Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Asar (Episode 02)

Asar by Yusra Mehmood

شروع شروع میں تو اریبا تھوڑی ڈری ڈری رہتی تھی شایان سے, وہ آفس سے تھکا ہارا آتا تو اس کا سارا غصہ اریبا پر ہی نکلتا وہ بہت خیال رکھتی کہ کوئی غلط کام نہ ہو جائے مبادا پھر شامت نہ آجائے اور اب بینش آنٹی کے گھر میں آتے جاتے رہنے سے گھر کی فضا مزید خراب رہنے لگی ,پہلے اریبہ شایان کی کسی بات کا کوئی جواب نہیں دیتی تھی اور اب ہر بات کا جواب دینے لگی تھی

آج میں عبیر کے اسکول گیا تھا , اریبا اسکے ہاتھ سے فائل لے رہی تھی تو شایان نے بتایا کیا بول رہی تھی ٹیچر, اریبہ نے پوچھا

جب گھر میں توجہ نہیں دی جائے گی تو کیا خاک پڑھے گا ابھی تم سارا دن گھر پر ہوتی ہوں اب جب وہ ٹیوشن سے واپس آئے تو تم دوبارہ عبیر کو لے کر بیٹھو اس کو پڑھائی کا زیادہ ٹائم مل سکی شایان نے حکم صادر کیا

لیکن….. کیسے پڑھے گا وہ کتنا کیا سارا دن صبح سے شام تک بس پڑھتا ہی رہے گ اریبہ حیرت سے بولی

عبیر !شایان اریبہ کی بات نظر انداز کرتا ہوا عبیر کو بلانے لگا

جی پاپا السلام علیکم پاپا عبیر اپنے روم سے آیا اور ادب سے سلام کیا ,وعلیکم السلام بیٹا میں آج آپ کے اسکول گیا تھا بہت شکایتیں کی ٹیچر نے آپ کی

یہ امتحان تو ہو گئے عبیر لیکن اگلے رزلٹ میں مجھے آپکا اے ون گریڈ چاہیے اسی لیے میں نے آپ کی مما کو کہا ہے کہ ٹیوشن سے آ کر پھر اپنی ماں سے پڑھنا تاکہ ا زیادہ سے زیادہ پڑھ سکوں عبیر حیرت سے اپنے بابا کو دیکھ رہا تھا جنہوں نے پیار کرنے کی بجائے اس پر پڑھائی پڑھائی اور پھر پڑھائی کا حکم صادر کر دیا تھا وہ کچھ بول ہی نہیں پایا بس شایان کو دیکھے گیا کیوں عبیر آپ پڑھیں گے ناں, شایان نے عبیر کو کندھے سے ہلایا تو عبیر نے بھی اپنا سر اثبات میں ہلا دیا

میرا پیارا بیٹا ! شایان نے پیار سے عبیر کو اپنی گود میں بٹھا لیا میں اس کو ٹائم نہیں

دے سکتی گھر میں

اریبہ جو کب سے شایان کے احکامات پر اندر ہی اندر ابل رہی تھی پھٹ پڑیں,

وہ بچہ ہے کوئی بڑا نہیں ہے جو صبح سے شام تک بڑھتا ہی رہے اور پھر میرے پاس بھی اتنا ٹائم نہیں ہوتا کہ اپنا دماغ خراب کرو , ویسے بھی ہزاروں کام ہوتے ہیں گھر کے اریبہ نے اپنی صفائی دینی چاہیے اور شایان نے اسے رد

کر دی

تم گھر میں کرتی ہی کیا ہو جو تمہیں ٹائم نہیں ہے ہاں یہ الگ بات ہے کہ تم ہی محلے میں گھومنے پھرنے اور لوگوں سے باتیں بنانے سے فرصت ملے تو شاید عبیر پر کچھ توجہ دو شایان طنزیہ لہجے میں بول

دیکھیں شایان آپ کو کبھی یہ حق نہیں ہے کہ میرے بیٹے کے سامنے آپ روز میری بےعزتی کریں کریں اریبا عبیر کی طرف دیکھ کر بولی جو سہم کر صوبے کے ایک کونے میں جم سا گیا تھا وہ رو رہا تھا دونوں میں سے کسی کو نظر نہ آی, کون سے بیٹے کی بات کر رہی ہوں تم شایان جھاڑنے والے انداز میں بولا جس بیٹے کو سارا دن کمرے میں بٹھا کے رکھتی ہو تاکہ تمہیں تمہاری دوستوں سے فرصت سے بات کرنے کی آزادی ہو

ہاں بٹھا کے رکھتی ہوں اور کمرے میں ہی رہنا ٹھیک ہے اس کا روز روز کی اس چکچک سے اس سے تو بہتر ہے اپنے کمرے میں جا کر کھیلنے اپنے دوپٹے سے آنسو صاف کرتی ہوئی عبیر کے پاس آئی اور بولی چلو ابھی بیٹا اپنے روم میں وہ جلدی جلدی اس کا ہاتھ پکڑ کے اس کے روم میں بٹھا کر آ گئی اسے تسلی ہو گی کہ عبیر کے ذہن پر کوئی برے اثرات اثرانداز نہیں ہو گے

کیونکہ اب تو وہ کھیل میں مگن ہو جائے گا یہ کیسی ممتا تھی اریبا کی کے اپنے آنسوؤں کی بیچ اس کو ععبیر کے آنسو نظر نہ آئے یہ کیسی شفقت تھی شایان کی کہ عبیر سہما سہما ہر حکم کی فوری تعمیل کرنے کی کوشش کرتا تھا کوئی ضد نہ کوئی غصہ ااریبہ عبیر کو کمرے میں چھوڑ کر آگے پیچھے اسکی سسکیاں نہ دیکھ سکیں عبیر تو ایک پھول تھا وہ بہت سہم جاتا تھا جب ااریبہ اور شایان زور زور سے لڑتے تھے وہ اپنی ماں کے آنسو نہیں دیکھ سکتا تھا پاپا کا غصہ بھی دیکھتا اور کچھ بھول نہیں پاتا تو اپنے کمرے میں آ کر خوب روتے روتے ہہیں سو جاتا کبھ. کھانا بھی نہیں کھاتا نہیں یہ کیسی محبت تھی اولاد پہ شایان اور اریبہ کی

کہ وہ رو رہا ہے بھوکا سو رہا ہے اور دونوں کو خبر ہی نہیں جب اولاد اپنی آنکھوں کے سامنے ہو تو اپنی ذات کے بارے میں کیسے کوئی سوچ لیتا ہے کوئی کیسے اپنے مسئلہ اولاد کے سامنے ڈسکس کر سکتا ہے کیا آپ کے بچوں کے کان نہیں ہوتے یا وہ کچھ سمجھنے سے قاصر ہے کیا ان کا دل نہیں ہے کہ ان کے دل پہ ہتھوڑے نہیں برس سکتے کہ بند کمرے میں ان کو ڈر نہیں لگتا تھا ان کا دل نہیں چاہتا کہ وہ اپنے مما اور اپنے پاپا دونوں کے ساتھ مل کر بیٹھے کھیلی اور ڈھیر ساری باتیں کریں

ممیاں بیوی میں لڑائیاں تو ہوتی ہی اختلافات بھی ہوتے ہیں لیکن براہ کرم نے اولاد کے سامنے لڑنے سے گریز کریں ان کے احساساتکا خیال رکھیں بچے بہت معصوم ہوتے ہیں وہ جس کو روتا دیکھنا شروع کریں رونا شروع کردیتے ہیں

تتو اب ععبیر کیسے برداشت کرتا سب کچھ, اس کی ماما کی آنکھوں میں آنسو آ تے تو وہ بھی روتا رہتا لیکن کسی کو پتہ ہی نہیں چلتا کیونکہ وہ کمرے میں ہوتا تھا اریبا کو تسلی ہوتی کہ میرا بیٹا بہت ذہین ہے ببہت ویل مینرڈ ہے

#######

ااسد اور علی محلہ کے گورنمنٹ اسکول میں دسویں کلاس کے طالب علم تھے علی بری صحبت میں گھرا ہوا تھا اور اب وہ اس کو بھی گھیرے میں لے رہا تھا اس کے علاوہ علی کے اور بھی کئی بڑے بڑے لڑکے بری صحبت کے شکار اس کے دوست تھے وہی علی کو بھی بری صحبت کی طرف لے کر آئے تھے اور اب ان کا ٹارگٹ اسد تھا

اسد علی کے کہنے پر چھوٹی موٹی چوری بھی کرلیتا اور چھوٹے موٹے جرائم کرنے پر بھی اسے کوئی شرمندگی نہیں ہوتی اسے پیسوں کا انتظام کرنا تھا جو بری عادت اسے تھی اس کے لئے اسے پیسوں کی شدید ضرورت تھی

########

اسلام علیکم امی جان کیسی ہیں آپ , امی کی کال آئی جو کہ آواز سے کچھ پریشان نظر آ رہی تھی ہاں بیٹا تم بتاؤ سب خیریت ہے نا پتہ نہیں میرا دل بہت گھبرا رہا ہے سوچا تمھاری خیریت پوچھ لو

جیامی میں بھی ٹھیک ہوں عبیر بھی بالکل ٹھیک ہیں ماشاء اللہ اریبا نے تسلی دی ہاں بیٹا یہی بتانے کے لئے فون کیا تھا میں نے,

عبیر کا خیال رکھنا آجکل روز خبروں میں آرہا ہے روز کتنے ہی بچے اغوا ہو رہے ہیں میرا تو دل بیٹھا جا رہا ہے تم کچھ دنوں کے لیے میرے پاس آ جاؤ امی فکرمندی سے بولی , امی آپ پریشان نہیں ہوں میں پورے سے عبیر کا خیال رکھونگی لیکن میں ابھی نہیں آ سکتی کیونکہ اس کو ٹیوشن بھی جانا ہوتا ہے اور اس کے پیپرز بھی ہو رہے ہیں اریبہ نے وضاحت دی۔۔

تو اس کو ٹیوشن نہیں بھیجو تم پڑھانا شروع کر دو ویسے ہی حالات بہت خراب ہورہے ہیں اور بیٹا ماں سے زیادہ اپنے بچوں کو کوئی اور ٹیوشن نہیں دے سکتا یہ میرا تجربہ ہے

اریبا کی ‏ ‏ امی اسے سمجھا رہے تھے اور اریبہ کو لگ رہا تھا کہ شاید وہ شایان کی طرح باتیں کرنے میں لگ گئی ہیں اس نے اپنی امی کو تسلی دی کہ آپ پریشان نہ ہوں میں آپ کو روزانہ فون کرتی رہوں گی

######

اب یہ روز کی روٹین ہوگئی تھی عبیر اسکول پھر ٹیوشن اور پھر گھر ہر وقت پڑھتا ہی رہتا وہ تھکن سے بے حال ہو جاتا اور اپنی نانی جان سے بہت محبت کرتا تھا آج بھی اس نے اریبا سے فرمائش کی کہ اسکول سے واپسی پر نانی کی ہاں چلی –

شازیہ بیگم اریبا اور عبیر کو دیکھ کر بے انتہا خوش ہوئے انکی تو آنکھوں کی ٹھنڈک تھا عبیر یہ میرا بیٹا اتنا کمزور کیوں لگ رہا ہے مجھے, نانی نے پیار سے پوچھا تو عبیر اور ان کی باہوں میں سمٹ گیا دنیا جہاں کی خوشیاں اس کو اپنی نانی کی گود میں ملتی وہ اس سے ڈھیر ساری باتیں کرتی شازیہ بیگم کا گھر عریبہ کے گھر سے تھوڑے فاصلے پر ہی تھا جب وہ اسکول سے واپسی پر اکثر یہاں آ جاتی تھی

######

تم نے چرائے ہیں میرے 2000روپے بنش بیگم اسد پر نگاہیں گاڑتے ہوئے بولیں,

ہاں تو جب پتہ ہے کہ میں نے لیے ہیں تو اتنا چل لانے کی کیا ضرورت ہے اسد نے بھی ترکی با ترکی جواب دی

کام ہے مجھے سمجھیں اور اماں اب میں کوئی بچہ نہیں ہوں جو مجھ سے پیسے چھپا چھپا کر رکھتی ہوں آپ , کس کا ہے میرا ہی تو ہے سب اسد کالر آکڑا تے ہوئے باہر نکل گیا بینش بیگم ہاتھ ملتی رہ گئی-

#####

بنش آنٹی السلام علیکم اریبا بنش آنٹی کی گھر پہلی دفعہ آئی تھی وعلیکم السلام بیٹا آو آو اندر آو آنٹی خوش دلی سے پیش آئیں

وہ اصل میں آنٹی میری فرینڈ میں آنا ہے ابھی اور عبیر کی چھٹی کا بھی ٹائم ہو رہا ہے اگر اسد گھر پر ہو تو پلیز اسے کہنا کہ عبیر کو اسکول سے گھر لے آئے

جی اریبہ باجی میں ابھی چھوڑ دیتا ہوں اسد باہر جانے کے لیے گھر سے نکل رہا تھا اس سے بولا

شکریہ اسد

ارے ایسی کوئی بات نہیں ہے آپ کو جب ٹائم نہ ہو مجھ سے بتا دیا کریں میں لے آؤں گا عبیر کو, اسد اریبہ کو تسلی دلاتے ہوئے بولا اریبہ بھی مطمئن ہو کر گھر کی طرف چل دی

اسد عبیر کو گھر چھوڑ گیا تھا اتنی دیر میں اس نے گھر کے کافی سارے کام نمٹا لیے تھے بہت آسانی ہوجائے اگر اسد ہی لے آیا کرے اس نے دل میں سوچا

اب تقریبا ہفتے میں 3 دن ایسا ہی ہوتا کہ اسد عبیر کو اسکول سے واپسی میں لاتا وہ اس کو رستے میں ٹافیاں دلاتا اور وہ خوشی خوشی کھاتا ہوا آتا اور گھر آنے سے پہلے ساری ٹافیاں ختم کردیتا مبادا کہیں پتہ نہ چل شایان کو وہ اس طرح کی چیزیں خانے کے سخت خلاف تھا جو بچوں کے لئے مضر صحت ہو اکثر اسد عبیر سے ملنے گھر بھی آجات عبیر اس کو دیکھ کر خوش ہوں جاتا جب بچوں کو گھر میں اٹینشن نہ ملے تو اکثر وہ وہاں جانا پسند کرتے ہیں جہاں انھیں پیار اور توجہ میں لے اسی لیے عبیر اپنی نانی جان سے بھی بہت محبت کرتا تھا

اور اب وہ اسد سے بھی بہت خوش رہنے لگا تھا اور کسی پر اعتبار کرنے سے پہلے ہمیں اپنے دماغ اور آنکھیں دونوں کھلی رکھنی پڑتی ہیں عبیر تو بچہ تھا اسے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا صرف پیار اور توجہ کے علاوہ جبکہ اریبا کو صرف اپنا سکون نظر آ رہا تھا.

######

آج جب وہ اسکول سے واپس آیا تو بہت تھکا ہوا تھا اور کھانا کھاتے ہیں اپنے روم میں سو گیا ااریبہ ٹیوشن چھوڑنے کے لئے اسے اٹھانے آئی تو وہ اپنے کمرے میں سو چکا تھا

#######

وہ اندھیرے میں بھاگے جارہا تھا نہ کوئی منزل تھی نہ کوئی رستہ اسے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا وحشت سے آنکھوں سے آنسو رواں تھے اس کی دبی دبی سسکیاں صرف اس کو ہی سنائی دے رہی تھیں

ااس کی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیوں بھاگنا ہے کہاں بھاگنا ہے بس وہ بھاگتا رہا کہ اچانک ٹھوکر لگی اور گر گیا ابھی سانس پھول رہا تھا سردیوں میں بھی بری طرح پسینے میں شرابور تھا پورا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا کمرے کے باہر سے لڑنے اور مارنے پیٹنے کی آوازیں آ رہی تھی ہر طرف ایک عجیب سے شور مچا ہوا تتھا خواب کا اثر ابھی دماغ میں موجود تھا مجھے بھاگنا ہے…….. اس کے دماغ نے اسے للکارا.

وہ اٹھا کمرے سے باہر ایک شور برپا تھا کسی کو کسی کی فکر نہیں تھی وہ اب تک اپنے خواب کے حصار میں تھا کون کہاں ہیں کیا ہو رہا ہے اسے کچھ خبر نہیں تھی کمروں سے ہوتا ہوا وہ صحن میں آگیا وہاں بھی گیٹ کھلا تھا وہاں سے نکلا اور بے مقصد بھاگنا شروع کردیا

#######

ااسد اس میں کوئی بڑی بات نہیں ہے اگر تم ہمارا ساتھ اس کام میں دو گے تو سوچ لو پھر ایک حصہ تمہارا بھی ہوگا اور پھر ہماری عیاشیوں کے لئے کوئی ہمیں خرچہ نہیں دے گا میرے بھائی.

ہہمیں خود اس کا انتظام کرنا ہے علی نے ششاطیرانہ ہنسی چہرے پر سجالی. علی ٹھیک ہی کہ رہا ہے اب تو اماں بھی مجھے پیسے نہیں دیتی چھپا چھپا کر رکھتی ہے کیوں نہ میں علی کا ساتھ دے دو

ببس میرا نام نہیں آنا چاہیے اسد نے فکر مندی سے پوچھا

اارے نہیں یار ہمارا کوئی کچا گینگ نہیں ہے کچی گولیاں نہیں کھیلتا ہمارا گروہ, جو کام کرتا ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں چھوڑتا تو بس بے فکر رہے ہیں میرے ساتھ چل تجھے باس سے ملوا دو علی نے اسد کو اطمینان دلایا اور اسد بھی مطمئن ہو گیا –

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *