Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Asar (Last Episode)

Asar by Yusra Mehmood

وہ 24گھنٹے ان تینوں پر پہاڑ بن کر گزر رہے تھے اریبہ کا رو رو کر برا حال تھا وہ آئی سی یو کی دیوار سے ٹیک لگائے مسلسل رو رہی تھی اریبہ…… شایان نے اریبہ کا آنسوؤں سے تر چہرہ اوپر کیا جو اس کے پاس بیٹھا اسے تسلی دینے کی ناکام کوشش کر رہا تھا

دیکھو اریبا ہماری اتنی دعائیں رد نہیں جائیں گی ہماری تو جان ہے عبیر میں اس کے بغیر رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے ہم تم دیکھنا عبیر کو کچھ نہیں ہوگا ابھی کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر ہمیں بتائیں گے کہ عبیر کو ہوش آگیا ہے انشاءاللہ

وہ اپنے بہتے ہوئے آنسو بھول کر اریبا کے آنسو صاف کر رہا تھا

شازیہ بیگم جائے نماز بچھائے اپنے رب سے عبیر کی صحت مند زندگی مانگ رہی تھی اریبہ اور شایان پوری رات ایک ساتھ اسی طرح بیٹھے ہوئے اپنے بیٹے کی زندگی کی فریاد اپنے رب سے کرتے رہے

کوئی کسی سے شکوہ نہیں کر رہا تھا آج کسی کو کوئی برا نہیں لگ رہا تھا بلکہ اس وقت تو وہ دونوں اس دکھ کے ساتھی تھے

چلو آؤ میرے ساتھ شایان نے اریبہ کو اٹھنے کا اشارہ کیا

نہیں میں یہیں پر ٹھیک ہو

دیکھو شازیہ آنٹی کب سے اکیلے بیٹھے ہوئے ہیں اور مسلسل رو رہی ہیں وہ عبیر کو بہت چاہتی ہیں ان کے پاس چلتے ہیں انہیں بھی تسلی کی ضرورت ہے

شایان نے اریبہ کو اٹھایا اور آنٹی کے پاس چلا گیا

امی …..

اریبہ نے آنکھیں بند کی ہوئی شازیہ بیگم کو ہاتھ سے ہلایا

انہوں نے آنکھیں کھول کر دونوں کو دیکھا آنسو کی ایک لڑی ان کے رخسار کو گیلا کر گئی اریبا نے انہیں گلے لگا لیا وہ بہت روئیں

رو کر ان کے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا تو وہ بھی کچھ مطمئن ہو گئی صبح کے گیارہ بج چکے تھے عبیر کے ڈاکٹرز ابھی تک نہیں آئے تھے البتہ نرس عبیر کو وقفے وقفے سے ٹریٹمنٹ دینے آ رہی تھی

اچانک ایک نرس انڈر سے بھاگتی ہوئی آئی اور ڈاکٹر کو بلانے گی کیا ہوا…….

تینوں اتنی بھگدڑ دیکھ کر پریشان ہوگئے

کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے آپ بیٹھ جائے پلیز آپ کا بیٹا بالکل ٹھیک ہے نرس نے ان لوگوں کو تسلی دلائی

ڈاکٹر عبیر کا معائنہ کرنے آئی سی یو میں گئے تینوں کے دل ایک بار پھر تیز دھڑکنے لگے انہوں نے پھر ہاتھ کے دعا کیلئے اٹھا دئیے

کیا ہوا ڈاکٹر صاحب ڈاکٹر کے کمرے سے نکلتے ہیں شایان نے ڈاکٹر کو روک کر پوچھا

اب پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اللہ کا شکر ہے کہ عبیر کو ہوش آگیا ہے ڈاکٹر مسکراتے ہوئے بولے وہ تینوں بھی خوشی سے جھومنے لگے ان کے رب نے ان کی دعائیں سن لی تھی

#####

بنش آنٹی اپنے آپ کو گھسیٹ گھسیٹ کر بمشکل گھر پہنچی گھر بھی سائیں سائیں کررہا تھا اسد تو ویسے بھی سارا سارا دن باہر ہی رہتا تھا اس کا ہونا یا نہ ہونا برابر تھا پھر بھی شازیہ بیگم کو خالی گھر کاٹنے کو دوڑ رہا تھا انہوں نے رات بمشکل گزاری اور یہ سوچ رہی تھی کہ اگلی صبح عبیر کو دیکھنے ہاسپٹل جائیں گی اور پھر اریبہ اور شایان سے معافی بھی تو مانگی تھی

#####

عبیر کو روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا شازیہ بیگم عبیر کو گود میں لیے بیٹھی تھی نہ جانے رات کیسے گزاری تھی ان لوگوں نے

عبیر اپنی نانی جان سے باتیں کر رہا تھا کمزوری اور تھکن کے چہرے سے ظاہر ہو رہی تھی البتہ کبھی کبھی حیرت زدہ آنکھوں سے اپنے ماما اور بابا کو دیکھ رہا تھا جو بیک وقت مسکرا کر عبیر کی طرف ہی دیکھ رہے تھے

السلام و علیکم …..

تینوں نے مڑ کر دیکھا تو بنش آنٹی سامنے کھڑی تھی

بنش آنٹی کو دیکھ کر عبیر کے ذہن میں اسد کا خیال آیا اسد کے خیال آتے ہی عبیر کے چہرے پر خوشی کی چمک لہرانے لگی وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے وہ تو ابھی بھی بے خبر تھا

بینش آنٹی نے عبیر کو آگے بڑھ کر پیار کیا

اب ان کا رخ شایان اور اریبہ کی طرف تھا ان کے آنسو بہ رہے تھے وہ ہاتھ جوڑ کر دونوں کے سامنے کھڑی ہو گئی مجھے معاف کر دو……

میری وجہ سے تم لوگ کتنی اذیت میں آگئے ہو

بینیش آنٹی زاروقطار رو رہی تھی

نہیں آنٹی اریبہ نے ان کے دونوں ہاتھ تھام لئے اس میں آپ کی کوئی غلطی نہیں ہے آنٹی ,غلطی میری ہے ہمیں تو بچوں کے معاملے میں بہت زیادہ sensitive ہونا چاہیے

میں نے اسد پر بھروسہ کرکے بہت بڑی غلطی کی بچوں کے معاملے میں ہمیں بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے ہم کیسے کسی پر بھروسہ کرسکتےہیں

اپنے ٹائم کی بچت کے لئے میں نے اس پر بھروسہ کرلیا انجام کی پرواہ کیے بغیر…….

للیکن اب ایسا نہیں ہو گا انشاءاللہ

وہ شایان کو دیکھتے ہوئے مطمئن لہجے میں بولی

اریبا نے بنش آنٹی کو گلے لگا لیا وہ زارو قطار رو رہی تھی تھے ان کی بھی مامتا ترسی ہوئی تھی

ااچانک شایان کا موبائل بج اٹھا تو سب کی توجہ شایان کے موبائل کی طرف چلی گئی شایان میں موبائل کانوں سے لگایا دوسری طرف ایس پی صاحب تھے

جی ایس پی صاحب کیسے یاد کیا خیریت تو ہے سب…..

جی نہیں شایان صاحب خیریت نہیں ہیں

ااصل میں گینگ کے دو آدمی جنھیں ہم نے دوسری جیل منتقل کیا تھا آج صبح ان دونوں کی لاشیں ملی ہیں جیل میں

ااس طرح کی گینگ کے لوگوں کو اسی طرح ٹرین کیا جاتا ہے کہ اگر وہ کوئی خطرہ دیکھیں یا پکڑے جائیں تو وہ اسی وقت خودکشی کرلیں

اان دونوں نے بھی زہر کھا لیا ہے میں نے سوچا آپ کو بلالو پولیس اسٹیشن ,آپ ان دونوں کو بھی دیکھ لیں اور میں آپ کے سامنے اس کیس کی فائل بھی close کر دوں کیوں کہ جب کوئی ثبوت ہی نہیں ہے تو ا سے اوپن رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ایس پی صاحب نے وضاحت دیتے ہوئے اپنی جان چھڑائ۔۔

لیکن اسپیکٹر صاحب ان دونوں کی ڈیتھ سے یہ کیس کیسے ختم ہوسکتا ہے

ابھی تو اسد کا دوست علی بھی ہے ان دونوں کو بھی ضرور اس گینگ کے کسی نہ کسی ساتھی کے بارے میں پتہ ہو گا, اگر ہم ان مجرموں کو ایسے ہی چھوڑ دیں گے تو کسی بھی معصوم بچے کی زندگی کبھی بھی محفوظ نہیں رہ سکتی ایس پی صاحب آپ پلیز کچھ تو تفتیش کریں شایان ایس پی صاحب سے التجا یہ انداز میں بولا

مگر شایان صاحب ان دونوں نے علی اور اسد کو گینگ کے کسی اور ساتھی سے نہیں ملایا تھا اسد اور علی کے پاس بھی موبائل نہیں ہیں کہ اس کی کال لسٹ پتہ چل سکے رہی بات ان دو نقاب پوشوں کی تو صرف ان کے نام ہی ہمیں پتا ہے وہ بھی پتہ نہیں ہے کہ نام صحیح ہے یا نہیں

ان دونوں کے نام شہباز اور جہازیب ہیں ان کے پاس بھی موبائل نہیں ہیں حتیٰ کہ ان کے شناختی کارڈ بھی ان کے پاس نہیں ہے تو مشکل ہے آگے کیسے بڑھائیں

ایس پی صاحب نے کیس کلوز کردیا اسد اور علی اس جرم میں شریک تھے انہیں بھی کچھ مہینوں کے بعد رہا کر دیا جانا تھا

شایان بوجھل قدموں سے باہر نکل آیا گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے وہ یہی سوچ رہا تھا کہ شاید یہ جرائم ہمارے ملک سے کبھی غائب نہیں ہو سکتے

کچھ بچے تو عبیر کی طرح نفسیاتی مسائل کا شکار ہو کر ان حادثات کی نذر ہو جاتے ہیں اور کچھ بچے اپنے ماں باپ کے ساتھ چلتے ہوئے بھی محفوظ نہیں ہیں انہیں اپنے والدین کی نظروں کے سامنے ان کے ہاتھوں سے کھینچ کر اغوا کر لیا جاتا ہے

جن بچوں کا حال محفوظ نہیں ان بچوں کا مستقبل کیسے محفوظ ہوگا……

#####

شازیہ بیگم گھر جا چکی تھی اریبا نے زبردستی انہیں گھر بھیجا تھا وہ تو عبیر کو چھوڑنے کو تیار نہیں تھی مگر اریبہ کی ضد پر اٹھ گئی اریبا بھی تھک چکی تھی

اب تو اسے بھوک بھی بہت زیادہ لگ رہی تھی کل رات سے بنا کھائے بس وہ اپنے رب سے عبیر کے لئے دعائیں مانگ رہی تھی اب جو تھوڑا دل کو سکون ملا تو اسے اپنی بھوک کا احساس ہونے لگا .

سے کمزوری بھی محسوس ہو رہی تھی وہ سامنے پڑے سیٹر پر لیٹ گئی

عبیر کا ٹریٹمنٹ کا بھی چل رہا تھا اسی لئے انجیکشن اور دوائیوں کے اثر سے وہ بھی سو رہا تھا

شایان دروازہ کھول کر اندر آ گیا اس کے ہاتھ میں شاپر تھے وہ کھانے کے لیے بھی لے کر آیا تھا اور کچھ عبیر کے پسندیدہ کھلونے لایا تھا اریبہ اس کو دیکھ کر اٹھ کر بیٹھ گئی تھی

چلو اٹھو شاباش کھانا کھا لو شایان نے کھانا پلیٹوں میں نکالتے ہوئے اریبا سے کہا جو بس شایان کو ہی دیکھے جا رہی تھی

شایان…

اس نے پیار سے شایان کو مخاطب کیا آپ کو کیسے پتہ لگا کہ مجھے بہت زیادہ بھوک لگ رہی تھی

اب مجھے تمہاری آنکھوں سے لے کر تمھارے دل تک کی ہر بات جاننی ہے اریبا

نہ جان کر بہت بڑا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے مجھے

مجھے معاف کر دو پلیز

وہ اریبہ کے ہاتھوں کو تھامتے ہوئے بولا یار آفس کی ٹینشن اتنی ہوتی تھی کہ گھر آ کر بھی مجھے گھر اور اس میں رہنے والے افراد کا ہوش نہیں ہوتا تھا ہر وقت غصہ میں بہت برا ہوں شاید میرے برے رویے سے نہ صرف تم ہر ٹ ہوئی ہوئی اور عبیر……

اپنے آنسوؤں سے تر چہرہ عبیر کی طرف کیا

آپ صرف اپنے آپ کو الزام نہ ٹھہرائیں شایان میں بھی عبیر کی اس حالت کی برابر کی شریک ہوں

روز کی لڑائی جھگڑوں سے ہی ہمارا بیٹا خوف وہراس میں مبتلا ہو گیا تھا مجھے اسد پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے تھا پر میں نے کیا صرف اپنے سکون کے لئے اب میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں شایان میں عبیر کے سائے کے بھی ساتھ رہوں گی

بھیڑیے کس روپ میں کہاں گھوم رہے ہیں ہم نہیں جانتے

اور میں بھی اب تمہارے سائے سے بھی زیادہ قریب رہوں گا شایان نے شرارتی نظروں سے اریبا کو دیکھا جو اتنے دنوں بعد شایان کا ایسا روپ دیکھ کر blush ہوئے بغیر نہ رہ سکی

#####

گاؤں کی کچی آبادی میں زلیخا لکڑیوں پرکھانا بناتی جا رہی تھی اور روتی جا رہی تھی اس کی دو بیٹیاں صحن میں کھیل رہی تھی جن میں سے ایک 7سال کی اور ایک پانچ سال کی تھی اایک بڑی بیٹی شادا کپڑے دھونے میں مگن تھی شاداں کی منگنی ہو چکی تھی اور شادی کے لئے زلیخا کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھاااس کے سسرال والوں نے دو مہینوں کا ٹائم دے رکھا تھا اگر ان دو مہینوں میں شادی کی تاریخ پکی نہ کی تو رشتہ توڑنے کی دھمکی ملی تھی

ززلیخا کے شوہر کا انتقال ہو چکا تھا اس کے دو بیٹے تھے شہباز اور جہازیب جو کہ شادی کی شادی کے لیے پیسے جوڑ نے شہر گئے تھے

وہ اپنی ماں کو بتا کر گئے تھے کہ ان کو بہت اچھی نوکری مل گئی ہے کام بہت سخت تھے اسی لیے ہمارا آنا بہت مشکل ہے ہم نہ بھی آئے تو ہمارا مالک شاداں کی شادی کے لئے پیسے بھجوا دے گا

ااور آج صبح ایسا ہی ہوا تھا ایک اجنبی زلیخا کو ایک موٹی گڈی پیسوں کی دے کر گیا تھا جہاں زیب اور شہباز واپس نہیں آئے تھے ہاں اپنے وعدے کے مطابق ماں کو پیسے مل گئے تھے

وہ اپنے بچوں کو یاد کر کے رو رہی تھی اوربہت خوش بھی تھی پیسے اتنے تھے کہ شادہ کی شادی بھی ہو جاتی اور پھر بھی گزر بسر کے لیے بچ جاتے چلو وہ نہ بھی آئے مشکلات حل ہو ہی جائیں گی اس نے آنسو صاف کرتے ہوئے سوچا

ووہ آج ہی شادی کی تاریخ پکی کر دے گی اس نے دل میں پکا عہد کیا میرے بچے فارغ ہو کر آ ہی جائیں گے وہ مطمئن ہو گئی تھی

غریب تھی نا اسی لیے پیسوں کو دیکھ کر آنکھوں میں چمک آآ گئی تھی ااس کی اب ایک ایک پریشانی دور ہوجائے گی اسی لیے اس نے اجنبی سے نہ تو اس کا نام پتہ پوچھا تھا اور نہ ہی بچوں کے بارے میں کچھ پوچھا تھا اس نے چپ چاپ پیسے رکھ لیے تھے.

ووہ بچوں کو کھانا دے کر شادا کے سسرال کی طرف روانہ ہو گئی

کتنے ہی مجبور لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے مالی حالات اور پریشانیوں سے گھیری ہوئی زندگی سے پریشان ہو کر گناہ کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ اگر پکڑے گئے تو اس کا انجام موت ہی ہو گا اور اس کے عوض ان کی فیملی کو ایک موٹی رقم دینے کا وعدہ کیا جاتا ہے تو وہ اپنے گھر والوں کی خوشحالی کے لئے موت کو بھی گلے لگا لیتے ہیں شہباز اور جہازیب بھی انہی لوگوں میں سے تھے

######

آآج عبیر بہت خوش تھا وہ ہسپتال سے اپنے گھر واپس جا رہا تھا اس کے پاپا بھی اس کے لئے بہت سارے کھلونے لائے تھے جو ایک ایک کر کے ااریبہ عبیر کو دکھا رہی تھی

تھینک یو ماما بابا عبیر خوشی سے چہکتے ہوئے بولا

ویلکم بیٹا اریبہ اور شایان نے ایک ساتھ بولا اور عبیر کو گلے لگا لیا

وہ بہت خوش تھے کہ صحیح وقت پر آج انہیں اپنا بیٹا واپس مل گیا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *