No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
اسے یقین ہی نہیں ایا… کہ اسنے اسکے بھائ کا نام لیا ہے اسک ابھائ جو.. اس سے کتنی محبت رکھتا تھا.. اسے کیسے ہتھیلی کا چھالہ بنا کر رکھتا تھا.. وہ اتنا سفاک ہو سکتا ہے.. اس سے بھی چھوٹی لڑکی کے ساتھ.. اتنا ظلم…
عینہ… کی آنکھیں.. بھیگ گئیں…. جبکہ مشل… نے اب ان پیسوں کیطرف دیکھا.. مراد بھی وہیں کھڑا تھا.. وہ بہرام.. کے سامنے لائے بغیر ایک لفظ بھی بولنا نہیں چاہتا تھا وہ چاہتا تھا.. یہ سب اسی طرح بہرام دیکھے…
یہ قیمت تھی میری”پیسوں کو چھوتے ہوے مشل مدہم اواز میں بولی…
مراد نے گھیرہ سانس لیا جبکہ عینہ تو رونے لگی تھی…
تبھی مراد کے سیل پر بہرام کی کال انے لگی..
مراد وہاں سے پلٹ گیا…
مشل.. بھی عینہ کے رونے پر رونے لگی تھی…
اپنی قسمت پر بھی رونا ا رہا تھا….
تم مت رو” عینہ نے.. اسکے شانے پر ہاتھ رکھا…
میں لاوارث تھی…. میں لاوارث ہوں کیوں.. اسنے مجھے میری نظروں میں گیرہ دیا” وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی جبکہ.. تب تک مراد بہرام.. بھی پہنچ گئے تھے بہرام… نے تیوری چڑھا کر.. مراد کی جانب دیکھا..
کیا ہے یہ سب”سخت اواز میں بولا…
عینہ عینہ جان اٹھو یہاں سے…. کیوں رو رہی ہو تم”بہرام فورا بیٹی کے نزدیک گیا…
جبکہ مشل کی حالت دیکھ کر سمھجہ تو سب ا رہا تھا.. مگر وہ پہچان نہ سکا.. کہ ماجرا کیا ہے اور… مراد نے کیوں بلایا ہے…
ڈیڈ… ڈیڈ.. لالا.. نے.. لالا نے.. وہ تو بہت چھوٹی سی ہے” عینہ.. بری طرح رونے لگی.. جبکہ بہرام کے سینے سے لگ گی….
بہرام نے مراد کی جانب دیکھا.. اسکا دماغ غصے سے پھٹنے لگا..
کچھ بکو گے تم زبان سے” وہ چیخا..
سارگل نے مشل کے ساتھ زیادتی کی ہے…. “مراد… بولا تو… بہرام کی گرفت عینہ پر ڈھیلی پڑ گئ..
فضول بکواس مت کرو”وہ دھاڑا… مشل سہمی.. جبکہ عینہ.. مشل کے پاس چلی گئ…
اسے معلوم نہیں مشل سے.. شدید انسیت ہو رہی تھی اور اسکی تکلیف بھی محسوس ہو رہی تھی…
کہ اسکے ساتھ کتنا غلط ہوا وہ بھی اسکے بھائ نے…
یہ بکواس نہیں ہے….” مراد بھی آنکھیں نکال. کر بولا.. اور پھر.. رفتہ رفتہ اسے سب بتاتا چلا گیا…
جبکہ بہرام.. بس ایک لمہے کے لیے.. فق ہوا تھا…
اسے وہ دن یاد ائے جب وہ بھی
.. شبنم کے ساتھ…
مگر کبھی اسنے کسی پر زبردستی نہیں کی تھی….
اور اس طرح اسکے سامنے ایا تھا…
بہرام نے مشل کی جانب دیکھا.. اسکے گرد ہزار ہزار کے نوٹ بکھرے ہوئے تھے..
جبکہ وہ اسکی بیٹی کے سینے سے چیپکی ہوئ تھی…
بہرام دو قدم بڑھا.. کر.. مشل کی جانب چلا گیا.. جبکہ مراد کو ہاتھ اٹھا.. کر اسنے سارگل کو بولناے کا کہا…
مشل.. خوف سے.. بہرام کی جانب دیکھ رہی تھی..
بہرام کو.. اسکے چہرے اور گردن پر.. نشان.. صاف بتا رہے تھے کہ یہ تماشہ نہیں ہے یہ سب حقیقت ہے…
کس نے کیا ہے یہ سب تمھارے ساتھ… “وہ سرد لہجے میں بولا…
ڈیڈ میں نے بتایا تو ہے…
عینہ… چڑیا… اپ دو منٹ خاموش رہو… ” اسنے پیار سے بیٹی کو ٹوکا.. تو وہ خاموش ہو گئ جبکہ مشل کا ہاتھ تھام رکھا تھا…
س… سارگل نے… “مشل بمشکل بولی..
کیسے جانتی ہو تم اسے…” بہرام نے تیوری چڑھا کر پوچھا ا.. تو مشل اسے سب بتاتی چلی گئ…
بہرام. نے مٹھیاں بھینچ.. لیں..
کب مر رہا ہے وہ یہاں” وہ غضب ناک ہوا… مراد نے اسکی جانب دیکھا..
وہ فون نہیں اٹھا رہا” مراد نے کہا.. تو بہرام نے.. اپنے سیل سے اسے کال کی…
اور ایک منٹ میں کال ریسیو کر لی گئ..
یس ڈیڈ”وہ.. چھک کر بولا….
کہاں ہو” بہرام سے غصہ ضبط کرنا بہت مشکل ہو گیا….
کوٹ سے نکل رہا ہوں..” سارگل کو اسکے لہجے کی سختی محسوس تو ہوئ مگر.. اگنور کر کے بولا…
جیت گئے” سرد سے لہجے میں پوچھا..
ہار سکتا ہوں؟ “اسنے مسکرا کر سوال کیا..
ہمممم گڈ.. زرا اپنے افس.. پہنچو.. میں نے ملنا ہے”اسنے کہا اور فون بند کر دیا.. سارگل.. فون کو دیکھتا رہا..
کہیں “اسکے دماغ میں کلک ہوا..
اوہ نو.. نو نو.. شیٹ… “وہ خود کو کوستا.. کوٹ سے بھاگتا ہوا نکلا تھا…
بہرام.. نے چہرے پر ہاتھ پھیرہ… اور پھر سے مشل کو دیکھا.. اور اسکے سر پر ہاتھ رکھا…
اب تمھیں رونے کی ضرورت نہیں….
تمھارے.. مجرم…کا میں گلہ دبا دوں گا… “سختی سے کہتے ہی.. وہ اٹھ گیا.. جبکہ مراد کے دل کو سکون ملا وہ جانتا تھا.. بہرام ہی وہ شخص ہے جس سے سارگل کو ڈر لگتا تھا.. ورنہ… وہ کسی کے قابو انے کی چیز نہیں تھی…
مشل اور عینہ اب بھی رو رہیں تھیں..
پندرہ منٹ کے اندر اندر.. سارگل.. اپنے افس کے باہر تھا.. باہر مراد اور بہرام کی گاڑی دیکھ کر انھونی کا احساس اسے ہو گیا…
تم نہیں بچتی مجھ سے مشل “وہ.. کچکچا کر بولا.. اور جلدی سے اندر داخل ہوا.. اور اسکی توقع کے عین مطابق تھا. سب سیڑھیوں پر ہی مراد اسے دیکھا.. جس نے اس سے منہ موڑ لیا…
اسکے دل کو کچھ ہوا… بچپن سے وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے ہمیشہ کھڑے رہتے تھے…
جبکہ اسکے قدم بھاری ہونے لگے.. کیونکہ اوپر اپنا باپ اسے نظر ا رہا تھا.. جو صوفے پر بیٹھا تھا…
وہ اوپر ایا.. اور عینہ کو مشل کے ساتھ دیکھ کر اسکا دماغ اوٹ ہوا
ہنی… ہٹو یہاں سے “وہ. دھاڑا.. جبکہ بہرام نے
. بیچ میں ہی اسکا.. منہ جکڑ لیا… …
سارگل نے باپ کی جانب دیکھا..
کیوں کیوں اٹھے.. تمھارا مکافات تو تمھاری بہن کے سامنے ائے گا.. پھر.. تمھارے کیے گئے گناہ کے ساتھ وہ پہلے ہی بیٹھ جائے.. سارگل خان… اتنا کمزور نفس تھا تمھارا” وہ دھاڑا.. اور کھینچ کر.. اسکے منہ پر تھپڑ مارا.. تھپڑ اتنا تیز تھا…
کہ سارگل کا ہونٹ پھٹ گیا..
سارگل کی نگاہ مشل پر تھی دانت پر دانت رکھے وہ بس مشل کو دیکھ رہا تھا…
جبکہ مشل جو اسکے دیکھنے سے ڈر لگنے لگا..
عینہ نے بھی اس سے منہ پھیر لیا….
سارگل منہ سے ایک لفظ نہیں بولا.. جبکہ.. بہرام اسکے منہ پر پے در پے تھپڑ مار رہا تھا…
اگر میری بیٹی کے ساتھ کچھ ہو ا.. سارگل خان تو.. میں بھول جاو گا میری اولاد ہو تم”اسنے اسے دھکا.. دیا…
سارگل دیوار سے جا ٹکرایا اور زمین پر بیٹھتا چلا گیا.. بلیک پینٹ کوٹ میں.. اور.. سرخی میں نیلاہٹ لیے.. چہرے پر.. خون کے قطرے لیے بیٹھا.. مشل کو دیکھ رہا تھا…
کیا دیکھ رہے ہو ادھر.. اسکے ساتھ زیادتی کر کے تمھیں زرا بھی شرم نہیں ائ….
ہاں زرا بھی پیسے دے کر.. کیا ثابت کر رہے تھے”بہرام نے اسکا گریبان جکڑا.. سارگل پھر بھی کچھ نہیں بولا..
تایا سائیں… اسکو مارنے سے بہتر ہے اپ سزا سنائیں..” مراد نے کہا.. سارگل اب بھی مشل کو گھور رہا تھا..
بلاو اسکی ماں کو ایک نظر وہ بھی اپنے ہونہار بیٹے کے کرتوت دیکھ لے…
تبھی سزا.. منطخب کروں گا “بہرام ناگواری سے بولا.. جبکہ مراد نے بہرام کیطرف دیکھا.. کون نہیں جانتا تھا. وہ ارمیش کے لیے کتنا حساس تھا…
میں نے کہا بلاو…” بہرام چیخا…
مراد نے بہرام کا بازو پکڑا جو دو تھپڑ مزید.. سارگل کو رخ چکا تھا…
تایا سائیں… انٹی.. بہت ڈس ہارٹ ہوں گی.. اسنے سب کو ڈس ہارٹ کیا ہے… مگر سب سے زیادہ مشل کو تکلیف دی ہے.. اپ.. کوئ مثبت فیصلہ کریں” مراد جو کہنا چاہ رہا تھا بہرام سمیت سب سمھجہ رہے تھے سارگل نے منہ سے ایک لفظ نہیں نکالا.. ہونٹوں سے پھوٹتی خون کی لکیر….
اب اسکی وائٹ شرٹ.. پر جا رہی تھی…
جبکہ نگاہ اب بھی عینہ میں چھپی مشل پر تھی…
شادی کرے گا… یہ ابھی اور اسی وقت…” بہرام نے کہا تو اب پہلی بار.. سارگل نے باپ کیطرف دیکھا…
مدھم سا مسکرایا
نہ ممکن..” اسنے اتنا کہا.. اور کھڑا ہو گیا.. اسنے بتانا ضروری نہیں سمھجا کہ.. مشل اسکے نکاح میں ہے…
کیا بکواس کر رہے ہو تم”وہ.. چیخا.. جبکہ چہرہ شدید سرخ تھا…
یہ ہی کہ میں شادی نہیں کروں گا “اسنے پھر سے کہا..
سارگل.. ہوش میں تو ہو.” مراد چنگھاڑا…
جبکہ سارگل بغیر کسی کیطرف دیکھے وہاں سے نکل گیا…
…………………
بہرام شدید غصے میں تھا… وہ مشل کو حویلی میں لے ائے تھے
جبکہ بہرام نے پہلی بار.. ارمیش کو تانا مارا تھا.. ارمیش تو خود ساکت رہ گئ تھی بہرام کو سمھجہ نہیں ایا اپنا غصہ کس طرح ختم کرے جبکہ معاویہ اور احمر دونوں اسے کنٹرول کرنا چاہ رہے تھے…
مجھے پہلی بار افسوس ہو رہا ہے اس عورت کی تربیت پر”بہرام نے ارمیش کو گھورا….
جبکہ ارمیش اب رونے لگی تھی.. عینہ بھی وہیں کھڑی تھی.. اسے بھی رونا. ارہا تھا..
بکواس کرنا بند کرو” معاویہ نے اب کے غصے سے کہا…
یہ وہی سب ہے جو تم نے کیا دوسروں کے ساتھ “وہ بولا تو بہرام نےا سے جھٹکا..
کیا کیا ہے میں نے… کیا میں نے کبھی اتنی چھوٹی لڑکی کو زیادتی کا شکار بنایا ہے…
کیا میں نے کبھی کسی کی مرضی کے بغیر اس سے زبردستی کی… اور جو تم بات کر رہے ہو وہ میری غلطی تھی جس پر مجھے پشتاوا ہے… مگر… وہ.. اسے پشتاوا ہے.. کوئ.
