Dill Ghafil By Habza Maqsood Readelle50294 Dill Ghafil (Episode 2)
No Download Link
Rate this Novel
Dill Ghafil (Episode 2)
Dill Ghafil By Habza Maqsood
کومل کو آواز دی اور چلنےکہا مگر وہ تو ایسے جیسے ؟اپنی جگہ پہ فکس ہو چکی تھی اٹھنے کا نام ہی نہ لے رہی تھی ۔۔۔۔
حنا کو خود ہی اٹھنا پڑا ۔۔۔۔۔کومل میرا خیال ہے کے اب چلنا چاہئے؟؟؟؟؟؟
ہاں وہ بس چند منٹ اور بیٹھ جاؤ پلیز !!!!!!
ارے سالی صاحبہ بیٹھ جاۓ ۔۔۔۔
مجھے ایسے فضول لقب نہ دیا کرو سمجھ لگی !!!!
اوہ برا مان گئی چلو جی معافی چاہتا ہو بس چند منٹ اور دے دے پھر چلےجائیگا ۔۔۔۔
حنا “لہوکےگھونٹ” بڑھ کر رہ گئی ۔۔۔
دل ہی دل میں بہت برا بھلا بول رہی تھی اور ساتھ صبر کر رہی تھی ۔۔۔۔
آخر کومل اٹھ ہی گئی ۔۔۔
مگر اس کے ہاتھ میں موبائل دیکھ کر حنا چپ نہ رہ سکی ۔۔۔۔
کومل یہ کیوں لیا ہے واپس کرو اگر کسی نے گھر میں دیکھ لیا تو ؟؟؟؟؟؟۔
یار اگر تم ساتھ دو تو کوئی بھی نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔۔
دیکھو کومل بہت غلط ساتھ دے رہی ہو میں تمہارا مگر اب اس سے آگے کوئی امید نہ رکھنا مجھ سے ۔۔۔۔
یار کیوں اپنا موڈ خراب کر رہی ہو فضول میں علی ایک اچھا لڑکا ہے اس نے خود مجھ سے کہا ہے کے میں بہت جلدی اپنے گھر بات کرو گا ۔۔۔۔۔
چلو سہی ہے یہ دیکھ لیتے ہے کے اس کا “بہت جلد” کب آتا ہے ۔۔۔۔۔
چلو اب کچھ خرید لے تاکہ امی کو پتہ ہو کے ہم شوپنگ کر کے آئی ہے ۔۔۔۔۔
نہیں کومل “عصر” پھلے ہی قضا ہو چکی ہے اب “مغرب” میں وقت پہ ادا کرنا چاہتی ہو گھر چلو ۔۔۔۔۔
مگر کیا کہو گی امی کو کچھ لیا کیوں نہیں ؟؟؟؟؟
میری بلا سے جو مرضی کہو مجھے نہیں پتہ ؟!!!!
اچھا!!!!!چلو بول دو گی کے کچھ پسند نہیں آیا اور “باجی نمازن”کی نماز لیٹ ہو رہی تھی اس لئے بنا کچھ لئے ہی لوٹ آئی ہے ۔۔۔۔۔۔
کومل کہا سے اتنے جھوٹ سوچ لیتی ہو تم ؟؟؟؟؟
ہاں تو جب تم ساتھ نہیں دو گی تو پھر جھوٹ ہو بولو گی نہ ۔۔۔۔۔۔۔
چلو سہی ۔۔۔۔۔
گھر آ کر سکون کا سانس لیا دونوں کی مائیں گھر نہیں تھی محلے میں کسی فوتگی میں گئی تھی ۔۔۔۔
کومل نے سکون کا سانس لیا اور حنا نے اللّه کا شکر ادا کیا کے اب مزید جھوٹ سے بچ گئی ہے ۔۔۔۔
کومل نے آرام سکون سے موبائل چیک کیا اور حنا کی نظر میں انتہائی واہیات غزل سنانا شروع کی جو ابھی علی کی طرف سے معصول ہوئی تھی ۔۔۔۔
مجھے خاموش راہوں میں تیرا ساتھ چاہیےدیکھ ۔
تنہا ہے میرا ہاتھ ——— تیرا ہاتھ چاہیے
مجھ کو میرے مقدر پر اتنا یقین تو ہے
تجھ کو بھی میرے لفظ میری بات چاہیے
میں خود اپنی شاعری کو کیا اچھا کہوں
مجھ کو تیری تعریف , تیری داد چاہیے
احساسِ محبت تیرے ہی واسطے ہے لیکن
جنونِ عشق کو تیری ہر سوغات چاہیے
تو مجھ کو پانے کی خواہش رکھتا ہے شاید
لیکن مجھے جینے کے لیے تیری ہی ذات چاہیے
یار اتنی اچھی ہے کوئی شعر بتاؤ جو اس کے جواب میں سینڈ کرو یار ۔۔۔۔
یہ سینڈ کیسے کرو گی ؟؟؟؟؟
واہ یار تم مجھے کیا سمجتی ہو میں سارا کچھ سمجھ کا آئی ہو ۔۔۔۔۔
تففف ہے تم پر کومل ۔۔۔۔۔۔
اگر زندگی میں کچھ اچھا کرو گی تو مجھے بتانا ضرور ؟؟؟؟؟؟
اور اب اپنی اس فضول چیز کو چھپا کر رکھنا اگر کسی کی بھی نظر پر گئی تو سچی میں کوئی جھوٹ نہیں بولو گی سب سچ سچ بتا دو گی اور اٹھ کے “نماز” ادا کرو۔۔۔۔۔۔
یار کیسے نماز پڑھو پتہ کیا ہوتا ہے میں جب چار فرض کی نیت کرتی ہو تو ایسا کھو جاتی ہو اپنے خیالوں میں کے دو رکعت ادا کر کے تو سلام پھیر لیتی ہو سمجھ ہی لگتی ۔۔۔۔۔نماز ہی نماز میں علی کو پکا رنے لگ جاتی ہو سمجھ ہی نہیں لگتی کیا کر رہی ہو ۔۔۔۔۔
توبہ استغفراللہ نعوذباللہ اللّه پاک کا وقت تو اچھا گزار لیا کرو بس اللّه کے ہاں اپنی حاضری سمجھ کر ۔۔۔۔
جاؤ تم دو حاضری اللّه کے ہاں غلط پڑھنے سے بہتر ہے میں پڑھو ہی نہ ۔۔۔۔۔۔
حنا کتنے ہی خاموش لمحے “تاسف” سے اسے ديكهتی رہی کیسی لڑکی ہے یہ؟؟؟؟؟؟؟
جواب کوئی نہیں چپ چاپ چلی گئی ۔۔۔۔۔
جا کے نماز ادا کر کے کچن کا رکھ کیا بہت امید تھی کے سحری ہو جاۓ گی سو اسی لئے رات کا کھانا اور سحری کا سوچا لیا جاۓ ۔۔۔۔۔ابھی انہی سوچو میں تھی کے چچی اور امی کی آواز آئی تو جلدی سے پانی لے کر باہر آئی تھی ۔۔۔۔ادھر ادھر کی باتوں کے بعد چچی جان نے پوچھا ۔۔۔۔۔۔۔حنا کومل کو سوٹ مل گیا؟؟؟؟
نہیں وہ نہ ۔۔۔۔۔۔
ابھی حنا کے منہ میں بات تھی کے کومل بول پڑی ۔۔۔۔۔
نہیں وہ نہ مجھے پسند نہیں آیا کوئی بھی تو سوچا “رمضان المبارک” کی نیو ورائٹی آئے گی تو پھر لے آؤں گی ۔۔۔۔۔۔
اتنے میں بابا جان اور چچا جان نے گھر کی دہلیز پار کی حنا نے نظر پڑتے ہی سلام کیا السلام علیکم ۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام !!!!
تمام اہل خانہ کو بہت بہت مبارک ہو رمضان کا چاند نظر آ گیا ہے صبح پہلا روزہ ہو گا اللّه پاک کے کرم سے ۔۔۔۔۔۔
رحمت کا عشرہ ہے اللّه پاک سب پہ اپنی رحمت اور کرم کی برسات کرے ۔۔۔۔۔
اور سب کام چھوڑ کر کوشش سب کی عبادت کی ہونی چاہئے یہ نہ ہو کے صبح اٹھ کے یہی بات ہو کے گھر کے کاموں کو لگ جاؤ سب خواتین۔ ۔۔۔۔۔
اچھا بابا جانی ایسا ہی ہو گا ۔۔۔۔
سب ایک دوسرے کو مبارک باد دینے لگے ۔۔۔۔۔
کومل نے بات سن کر کمرے کا رخ کیا اور حنا نے کچن کا ۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے ساتھ سحری کا بھی انتظام کرنا تھا ۔۔۔۔
بڑے سب بیٹھ کر خوش گپوں اور “رمضان المبارک”
کی ترتیب سیٹ کرنے لگے۔۔۔۔۔
حنا بہت اچھی طرح جانتی تھی کے کومل موبائل پہ لگی ہے ۔۔۔۔۔پتہ نہیں کیوں اس لڑکی کو کسی کا بھی کوئی ڈر خوف نہیں ہے ۔۔۔ہر کام بنا کسی خوف کے اپنی مرضی کرنے لگی رہتی ہے ۔۔۔۔۔ہاتھوں کے ساتھ ساتھ حنا کا دماغ بھی بہت تیزی سے چل رہا تھا ۔۔۔اگر کسی نے کومل کو دیکھ لیا تو؟؟؟؟؟؟
ایک “سوالیہ نشان” پھ حنا آ کر رک گئی تھی ۔۔۔۔
تیزی سے کمرے کی طرف بڑھی اور پہلے سے چچی جان کو کھڑا دیکھ کر اس کی جان نکل گئی تھی ۔۔۔۔۔
