58.5K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

حویلی میں سارگل اور مشل کا نکاح اگ کی مانند پھیلا تھا…
بہرام.. کے تو تلوں پر لگی اور سر پر بھجی تھی..
جبکہ وہ سکون سے کھڑا تھا…
یہ بتاتے ہوئے زبان ٹوٹ رہی تھی تمھاری” وہ غصے سے بولا..
ڈیڈ.. میں شادی اب بھی نہیں کرنا چاہتا” سارگل نے پھر سے جواب دیا تو.. حید نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا…
ٹھیک ہے.. تو طلاق دے دو اسے.. ویسے بھی تم میری بیٹی کے قابل نہیں “وہ سنجیدگی سے بولا…
مشل کا دم نکلنے لگا….
سارگل نے مشل کی جانب دیکھا….
طلاق بھی نہیں دوں گا “دو لفظی جواب دے کر… وہ وہاں سے.. چلا گیا.. جبکہ مراد اسکء پیچھے ایا..
کیا چاہ رہے ہو.. “اسنے اسکو غصے سے کہا..
ابھی معلوم نہیں..” سارگل نے سنجیدگی سے جواب دیا..
مجھے اکیلا چھوڑ دو” اسنے کہا تو مراد.. اسکو دیکھ کر مڑ گیا…
وہ اندر ایا.. تو شدید بحث و مبحاثہ جاری تھا..
اپ لوگ شادی کی ڈیٹ فائنل کریں” اسنے کہا.. تو سب اسکی جانب دیکھنے لگے..
اسکو میں دیکھ لوں گا… مگر ایک شرط ہے”
اسنے کہا.. اور سب بڑوں کے نزدیک ہو گیا..
………………..
وہ پرجوش تھا.. بے انتھا بے پناہ خوش… کون کہہ سکتا تھا یہ داود. چیڑ چیڑا سا انسان ہے جس کے اج قہقے نہیں رک رہے..
اسنے سب کو ڈریس گفٹ کیے تھے.. سب چیز بھول گیا تھا. وہ.. یہ بھی کہ اسنے.. کل خودکشی کی کوشش کی تھی… اڑا اڑا پھیر رہا تھا..
عابیر اور معاز کو اپنی اپنی جگہ چپ سی لگی ہوئ تھی..
وہ دونوں ایک دوسرے کی جانب بھی نہیں دیکھ رہے تھے..
چلیں. مما”داود کو سیاہ کرتا شلوار میں دیکھ کر عابیر کا دل کیا اسکی نظر اتار لے.. اگے بڑھ کر اسکی پیشانی چوم کر.. اسنے سر ہلایا.
داود نے معاز کیطرف دیکھا.. جس کے تیور بلکل ٹھیک نہیں تھے مگر اپنی خوشی میں اسےکچھ بھی نہیں سوج رہا تھا..
اور بس میں محبت اور تم…” اسنے عینہ کو تصور کر کے سوچا…
اور.. سب بڑی گاڑی میں سوار ہو گئے…
جو کہ داود نے منگوائ تھی کچھ انکے سٹیٹس کا بھی.. بڑا بھرم بنا تھا اسپر…
گاڑی منزل کیطرف رواں دواں تھی کوئ نہیں جانتا تھا… اس منزل سے.. جتنی تلخ اور نفرت بھری یادیں اسکی.. جڑیں تھیں…
جبکہ معاز خود اپنی سوچوں میں مگن تھا….
حویلی قریب ا رہی تھی..
دور سے ہی عابیر کو گزرے دن یاد انے لگے.. اسنے سختی سے آنکھیں میچی اور پھر اپنے بیٹے کے خوشی سے تمتماتے چہرے کو دیکھا….
اور زبردستی مسکرا دی…
حویلی کا دروازہ کھلا… داود.. کو لگا اسکا دل تیزی سے دھڑک رہا ہو…
عینہ اسکے اس قدم سے کتنا خوش ہو گی…
یہ سوچ کر ہی… اسے مزاہ ا رہا تھا…
وہ گاڑی سے اترے…
تو ملازم نے انسے پوچھ گوچھ کی..
عابیر اور معاز چپ ہی رہے… شام گھیری ہوتی حویلی پر اتر رہی تھی…
جبکہ کھٹا کھٹ حویلی کی لائٹیں جلیں تو فیزا روشنی اور معاز بس منہ کھول کر رہ گئے بہت خوبصورت حویلی تھی بلکل اسکی عینہ کیطرح…
ملازم انھیں گیسٹ روم میں بیٹھا کر.. اندر چلا گیا…
جبکہ.. وہ گیسٹ روم میں انتظار کرنے لگے…
بہرام کو میسیج گیا تو… منیب سب سے پہلے دیکھنے ایا…
اور سامنے عابیر کو دیکھ کر اسے جھٹکا لگا…
وہیں دروازے کے باہر ہی رک گیا.. عابیر بھی اسکیطرف دیکھ چکی تھی…
مگر کوئ ریسپونس نہیں دیا…
جبکہ منیب پلٹ گیا…
منیب. کی خبر.. ارمیش پر بم بن کر گیری.. تھی.. سارگل نے حیرت سے ماں کے پھیکے پڑتے چہرے کی جانب دیکھا…
اپنے صاحب کو بتا دو… انکی ایکس وائف آئیں ہیں “شاید یہ بات زندگی میں ارمیش کی پہلی تلخ بات تھی..
سارگل.. کے ہاتھ سے ماں کا ہاتھ چھوٹ گیا…
اسنے دو قدم پیچھے لیے…
جبکہ ارمیش نے انسو بھری آنکھیں بیٹے پر گاڑ دیں..
بہرام اسی وقت طوفان کیطرح کمرے سے نکلا…
جبکہ.. منیب معاویہ کو بھی بتا چکا تھا.. حویلی میں ہل چل مچ چکی تھی.. سب بہرام کی جانب دیکھ رہے تھے رفتہ رفتہ سب کو معلوم ہو چکا تھا….
کوئ بھی گیسٹ روم کی جانب نہیں گیا…
جبکہ وہاں انتظار کی مدت بڑھتی جا رہی تھی
…. ایک صرف عینہ تھی جسے اب تک معلوم نہیں تھا…
کیوں ائ ہے وہ عورت یہاں… اور پہلے ہمیں کیوں نہیں بتایا اس بارے میں “سارگل ماں کے لیے باپ کے سامنے تن گیا…
تھم جاو سارگل” معاویہ نے ٹوکا..
معلوم کرو پہلے یہاں انے کی وجہ”یہ حیدر تھا…
بہرام.. نے گیسٹ روم کی جانب قدم بڑھا دیے…
نظر عابیر پر گاڑے… وہ.. اسکےسامنے صوفے پر جا کر بیٹھ گیا…
جبکہ اسی وقت معاویہ حیدر سارگل.. بھی داخل ہوے…
گڈ ایونیگ سر”داود نے ہاتھ اگے بڑھایا.. مگر بہرام نے ہاتھ نہیں ملایا..
داود کا منہ سا اتر گیا.. مگر جیسے ہی سارگل اور داود کی نگاہ ملی…
دونوں ایک دوسرے کو گھور کر رہ گئے…
کیونکہ سارگل کا ہاتھ مراد نے سختی سے جکڑا تھا..
سچویشن ایسی تھی کہ کچھ ابھی نہیں بولا جا سکتا تھا.. جبکہ وہ خود فیزا کو انکے ساتھ دیکھ کر خود الجھا ہوا تھا.. فیزا نے بھی اسکیطرف دیکھا مگر سب اس عجیب سچویشن میں دوسری کوئ بات نہیں سوچ پا رہے تھے…
خیریت سے ائے “بہرام نے معاز کیطرف دیکھا
داود نے الجھ کر باپ کو دیکھا.. یہ کیا.. وہ کیسے بات کر رہے تھے جیسے جان پہچان ہو.
معاز کے لیے یہ گھڑیاں دنیا کی مشکل ترین گھڑیاں تھیں.. پھر بھی اسنے گھیرہ سانس بھرا
بیٹی…
تمھاری……
عینہ… ماشاءاللہ”
اسکا نام مت لینا… ” بہرام نے ہاتھ اٹھا کر ٹوکا… معاز چپ ہو گیا… داود نے… حیرت سے.. بہرام کی جانب دیکھا.. وہ سب کیسا عجیب و غریب ریایکشن دے رہے تھے کم از کم کسی محمان کے ساتھ ایسا تو نہیں ہوتا
رشتہ لے کر ائے ہیں ہم تمھاری بیٹی کا.. اپنے بیٹے کے لیے… “یہ عابیر تھی..
شاید وہ خاموش اپنے اندر ہمتیں مجتمع کرنے کے لیے تھی اور جب ہوں گئیں تو وہ ہمیشہ کیطرح کنفیڈینٹ بولی..
یہ سب گفتگو جبکہ داود کے سر پر سے گزر رہی تھی..
کیا بکواس ہے یہ” یہ سارگل تھا جس سے.. مزید برداشت نہیں ہوا..
بہرام نے سارگل کو ہاتھ ا ٹھا کر روکا….
میری طرف سے انکار ہے” صاف جواب دیا گیا..