وہ اس سے شادی کرنے کے لیے تیار نہیں ہے”وہ غصے سے چیخ رہا تھا… جبکہ… عینہ وہاں سے باہر نکل گئ…
اسے بہت رونا. ارہا تھا تبھی اسکا موبائل بلینک ہوا.. داود کا نمبر دیکھ کر اسنے کال اٹھا لی.. اور رونے لگی..
عینہ” داود کی پریشان اواز ابھری…
رو کیوں رہی ہو.. “اسنے اسکی خاموشی پر پھر سے سوال کیا…
عینہ اسے سب بتاتی گی…
حیرت تو اسے تب ہوئ جب اسے داود کے ہنسنے کی اواز ائ..
اپ اپ ہنس رہے ہیں داود”اسے برا لگا…
یار کوئ محبت وحبت کا کیس ہو گا… تم ایسے ہی اپنے قیمتی انسو ضائع کر رہی ہو… “وہ ریلکس سا بولا.. اسنے فون اٹھایا تھا… اس سے بڑی بات تو کوئ نہیں تھی…
داود…. وہ میرے لالا ہیں اور.. انانھیں محبت نہیں ہے مشل سے.. وہ تو “وہ رک گئ شرم سی ائ..
کیا وہ تو “داود نے مسکراہٹ روکی..
وہ تو وہ.. نہ” وہ جھنجھلائ…
اچھا یار کیا وہ تو وہ تو لگا رکھا ہے… کوئ اور بات کرو” داود نے اکتا کر کہا.. تو عینہ نے منہ بنایا..
اپ کتنے مین ہیں میں رو رہی تھی “وہ بولی جبکہ وہ یہ بھی بھول چکی تھی کہ وہ اس سے ناراض ہے
داود ہنسا…
یو نو عینہ.. You are exactly what I want”وہ بولا تو عینہ..مسکرائ.
اور اچانک اسے اپنی ناراضگی یاد ا گئ..
میں اپ سے ناراض تھی”عینہ نے.. زرا گھور کر کہا.. .
مگر مجھے لگا.. اب تم مان گئ ہو…” اسنے کہا.. تو عینہ خاموش ہو گئ..
عینہ بور کر رہی ہو… بس چھوڑو ناراضگی… باتیں کرو
مجھ سے “اسنے کہا تو عینہ.. نے ایک نظر موبائل کیطرف دیکھا… وہ ایسا ہی تھا.. وہ
ان چند دنوں میں یہ بات جان گئ تھی…
تبھی وہ اسکی مرضی کے مطابق.. باتیں کرنے لگی…
………………..
عینہ سے بات کرنے کے بعد وہ
مسکرا رہا تھا.. سیل اف کر کے وہ پلٹا کہ معاذ کو پیچھے پایا.. اسنے ایک نظر باپ کو دیکھا
کون ہے یہ لڑکی”وہ سختی سے پوچھنے لگا…
عینہ” وہ بغیر جھجھکے جواب د کر وہاں سے ہٹنے لگا کہ.. معاذ نے اسکا شانہ تھامہ..
جب میں کہہ چکا ہوں کہ تمھاری شادی فیزا سے ہو گی تو تمھیں یہ بات سمھجہ کیوں نہیں اتی “
معاذ غصے سے بولا..
اور جب میں کہہ چکا ہوں کہ میں ایسا کچھ نہیں کروں گا تو اپکی سمھجہ میں کیوں نہیں اتا” وہ بھی دو بادو بولا…
کہ معاز کا ہاتھ اٹھ گیا…
زہر لگتے ہو تم مجھے زبان چلاتے ہوے “یہ پہلی بار تھا جو اسنے اسپر ہاتھ اٹھایا.. داود.. ھونک اسکی صورت دیکھنے لگا…
فیزا کے علاوہ کسی کو سوچنا بھی مت”وہ اسے وارن کر کے ابھی جاتا ہی داود کے بولنے پر پلٹا…
اگر میں اپکی بات اپنی اس زندگی میں مان لوں تو.. اپ کہنا کہ کوئ اپ کے جیسا ہی اپ نے پیدا کیا تھا…”
سپاٹ انداز میں بولا…
دکھ تو یہ ہی ہے “اسنے.. کہا اور چلا گیا… جبکہ داود اسکے ان لفظوں پر… بس اپنے باپ کی پشت دیکھ کر رہ گیا…
ائ ہیٹ یو”اسنے اپنی کتابیں دور اچھالتے ہویے تپ کر کہا… ……………..
جاری ہے
