58.5K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

داود ریلکس یار “اسنے پل میں کمرے کا حولیہ بگاڑ دیا تھا… ہارون… کو اج اندازا ہو گیا کہ وہ شخص اس لڑکی کی چاہت میں کتنا دیوانہ ہے…
یار مجھے ایک بات بتاو… یہ لڑکی میرے ساتھ ایسا کرتی کیوں ہے” وہ دھاڑا اور اسکے دونوں بازو پکڑ کر جھنجھوڑا…
کیا صرف محبت میں نے کی تھی جو وہ ہر جگہ میرا ساتھ چھوڑ جاتی ہے” اسنے سرخ نظروں سے سوالیہ انداز میں پوچھا..
ہارون نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا..
میرے خیال سے ایک لڑکی کے سامنے اسکا باپ اور اسکا محبوب کھرا ہو تو بہلے اسکے دل میں اپنے مھبوب کے لیے کتنی ہی الفت کیوں نہ ہو… وہ سائیڈ اپنے باپ کی ہی لیتی ہے… اور اسنے بھی وہی کیا.. “ہارون نے اسے سمھجانا چاہا..
تو پھر تو داود احمد.. اس دنیا کا سب سے بڑا پاگل ہے.. جو ایسی لڑکی کے پیچھے سب چھور چھاڑ کر پڑا ہے جو کبھی اسکے ساتھ محبت نہبا نہیں سکتی” وہ جیسے ٹوٹا ہوا لگا.. دو سالوں میں ہارون نے پہلی بار اسے بکھرا ہوا دیکھا….
وہ خاموش رہا… اور کچھ دیر پہلے ہونے والے واقعے کو یاد کرنے لگا کہ جب… بہرام نے سارگل کی بندوق سے گولی اس سے پہلے نکلتی اور اسنے اس بندوق کو فضا میں بلند کر کے داود کو نشانہ بننے سے روکا….
جبکہ وہ.. بغیر کچھ کہے سارگل کا گریبان تھامے… وہاں سے نکلا اور جاتے جاتے اسنے عینہ کی جانب دیکھا…
بیٹیاں باپ کا مان ہوتی ہیں… اور جب وہ مان ٹوٹ جائے تو علیحدگی بہتر ہے…. وہ تمھارا شوہر ہے اج میں خود تمھیں یہاں چھوڑ جا رہا ہوں “بہرام کی یہ بات… عینہ جو سسکیاں بھر رہی تھی… حونک نظروں سے… اسکی جانب دیکھتی…
رہی اور ایک نظر داود کیطرف دیکھا.. جو جانتا تھا یہ ہی سب ہو گا اور اب عینہ اسکے ساتھ رہے گی.. جبکہ عینہ نے اس کے پیچھے کھڑی لڑکی کو بھی دیکھا.. جو اپنے انسو روک رہی تھی…
اسکے باپ جا رہا تھا….
وہ باپ جس نے کبھی اسے کانٹا بھی چبھنے نہیں دیا جبکہ جب سے داود.. اسکی زندگی میں ایا تھا… کیا ہو رہا تھا اسکے ساتھ.. اور اب بھی.. وہ تو شادی کر چکا تھا….
ڈیڈ”اسنے داود سے نظریں پھیریں.. اور بہرام.. کا لپک کر بازو تھامہ…
ڈیڈ میں میں یہاں نہیں روکوں گی.. مجھے اپکے ساتھ جانا ہے” اسنے انسو صاف کر کے کہا.. جبکہ سارگل کا ممچہرہ اس بات پر ہی سرخ ہو رہا تھا کہ داود اور عینہ نکاح میں ہیں….
بہرام نے کوئ جواب نہیں دیا.. اور سارگل کو اسی طرح وہ وہاں سے نکال لے گیا جبکہ عینہ بغیر پیچھے دیکھے بہرام خان کے ساتھ ہو لی…
پیچھے داود ایک بار پھر خالی ہاتھ کھڑا تھا….
اسنے کھینچ کر مکہ میرر وال پر مارا کہ اسکے کمرے کی خوبصورت میرر وال پر دڑاڑ پڑ گئ….
اور وہ اندر چلا گیا.. جبکہ اسنے سکینٹو میں کمرے کا حویلہ بغاڑ دیا تھا…
تمھیں ہوش سے کام لینا ہو گا…. یہ بھی ہو سکتا تھا تمھیں یہ بھی سوچنا چاہیے تھا… “ہارون کے کہنے پار داود غصے سے بہنا گیا…
اور اس سے پہلے وہ چلاتا….
ہارون اس سے پہلے بولا…
اب انتقام یہ بے کی اگ میں مت جلنا داود اگر تم… اس لرکی کو چاہتے ہو… اور اگر.. تمھارے دل میں اس لڑکی کے لیے کچھ نہیں تو اس جھوٹے تماشے کو بند کرو…” وہ جیسے اس طرھ بولا جیسے اج سے دو سال پہلے بولا تھا.. بے لچک لہجہ…
میرر وال سے اندر جھانکتی لڑکی نے اسکی کڑک اواز پر دل تھامہ تھا….
داود نے سر تھام لیا.. اس سے بہرام کی فتح برداشت ہی نہیں ہو رہی تھی..
بہرام خان جیت گیا…. ” وہ بولا….
ہارون ہنس ا..
نہیں یار…. اصل تو ہار اسکی ہوئ ہے…
وہ لڑکی تمھاری بیوی ہے.. یہ کیوں بھول رہے ہو… بھئ.. تم اس ساری بازی کو دوبارہ پلٹ سکتے…..” وہ اسکے ساتھ بیتھ کر اسکو مشورہ دینے لگا….
وہ ادمی میری برداشت سے باہر ہے…. “داود نے چیڑ کر کہا…
بدلہ پورا ہو ا.. اسکی ساک بری طرح ہل گئ ہے.. دو سلا پہلے جو حالات تھے.. اج وہ نہیں رہے.. اب تم چل مارو… چارو طرف سے.. گیم تمھارے ہاتھ میں ہے.. انھیں چار ناچار تمھیں قبول کرنا ہی پڑے گا.. اگر تم اس جھوتے نکاح کا تماشہ بند کرو تو” ہارون کی بات پر اسنے.. اسکی جانب دیکھا جبکہ ہارون اسکی آنکھوں میرے اترتے تاثر کو دیکھ کر سر ہلانے لگا..
گڈ اب مجھے نظر ا رہا ہے تمھاری یہ الٹی کھپڑی کچھ سوچنے قابل ہے اب میں اپنے پورشن میں جا رہا ہوں.. گڈ نا>ٹ” اسنے.. سکون سے.. کہا…
اور.. باہر نکلا تو… سامنے حیا کو.. کان لگایے دیکھ اسکے ماتھے پر بل ڈلے…
ہیلو لڑکی… یہ ان مینرڈ حرکت ہے” وہ انگلی اٹھا کر بولا.. حیا… ایکدم در کر دل تھام گئ…
پھر منہ بنا کر اسکی جانب دیکھنے لگی..
میرا نام حیا ہے “اسنے کہا تو ہارون مسکرایا..
اوو رئیلی.. مجھے لگا.. مسیز ہارون ہو تم… “وہ اسکے نزدیک.. انے لگا.. جبکہ حیا کو ڈر الگ لگ رہا تھا.. وہ ایکدم دور ہوئ… بات سنو… اتنی بھی بری نہیں ہو… جیتنا میں سمھجہ رہا تھا “اسنے کہا.. تو حیا… پل میں وہاں سے دوڑ لگا گئ.
اسکا دل زوروں سے دھڑکا تھا. جبکہ ہارون… اسکے پیچھے گیا..
بھاگو مت “وہ چیخا.. حیا روک گئ..
مجھے اپ سے ڈر لگتا ہے جائیں اپ “وہ اسکو ہاتھ سے دور کرنے لگی..
ٹھیک ہے بھئ جاو تم یہاں سے.. میں کون سا مرے جا رہا ہوں… “وہ چیڑ کر بولا…
تو حیا پھر سے بھاگنے کو تیار تھی..
مگر ہارون کی گھوری پر وہ عزت سے چلنے لگی.. جبکہ ہارون اسکے پیچھے پیچھے.. تھا..
حیا. اسکے ساتھ والے روم میں چلی گئ..
جبکہ ہارون ایک نظر دروازے کو دیکھ کر.. اپنے روم میں چلا گیا…
…………………….
نیوز سن کر جیسے پورا گھر عجب سناٹے کا شکار ہوا تھا…
عابیر تو وہیں تھم گئ تھی.. معاز. بھی الگ.. خاموش ہو گیا تھا جبکہ فیزا کو تو داود پر رج کر غصہ ایا.. اور روشنی بھائ کے امیر ہونے پر ہی خوش تھی…
کل فیزا کی بارات تھی گھر میں کام تھے کافی.. مگر.. عابیر.. سمیت معاز کی خاموشی بھی ٹوٹی نہیں تھی…
وہ سب صحن میں بیٹھے تھے جبکہ…
فیزا چایے بنانے اٹھی تھی..
تبھی باہر ہیوئ بائیک ا رکی…. اکثر انکے دروازے کے پاس سے ہیوی بائیک ا رکتی تھی مگر پھر چلی جاتی تھی.. تبھی وہ کسی بھی گمان میں نہیں تھا..
انکا بیٹا امیر ہو گیا تھا شادی کر چکا تھا.. ان کا اب اسکی زندگی سے کیا لینا دینا بھلہ..
عابیر نےا یک خاموش نظر داود کی بائیک پر ڈالی جو.. اسکے ایگل کے پنجرے کے پاس کھڑی تھی…
جبکہ اسکا ایگل بھی اب اڑتا نہیں تھا….
دروازے پر مانوس دستک سے.. عابیر بل کھا کر اٹھی..
معاز نے اسکی بے تابی پر اسکی جانب دیکھا..
میں دیکھتی ہوں مامی بیٹھیں اپ “فیزا نے کہا.. تو عابیر نے نفی کی.
نہیں میں کھولتی ہوں… دل میں جو اس تھی… اسنے کانپتے ہاتھوں سے اپنے گھر کا دروازے کھولا.. تو سامنے پورے دو سال.. ہاں. یعنی 730 دنوں بعد داود کو اسی ہیوئ بائیک پر.. عام سے رف سے حولیے پر اسی طرح.. جس طرح وہ ماتھے پر بل ڈالے.. عینک ناک کی چونچ پر رکھے دوسروں کو گھورتا تھا کھرا دیکھ کر.. عابیر کو سمھجہ نہی2 یا.. ہنسے یہ روے…
اسکے پیچھے دو گارڈز نمودار ہوے داود نے تپ کر انکو دیکھا حالانکہ وہ انھیں روک چکا تھا مگر وہ پھر بھی اسکے پیچھے ائے تھے.
مما یار.. اگے کھڑی رہیں گی تو اندر کیسے او گا… “وہ بولا وہی لہجہ…. عابیر… جو اسکی شادی کی خبر سن کر.. اس سے دل ہی دل میں ناراض ہو چکی تھی.. انسو صاف کر کے مسکرای اور اسے نادر انے کا راستہ دیا..
داود باییک سے اترا..
یہ بائیک واپس لے جاو” اسنے ایک گارڈ سے کہا..
عابیر پرجوش نظروں سے بیتے کو دیکھنے لگی..
وہ اندر ایا…
عابیر کی آنکھوں کےا گے چٹکی بجائ..
کیا زیادہ ہینڈسم ہو گیا ہوں” وہ ہنسا.. تو عابیر بے ساختہ اسکے سینے سے لگ گئ…
داود کی بھی آنکھیں نم ہوئیں…
دو سال ماں کو سزا دے کر اج… مسکراتے ہویے ا رہے ہو… داود.. اتنے برے کیوں ہیں پا” وہ بولی.. داود ہنس دیا… اسکے بالوں پر پیار کیا….