سر… اپ ایک بار اپنی بیٹی کو بھی بلا لیں اسکی.. پسندبھی”
شیٹ اپ” بہرام دھاڑا. تھا…
ابھی منع کیا ہے میری بیٹی کا نام اپنے منہ سے مت لینا…
داود کے ماتھے پر بل ڈلے…
وہ مسلسل ان سب کی بے عزتی کیے جا رہے تھے…
کیا کماتے ہو” بہرام نے.. پھر سے سوال داغا..
چلو داود یہاں سے” عابیر اپنی جگہ سے اٹھی مزید اس سے کچھ بھی برداشت نہیں ہورہا تھا.. جبکہ بہرام کی طنزیہ مسکراہٹ کا منہ نوچنے کا دل کر رہا تھا اسوقت
داود نے ماں کی بات کا جواب نہیں دیا..
کالج میں پروفیسر ہوں اور ابھی سی”
اسکی بات پوری نہیں ہوئ…
بہرام ہنسا… داود.. کا چہرہ سرخ ہو گیا..
جتنا تم کماتے ہو.. اس سے زیادہ تنخواہ تو میرے ملازم کی ہے..” اسنے شانے اچکائے…
تمیز سے بات کریں مسٹر بہرام “داود… تو پھر داود تھا..
ابے اوے… توتمیز سے بات کر” سارگل اگے بڑھا.. جبکہ بہرام نے اسکو گھورا…
میں.. چھلکوں سے بات کرنے نہیں ایا” اسنےاپنا گریبان چھڑوایا…
جبکہ ان سب کو چیرتی ہوئ.. عینہ اس کمرے میں داخل ہوئ..
داود نےعینہ کی جانب دیکھا…
عینہ کے پیچھے ارمیش بھی تھی دونوں کی نگاہ ٹکرائ عابیر نے نگاہ پھیر لی….
عینہ بیٹا.. جاو اپ” بہرام کو ناگوار گزرا اسکا انا..
عین…. میں تمھیں لینے.. ایا ہوں” داود عینہ کی جانب دیکھ کر… بولا… اسکے چہرے پر مسکراہٹ تھی مگر عینہ کا چہرہ بے لچک کیوں تھا….
سارگل نے… داود کے کھینچ کر پنچ مارا… داود صوفے پر جا گیرہ..
بکواس کر رہا ہے میری بہن سے.. ہاں.. تیری آنکھیں نکال لوں گا” وہ چلایا…
معاز اور عابیر کو.. لگا… وہ دونوں زمین میں گڑ جائیں گے انکا بیٹا اتنا کمزور ہو گیا تھا….
مگر زیادہ دیر نہیں.. داود نے.. ایک سیکنڈ میں سارگل کے منہ پر اوپر تل تین پنچ مارے.. جبکہ.. اسکو زور سے پیچھے دھکا دیا..
اور ابھی اس سے پہلے وہ اسکا سر دیوار میں مارتا….
وہاں وہ ہوا جو کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا..
عینہ… نے داود کے ہاتھوں کو.. اپنے بھائ پر سے دور کیا.. اور زور سے تھپڑ.. اسکے منہ پر دے مارا
اگر کوئ کہتا داود کے لیے دنیا اور وقت رک گیا تھا تو غلط نہیں تھا وہ حیرت بھری آنکھوں سے اسکی جانب دیکھنے لگا.. جبکہ عینہ… نے اسکو ایک اور دھکا دیا.. سارگل سمیت بہرام کے لب بھی مسکرایے تھے اسنے عابیر کیطرف دیکھا…
وہ اپنے بیٹے کو دیکھ رہی تھی….
چھوڑیں میرے لالا کو…
اپ کی حمت کیسے ہوئ یہاں انے کی.. سمھجتے کیا ہیں خود کو.. ایک دھوکے باز.. کمزور.. انسان… ہیں اپ”وہ اسکو.. مکے مارتی چلا رہی تھی…
معاز نے اسی لمہے عابیر کا ہاتھ تھاما. اور روشی اور فیزا کو اشارہ کیا.. اور وہاں سے وہ ان سب کو لے جر نکل گیا… ایک لمہے وہ مڑا تھا…
اج کے بعد… میرے گھر میں داخل مت ہونا….” معاز نے.. مظبوط اواز میں کہا.. اور وہاں سے نکل گیا.. جبکہ عابیر… جیسے ایک روبوٹ کی مانند اسکے ساتھ کھینچ رہی تھی…
داود.. وہ تنہا تھا.. شاید وہ ہمیشہ سے تنہا ہی تھا…
عینہ.. میں تمھاری محبت ہوں” وہ.. مدھم اواز میں بولا….
سارگل نے مٹھیاں بھینچی…..
مراد کا بھی کچھ یہ ہی حال تھا…
اور میری بیٹی تمھارے جیسے گھٹیا دو ٹکے کے ملازم.. پر تھوکنا بھی پسند نہیں کرتی…
اج کے بعد اس حویلی.. میرے کالج… یہ اسکے ارد گرد بھی نظر ائے تو ٹانگیں توڑ دوں گا..” بہرام نے انگلی اٹھا کر وارن کیا….
