Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Asar (Episode 03)

Asar by Yusra Mehmood

گھر میں ایک شور برپا ہوگیا تھا عبیر اپنے کمرے میں نہیں تھا وہ تو سو رہا تھا اپنے کمرے میں اریبا زاروقطار رو رہی تھی اوکے میں دیکھ کے آتا ہوں ابھی گاڑی لے کے جاتا ہوں ہو سکتا ہے کہ قریب ہی ہو

شایان فکرمندی کے عالم میں تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا باہر کی طرف آگیا

ہم بھی دیکھتے ہیں آس پاس ہو سکتا ہے کہ عبیر قریب ہی کہیں ہو, آج پڑوس کے لوگ جو ابھی اریبا کے گھر پر موجود تھے جو کہ ابھی کچھ دیر پہلے اریبہ اور شایان میں ہونے والی جھڑپ کو سلجھانے آئے تھے, اب عبیر کی گمشدگی پر وہ لوگ بھی پریشان ہو گئے تھے

یاد کر لو اریبا بیٹا عبیر کہیں تمہیں کچھ بتا کر تو نہیں گیا ایک آنٹی نے پوچھا

نہیں آنٹی وہ تو سو گیا تھا اسکول سے آکر ٹیوشن بھی نہیں گیا تھا شاید بہت زیادہ تھک گیا تھا آج آپ سب بھی تو تھے یہاں نہ جانے کس وقت میں نکل گیا وہ

اریبہ کی سسکیاں جاری تھی بیٹے کا غم اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا ہر وقت کمرے میں دیکھنے کی عادت تھی نا اس کو آج کمرے میں نہیں تھا تو آج احساس ہو رہا تھا کہ وہ مشکل میں ہے, اپنی اولاد کو اپنے سامنے دیکھتے رہیں سمجھتے ہیں ہم کہ ہماری اولاد ہر طرح کے شیطان سے محفوظ ہے لیکن شیطان تو ہر روپ میں ہر جگہ موجود ہے کہ اس کے ذہن میں کب شیطانیت جاگ جائے تو کیا کریں

######

شایان ادھر ادھر مارا مارا پھر رہا تھا مگر کہیں پر بھی عبیر نظر نہیں آرہا تھا وہ ڈرائیو کر رہا تھا اور رو رہا تھا اس کو اپنے کیے پر پچھتاوا تھا

غلطی اس کی تھی اس نے اپنے بیٹے کو سمجھنے میں دیر کردی وہ خود کو ملامت کررہا تھا آج ہی تو اس نے سب کے سامنے اریبا سے سوری کیا تھا بات صاف ہو گئی تھی دونوں طرف سے اب وہ کبھی نہیں لڑائی کریں گے اپنے بچے کے بارے میں سوچیں گے دو گھنٹے تک محلے کے بڑے بزرگوں نے اریبہ اور شایان کے مسئلے کو سلجھایا تھا اور آخر میں مسئلہ حل بھی ہو گیا تھا

بڑوں نے بہت سمجھایا اریبا اور شایان کو کی اپنے بیٹے کے بارے میں سوچواس کے سامنے اپنے گھر کا ماحول خراب کرو گے تو وہ شدید ڈپریشن کا شکار ہوجائے گا اس کے دل میں ڈر نہیں اعتماد کو زندہ کرو تو آج دونوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب وہ صرف عبیر کی خوشیوں کے بارے میں سوچیں گے

######

وہ ایک بینچ پر بیٹھا زاروقطار رو رہا تھا اسے بہت ڈر لگ رہا تھا سردی سے اس کے دانت بج رہے تھے نیند سے اس کی آنکھیں بوجھل ہو رہی تھی ایسا لگ رہا تھا کہ ابھی چکر آئیں گے اور وہ گر جائے گا رات ہونے والی تھی عبیر بہت سہما ہوا تھا رو رو کر اللہ سے دعا مانگ رہا تھا کہ اسے گھر پہنچا دے

پھر وہ اچانک چکر آ کر نیچے گر گیا اسے

بہت نیند آ رہی تھی وہ سونا چاہتا تھا پھر اچانک اسے کسی نے اپنی گود میں اٹھا لیا نیم غنودگی میں اسد بھائی کا چہرہ دیکھ کر وہ پرسکون سو گیا

######

شایان تھک ہار کر گھر آگیا اریبا جھٹ سے شایان کے پاس آئی کہاں ہے عبیر اس نے سوالیہ نظروں سے شایان کو دیکھا ,وہ نہیں ملا عبیر

شایان نے نظریں چراتے ہوئے جواب دیا وہ اریبا سے نظریں نہی ملا پایا

کیا اریبہ خود کو سنبھال نہیں پائے اور چکرا کر نیچے گر گئی

بینش آنٹی اور دوسری آس پڑوس کی خواتین بھی اریبہ کے گھر تھی انہوں نے اریبا پر پانی ڈالا تو اس کو ہوش آیا اس کا رونا کسی صورت نہیں ہوlا

پولیس میں رپورٹ کر دو بیٹا ایک پڑوسی انکل نے شایاں سے کہا تو شایان اپنے کچھ پڑوسیوں کو لے کر رپورٹ درج کرانے چلا گیا تھا .

#####

شازیہ بیگم کا دل بہت گھبرا رہا تھا وہ اپنے گھر کے صحن میں ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہی تھی ایسا لگ رہا تھا کچھ برا ہونے والا ہے انہیں اریبا اور عبیر کی فکر ہو رہی تھی وہ بار بار اریبا کو فون کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور اس کا فون بند آرہا تھا پر اریبہ اپنا فون کبھی بند نہیں رکھتی تھی یہی سوچ کر وہ اریبا کے گھر کی طرف روانہ ہو گئی, وہاں پہنچ کر انہیں اپنا آپ سنبھالنا مشکل لگنے لگا ان کا لختے جگر عبیر گھر سے غائب تھا وہ بہت رو رہی تھی پپر وہ اریبا کی حالت دیکھ کر وہ سنبھل گئی ااور انہوں نے اریبا کو اپنی باہوں میں سمیٹ لیا جو غم سے نڈھال تھی

######

تتم نے اچھے سے دیکھ لیا تھا نہ کہ وہاں کوئی نہیں ہے علی نے اسد کی طرف سوالیہ نگاہ ڈالتے ہوئے پوچھا

جو عبیر کو گاڑی میں لٹا رہا تھا رہا تھا وہ ایک ہائی روف تھی ہائی روف میں اسد اور علی کے علاوہ دو آدمی اور تھے جنہوں نے اپنے منہ چھپائے ہوئے تھے

یہ اسی گروہ کے آدمی تھے جس کا ذکر علی نے اسد سے کیا تھا یہ گروہ بچوں کو اغوا کر کے ان کی اسمگلنگ کرتا تھا

ااسد بھی ان کے ساتھ مل چکا تھا اب اسد اور علی نے بھی اپنے منہ ڈھانپ لیے تھے گاڑی تاریک راستوں پر چلنا شروع ہوچکی تھی عبیر سو چکا تھا وہ چاروں یہی سوچ کر پرسکون ہو گئے تھے۔

حارث جوکہ اسد اور علی کے ہی اسکول میں پڑھتا تھا اور علی اور عبیر کا پڑوسی بھی تھا شام میں ٹیوشن پڑھ کر واپس آ رہا تھا شام ڈھل چکی تھی اور رات اپنے سفر پر گامزن تھی اس روڈ پر ہیڈ لائٹس نہ ہونے کے برابر تھی اچانک حارث کی نظر ایک ہائی روف پر پڑی جس میں دو نقاب پوش بیٹھے تھے ان کے ساتھ اسد اور علی کو دیکھ کر وہ ہکا بکا رہ گیا . ڈر کے مارے وہ جہاں تھا وہیں چھپ گیا ہائی روف کی پچھلی ہیڈ لائیٹ کھولنے کی زحمت نہیں کی گئی تھی آگے کی طرف بھی اس کی ایک لائٹ کھولی گئی تھی حارث کو لگا کہ ہائی روف کے اندر کوئی پانچواں فرد بھی موجود ہے اور وہ دیکھ نہیں پایا, بمشکل تھوڑی سی روشنی میں اس نے گاڑی کا نمبر ایک نظر دیکھا جب تک گاڑی نہیں چلی گئی وہ اپنا سانس روک کے وہیں کھڑا رہا ہائی روف کے وہاں سے جاتے اس نے اپنے گھر کی طرف دوڑ لگا دی