ااب کہیں نہیں جاو گا “اسنے بغیر کسی شکوے کے مان کے ہاتھ پر بھی پیار کیا..
عابیر کا تو اسکو دیکھ کر ہی دل نہیں بھر رہا تھا.. وہ دونوں ماں بیٹے ہمیشہ کیطرح خود میں مگن تھے…
باقی سب کو فراموش کیے.. معاز کو لگا ایک بار پھر سے جیسے اس میں طاقت بھر گی ہو…
داود موڑا…
اف حریفوں کی نظریں نہیں بدلیں.. “وہزیچ کرنے والی مسکراہٹ لیے اسکے کے نزدیک سے گزر کر… روشنی کے پاس ایا..
بھیا” وہ ایکسائٹیڈ تھی…
عابیر کو لگا اج اسکا گھر پورا ہو گیا ہو… اسکے گھر کی رونک لوٹ ائ تھی…
داود نے امروشنی کو بھی پیار کیا اور فیز اکی جانب دیکھا..
سنا ہے.. اسے. گدھے سے شادی کر رہی ہو” اسکا اپنا ہی انداز تھا… سب کو چھیڑ کر بدسکون کر دینے کا…
فیزا جو اسپر کافی غصہ تھی اسکو دیکھ کر… دلی خوشی محسوس کر رہی تھی… وہ مسکرائ… تو داود نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا…
اور اب وہ اپنے باپ کی صورت تک رہا تھا جو اسے کافی کمزور لگا..
کیوں ائے ہو اب بھی” معاز تیور بگاڑے… اسکے نزدیک جانے لگا..
معاز” عابیر حیرانگی سے. اسکی جانب دیکھ کر بولی..
چپ ہو جاو تم”معاز نے اسکو ٹوکا.. داود ڈھیٹوں کیطرح اسکو دانت دیکھانے لگا..
حریفوں کو دیکھے بغیر مزاہ نہیں ا رہا تھا.”
باپ کو حریف کہتے ہوے شرم بھی نہیں اتی”وہ اسکے مقابل ایا…
داود نے شانے اچکائے..
یہ جو اپکے تیور ہیں.. مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے میرے انے پر اپکے اندر گلوکوس بھر دیا گیا ہے.. یار بابا کچھ تو میرے بارے میں اچھا سوچ لیتے”وہ بولا تو پہلے کیطرح منہ بنایا…
عابیر سمیت فیزا اور روشنی بھی ہنسی..
بھیا.. بابا نے تو اپکو سب سے زیادہ مس کیا ہے…. اور سچی میں ایسا لگ رہا ہے ببا میں انرجی بھر گئ ہے” اسکے کہنے پر وہ سب ہنس دیے جبکہ معاز نے روشنی کو گھورا..
میری اولاد سب سے زیادہ خراب ہے” وہ چیڑ کر بولا..
چلو چلو مان لو.. کچھ نہیں ہوتا.. “داود.. نے باپ کے گلے میں بازو ڈالے..
معاز. کو بیٹے کے انداز تقویت دے رہے تھے..
پہلے یہ بتاو شادی کس سے کی ہے” معاز اس سے دور ہوا…
اف.. مما یہ سی ائ ڈی ہی ملے تھے شادی کرنے کو” وہ ماں کے پاس جا کر بیٹھا…
عابیر نے تو چاہت سے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرہ….
اور وہ کتنا فدا ہوتی اپنے بیٹے پر…. بار بار خدا کا شکر ادا کر رہی تھی….
جواب دو “معاز بولا… تو داود مسکرایا..
عینہ سے “اسنے انکھ ماری تو سب اچھل پڑے..
مگر تمھاری نیوز تو کوئ حیا الطاف… “
فیزانے الجھ کر پوچھا..
جھوٹی تھی” اسنے سکون سے کہا…
داود سے پنگا لیا تھا… ایند تک پہنچا کر ایا ہوں “وہ سنجیدہ ہوا…
عابیر نے اسکا شانہ تھامہ..
بہت غلط بات ہے داود “اسنے کہا تو داود اسکیطرف دیکھنے لگا…
لڑکی کے لیے اپنا شوہر بانٹنا اسان نہیں ہوتا.. بھلے جھوٹ ہو یہ یا سچ” اسنے کہا تو وہ کچھ نہیں بولا..
ہمیشہ سے.. تمھاری اولاد نکمی ہی رہی ہے” معاز بھی بیٹھ گیا..
مجھے کیوں لگ رہا ہے اپ جیلس ہو رہے ہیں مجھ سے” داود نے اسے چیڑہ جبکہ معاز نے.. چپل نکالی..
یار بابا کوئ حد… دس دس ہوٹلز کا مالک باپ سے پیٹ رہا ہے میڈیا میں تھلکا مچ جائے گا “وہ چیختا ہوا بھاگا جبکہ معاز کی چپل گھمتی ہوئ اس تک پہنچی مگر اسے لگی نہیں…
سب سمیت اب کی بار معاز کا بھی قہقہ بلند ہوا..
ادھر او…. معلوم نہیں تھا… تم میرے گھر کی.. میرے دل کی رونق ہو” اسنے.. نم آنکھوں سے داود کے ماتھے پر پیار کیا.. تو داود.. کے لیے شاید اج کا دن اپنی زندگی کا بہترین دن تھا.. باقی سب کی بھی آنکھیں نم ہوئیں
..میرا بیٹا” معاز نے اسکے کالر کو درست کیا…
داود مسکرا دیا….
ہاں یہ بہترین دنوں میں سے ایک دن تھا…
ڈیڈ محبت اپنی جگہ جنگ اپنی جگہ…” وہ شرارت سے بولا…
تو معاز ہنسا.. اور دونوں بغل گیر ہوئے…
………………..
بہرام ڈیڈ دن سے کسی سے بات نہیں کر رہا تھا..
ارمیش عینہ سارگل.. تینوں جیسے الگ الگ… غم ذدہ تھے..
میڈیا جتنا چھال سکتا تھا اچھال رہا تھا.. مگر.. اگلے دن ہی وہ تمام ہیڈ لائنز بند کرا دیں گئیں…
پیسہ دے دلا کر.. معاویہ نے ان خبروں کو رکوا ضرور دیا تھا.. مگر انکی ساک بری طرح ہلی تھی…
سارگل کے لیے اپنہ ساک سے زیادہ باپ کی ناراضگی جان لیوا تھی…
اور بالآخر ہمت کر کے اسنے دروازہ بجا ہی دیا…
دروازہ کھولا دیکھ کر… ارمیش اور عینہ بھی سارگل کے ساتھ اندر داخل ہوئیں.. بہرام ان سب کو دیکھ کر کوئ ریسپونس دیے بغیر…
اپنی بک پڑھنے لگا…
سارگل اور عینہ نے ایک دوسرے کیطرف دیکھا…
اور جس طرح وہ بچپن میں اپنی کسی غلطی پر شرمندہ ہو کر اسکے پاس اتے تھے بلکل اسی طرح وہ دونوں باپ کے قدموں میں بیٹھ گئے….
سوری ڈیڈ”سارگل نے اسکا ہاتھ تھامہ.. جبکہ عینہ رونے لگی…
ہاں باپ کا مان توڑ کر وہ سکون میں نہیں تھی…
پہلے بہرام عینہ کو اپنے قدموں میں سے اٹھا لیتا تھا.. مگر اج اسنے ایسا نہیں کیا…
سوری ڈیڈ… میں اب ایسا کوئ کام نہیں کروں گا جس سے اپکو شرمندگی ہو” وہ حقیقت میں. شرمندہ تھا.. باہر لون سے گزرتی مشل نے یہ منظر دیکھا… اور نہ جانے اسے کیا سوجہ سارگل کی کھٹا کھٹ تصویریں کھینچ لیں..
بیٹا تم مجھے اچھے سے شرمندہ کر چکے ہو… گھر کی چار دیوای میں نہیں.. پوری دنیا میں.. کس چیز کی کمی ہے ہمیں سارگل خان… کہ تم رشوت لینے لگے… “وہ سختی سے بولا سارگل جاموش ہو گیا ٹھیک ہی تو کہہ رہے تھے وہ…
خان ہو تم خان… اہنی شناخت کیوں بھول گئے.. باپ تمھارا بیوروکریسی میں.. دادا پر دادا کی خائیدادوں سمیت باپ کی جائیداد کے بھی اکیلے وارث اور اتنا گھٹیا کام” وہ سختی سے اسکا ہاتھ جھٹک گیا…. سارگل شرمندگی سے سر نہ اٹھا سکا…
اور تم” اسکا روخ عینہ کی جانب ہوا..
میری بیٹی… اور میرے پیٹھ پیچھے مجھ سے دھوکا “وہ بولا.. جبکہ عینہ سے مزید براداشت نہ ہوا..
ڈیڈ اپ مار لیں مجھے میں بہت گندی بیٹی ہوں اپکی.. میں نے بہت غلط کیا… پلیز ڈیڈ میں نہیں جاو گی نہیں دیکھو گی اسے.. مگر میں میں اپکے بغیر نہیں رہ سکتی” وہ اسکے سینے سے لگی بول رہی تھی…
بہرام… کی خود بھی آنکھیں بھیگی…
تم دونوں نے میری عزت.. کہیں کی نہیں چھوڑی” وہ پھر بولا..
عینہ نے اسے سختی سے تھام لیا…
اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی…. ارمیش نے.. بہرام کے شانے پر ہاتھ رکھا…
ماں باپ کا ضرف بہت زیادہ ہوتا ہے بہرام…. یقیناً… اب ان دونوں کیطرف سے اپکو کوئ… تکلیف نہیں ملے گی…” وہ بولی.. جبکہ اس سے پہلے ہی بہرام نے عینہ کو تھام لیا تھا..
مجھ معصوم پر بھی نظرے کرم کر دو” سارگل پیچھے سے بولا…
تم تو پانی شکل کہیں گم ہی کر لو “بہرام نے بیٹی کے انسو صاف کیے جبکہ.. سارگل کو گھورا.. سارگل.. نے ماں کی جانب دیکھا..
بس اپنی بیٹی کے انسو قیمتی ہیں میرے.. بیتے کی کوئ ولیو نہیں. “وہ سارگل کو پیار کرنے لگی…
ڈیڈ ایم سوری…. میں جانتا ہوں اپ سب مینیج کر لیں گے”اسنے کہا جبکہ بہرام نے اسکی گودی پر ایک تھپر رکھا…
میرے بچوں کے بعد بھی مجھے معلوم ہے اپ یوں ہی ماریں گے مجھے.. “
وہ چیڑ کر بولا..
مشل کو شادی کے لیے مناو…. اس سے پہلے نظر مت انا تمھاری ہر غلطی اسکے ماننے سے معاف ہو گی”اسنے کہا تو سارگل اٹھا.. ٹھیک ہے بیٹی ہی قیمتی ہے اپ کے لیے “وہ منہ بسور کر باہر نکلا جبکہ ہلکا بھی ہو اتھا.. اب مشل کو منانا باقی تھا…
بہرام نے عینہ کی جانب دیکھا…
صرف تمھارے منہ کو اس لڑکے کو قبول کر رہا ہوں میں “بہرام کی بات پر عینہ اور ارمیش جھٹکا کہا کر اسکی جانب دیکھنے لگے..
مگر شدید زہر لگتا ہے وہ مجھے…. اور جب تک وہ خود نہیں ائے گا.. اسی طرح اپنی ماں کو لے کر.. اور وہ اس حیا نامی لڑکی کو طلاق نہیں دے گا.. میں تمھیں نہیں بھیجو گا… اا سے زیادہ تمھارا باپ تمھارے لیے کچھ نہیں کر سکتا”وہ کہہ کر عینہ کی سرخ آنکھیں دیکھنے لگا..
اور تم اس سے کوئ رابطہ نہیں رکھو گی” اسنے ایک اور پابندی لگائ جبکہ عینہ سب مانتی جا رہی تھی…
اب رونا تو بند کرو چڑیا سادل ہے… “بہرام نے ڈپٹا تو عینہ.. اسکے سینے سے پھر سے لگ گئ..
سکون تو میسر ہو گیا.. مگر.. داود نے جو اکسے ساتھ کیا تھا وہ بھول نہیں سکتی تھی بھلے وہ ساری زندگی اسکے نام پر گزار دے مگر دوبارہ اسکے پا س نہیں جائے گی اسنے سوچا… ………..
…………….
بارات کا دن بھی ا پہنچا…..
وہ کب سے مشل سے ملنے کی کوشش کر رہا تھا مگر مشل اسکے ہاتھ ہی نہیں لگ رہی تھی….
اور بلاخر چوری چھپے اسنے اسکے روم میں جانے کی سوچی بہت مشکلوں سے وہ اسکے روم تک پہنچا….
اور دروازہ کھولا مگر جالی کمرہ اسکا منہ چیڑہ رہا تھا..
وہ ہاتھ پر مکہ مار کر رہ گیا…
وہ پلٹا… تو سامنے سے…. اتے شخص کو دیکھ کر… اسکے ماتھے پر شدید بل ڈلے جبکہ.. وہ تیر کی تیزی سے… اس تک پہنچا…
کیا کرنے اے ہو “اسنے اسکا گریبان جکڑا…
داود نے اسکے ہاتھوں کی جانب دیکھا اور پھر دور سے اتے بہرام کو دیکھا….
سالے صاحب بہنوئ.. کی عزت کرنا نہیں سیکھائ اپکے والد محترم نے… یہ بس لوٹ گھسوٹ سکای ہے” اسنے ہاتھ جھٹکا…
تب تک بہرام بھی پہنچ چکا تھا جبکہ داود.. مزے سے صوفے پر بیٹھا….
ان دونوں کے غصے سے کھولتے چہروں کو دیکھنے لگا…
کیا…. ” اسنے لاپرواہی سے پوچھا….
کتنے ڈھیٹ انسان ہو تم….. بلکل اپنے والدین سے ڈھٹائ لی ہے “بہرام خونخوار نظروں سے دیکھتا. اسکے سمانے بیٹھا.. جبکہ داود ہنسا….
اب کیا کر سکتے ہیں…. “وہ لاپرواہ سا دیکھا جبکہ آنکھیں چارواطراف میں گھوم رہیں تھیں…
کوئ چائے اپنی کا رواج نہیں… اپنے رشوات کے مال کا مزاہ ہمیں بھی چکھاو…. “وہ مسلسل سارگل کو طعنوں کی زد پر رکھے ہوئے تھا.. داود کے انے کی جبر حویلی میں اگ کیطرح پھیلی تھی رفتہ رفتہ سب جمع ہونے لگے..
ارمیش نے اسکی شاندار پرسنیلٹی کو آنکھوں آنکھوں میں سرہایا تھا..
تمھیں زہر نہ کھلا دیں کہیں.. نکلا یہاں سے” سارگل ایک ابر ہھیر اسکی جانب بڑھا…
سارگل” بہرام نے روکا..
بے انتہا سمھجدار ہے یہ انسان تمھارے معملے میں “بہرام کیطرف اشارہ کر کے وہ ہنسا. جبکہ سب کا خون سلگا گیا…
ماں باپ کہاں ہیں تمھارے” بہرام نے پوچھا..
کیوں بتاو”اسنے الٹا جواب دیا.. بہرام نے ضبط سے مٹھی بھینچی…
جبکہ بہرام کی نظر عینہ پر اٹھی جو زخمی نظروں سے اسکو دیکھ رہی تھی..
زہے نصیب…” وہ انچی اواز میں بولتا.. اٹھا..
عینہ کا رنگ فق ہو ا…
اب یہ کون سانیا روپ تھا اسکا…
………………….
جاری ہے