عینہ نے داود کے ہاتھ سے رستے خون کی جانب دیکھا…
اسنے.. ایک لمہے کو نگاہ اٹھائ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا…
نہیں عینہ.. مجھ سے محبت کرتے ہوئے تم نے یہ نہیں کہا تھا کہ تم میری حثیت سے محبت.. کرتی ہو… عینہ میں سب سمبھال لوں گا میرا ساتھ مت چھوڑو.. دیکھو تم ناراض یو مجھ سے ائ نو…
میں اب تم پر غصہ نہیں کروں گا کبھی بھی نہیں.. تمھیں ڈانٹوں گا بھی نہیں… میں سچ کہہ رہا ہوں عینہ.. یوں مت چھوڑو مجھے اس راہ پر بس ایک بار میرا
.. “سارگل نے کھینچ کر اسکے منہ پر تھپڑ مارا… داود نے دو قدم پیچھے لیے… مگر اسنے کوئ ایکشن نہیں لیا..
عینہ اسکی آنکھوں کی تڑپ پر… بے چین ہو رہی تھی..
عینہ میرا یقین کروں میں تمھیں ساری خوشیاں دوں گا” مراد نے بھی اسکے پنچ مارا…. وہ.. گیست روم سے باہر. جا گیرا
. مگر کوئ ایکشن نہیں لیا….
چلیں جائیں یہاں سے” اسے یاد ایا.. وہ صرفا پنی ماں کا نتقام لینے کے لیے اتنی تگ و دو کر رہا تھا…
داود.. نے عینہ کیطرف ہاتھ بڑھانا چاہا.. مگر.. سارگل اور مراد اسپر بری طرھ حاوی ہو گیے جبکہ.. عینہ سے یہ سب نہیں دیکھا گیا… وہ روتی ہوئ اندر بھاگ گئ…
حیدر حور انوشے… ارمیش نین احمر… بہرام کو دیکھ رہے تھے.. میں نے اپنی بیٹی کے لیے درست فیصلہ لیا یے “اسنے کہا اور سب سے نگاہ چراتا.. وہاں سے وہ بھی نکل گیا.. جبکہ…
سارگل اور مراد نہ جانے کہاں داود کو لے گئے تھے..
داود کی دنیا تو ویسے بھی تباہ ہو ہی گئ تھی.. محبت عشق جنون جیسے جزبوں سے.. اسکا اعتبار… اٹھ سا گیا.. پھر یہ.. گھوسے لاتیں گالیاں کیا معنی رکھتی تھیں.. تقریبا دس منٹ میں ان دونوں نے اسکا ھولیا بگاڑ دیا جبکہ حویلی کے باہر پھیکوا کر… وہ دونوں اندر چلے گئے…
……………………..
داود کی آنکھوں کے اگے… اندھیرہ تھا رات کی تاریکی میں اسکا اپنا اپ بھی تاریک ہو گیا…
ماں باپ اسے چھوڑ کر چلے گئے..
اسکی ماں… جو یہ دعوا کرتیں تھیں کہ وہ اسکی پہلی محبت ہے وہ بھی چلی گئ…
اسکی محبت….
سب ہی تو… پیچھے رہ گئے تھے..
ہاں اب اس سے اسکی سانسیں چھن بھی جاتی کیا افسوس تھا بھلہ…
درد اسکے انگ انگ کے ساتھ ساتھ دل میں بھی اٹھ رہا تھا.. ایسا لگ رہا تھا.. وجد سے سانسوں کا ناتا ٹوٹ رہا ہے.. اور ناتا ٹوٹے ہوئے اسنے صرف.. اپنے گرد گاڑی کے چرچراتے ٹائروں کی اواز سنی تھی.. اور بس دماغ مفلوج ہو گیا..
صاحب.. یہاں کوئ پڑا ہے “ملازم کی اواز سن کر ملک ہارون نے… گاڑی کا دروازہ کھولا….
سفید کڑکڑاتی شلوار قمیض میں ملبوس ملک ہارون اس بے جان سے پڑے وجود کے قریب انے لگا..
وہ ایک پاوں فولڈ کر کے.. اس کے قریب بیٹھ گیا….
لگتا ہے…. عاشق تھا..” ملک ہارون کا قہقہ اس تاریکی میں گونجا.. سیگار سے اسنے دو کش بھرے..
سانسیں ہیں” اسنے ملازم سے پوچھا…
جی صاحب”ملازم نے کہا.. تو چند منٹ کے توقف کے بعد ملک ہارون کی اواز گونجی…
ڈالو اسے گاڑی میں..”
………………………
جاری ہے