک کو کے جس کے ساتھ اپنے سگے رشتوں سے جھوٹ بولو ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ بات ہے تو اللّه پاک کو ایسی بھی کوئی عبادت کی ضرورت نہیں ہوتی جس میں وہ اپنوں سے ناراض ہو ۔۔۔۔۔
حنا سوچ میں پر گئی تھی ۔۔۔۔
اگر کوئی ہمیں منا لیں تو ہرج ہی کیا ہے اگر معافی مانگ لیں تو ہرج ہی کیا ہے…. اور ہم اس کی غلطی بھول جاۓ تو کیا فرق پر جاۓ گا ۔۔۔۔۔
—!! معافی مانگنا کوئ بری بات نہیں ہے.
کسی کو معاف کر دینا! !
کسی کی غلطی کو درگزر کر دینا !!
اس سے انساں کا ظرف بڑھتا ہے… !!
معافی محبت کو پیدا کرتی ہے !!
— اگر کوئ ہمہاری وجہ سے ناراض ہے
ہمھاری وجہ سے کسی کا دل دکھا ہو
تمھاری کسی بات نے کسی کو چپ کروا دیا ہو
تمھارے لہجے نے کسی کا دل توڑ دیا ہو….
تو اس چیز سے شرمائیں مت! !
!! تو آج ہی کسی اپنے کو پیار سے گلے لگا کر اس کی غلطی بھول جاۓ ۔۔۔۔۔۔
اگر کوئ تمہاری وجہ سے ناراض نہیں ہے تو اسے اپنی مجبت کا اظہار کر دیں اسے احساس دلائیں کہ آپ کے لئے وہ کتنے قیمتی ہیں کتنے انمول ہیں !!!
ْاگر اتنا بھی نہیں کر سکتے تو کوئ بات نہیں!!
دیکھنا تم لوگوں کے بہت سے معاملات حل ہو جائیں گے!!!
سوچو ہو سکتا ہے اس نیکی کی بدلے اللہ تم سے راضی ہوجائے !!!
جس سے تم چاہت رکھتے ہو !!
تم اسے صْرور احساس دلاؤ کہ تم اس کے لئے کیا جذبات رکھتے ہو …
حنا کو یہ بہت پھلے کی پڑھی ہوئی باتیں یاد آ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
مگر !!!!! یہ بھی جانتی تھی کے کومل سدھر نہیں سکتی مگر اللّه پاک کی خوشی اسی میں ہے کے بھول جاؤ اور در گزر کرو ۔۔۔۔۔
روزے دار ہو کر اللّه کی بات بھول نہیں سکتی تھی ۔۔۔۔
کیوں کے کومل خود شرمندہ اور معافی کی طلبگار تھی پھر کیسے وہ چھوڑ دیتی ۔۔۔۔۔
دیکھی کومل تم نے دل بہت دکھایا ہے میرا مگر میرا روزہ میرا دین مجھے اس بات کی بلکل اجازت نہیں دیتا کے میں تمہیں معاف نہ کرو اور “غرور اکڑ” میں رہو ۔۔۔۔
اگر میں ایسا کرو گی تو اللّه پاک میری ساری “نیکی” میرے منہ پہ مار دے گے ۔۔۔۔
اس لئے پہلی اور آخری غلطی سمجھ کے معاف کر رہی ہو ۔۔۔۔۔
اور دیکھو علی کو کہو کے اپنے گھر والو سے بات کرے کیوں کے ایسے بلکل بھی سہی نہیں تمہارا یہ “تعلق” سمجھ لگ گئی ۔۔۔۔۔
ہاں!!!!!!
