Awaregaan e Ishq by Malayeka Rafi readelle50004

Awaregaan e Ishq by Malayeka Rafi readelle50004 Awaregaan e Ishq Episode 04 A Vow of Revenge

142.5K
9

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Awaregaan e Ishq Episode 04 A Vow of Revenge

” کانگریجولیشنز مسز مہنم  اجمیر شاہ ۔۔۔ “

آفس ورکرز اسے مبارکباد دے رہے تھے اور وہ  اجمیر کا ہاتھ تھامے مسکرا رہی تھی۔۔۔

” تھینک یو ۔۔۔ “

جبکہ میٹنگ روم کے ۔۔۔ سربراہی سیٹ پہ ۔۔۔ دیمیر شاہ بیٹھا اسے غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ سرد چاکلیٹ براون آنکھوں میں ۔۔۔ اس کے لئے عجیب احساس تھا۔۔۔ شاید نفرت !!!

غزل بھی وہیں موجود تھی اور وہ کب سے دیمیر کو نوٹ کر رہی تھی۔۔۔ جو شرر بار نگاہوں سے ۔۔۔ مہنم کو ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔

تبھی تھوڑا جھک کے سرگوشی کرنے لگی ۔۔۔

” مہنم زیادہ جچ رہی ہے  اجمیر کے ساتھ ۔۔۔ “

دیمیر نے لب بھینچے غزل کو دیکھا تھا تو وہ کندھے اچکا کے ۔۔۔ سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا کے بیٹھ گئی تھی ۔۔۔

” زہر لگ رہی ہے مجھے یہ اس وقت  اجمیر کے ساتھ “

اس کی مدھم سرد آواز پہ ۔۔ غزل نے زیر لب مسکراتے اسے دیکھا تھا۔۔۔

” اسی زہر کو پی کے ۔۔ بار بار سیراب ہونے کا شرف حاصل کر چکے ہو تم ۔۔۔ “

” شٹ اپ ۔۔ “

دیمیر نے دانت پیسے تھے اور اسی لمحے مہنم کی نظریں اس سے ٹکرائی تھی۔۔۔ اسے طنزیہ نظروں سے دیکھتی ۔۔۔ وہ اب کسی جرنلسٹ کا سوال سن رہی تھی۔۔

” میم ۔۔ ہم کافی دیر سے نوٹ کر رہے ہیں۔۔۔ کہ جسطرح سے آپ مسٹر  اجمیر کا خیال رکھ رہی ہے ۔۔ بار بار ان کا ہاتھ تھام کے ۔۔ ان کا ساتھ دے رہی ہے ۔۔۔

It’s like … awesome… we must say a caring love couple … “

مہنم مسکرا دی تھی۔۔۔ نظر بھر کے اس نے  اجمیر کو دیکھا تھا جو مسکرا رہا تھا ۔۔۔

”  اجمیر جیسا ہزبینڈ کا ملنا بھی تو نصیب کی بات ہوتی ہے ۔۔۔

The most caring .. loving person …

ایک ایسا انسان جس کے ہر انداز ۔۔۔ ہر لفظ میں میرے لئے عزت ہے ۔۔۔  اجمیر کوئی عام انسان نہیں ہے ۔۔۔

He is special …

جو مجھے ہمیشہ مان دیتا آ رہا ہے ۔۔۔

I really love him … “

وہ محبت سے کہتی ۔۔۔ پھر سے  اجمیر کو دیکھنے لگی ۔۔۔ جس نے اس کا نازک ہاتھ اپنے لبوں سے لگایا تھا ۔۔۔

” اظہار محبت بہترین ہے مہنم کا اپنے ہزبینڈ کے لئے ۔۔۔

Very impressive .. I like her skills of …. “

غزل کہتے کہتے چپ ہو گئی تھی جب اس کی نظر دیمیر کے چہرے پہ پڑی جو بھسم کر دینے والی نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔

” I love you Mehnam … infact I feel lucky for having you in my life …..

میرے لئے مہنم بہترین بیوی ہے ۔۔۔ “

 اجمیر بھی اپنے احساسات کا بیان خوبصورت انداز میں کر رہا تھا ۔۔۔ مہنم نے ایک اتراتی نظر دیمیر پہ ڈالی تھی۔۔۔ جس کی سرد آنکھوں میں انتقام کی آگ جل رہی تھی۔۔۔

لیکن وہ مہنم ہی کیا ۔۔۔ جس پہ اثر ہو ۔۔۔

” میں اپنے بزنس پارٹنر مسٹر دیمیر نوفل شاہ کو بھی تھینکس کہوں گی ۔۔۔۔ اینڈ ہوپ فلی کہ یہ بہترین کا آغاز ہوگا ہمارے لئے ۔۔۔ کیوں مسٹر دیمیر شاہ ۔۔۔ “

جرنلسٹس اس کی طرف مڑے تھے ۔۔۔ وہ جو خونخوار نظروں سے مہنم کو دیکھ رہا تھا ۔۔ ہلکا سا مسکرا دیا تھا ۔۔۔

” ہوپ سو ۔۔۔ ایکسکیوز می ۔۔ “

یک لفظی جواب دے کے ۔۔۔ وہ اٹھ کے میٹنگ روم سے باہر گیا تھا ۔۔۔ لمبے ڈگ بھرتا وہ اپنے آفس کی طرف جا رہا تھا جب ابرک اس کے سامنے آیا تھا ایک فائل لے کے۔۔۔

” یہ ڈیٹیلز ہیں مہنم میم کی ۔۔۔۔ “

وہ ابھی بات کر رہا تھا ۔۔۔ جب دیمیر فائل اس کے ہاتھ سے ۔۔۔۔ جھپٹنے والے انداز میں لیتے ہوئے اپنے آفس کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔

زور سے آفس کا دروازہ بند کر کے ۔۔ اس نے فائل ٹیبل پہ پٹخی تھی۔۔۔۔

” ڈیم اٹ “

اپنے بھاری بوت سے ۔۔۔کرسی کو ٹھوکر مارتا۔۔۔ وہ اپنا غصہ کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔

” مہنم ۔۔۔۔مہنم ۔۔۔۔ “

اس نے دانت پیسے تھے ۔۔۔

” تمہاری موت تو میرے ہاتھوں لکھی ہے۔۔۔ “

فائل کھول کے اس نے دیکھی تھی۔۔

” نائٹ بار ویٹرس ۔۔۔ ہمممم ۔۔۔۔  اجمیر بار میں کیا کرنے گیا تھا ۔۔۔ وہ تو جاتا نہیں ایسی جگہ ۔۔۔ “

وہ کچھ سوچتا پھر سے کمرے میں ٹہلنے لگا۔۔۔

” سیریل کلر ۔۔۔ کون ۔۔۔ کون ۔۔۔ کون ؟؟”

وہ یونہی ٹہلتا سوچے جا رہا تھا ۔۔۔ جب افس کا دروازہ کھلا تھا اور مہنم اندر آئی تھی۔۔۔ اور اسی لمحے دیمیر نے جبڑے بھینچ لیے تھے ۔۔

” یہاں کیا کرنے آئی ہو ؟؟”

جبکہ وہ مسکراتی ۔۔۔ایک طائرانہ نظر پورے آفس پہ ڈالتی اسے دیکھنے لگی ۔۔۔

” بزدل کا چہرہ دیکھنے آئی ہوں۔۔ “

غصے سے دیمیر نے اپنی مٹھیاں بھینچ لی تھی۔۔۔

” گیٹ لاسٹ ۔۔ “

وہ تقریبا دھاڑا تھا ۔۔ جبکہ مہنم اپنے کان کو ۔۔۔ شہادت کی انگلی سے کھجاتی ۔۔۔ آگے آئی تھی ۔۔۔

” آہستہ بولو ۔۔۔ میں سن لیتی ہوں۔۔۔ بہری نہیں ہوں۔۔۔ مجھے قتل کرنا چاہتے ہوگے ابھی ؟؟ ہے ناں؟؟”

دل جلا دینے والی مسکراہٹ کے ساتھ۔۔۔ وہ دیمیر کو دیکھ رہی تھی۔۔۔

” پوری زندگی میں ۔۔۔ میرا دو خاص شیطانوں سے واسطہ پڑا ہے ۔۔۔ ایک جمیلے اور دوسرا تم ۔۔۔ “

” نکلو یہاں سے تم۔۔۔ “

وہ لب بھینچے غرایا تھا ۔۔۔

” بےرحم ۔۔۔ سنگدل ۔۔۔ سفاک ۔۔۔ درندہ ۔۔۔ “

وہ کہہ رہی تھی۔۔۔ جب دیمیر نے جھٹکے سے ۔۔۔ اس کا جبڑا بھینچا تھا ۔۔

” چپ رہو تم ۔۔۔ “

اسے دیوار سے پن کرتا ۔۔ وہ پھر سے غرایا تھا ۔۔۔

” محبت کے نام پہ نوچنے والا بھیڑیا ۔۔۔ “

وہ بنا ڈرے پھر سے بولی تھی۔۔۔

” بس ۔۔۔ “

اس کے جبڑے پہ ۔۔۔ اپنے ہاتھ کا دباؤ بڑھایا تھا دیمیر نے ۔۔۔ جبکہ مہنم بنا کچھ بولے۔۔۔ اسے دیکھے جا رہی تھی۔۔۔ جیسے اسے کچھ محسوس ہی نہ ہو رہا ہو ۔۔۔۔ ان آنکھوں میں کرب کے سوا کچھ نہیں تھا ۔۔۔

