Dill Ghafil By Habza Maqsood Readelle50294 Dill Ghafil (Episode 3)
No Download Link
Rate this Novel
Dill Ghafil (Episode 3)
Dill Ghafil By Habza Maqsood
بہت ڈرتے ڈرتے آواز دی چچی جان اپ یہاں ایسے کیوں کھڑی ہے ؟؟؟؟؟
بیٹا یہ کومل پتہ نہیں کیا کرتی پھرتی ہے کب سے دروازے پہ کھڑی ہو کھول ہی نہیں رہی ۔۔۔۔
اتنے میں ہی کومل نے دروازہ کھول کے پوچھا کیا ہے ؟؟؟؟؟
کیا مطلب کیا ہے دروازہ بند کرنے کا کوئی مقصد ہے تمہارا !!!!!
امی میں بس اسی لئے دروازہ بند کیا تھا کے سو جاؤ اور سحری میں آرام سکون سے اٹھ جاؤ مگر اپ کو پتہ نہیں کیا ہے ۔۔۔۔۔۔
مجھے کچھ بھی نہیں ہے بس یہ بولنے آئی تھی وہ بیچاری بچی اكيلی لگی ہے کچن میں چلو تم بھی کام کرو کوئی ساتھ لگ کے دونوں ۔۔۔۔
امی مجھے گھر کے کام بلکل نہ کہا کرے اپ کو پتہ ہے نہ میرے ہاتھ خراب ہو جاۓ گے ۔۔۔۔۔
شاباش ہے بیٹا وہ جو لگی ہے اكيلی اس کے ہاتھ نہیں خراب ہو رہے ۔۔۔۔۔۔
امی اسے شوق ہے اس لئے لگی رہتی ہے اب میں کیا کرو ۔۔۔۔۔۔
چلو کومل تم بھی ساتھ اؤں کچن میں واقعی!!
چچی سہی بول رہی ہے میں اكيلی تو ساری رات اكيلی لگی رہی تو کام تو سحری تک ختم نہیں ہو گے ۔۔۔۔
چچی جان چلی گئی اور کومل بولی پتہ بھی ہے نہ میں بات کر رہی ہو پھر بھی ماما کے سامنے کیوں بول رہی ہو تو کیا کرو ادھر کونسا کوئی کام ہو رہا ہے سکون سے تمہاری ہی فکر لگی ہے اگر کسی نے موبائل دیکھ لیا تو تمہارے ساتھ ساتھ میری بھی جان نکال دے گے ۔۔۔۔۔
حنا یار بات پتہ کیا ہے ۔۔۔۔
*” جب ہم کِسی اِنسان سے جُڑتے ہیں تو پھر اپنے اندر اُس کے لِیے اک خاص جگہ بنا لیتے ہیں ، جب کوئی خاص ہونے لگتا ہے تو ہماری بہت سی چیزیں خود بخود اُن کی ہو جاتی ہیں ، ہمارا نام ، ہمارا وقت ، ہماری پسند اور ہمارا رنگ بنا بولے سب اُن کا ہو جاتا ہے ، کِسی کو بتائے بغیر اُس ایک شخص کے سحر میں اِتنا دور نِکل جاتے ہیں کہ ؛ خود کو بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ ہم کتنی دور نکل گے ہے ۔۔۔۔اس لئے کوئی ڈر خوف نہیں ہوتا کسی کا ۔۔۔۔میں بھی “بھینس کے آگے بین” بجا رہی ہو ۔۔۔۔کومل نے اپنا ماتھا پیٹ لیا تھا ۔۔۔۔۔۔
یار تم جاؤ بس آج بات کرنے دو پھر نہیں کرو گی ۔۔۔۔
کومل فضول نہ بولو عشاء بھی ادا کرنی ہے نماز تراویح بھی ادا کرنی ہے اتنا وقت نہیں ہے پاس میرے ۔۔۔۔۔
کومل بہت منہ بسور کر آئی تھی ۔۔۔
مگر آکے چپ چاپ بیٹھ گئی تھی کسی کام کو ہاتھ نہیں لگا رہی تھی ۔۔۔۔۔
مگر حنا کو سکون تھا کے چلو اتنی فکر تو نہیں ہے نہ کے کوئی بات کرتے ہوۓ سن ہی نہ لے ۔۔۔۔۔
________________
اسی طرح رمضان گزر رہا تھا ۔۔۔۔کومل کی سحری افطاری اپنے کمرے میں ہوتی ۔۔۔۔اور حنا کی فکروں میں ہر پل یہی دھڑکا لگا رہتا کہی کوئی آواز نہ سن لے یہ کوئی موبائل نہ دیکھ لے ۔۔۔۔۔کیا جواب دو گی میں گھر والوں کو کیوں میں چھپاأئی اس کی غلط حرکت کیوں نہیں بتایا ۔۔۔۔
پتہ نہیں کیوں کومل اتنی بےپروا ہو گئی تھی یہ پھر تھی ہی ایسی کے پہلے موبائل نہیں تھا اس لئے اتنا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔پہلے یہ ہوتا جب کبھی باہر جاتی تب گھنٹے أدھے گنٹھے کے لئے چلی جاتی ملنے اور حنا دور بیٹھی دیکھ رہی ہوتی ۔۔۔۔
جتنا لیٹ ہو جاتی کومل گھر آ کر کوئی نہ کوئی بہانہ کر دیتی ۔۔۔۔۔۔حنا چپ رہتی کیوں کے وہ جھوٹ بولنا پسند نہیں کرتی تھی وہ تو حنا کا اس فضول کام میں ساتھ دینا بھی پسند نہیں کرتی تھی مگر پتہ نہیں کیوں مجبور ہوجاتی تھی ۔۔۔۔آج بھی سحری کروا کے سب کو “نماز” ادا کرنے کے بعد “قرآن پاک” کی تلاوت میں مصروف تھی مگر کومل کی فضول باتوں اور ہسنے سے بیزار ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔بہت مشکل سے خود پہ ضبط رکھا ہوا تھا اپنی تلاوتمکمل کر کے اٹھی اور سونے لیٹ گئی مگر بات پھر وہی ۔۔۔۔۔کومل آخری وارننگ دے رہی ہو میں چچا جان کو سب بتا دو گی خود پہ کنٹرول کر لو ۔۔۔کچھ رمضان کا ہی خیال کر لو شرم حیا کیوں ختم ہو گئی ہے تمہاری ۔۔۔۔
حنا زیادہ شریف نہ بنا کرو خود تو میں کہتی ہو کے تم بہت ڈرتی ہو بہت شرم حیا ہے تم میں ۔۔۔۔۔
میں کونسا کام کیا ہے ایسا جو میری شرم حیا ختم ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔تمہاری طرح نہیں ہو سمجھ لگی کے اپنے ماں باپ کی تربیت پہ حرف انے دو ۔۔۔۔۔۔
ان کی آواز اتنی اونچی ہو گئی تھی کے بابا جان اٹھ کر آ گے تھے کیا ہو گیا بیٹا (حیران پریشان سی أواز تھی)
آج سے پہلے تو کبھی کوئی لڑائی نہیں ہوئی تم دونوں میں تو پھر ۔۔۔۔۔۔۔
حنا کی آنکھیں نمکین پانیوں سے برھ گئی تھی جب کے کومل کی آنکھیں خوف پھیل گئی تھی ۔۔۔۔
حنا “کچھ بھی نہیں بابا جان” کہ کر چادر تان کر لیٹ گئی تھی اور کومل ۔۔۔۔۔۔تایا جان کچھ بھی نہیں وہ نہ بس تھوڑی بحث ہو گئی تھی ہماری کے یہ بول رہی تھی عید کا سوٹ میری پسند کا لو اور میں بول رہی ہو میری پسند کا ۔۔۔۔۔۔۔۔
بس اسی وجہ سے ۔۔۔۔
چلو سہی بچے مگر آہستہ آواز میں بولا کرو ۔۔۔۔۔
بہت بڑی ہو گئی ہو دونوں یہ باتیں زیب نہیں دیتی ۔۔۔۔۔جی تایا جان سہی ہے اپ بھی تھوڑا آرام کر لے پھر کام کا وقت ہو جاۓ گا ۔۔۔۔۔۔
تایاجان چلے گے تو ۔۔۔۔
کومل کو اپنی تلخ کلامی کا احساس ہو رہا تھا ۔۔۔۔
مگر اب کچھ بھی بولنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی چپ چاپ موبائل بند کر کے لیٹ گئی ۔۔۔
حنا اپنی بچپن کی سہیلی نما بہن کو کھونا بہت تکلیف دے رہا تھا .۔۔۔۔
تنہا ہونا یہ نہیں ہوتا کہ آپ کے پاس کوئی نہیں ہے تنہا ہونا دراصل یہ ہوتا ہے کہ سب آپ کے پاس ہیں لیکن آپ کا کوئی نہیں۔۔۔۔۔حنا کچھ ایسا ہی محسوس کر رہی تھیa سورج نکلنے کی دیر تھی کے حنا نے اٹھ کے ساتھ والا کمرہ سیٹ کرنا شروع کر دیا جب اپنا سامان اپنے مشترکہ کمرے سے اٹھانے لگی تو امی کے ساتھ ساتھ چچی جان بھی حیرانگی سے دیکھ رہی تھی کے یہ ہو کیا رہا ہے ۔۔۔