انشاللہ ضرور بات کرو گی ۔۔۔۔
اور اس سے بات بھی کم کر دو ۔۔۔۔۔کیا فائدہ ایسی محبت کا جو ماں باپ کو دھوکہ دینا سکھا دے جھوٹ بولنا پڑے ۔۔۔۔۔
اچھا حنا سہی ہے اب میں تھوڑا نہیں بہت زیادہ خیال کرو گی ۔۔۔۔۔۔۔
چلو پھر اپنا سامان سارا واپس لے کر اؤ ۔۔۔۔
نہیں پھر امی کو شک ہو گا کے شاید ہماری لڑائی ہوئی تھی مجھے خود جس چیز کی ضرورت ہو گی وہ میں لے اؤ گی ایک ایک کر کے ۔۔۔۔۔۔۔
بس تم اللّه کی رہ پہ چل پڑو باقی میں کچھ نہیں چاہتی ۔۔۔۔۔۔۔
_____________
آج جمعہ تھا اور نمازتسبیح ادا کرنی تھی ۔۔۔۔کومل کافی حد تک بہتر ہو گئی تھی ۔۔آج سحری کا بعد سونے کا وقت نہیں تھا ۔۔۔اس لئے کومل بھی حنا کے ساتھ لگی تھی سارے کام ختم کروا کے کومل کچھ دیر آرام کرنے اور حنا نہانے چلی گئی ۔۔
آ کر امی جی چچی جان کو اٹھایا کے اٹھ جاۓ کیوں کے آج حنا کو دیکھنے کچھ لوگ آ رہے تھے ۔۔۔۔
اور حنا کی کوشش تھی ہر کام وقت پہ ہو جاۓ ۔۔۔۔
تاکہ افطاری میں کوئی دیر نہ ہو ۔۔۔۔
حنا بھی اپنے بابا جان کی طرح بہت پابند تھی وقت کی ۔۔۔۔۔
کومل بھی اٹھ گئی۔۔۔۔اور نماز کی تیاری میں باہر نکل آئی ۔۔۔۔۔
حنا نماز پڑھا لو گی یہ میں بول رہی ہو جامعہ مسجد چلے جاتے ہے ۔۔۔۔
نہیں کومل میں پڑھا لو گی اچھی بات ہے گھر میں ادا ہو جاۓ ۔۔۔۔۔
چلو سہی ہے پڑھاؤ ۔۔۔۔۔
نماز ادا کر کے حنا کچھ دیر آرام کے لئے لیٹ گئی ۔۔۔۔
اور کومل موبائل لے کر بیٹھ گئی حنا نے “تیکھی نظر” سے دیکھا بولی نہیں ابھی کچھ بھی ۔۔۔۔
حنا یار بول رہا ہے نہ علی گھر بات کر لو گا بس تمہارا رشتہ ہو جاۓ پھر علی پہ زور دو گی کے اپنے گھر والوں کو بیج دو ۔۔۔۔۔۔
حنا منہ پھیر کر لیٹ گئی کومل نے موبائل اوپن کیا ساتھ ہی علی کے پیار بھری غزل ملی ۔۔۔۔۔
جب کانچ اٹھانے پڑ جائیں،تم ہاتھ ہمارے۔۔۔۔۔۔ لے جانا، جب سمجھو کہ کوئی ساتھ نہیں تم ساتھ ہمارا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لے جانا،۔جب دیکھو کے تم تنہا ہو،اور راستے ہیں دشوار بہت،۔تب ہم کو اپنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہہ دینا بے باک سہارا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لے جانا،جو بازی بھی تم جیتو گی ۔۔ جو منزل بھی تم پاؤ گے ہم پاس تمہارے ۔۔۔۔۔۔۔۔ہوں نہ ہو۔ احساس ہمارا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لے جانا،۔اگر یاد ہماری آجائے۔۔تم پاس ہمارے آجانا،۔بس اک مسکان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں دینا پھر جان بھی چاہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔لے جانا
علی تھوڑی شرم کیا کرو کبھی ۔۔۔۔رمضان ہے اللّه اللّه کرو اور جمعہ پڑھنے نہیں گے تم ۔۔۔ہاں وہ بس جا ہی رہا تھا ۔۔۔۔ابھی تھوڑا وقت باقی ہے ابھی تو عورتوں نے مسجد خالی کی ہے ابھی مردوں کا انتظام تو ہو جانے دو ۔۔۔۔
________________
افطاری میں کچھ وقت باقی تھا حنا جلدی جلدی کباب اور شامی فرائی کر رہی تھی اور کومل سب چیزیں سیٹ کر رہی تھی ۔۔۔۔کیوں کے مہمان آ چکے تھے ۔۔۔۔ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے اور یہ ڈاائننگ حال میں سب رکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
بابا جان کے ساتھ سب آئے اور ساتھ علی کا دوست بھی تھا کومل پہ نظر پڑتے ہی بولا تم ۔۔۔۔۔۔۔نہ تسلی کے بعد ادھر رشتہ کر لے کوئی بات نہیں ۔۔۔۔۔
اتنا بول کر وہ لوگ خود ہی طلب رخصت تھے اور روکنے کا کوئی جواز نہیں تھا ۔۔۔۔
چپ چاپ سب اسے جاتا ہوا دیکھ رہے تھے بولنے کو کچھ بچا ہی نہیں تھا !!!!!!