اور بلکل اچانک دیمیر اسے چھوڑ کے پیچھے ہوا تھا ۔۔۔ کسی احساس کے تحت اس نے نظریں چرائی تھی۔۔۔ جبکہ مہنم کے چہرے پہ زخمی مسکراہٹ بکھری تھی۔۔۔

دو قدم وہ دیمیر کے قریب آئی تھی۔۔۔

” مجھے سب یاد ہے دیمیر ۔۔۔ سب “

دیمیر لب بھینچے اسے دیکھ رہا تھا اب ۔۔۔

” میں جھکی تھی۔۔۔ تمہارے بلکل سامنے جھکی تھی۔۔۔ محبت پہ مان تھا ۔۔ تبھی جھکی تھی۔۔۔ وہ اذیت یہاں۔۔۔۔ “

اس نے اپنے دل کے مقام پہ شہادت کی انگلی رکھی ۔۔۔

” یہاں دفن ہے۔۔ اور تا ابد دفن رہے گا ۔۔۔ کیونکہ عورت کھبی وہ اذیت نہیں بھولتی جو اس کے محبوب سے اسے ملے ۔۔۔ “

” میرے بھائی کو بیچ میں لا کے تم نے صحیح نہیں کیا مہنم ۔۔۔ حساب تو پورا لوں گا اس کا میں تم سے ۔۔۔ “

وہ دانت پیستے غرایا تھا ۔۔ مہنم نے اس کے دل پہ ۔۔ اپنی شہادت کی انگلی رکھی تھی۔۔۔

” درد ہو رہا ہے تمہیں۔۔۔ بہت درد ۔۔۔ آہ دیمیر یہی تو چاہتی ہوں میں۔۔۔ “

خاموش ہو کے وہ دو قدم پیچھے ہوئی تھی۔۔۔

” اپنے قدموں میں جھکاوں گی تمہیں۔۔۔ گھٹنوں کے بل گرو گے میرے سامنے ۔۔۔ تمہارا بھائی میری مٹھی میں ہے ۔۔۔ مٹھی کھول دی تو بوم ۔۔۔۔۔ “

دیمیر کے چہرے کا رنگ اڑا تھا اپنے بھائی کے ذکر پہ ۔۔۔

جبکہ آنکھوں میں تمسخر لیے ۔۔۔ مہنم آنکھ ونک کر گئی تھی ۔۔۔ اور پھر مڑ کے ۔۔۔ کمرے سے باہر نکلی تھی۔۔۔

‘ میں تمہارا ڈریس چینج کر دیتا ہوں۔۔’

‘ میں تمہاری مکمل خوبصورتی دیکھنا چاہتا ہوں مہنم ۔۔۔ تم بہت خوبصورت ہو ۔۔’

‘ میں تم سے بےباک محبت چاہتا ہوں مہنم ۔۔۔ جس کی کوئی حد نہیں۔۔۔ کوئی سرحدیں نہیں۔۔۔ ‘

‘ ہم لباس ہیں ایکدوسرے کا ۔۔۔ لیکن اس بیڈ شیٹ کے نیچے ۔۔۔ میں تمہارے اور اپنے بیچ کوئی فاصلہ نہیں رکھنا چاہتا مہنم ۔۔۔ ‘

‘ بہت زیادہ محبت اور عشق کی آخری حد یہی ہے ۔۔۔ کہ ہم میں کوئی پردہ نہ رہے ۔۔۔ ہم محرم بنے ۔۔۔ ہر حد پار کر کے ۔۔۔ ‘

وہ چلتی جا رہی تھی۔۔۔ سانس بند ہوتی محسوس ہو رہی تھی اسے۔۔۔ آوازیں اس کا پیچھا کر رہی تھی۔۔۔ ماضی کے نہاں خانوں میں سے ۔۔۔ جھانک جھانک کے۔۔ اسے جھنجھوڑ رہی تھی۔۔۔

آنکھیں بھیگی ۔۔۔ تو سامنے کا منظر بھی دھندلانے لگا ۔۔۔ تبھی پلکیں جھپک کے۔۔۔ اس نے آنسوؤں کو پیچھے دھکیلنا چاہا اور لفٹ کا بٹن دبا کے وہ اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔

” عورت محبت تو ایک ہی بار کرتی ہے ۔۔ لیکن وفا وہ بار بار نبھاتی ہے ۔۔ “

اور اسے وفا نبھانی تھی  اجمیر سے ۔۔۔ اپنے شوہر سے۔۔۔ کیونکہ وہ ایک بیوی تھی اب ۔۔۔

لیکن اسکا انتقام ابھی باقی تھا دیمیر نوفل شاہ سے ۔۔۔ بےحد محبت کے بعد ۔۔۔ بےحد نفرت ہی انتقام کی آگ کو بڑھاوا دیتی ہے ۔۔۔ اور مہنم کے لئے ۔۔ دیمیر شاہ اب صرف انتقام ہی تھا ۔۔

༺✾༻ Awaregaan-e-Ishq ༺✾༻

”  اجمیر کی بیوی بےحد خوبصورت ہے ۔۔۔ تم نے دیکھا ہے ناں غزل “

کشمالہ بےحد محبت سے اس لڑکی کا ذکر کر رہی تھی۔۔۔ جبکہ غزل نے منہ بنا کے آنکھیں گھمائی تھی۔۔۔

” تھی تو کوڑے جمع کرنے والی بھکارن ہی ۔۔ “

” یہ کیا بات ہوئی غزل ۔۔ “

کشمالہ نے کڑے تیوروں سے اپنی بیٹی کو دیکھا تھا ۔۔۔

” میری پرورش ایسا بولے گی ۔۔ میں نے کھبی نہیں سوچا تھا۔۔ “

غزل سر کھجا کے ۔۔ سامنے پڑے کیک سے انصاف کرنے لگی ۔۔

”  اجمیر بےحد خوش ہے مہنم کے ساتھ ۔۔ ماشاءاللہ ۔۔۔ بہترین جوڑی ہے “

کشمالہ پھر سے کہہ رہی تھی۔۔ جبکہ غزل منہ بنا کے اپنا موبائل دیکھنے لگی۔۔۔

“آپ کوتو کوئی اچھی ہی نہ لگے ۔۔۔ ایک بار اچھی لگ گئی تو بس ۔۔۔ تعریفیں ہی ختم نہیں ہوتی ۔۔ “

” بیٹا وہ بہت اچھی لگی ہے مجھے ۔۔ بہت اچھی بچی ہے ۔۔ اللہ اس کے نصیب اچھے کریں۔۔ “

کشمالہ کے لہجے میں اب بھی محبت تھی اس اجنبی لڑکی کے لئے ۔۔ ۔

” اور کتنا نصیب اچھا کرے اس کا ۔۔۔ بھکارن سے وہ  اجمیر کی بیوی بن گئی ہے ۔۔۔ جھونپڑی سے وہ شاہ مینشن میں پہنچ گئی ہے ۔۔  اجمیر کے پراپرٹی کی مالک بن گئی ہے ۔۔۔ “

غزل کے لہجے میں ۔۔ مہنم کے لئے حقارت تھی ۔۔۔جبکہ کشمالہ حیرت و غصے سے اپنی بیٹی کو دیکھ رہی تھی۔۔

” شرم کرو غزل۔۔۔ مقام شرم ہےتمہارے لئے ۔۔۔ یہ میری پرورش بول رہی ہے ؟؟؟ اتنا غرور۔۔۔ اتنا تکبر ۔۔۔

Shame on you … “

کشمالہ کہہ کے ۔۔۔ وہاں سے اٹھ کے چلی گئی تھی۔۔۔ جبکہ غزل نے کندھے اچکا کے ۔۔۔ پلیٹ پیچھے کھسکا دی تھی۔۔۔

” آپ کھبی نہیں سمجھے گی مما ۔۔ کہ وہ لڑکی مجھ سے کیا چھین چکی ہے ۔۔۔ خاموش ہوں لیکن ۔۔۔ “

وہ میز کی سطح کو گھورتی ۔۔۔ اپنے لب کاٹنے لگی۔۔۔

” دو کوڑی کی بھکارن ۔۔۔ “

وہ سنجیدہ چہرہ اس کی پلکوں پہ آن ٹھہرا۔۔۔ تو دل جیسے ٹھہر گیا تھا ۔۔۔۔ تبھی پلکیں جھپک کے ۔۔۔ اس نے خود کو کمپوز کرنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *