Dil Aashiqaana (Garoor season2) By Tania Tahir Readelle50243 Last updated: 17 September 2025
No Download Link
Rate this Novel
Dil Aashiqaana ( Guroor Season 2)
By Tania Tahir
رک جاو یہیں "اس سے پہلے وہ عینہ تک پہنچتا بہرام کی اواز پر رکا… اپ مجھے روکنے والے کون ہوتے ہیں "وہ سنجیدگی سے بہرام کی جانب دیکھنے لگا… تمھاری بیوی کا باپ… اگر تو تم مجھے ابھی کچھ دیر میں یہ کہنے والے ہو کہ میں اسکا شوہر ہوں اوربلا بلا"اسنے بھی اسکے مقابل اتے کہا…. داود چند لمہے اسکی آنکھوں میں دیکھتا رہا…. اور پھر مسکرا دیا… ٹھیک ہے…. پھر اپنے دماغوں سے رخصتی نکال دینا… خالی ہاتھ لوٹنے کا بھی اپنا ہی مزاہ ہے.. میں نے تو اکثر چکھا ہے یہ مزاہ" وہ دوبارہ سکون سے بیٹھتا…. بولتا سب کو زہر ہی لگا… جبکہ اچانک حال میں لوازمات اتے دیکھ جہاں بہرام اور سارگل سمیت معاویہ مراد کے ساتھ ساتھ داود خود بھی حیران تھا… مگر اپنی حیرانگی چھپا گیا…. ملازموں نے اسکے سامنے لوازمات رکھے… وہ مسکرا کر بہرام کو دیکھنے لگا…. جبکہ بہرام نے اس سب تماشے کی جڑ کو دیکھا جو پیچھے چائے کی ٹرے لیے خود ا رہی تھی… داود ارمیش کو دیکھ کر.. جو پھیلا بیٹھا تھا سمٹ سا گیا.. عینہ خود حیرانگی سے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی… مگر تا دیر نہیں جلد ہی وہ وہاں سے ہٹ گئ.. اسکو دیکھ کر جہسے اسکی دوسری شادی کا یاد اتے ہی نئے سرے سے زخم ہرے ہوئے تھے. لو بیٹا "ارمیش نے چائے کا کپ اسکے ہاتھ میں دیا… داود کو عجب شرمندگی سی ہوئ… اور ایک منٹ میں اسکے خیالات سامنے کھڑی عورت کے بارے میں بدلے تھے… … داود نے… بہرام کی طرف بھرپور سمائیل اچھالتے ہوئے چائے کا کپ لبوں سے لگا لیا…. ارمیش خانم… یہ سب کیا کر رہی ہو "بہرام سے بلاجر برداشت نہ ہوا.. مما یہ ادمی اس لائق نہیں کہ اسے بیٹھا کر کھلایا جائے" سارگل بھی چیخا… ارمیش.. نے بیٹے کو پہلی بار اگنور کیا اور بہرام کی جانب دیکھا.. داماد ہیں ہمارے.. "وہ بولی.. داود کو ہنسی سی ا گی.. سوری" اسنے ارمیش سے معزرت کی… اور اپنے ہونٹوں کو ٹشو سے صاف کر کے وہ ایک بار پھر پھیل کر بیٹھا اپنے سسر اور سالے کو دیکھنے لگا.. سارگل تو دندناتا ہوا وہاں سے نکلا جبکہ بہرام نے بھی اگلا کوئ لفظ نہیں کہا… اور وہاں سے غصے سے چلا گیا جبکہ پیچھے ارمیش نے داود کیطرف دیکھا بیٹا جب تم شادی کر چکے تھے تو تم نے دوسری شادی کیوں کی… اور اگر تم میری بیٹی سے بدلہ لے رہے ہو تو کیوں ائے ہو یہاں اب "اسنے سہولت سے پوچھا… داود تو اس حملے کے لیے تیار تھا ہی نہیں… سیدھا ہو کر بیٹھا جبکہ اسکے سامنے معاویہ بھی ا بیٹھا.. تم نے اپنی من مانی کر لی…. ہماری ساک ہلانے والے تم پہلے تھے.. اور شاید تم بہرام کو نہیں جانتے… وہ تمھارے اس عمل سے تمھیں لازمی زندہ نہ چھوڑتا.. یہ عینہ تمھارے اگے کھڑی ہے جو بہرام نے تمھیں چھوڑ دیا "معاویہ کی بات پر داود نے اسکی جانب دیکھا.. کس لیے دھمکا رہے ہیں مجھے اپ" وہ ایکدم سیدھا ہوا… لالا"ارمیش نے اسکی جانب دیکھا.. معاویہ نے ارمیش کو روکا… میں تمھیں دھمکا نہیں رہا…. میں تم سے یہ جاننا چاہتا ہوں کہ تم چاہتے کیا ہو اور کتنا نیلام کرنا چاہتے ہو ہمیں "داود اسکی بات پر مسکرایا.. نیلام کیا نہیں ہے زبردستی کروایا گیا ہے…. "اسنے بھی بات ماری… تو معاویہ نے ضبط کیا. شاید وہ خون پینے میں ماہر تھا… اور باقی رہ گئ میری چاہت کی بات تو میں عینہ سے بات کرنا چاہتا ہوں اور اسے ساتھ لے جانا چاہتا ہوں… اور جس طرح کچھ دیر پہلے اپ مجھے میرے سسر کے کارناموں سے دھمکا رہے تھے بلکل اسی طرح… میں اپکو دھمکا رہا ہوں کہ رخصتی نہیں دوں گا جب تک عینہ میری دولہن نہیں بنے گی… میرے ساتھ نہیں جائے گی"اسنے دو ٹوک لہجے میں کہا…. اور اٹھ کھڑا ہوا.. مسلہ پتا کیا ہے.. شروعات کر کے اپ لوگ معصوم بڑا پیارا بن جاتے ہیں.." وہ مسکرایا… اسکی مسکراہٹ.. مراد کا خون کھولا رہی تھی.. تمھیں لگتا ہے تمھاری دوسری شادی…. کے بعد عینہ تمھارے ساتھ جانا پسند کرے گی.. " معاویہ نے پوچھا.. تو اسنے شانے اچکائے.. یہ تو میرا مسلہ ہے…. "وہ لاپرواہی سے بولا… بیٹا کیوں کر رہے ہو اسطرح…. میری بیٹی بہت معصوم ہے.. اسکو سزا مت دو…. "ارمیش.. نے اسکا ہاتھ پکڑا تو وہ جھٹکا کھا گیا.. اسے وہ اپنی ماں کیطرح ایک بے بس ماں لگی… اسنے.. چند لمہوں بعد گھیرہ سانس لیا… اور بے انتہا مدھم اواز میں وہ زرا ارمیش کی طرف جھک کر بولا اپکی بیٹی میری زندگی میں انے والی پہلی اوراخری لڑکی ہے… تھی اور رہے گی….. شادی کرنی ہوتی تو دو سال میں کر چکا ہوتا…. دوبارہ اپ کی بیٹی کیطرف قدم نہ بڑھاتا"وہ سنجیدگی سے بولا تو ارمیش الجھ کر اسکیطرف دیکھنے لگی.. مگر وہ نیوز" فیک تھی.. اپ لوگ سوچ لیں.. جب تک عینہ دولہن بن کر خود میرے گھر نہیں ائے گی تب تک فیزا کی رخصتی نہیں ہو گی ابھی میں جا رہا ہوں صرف اپکی وجہ سے… یہاں سب کم عقلوں میں اپکو دیکھ کر کچھ افسوس ہوا.." وہ کہہ کر مڑا… جبکہ مراد نے غصے سے اسکا شانہ تھامہ.. ٹھیک ہے مت دو رخصتی…" وہ تمھاری مرضی ہے تمھاری شادی نہیں بھی ہو گی تب بھی عینہ صرف داود کی ہے اور یہ بات. اس حویلی کی درودیوار سن لیں…. اگر وہ میری نہیں ہو سکتی.. تو اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا اس حویلی کی… ٹریلر تو دیکھ ہی چکے ہو" کہہ کر وہ غصے سے اسے دھکا دیتا وہاں سے نکلتا چلا گیا… جبکہ وہ سب… اسکی پشت کو دیکھ رہے تھے….. ……………………..