######

پولیس اسٹیشن میں اب ایک ہلچل مچ چکی تھی ایک طرف تو شایان اور محلے کے چند بزرگ عبیر کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرانے آئے تھے

دوسری طرف حارث کے امی ابو اور خود حارث بھی پولیس اسٹیشن پہنچ گئے تھے

حارث نے پولیس کو ساری بات بتائی اور گاڑی کا ٹوٹا پھوٹا نمبر جو اس کو یاد تھا وہ پولیس والوں کو بتا دیا

ایک طرف عبیر کی گمشدگی کی رپورٹ درج کی گئی تو دوسری طرف اس کا نمبر شہر کے دوسرے پولیس اسٹیشن تک پہنچادیا گیا سارے شہر کے علاقوں کی ناکہ بندی کر دی گئی جگہ جگہ چیکنگ پوسٹ لگا دیے گئے کوئی گاڑی چیکنگ کے بغیر آگے نہیں جا سکتی تھی پولیس الرٹ میں تو آ گئی لیکن فل الر تنگ میں بھی انہیں تھوڑا ٹائم لگ گیا لیکن ایس پی صاحب کو اتنا اندازہ تھا کہ گاڑی ابھی شہر سے باہر نہیں گئی ہو گی گۓ پولیس کو شبہ تھا کہ وہ لوگ عبیر کو ہی اغوا کرکے شہر سے باہر لے جا رہے ہیں

شایان اور اس کے گھر والے بھی دل سے یہی دعا کر رہے تھے کہ وہ پانچواں فرد عبیر ہی ہو اور خیریت سے ہوں شازیہ بیگم جائے نماز پر بیٹھی رو رہی تھی اور گڑگڑا رہی تھی بے بینیش آنٹی نے محلے کی عورتوں کے ساتھ پڑھائی شروع کروا دی تھی ایک طرف سے وہ بھی اس ساری فساد کا مجرم اپنے آپ کو سمجھ رہی تھی نہ ہی وہ اریبہ کو اکساتی اور نہ ہی عریبہ شایان سے الجھتی اور نہ ہی دونوں کی لڑائیاں اتنی حد تک بڑھ جاتی کہ نوبت یہاں تک آ پہنچی

اریبا روتی جاتی اور عبیر کے مل جانے کی التجا اپنے رب سے کرتی جاتی

ظالم اپنی پوری قوت لگا رہے تھے کہ جلد سے جلد خطرے سے باہر نکل جائیں لیکن اللہ کے کلام سے دشمنوں کی آنکھوں پر بھی پٹی بند گئی اور عبیر کے گرد اللہ کے کلام کے حصار کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا

. 1 جنگ چھڑ چکی تھی ظالم اور اللہ کی رحمت کے درمیان آخرکار اللہ کی رحمت جیت گئی

######

وہ چاروں پرسکون طریقے سے جا رہے تھے گاڑی کے اندر بہار بالکل اندھیرا تھا صرف ایک لائٹ جل رہی تھی گاڑی کو سنسان رستے پر ڈال دیا گیا تھا

اب تو ہم خطرے سے باہر آ چکے ہیں اسد نے پرسکون لہجے میں کہا ہاں اب تو ہم کافی دور آ گئے ہیں,للیکن اس کو کیا ہوا ہے یہ اب تک جاگا کیوں نہیں ہمیں تو بیہوش کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑی جب سے ہی سو رہا ہے یہ علی نے عبیر کو دیکھ کر تشویش سے کہا

دیکھو اس کو کیا ہوا ہے اسے زندہ بھی ہے یا…….

ایک نقاب پوش نے فکرمندی سے بولا اور اپنی بات ادھوری چھوڑ دی

یہ زندہ ہے سانس چل رہی ہے اس کی پر مجھے لگتا ہے کہ یہ کمزوری سے بے ہوش ہو گیا ہے, علی نے پریشانی سے بتایا

چل رہنے دے ابھی اسے بے ہوش, اڈے پر جاکر اس کو ہوش میں لاتے ہیں,

وہ چاروں عبیر کی طرف متوجہ تھے سڑک پر سے تھوڑی ددیر کے لئے توجہ ہٹ گئی تھی سڑک پر نظر پڑتے ہی پولیس کی گاڑیاں انہیں اپنے چاروں طرف نظر آئی جو بنا آواز کے انہیں کا پیچھا کر رہی تھی,

ہہائی روف کی رفتار ہلکی دیکھ کر پولیس نے ہائی روف کو اپنے حصار میں لے لیا تھا

######

شایان فورن پولیس اسٹیشن پہنچا وہ عبیر ہی تھا شایان نے موبائل سے عبیر کی تصویر پہچان کے تصدیق کر دی تھی پولیس کے ذریعے پتہ چلا کہ عبیر بے ہوش تھا اور اسے بہت تیز بخار بھی تھا اس وجہ سے اس کو اسپتال میں داخل کر لیا گیا تھا

ااریبہ اور شازیہ بیگم خوشی سے نہال ہو گئی شازیہ بیگم رو رو کر اپنے رب کو سجدہ کر رہی تھی جس نے انہیں ان کا پھول لوٹا دیا تھا اور اریبا اپنے للختے جگر کو دیکھنے کے لئے بہت بے تاب تھی اور بے چینی سے شایان کے فون کا انتظار کر رہی تھی

شایان آ گیا تھا اپنی گاڑی میں اریبا اور شازیہ بیگم کو لینے کے لئے لیکن اس کے ساتھ ایک پولیس کی گاڑی بھی آئی تھی جو کہ بنش بیگم کو لینے آئی تھی ۔۔

بینش انٹی جو عبیر کی گمشدگی میں تسلی دینے کے لئے سب سے آگے آگے تھیں آج اسد کی ہے اس حرکت نے انہیں سب کے سامنے شرمندہ کردیا تھا وہ سوچ رہی تھی کہ کہا انہوں نے اتنی لاپرواہی برتی

انہوں نے تو اسد کی ہر خواہش پوری کی تھی…….

ہر خواہش جائز و ناجائز پوری کی کبھی اس کے کہیں آنے جانے پر پابندی نہیں لگائی

اچھا ہے تھوڑا وقت اپنے دوستوں میں گزارے تو اس کا دل بہل جائے گا آنسو کی لڑیاں ان کے گالوں پر بہتی جا رہی تھی.

میری عزت میری قربانیوں کا خیال کیوں نہیں کیا تونے اسد……

وہ ڈھاڑتی ہوئی اسد کی طرف لپکی,

اس کا گریبان پکڑ کر اسے جھنجوڑتی رہی مگر اس کو اور اپنے آپ کو اب جھنجوڑنے کا کیا فائدہ…..

ایک گناہ ہو چکا تھا اس گناہ سے کتنی زندگیاں تباہ ہو گئی تھی آج ایک عبیر کی تو جان بچ گئی تھی مگر اس کے علاوہ نہ جانے کتنے عبیر زندہ مار دیے جاتے ہیں ان کی کٹی پھٹی لاشیں ہمیں سڑکوں پر ملتی ہیں.

بینش انٹی آج ایک زندہ لاش لگ رہی تھیں جن کا اکلوتا 17 سالہ بیٹا جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھا

#####

وہ تیزی سے قدم بڑھا رہے تھے ہسپتال کے گیٹ سے ہوتے ہوئے لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے اس ریسیپشن تک پہنچے

عبیر شایان…..

یہاں پر میرا بیٹا ایڈمٹ ہوا ہے ابھی

شایان نے ریسپشنسٹ سے پوچھا

جی انہیں ابھی ابھی آئی سی یو میں شفٹ کیا گیا ہے ریسیپشنسٹ تحمل سے بتایا

لیکن اب تحمل رکھنا ان تینوں کے بس سے باہر تھا وہ آئی سی یو میں تھا

ایسا کیا خطرناک ہو گیا تھا آپ عبیر کو جو اسے اس موڑ تک لے آیا

تھا

سیڑھیاں چڑھتے ہوئے بھی اریبہ اور شازیہ بیگم ضبط نہیں کر پا رہی تھی وہ دونوں زارو قطار رو رہی تھی

آئی سی یوکے بہار پولیس کا ایک اہلکار ڈیوٹی پر تھا

ڈاکٹر ابھی اندر ہی تھے

عبیر کی طبیعت کیسی ہے اب وہ خطرے میں تو نہیں ہیں, باہر کھڑی نرس سے شایان میں پوچھا

جی آپ تھوڑا ویٹ کریں ڈاکٹر صاحب آتے ہی ہونگے ابھی وہ آپ کو ساری ڈیٹیل بتائیں گے.

#####

جی تو بینیش بیگم ایس ایچ او نے گلا کھنکار کر بنش آنٹی کو مخاطب کیا جو صدمے سے نڈھال تھی ایک شرمندہ نگاہ اٹھا کے ایس ایچ او کو دیکھا

آپ کا بیٹا بھی اس جرم میں برابر کا شریک ہے بی بی اس نے

نے طنزیہ انداز میں نہیں بتایا .

دیکھیں صاحب وہ تو ابھی چھوٹا ہے اچھے برے کی تمیز نہیں ہے اسے جو جہاں لے گیا جس نے جو کہا اس کے دماغ میں بیٹھ گیا اور وہ نادان اپنے گھٹیا دوست کی باتوں میں آگیا

اسے چھوڑ دیں صاحب وہ میرا اکلوتا بیٹا ہے میں اسے لے کر کہیں چلی جاؤں گی بس آپ میرے بیٹے کو چھوڑ دیں

بینیش آنٹی التجائیہ انداز میں بولی

بی بی میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر تمہیں کوئی وکیل کرنا ہو تو کر لینا کیونکہ اب یہ کیس عدالت میں جائے گا ہم تمہارے بیٹے کو نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ وہ بھی اس سب میں برابر کا شریک ہے

ان چاروں کے ذریعے تو ہم اس بڑے گینگ تک پہنچ پائیں گے

آپ جا سکتی ہوں بیبی ضرورت پڑی تو ہمارا اہلکار آپ کو لینے آ جائے گا

آنٹی وہاں سے اٹھ گئی کیونکہ اب وہاں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا وہ اپنی مامتا ٹھنڈی کرنے کے لئے تھوڑی دیر اسد کے پاس رک گی تھیں

جو جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھا پچھتاوا اسد کے چہرے سے بھی ننظر آرہا تھا

اسد کے ساتھ علی کو رکھا گیا تھا جب کہ ان دو نقاب پوشوں کو الگ جیل منتقل کردیا گیا تھا

#####

ڈاکٹر صاحب پلیز میرے بیٹے کی طبیعت مجھے بتائیں وہ کیسا ہے اب

شایان فکرمندی سے ڈاکٹر کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا جو آئی سی یو سے نکل کر اپنے روم کی طرف بڑھ رہے ہیں

شایان صاحب آپ کا بیٹا یہاں تیز بخار اور بے ہوشی کی حالت میں لایا گیا تھا ہم لوگ یہی سمجھ رہے تھے کہ یہ بے ہوشی کمزوری کی وجہ سے ہے

لیکن……

لیکن کیا ڈاکٹر شایان کی آواز کہیں دور سے آ تی ہوئی محسوس ہوئی

امسٹر شایان آپ کا بیٹا ہمیں respondنہیں کر رہا

ہہم لوگ کب سے کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ بے ہوشی سے باہر نہیں آ رہا یا وہ شاید خود آنا نہیں چاہتا

ڈاکٹر صاحب عبیر کی فائل بغور دیکھتے ہوئے شایان کو آگاہ کر رہے تھے

آآپ سب کی دعاؤں کی بہت ضرورت ہے ورنہ اگر اسے 24گھنٹوں میں ہوش نہ آیا تو کومہ میں جانے کا خطرہ ہے

جاری ہے😍

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *