Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Asar (Episode 01)

Asar by Yusra Mehmood

شدید گرمی میں پسینے میں شرابور وہ عبیر کو اسکول سے لے کر رکشہ کا انتظار کر رہی

تھی-اتنے میں موبائل کی آواز سے وہ اورچڑ گئ –

ابھی اتنے رش اور گرمی میں نہ جانے کتنے برےحال میں وہ کھڑی ہےاور اب پتہ نہیں کس کی کال آگئ,وہ منہ ہی منہ میں بڑ بڑائ-

کال کس کیہو سکتی تھی یہ تواریبہ کو اندازہ تھاتبھی بنا کسی تاخیر کے موباٰئل کانوں سے لگایا-

ہیلو!اریبہ ڈرتےہوے بولی,

ہاں کیا رزلٹ رہا عبیرکا,دوسری طرف مردانہ آواز ابھری,

وہ…..

وہ وہ کیا لگارکھی ہے…آج رزلٹ تھا نہ عبیر کا,مل گیا رزلٹ,ملیں اسکی ٹیچر سے,کیا پروگریس بتائ ہے انہوں نے عبیر کی,دوسری طرف شایان اپنے بیٹے کی پروگریس کو لے کر بہت فکر مند تھا-

ابھی میں رستے میں ہوں آپ بھی گھر پہنچے میں بتاتی ہوں آکر,اریبہ نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا-

اوکے!دوسری طرف فون خٹاخ کی آواز کے ساتھ بند ہو گیا-

—————————————————————

آہا نانو کی جان!عبیرکودیکھ کرشازیہ بیگم اپنے گھٹنوں کا دردبھول کر اسے گود مےاٹھاتےہو ے بولی-

اسلام و علیکم امی جان! اریبہ تھکے تھکےانداز میں چلتی ہوئ آ ئ اور صوفے پر ڈھے گئ-

کیاہوابیٹا بہت تھک گئ ہو,آج گرمی بھی توبہت ہے,شازیہ بیگم دونوں کوجوس دیتے ہوے بولی-

جی امّی بہت گرمی ہے اب توسرپھٹنے لگا ہےمیرا گرمی سےاورٹینشن سے,اریبہ نے فکرمندی سے عبیر کودیکھا جوصحن میں سائکل چلانے میں مصروف تھا جو شازیہ بیگم نے اسی کے لےُ لے کر رکھی تھی-

امّی جان عبیر کے ایگزامزمیں بہت کم نمبر آے ہیں جبکہ شایان نے اسکا ٹیوشن بھی چینج کیا ہےاریبہ فکر مندی سے ماں کو اپنی پریشانی بتا رہی تھی

کیوں میرے بیٹے کے اتنے کم مارکس کیوں آےہیں,جبکہ آپ توبہت اچھاپڑھتے ہیں اور اب تو آپ کےپپانے آپکی ٹیوشن بھی چینج کردیا اسکول بھی آپکابہت اچھا وہےپھرکیاوجہ ہے کیا آپ کو اپنی ٹیچر پسند نہیں ہیں,اپنی نانو کو بتاؤ شاباش,شازیہ بیگم نے بھی وجہ جاننی چاہی لیکن عبیر سنی ان سنی کرتا ہوا اندر روم میں چلا گیا-

########

یہ کیا ہے,شایان دھاڑا

عبیر ایک کونے میں سہما کھڑا تھا,کیو نکہ آج اسکے رزلٹ کو لے کر پھر شایان اریبہ پر غصّہ نکال رہا تھا,اریبہ بھی اپنی صفائیاں دے رہی تھی,اسوقت گھر میں دونوں کی لڑائ کی آوازیں گونج رہی تھی کو نے میں بیٹھے عبیر کے آنسو ٹپ ٹپ گرنا شروع ہوگے,جودونوں کے درمیان ہونے والی لڑائ کے شعلوں میں بالکل مدھم پڑ گےُ

######

اسلام وعلیکم,اریبہ نے ادب سے سلام کیا

والیکم اسلام,مس نادیہ نے اریبہ کو بیٹھنے کااشارہ کیا

وہ اصل میں میں عبیر کا رزلٹ لینے آئ ہوں

جی بہت اچھا,مس نادیہ بہت سی فا ئلز میں سے اریبہ کی فائل ڈھونڈنے لگی

یہ رہی فائل آپکے بیٹے کی,لیکن!مس نادیہ تشویش سے بولیں

عبیر ہمارا ایک بہت ہونہار طالبعلم تھا پر جیسے میں آپکو بتا چکی ہوں کے پچھلے دو سال سے عبیر پڑھائ سے بلکل دور بھاگ رہے ہیں اب تو کلاس میں بھی اکثر لڑنا انکا معمول بن گیا ہے

جی,اریبہ پر توحیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے

وہ پڑھائ میں کمزور ہو رہا ہے یہ تو مان رہی تھی لیکن لڑنا جھگڑنااسپر وہ یقین نہ کرپا ئ

لیکن مس نادیہ عبیر تو ہر جگہ بہت مینرز سے رھتا ہے,یہاں تک کہ مجھے گھر میں بھی بلکل پریشان نہیں کرتا,اسکا روم ہی اسکی دنیا ہےہر کام وقت پہ کرتا ہے بنا مجھے تنگ کیے,.میں کیسے آپکی بات مان لو ں,وہ برائ نہیں سن سکی اپنے ہیرا جیسے بیٹے کی,

جو کبھی حرفِ شکایت اپنی زبان پے نہیں لاتا.

ٹائم پے پڑھے ٹا ئم پے کھا ے اور ٹا ئم پے سو جا ے,یہی تو نشانی ہے ا چھے اور فر ما نبر دار بچو ں کی,جو اپنے پیرنٹس کے اشاروں روبوٹ کی طرح عمل کرے …….

اور عبیر ایساہی تھا

اپنے مما پپا کی انسٹرکشنز پہ چلنے والا روبوٹ……..

عبیر کا نقشہ آنکھوں میں کھینچتے ھوے وہ بہت خوش ہوئ

اور آپ نے کبھی جا ننے کی کوشش بھی نہیں کی کہ وہ اپنے بناے ہوے خول کے اندر کیوں رہنا چاہتا ہے,مس نا د یہ نے چبھتی ہوئ نگا ہ اریبہ پر ڈالی جو اسے اندر تک زخمی کر گئ

#######

عبیر ایک آٹھ سالا بچہ تھا جو اسٹینڈرڈ ۳ میں ہڑھتا تھا,شایان نے مہنگےترین اسکول میں اسکا ایڈمیشن کرایا تھا اور حال ہی میں اسکی ٹیو شن بھی تبدیل کردی تھی تا کہ عبیر کا زیادہ تر وقت اپنی پڑھائ میں گزرے-

######

اسد علی کابیچینی سے انتظا ر کر رہا تھا اور اسکول کی پچھلی راہداری میں پریشانی سے ادھر ادھر ٹہل رھا تھاایک دم اسکے چہرے پر مسکرا ہٹ رقص کرنے لگی

یار اتنی دیر کیوں لگا دی,اسد تڑپ کے بولا

اب کچھ نہیں بو لو بس مزے کرو

علی سگریٹ کے 2,2پیکٹ ہاتھ میں لہراتا ہوا مسرت سے بولا

اسد کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئ اور اسکول کی پچھلی راہ داری میں وہ دو نوں اپنی سانسیں بیچنا شروع ہو گےْ-

وہ ایک درمیانے طبقے سے ہی تعلق رکھتا تھا اتنا زیادہ امیر تھا کی دنیا کی آسائشیں سمیٹا پھیرے لیکن پھر بھی ضرورت کی تمام اشیاء اس کے گھر میں موجود تھی شایان ایک کمپنی میں مینجمنٹ ڈائریکٹر کی پوسٹ پر تھا عبیر کے لیے بھی اس نے بہت سے کھلونے اور اس کی من پسند کتابیں اس کے کمرے میں جمع کی ہوئی تھی شاید اسی وجہ سے عبیر اپنے کمرے سے باہر ہی نہیں نکلتا تھا شایان یہ سوچ کر مطمئن ہو جاتا پر آج جب شایان کو عبیر کا رزلٹ پتہ چلا وہ مطمئن نہیں ہوا سے لگا کہیں نہ کہیں ضرور اسکول مینجمنٹ کی گلتی ہےا ایسے کیسے عبیر کی پروگریس دن بدن گھٹتی جا رہی ہے فیصلہ کر لیا تھا صبح ہی سکول جا کر بات کرے گا

#############

السلام علیکم شایان صاحب کیسے ہیں آپ, مس نادیہ شایان کو پہچانتے ہوئے بولی,

اصل میں عبیر کے مسئلے پر کچھ ڈسکس کرنا چاہتا ہوں, شایان فوری ضروری بات پر آیا

میں بھی آپ کو کال کرنے والی تھی, مسٹر شایان ہمیں عبیر کے مسئلے پر ڈسکس کرنا ہی چاہیے, اصل ہیں شایان صاحب عبیر کو کوئی مسئلہ ہے, اگر وہ پڑھائی میں دلچسپی لے تو لائق اور فائق بچوں کی طرح سے پہلے سمجھ لیکن وہ کچھ سمجھنا ہی نہیں چاہتا, اسکول میں بھی ہر وقت تھکا تھکا اور گم صم رہتا ہے اکثر بچوں سے جھگڑا بھی کرتا ہے یا تو وہ بیمار ہیں اور بتا نہیں پا رہا مس نادیہ نے خدشہ ظاہر کیا,

یہ میرا بچہ کوئی بیمار نہیں ہے اسے اٹینشن کی ضرورت ہے آپ لوگ اس کو دے نہیں پا رہے, اگر وہ نہیں پڑ رہا تو سختی سے اس پر 1- A- بچوں میں نام چاہیے مجھے اس کا

شایان نے بھی اپنے دل کا غبار نکال

مسٹر شایان! ہم اپنے بچوں پر سختی نہیں کرتے, ہمارا مقصد ہے کہ بات سمجھ آجائے یہ بہت ہے ہمارے لئے میری مانیں تو بچوں کو کبھی بھی مقابلے کی طرف نہیں کھینچے بچے بہت اچھے ہوتے ہیں ذہین ہوتے ہیں شایان اس کا مقابلہ کلاس کے سارے بچوں کے ساتھ کر رہا تھا جو کہ میرے اندازے کے مطابق آج کل سارے ہی والدین کرتے نظر آتے ہیں خدارا اپنے بچوں کو احساس کمتری کی طرف نہ کھینچی بچے بہت اچھے ہوتے ہیں ذہین ہوتے ہیں ان کو مقابلہ کرنا نہ سکھائیں ان پر اپنی مرضی مسلط نہ کرے وہ سکھائیں جو وہ شوق سے سیکھیں

میرے خیال میں آپ اپنے گھر کا ماحول چینج کریں ہوسکتا ہے ابھی اس وجہ سے ڈسٹرب ہو ییہ کہتے ہوئے وہ اپنی سیٹ سے اٹھ گئی کیونکہ ان کی بھی کلاس کا ٹائم ہو رہا تھا

########

اریبا نے گیٹ کھولا تو سامنے بشریٰ آنٹی کو پایا وہ اس کے پڑوس میں رہتی تھی اور اکثر ان کے گھر آتی رہتی تھی یا یہ کہہ لیں کہ محلے کی خبر گیری کرتے رہنا ان کی ذمہ داری تھا ان کا 1 بیٹا تھا اسد جو کہ محلے کے گورمنٹ اسکول میں پڑھتا تھا وعلیکم السلام بیٹا نتمہاری آنکھیں کیوں سوجی ہوئی ہے ان ننظراریبہ کی آنکھوں کی طرف چلا گیا تھا وہ اپنی نظریں چراتی ہوئی بولی کچھ نہیں آنٹی آنکھ میں کچرا چلا گیا تھا کچھ بھی کہو بیٹا یہ میں نہیں جانتی کل بھی تمہارے گھر سے لڑنے کی آوازیں آ رہی تھی تو میں بہت پریشان ہو رہی تھی کیا ہوا تھا سب خیر تو کی,ا وہ تو لینے والے انداز میں بولی اریبا نے ساری بات آنٹی کو بتا دیں

اآخر وہ بھی تھک گئی تھی روز روز کے جھگڑوں سے کیا حق پہنچتا ہے شایان کو ہر کام میں اس کے کیڑے نکالتا رہتا ہے , شایان سمجھتا تھا کہ گھر کی ہر ذمہ داری صرف اس کی ہے جبکہ اس کی سوچ بالکل اس کے برعکس تھی یا یہ کہنا ٹھیک ہوگا کہ اس کی سوچ بشریٰ آنٹی کی سوچ میں ڈھلنے لگی تھی.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *