Dill Ghafil By Habza Maqsood Readelle50294 Dill Ghafil (Episode 1)
No Download Link
Rate this Novel
Dill Ghafil (Episode 1)
Dill Ghafil By Habza Maqsood
حنا یہ کیا تم ہر وقت “بی۔بی۔نمازن” بنی رہی ہو؟؟؟؟
کومل “نماز” اللّه پاک نے فرض کی ہے ۔۔ہم پہ۔۔۔
اگر ہم نماز وقت پہ ادا نہیں کرے گے تو کیسے “ثابت” ہو گا کے ہم اللّه پاک سے “محبت” کرتے ہے ۔۔۔۔
اور اگر!!!!!!
ہم اپنی محبت ثابت نہیں کرے گے تو ہمارا آخرت کا”ٹھکانہ” کبھی بھی اچھا نہیں ہو گا ۔۔۔
کومل اپنی بات مکمل کرتے کرتے بہت ناگواری سے حنا کے سلیپ۔لیس شرٹ اور تنگ پاجامہ دیکھ رہی تھی !!!!!
یہ اتنا برا کیوں دیکھ رہی ہو تم مجھے ؟؟؟؟
جب تم ایسا لباس پہنتی ہو تو کیا شرم محسوس نہیں ہوتی ؟؟؟؟؟
حنا یار یہ فضول باتیں مجھ سے نہ کیا کرو تم پتہ نہیں کیا ہو ۔۔۔۔
میں ایک “ضروری”سے آئی تھی ۔۔۔ضروری پہ خاصا دباوٴ ڈال کر کہا گیا تھا ۔۔۔
اور وہ ضروری کام میں جانتی ہو ۔۔۔۔میری طرف سے انکار ہے میں روز روز کسی “غیر محرم” سے ملنے نہیں جا سکتی ۔۔۔
تم میری دوست ہو یار سب سے اچھے والی پھر بھی انکار دیکھو کومل دوست ہونے کے ساتھ ساتھ تم میری چچا زاد بہن بھی ہو اور مجھے حد سے زیادہ پیاری ہو مگر میں کسی غلط کام میں تمہارا ساتھ نہیں دے سکتی !!!!!سوری!!!!!
دیکھو حنا آخری دفعہ چلی جاؤ پتہ پھر آگے رمضان ہے ۔۔۔۔علی کی دکان بند رہے گی پورا ایک ماہ مل نہیں سکو گی آج بہت مشکل سے امی کو راضی کیا ہے کے رمضان کے پہلے جمعہ کے لیا سوٹ لینا ہے جانے دے ۔۔۔۔۔yاور تمہارے ساتھ جانے پہ امی مانی ہے ۔۔۔دیکھو اب تم نہ کرو ۔۔۔۔۔
اچھا کومل سہی ہے مگر بات یاد رکھنا یا نہ ہو کے تمہاری ان حرکتوں کی وجہ سے میں تنگ آ کر کسی دن چچی جان کو بتا دو ؟؟؟؟؟؟
ہاۓ یار!!!!! ایسا ظلم نہ کرنا ۔۔۔۔
مجھے میرا اسلام یہ درس دیتا ہے کہ “گناہ” سے “نفرت” کرو ۔۔۔۔ گناہ کرنے والے سے نہیں اپنی آخری حد تک کوشش جاری رکھو کے وہ “گناہ”چھوڑ کر ۔۔۔
اللّه پاک کی راہ اپنا لے۔۔۔۔۔
مگر میں جتنا سمجھاتی ہو تم اتنا ہی گناہ کی طرف بڑھتی جا رہی ہو ۔۔۔۔
اگر علی اچھا ہوتا تو وہ کبھی دیر نہ کرتے اپنے گھر بات کرنے میں وہ بس تمہیں دھوکہ دے رہا ہے ۔۔۔
وقت گزاری کر رہا ہے ۔۔۔
حنا فضول باتیں نہ کرو اور چلو میں پانچ منٹ میں آئی۔۔۔۔
کومل چلی گئی۔۔۔ اور حنا ایک ٹھنڈی “اہ” بھر کر رہ گئی ۔۔۔۔۔
کومل پہ غصہ بہت آتا تھا مگر کیا کرتی بچپن کی دوست نما بہن تھی ۔۔۔خود بھی اکلوتی تھی اور کومل بھی ۔۔۔۔بچپن سے لے کر آج تک کوئی بھی بات ایک دوسرے سے نہیں چھپائی تھی دونوں نے یہ تو بس علی تھا جو ان دونوں کے درمیان “بحث” کا “باعث” بن جاتا تھا اکثر ۔۔۔۔
یہ بھی کالج کے آخری سال کسی منحوس لمحے کومل کو بھا گیا تھا پھر “سونے پہ سوہاگہ” کالج ختم ہوا تو مین بازار میں اس نے اپنی “دہی بھلے” کی شاپ ڈال لی ۔۔۔
اب کومل شاپنگ کا بہانہ بنا کر ملنے کی تدبیر بنا لیتی ۔۔۔۔۔۔اور جانا ہمیشہ ساتھ حنا کو پڑتا کیوں کے نہ اس کا کومل کے سوا تھا کوئی نہ کومل کا حنا کے سوا تھا کوئی ۔۔۔۔۔کومل کو بچپن ہی سے فیشن ایبل ہونے کا شوق تھا اور حنا کو اتنا ہی اسلامی بن کر رہنے کا شوق تھا ۔۔۔اور وہ کومل کو بھی یہی سمجھاتی رہتی مگر وہ ہر وقت ماڈل بن کر رہتی ۔۔۔۔ابھی بھی شارٹ شرٹ پلازو اور مختصر سا ڈوپٹہ لے کر حاضر تھی ۔۔۔۔
تم یہ پہن کر جاؤ گی؟؟؟؟؟؟
ہاں!!!!!! تو کیا برائی ہے اس میں تم بنو “بی۔بی برقعن” میں تو ایسے ہی پیاری لگتی ہو ۔۔۔۔
اچھا پھر تھوڑا میک۔اپ تو کم کر لو ایسے کسی شادی میں جا رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔
یار منہ بند رکھو امی نے سن نہ آواز تو مجھے جانے نہیں دے گی نکلو جلدی کرو باقی باتیں راستے میں سنا لینا ۔۔۔
علی کی شاپ پہ آ کر حنا ذرا سے فاصلے پہ بیٹھ گئی اور کومل اس کے ساتھ چیئر پہ حنا کو اتنا قریب دونوں کو دیکھ کر بہت غصہ آ رہا تھا مگر ابھی چپ تھی ۔۔۔۔۔
علی تھا بہت کنجوس اپنی شاپ تھی کھانے پینے کی مگر مجال ہے جو کوک کے سوا کبھی کچھ اورکھلایا ہو بات کھانے کی نہیں بات دل کی تھی۔۔۔بات “چاہ” کی تھی ۔۔۔جو کے علی میں زرہ بھر بھی نہ تھی ۔۔۔۔لیکن پتہ نہیں کیوں کومل کیوں اتنی پاگل ہوتی جا رہی تھی “ماں” سے جھوٹ بولتی بس علی کی وجہ سے ورنہ آج تک کوئی جھوٹ نہیں بولتی تھی دونوں کیوں کے اپنے اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہونے کا ناتے ان کے پیار کی اکلوتی وارث تھی ۔۔۔۔ماں باپ نے بھی کبھی کوئی “سختی” نہیں کی تھی ہمیشہ اپنی بیٹی کی خوش میں خوش تھے ۔۔۔۔
حنا کو وہ دن یاد آ رہا تھا جب کالج کے آخری دن چل رہے تھے ۔۔۔۔علی روز ہی اپنے ایک دوست کے ساتھ ان کے راستے میں پایا جاتا کبھی کوئی “طریفی جملہ” کبھی کوئی گانا گنگنا رہا ہوتا ۔۔۔حنا کو چڑ چڑتی اس پہ مگر کومل کو بہت اچھا لگتا اسی طرح بہت دن گزر گے ۔۔۔۔ایک دن اس نے ہمت کر کے خط کومل کی فائل پہ رکھ دیا ۔۔۔کومل چپ رہی مگر حنا نے خط واپس کرنا چاہا جو کے کومل نے کرنے نہیں دیا ۔۔۔۔۔اسی بات کو لے کر کومل اور حنا میں پہلی لڑائی ہوئی جو کے تین سے چار دن چلی ۔۔۔۔پھر خود ہی دونوں سہی ہو گی ۔۔۔حنا نے لاکھ کوشش کی کے ان دونوں کی بات ختم ہو جاۓ ۔۔۔
مگر !!!!!!!
کومل نے بہت “قسمیں” “وعدے” دے کر اسے کچھ بھی گھر بتانے سے روکا ۔۔۔۔۔
تو بس حنا کی چپ سے یہ سلسلہ چل نکلا روز خط کا “تبادلہ” ہوتا کبھی كبهار ایکسٹرا کلاس کا جھوٹ بول کر کر علی کے ساتھ کہی گوم پھر آتی اور حنا کالج گیٹ پہ انتظار کرتی رہتی ۔۔۔۔کبھی کبھی غصے میں سوچتی کے گھر بتا دو مگر پھر اس کی قسمیں وعدے یاد کر کے چپ رہنے پہ مجبور ہو جاتی ۔۔۔۔۔۔
پتہ نہیں کہا سے کہا سوچیں جا رہی تھی ۔۔۔۔
