Asar by Yusra Mehmood NovelR50681 Last updated: 13 May 2026
Rate this Novel
Asar by Yusra Mehmood
اسد علی کابیچینی سے انتظا ر کر رہا تھا اور اسکول کی پچھلی راہداری میں پریشانی سے ادھر ادھر ٹہل رھا تھاایک دم اسکے چہرے پر مسکرا ہٹ رقص کرنے لگی
یار اتنی دیر کیوں لگا دی,اسد تڑپ کے بولا
اب کچھ نہیں بو لو بس مزے کرو
علی سگریٹ کے 2,2پیکٹ ہاتھ میں لہراتا ہوا مسرت سے بولا
اسد کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئ اور اسکول کی پچھلی راہ داری میں وہ دو نوں اپنی سانسیں بیچنا شروع ہو گےْ-
وہ ایک درمیانے طبقے سے ہی تعلق رکھتا تھا اتنا زیادہ امیر تھا کی دنیا کی آسائشیں سمیٹا پھیرے لیکن پھر بھی ضرورت کی تمام اشیاء اس کے گھر میں موجود تھی شایان ایک کمپنی میں مینجمنٹ ڈائریکٹر کی پوسٹ پر تھا عبیر کے لیے بھی اس نے بہت سے کھلونے اور اس کی من پسند کتابیں اس کے کمرے میں جمع کی ہوئی تھی شاید اسی وجہ سے عبیر اپنے کمرے سے باہر ہی نہیں نکلتا تھا شایان یہ سوچ کر مطمئن ہو جاتا پر آج جب شایان کو عبیر کا رزلٹ پتہ چلا وہ مطمئن نہیں ہوا سے لگا کہیں نہ کہیں ضرور اسکول مینجمنٹ کی گلتی ہےا ایسے کیسے عبیر کی پروگریس دن بدن گھٹتی جا رہی ہے فیصلہ کر لیا تھا صبح ہی سکول جا کر بات کرے گا
السلام علیکم شایان صاحب کیسے ہیں آپ, مس نادیہ شایان کو پہچانتے ہوئے بولی,
اصل میں عبیر کے مسئلے پر کچھ ڈسکس کرنا چاہتا ہوں, شایان فوری ضروری بات پر آیا
میں بھی آپ کو کال کرنے والی تھی, مسٹر شایان ہمیں عبیر کے مسئلے پر ڈسکس کرنا ہی چاہیے, اصل ہیں شایان صاحب عبیر کو کوئی مسئلہ ہے, اگر وہ پڑھائی میں دلچسپی لے تو لائق اور فائق بچوں کی طرح سے پہلے سمجھ لیکن وہ کچھ سمجھنا ہی نہیں چاہتا, اسکول میں بھی ہر وقت تھکا تھکا اور گم صم رہتا ہے اکثر بچوں سے جھگڑا بھی کرتا ہے یا تو وہ بیمار ہیں اور بتا نہیں پا رہا مس نادیہ نے خدشہ ظاہر کیا,
یہ میرا بچہ کوئی بیمار نہیں ہے اسے اٹینشن کی ضرورت ہے آپ لوگ اس کو دے نہیں پا رہے, اگر وہ نہیں پڑ رہا تو سختی سے اس پر 1- A- بچوں میں نام چاہیے مجھے اس کا
شایان نے بھی اپنے دل کا غبار نکال
مسٹر شایان! ہم اپنے بچوں پر سختی نہیں کرتے, ہمارا مقصد ہے کہ بات سمجھ آجائے یہ بہت ہے ہمارے لئے میری مانیں تو بچوں کو کبھی بھی مقابلے کی طرف نہیں کھینچے بچے بہت اچھے ہوتے ہیں ذہین ہوتے ہیں شایان اس کا مقابلہ کلاس کے سارے بچوں کے ساتھ کر رہا تھا جو کہ میرے اندازے کے مطابق آج کل سارے ہی والدین کرتے نظر آتے ہیں خدارا اپنے بچوں کو احساس کمتری کی طرف نہ کھینچی بچے بہت اچھے ہوتے ہیں ذہین ہوتے ہیں ان کو مقابلہ کرنا نہ سکھائیں ان پر اپنی مرضی مسلط نہ کرے وہ سکھائیں جو وہ شوق سے سیکھیں
میرے خیال میں آپ اپنے گھر کا ماحول چینج کریں ہوسکتا ہے ابھی اس وجہ سے ڈسٹرب ہو ییہ کہتے ہوئے وہ اپنی سیٹ سے اٹھ گئی کیونکہ ان کی بھی کلاس کا ٹائم ہو رہا تھا
اریبا نے گیٹ کھولا تو سامنے بشریٰ آنٹی کو پایا وہ اس کے پڑوس میں رہتی تھی اور اکثر ان کے گھر آتی رہتی تھی یا یہ کہہ لیں کہ محلے کی خبر گیری کرتے رہنا ان کی ذمہ داری تھا ان کا 1 بیٹا تھا اسد جو کہ محلے کے گورمنٹ اسکول میں پڑھتا تھا وعلیکم السلام بیٹا نتمہاری آنکھیں کیوں سوجی ہوئی ہے ان ننظراریبہ کی آنکھوں کی طرف چلا گیا تھا وہ اپنی نظریں چراتی ہوئی بولی کچھ نہیں آنٹی آنکھ میں کچرا چلا گیا تھا کچھ بھی کہو بیٹا یہ میں نہیں جانتی کل بھی تمہارے گھر سے لڑنے کی آوازیں آ رہی تھی تو میں بہت پریشان ہو رہی تھی کیا ہوا تھا سب خیر تو کی,ا وہ تو لینے والے انداز میں بولی اریبا نے ساری بات آنٹی کو بتا دیں
اآخر وہ بھی تھک گئی تھی روز روز کے جھگڑوں سے کیا حق پہنچتا ہے شایان کو ہر کام میں اس کے کیڑے نکالتا رہتا ہے , شایان سمجھتا تھا کہ گھر کی ہر ذمہ داری صرف اس کی ہے جبکہ اس کی سوچ بالکل اس کے برعکس تھی یا یہ کہنا ٹھیک ہوگا کہ اس کی سوچ بشریٰ آنٹی کی سوچ میں ڈھلنے لگی تھی.
